Voice of Asia News

ملکی جمہوریت سرمایہ دار اور جاگیرار کے ہاتھوں یرغمال ہے عوامی نیشنل پارٹی کے سابق مرکزی صدر اور سابق سیکرٹری جنرل احسان وائیں کا ’’وائس آف ایشیاء‘‘ کو خصوصی انٹرویو نواز طاہر

ملک میں الیکشن کا عمل شروع ہوچکا ہے اور ہر سیاسی جماعت صرف اپنی کامیابی کے دعوے کرر ہی لیکن کچھ سیاسی کارکن ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی جماعت کی کامیابی کے دعووں کے بجائے خالصتاً سیاسی گفتگو کرتے ہیں، کسی دوسری جماعت کی ،قبولیت کم ہونے پر افسردگی کا اظہار بھی کرتے ہیں تو کسی پارٹی کی مقبولیت کو تسلیم بھی کرتے ہیں ، عوامی نیشنل پارٹی کے سابق مرکزی صدراورسابق مرکزی سیکرٹری جنرل احسان وائیں (، پارٹی کے تھنک ٹینک گروپ اور مرکزی کمیٹی کے رکن) بھی ایک ایسے ہی ایک سیاسی کارکن ہیں احسان وائیں اور ’’وائس آف ایشیاء‘‘کامکالمہ قارئین کیلئے پیش ہے ۔
سوال: ملک میں پھر سے الیکشن کا دور دورہ ہے ،بھر پور سیاست ہورہی ہے ، یہ سیاست کیسی ہے ؟ کس نظریے پر ہے اور دایاں ، بایاں بازو کہاں کھڑا ہے ؟
احسان وائیں: موجودہ الیکشن کسی نظریے پر نہیں ہورہے ۔ نظریے کی بنیاد پر صرف انیس سو ستر میں الیکشن ہوئے تھے ۔ جس میں سیاسی جماعتوں نے اپنے منشور دیے تھے او رعوام نے ان جماعتوں کا منشور سامنے رکھ کر ووٹ دیا تھا ۔ تب دایاں اور بایاں بازو تھا ، اب وہ پوزیشن نہیں ، ستر والے الیکشن میں مذہبی اور لبرل جماعتوں میں الیکشن ہوا تھا ، لبرل جماعتوں نے اپنے منشور میں لکھا تھا کہ وہ سماج سدھار نصب العین رکھتی ہیں ،ذوالفقار علی بھٹو نے اس میں سوشلزم کی بات بھی کی تھی ، ان سیکولر لبرل جماعتوں کے منشور میں یہ نہیں لکھا تھا کہ اسلام ریاست کا مذہب ہوگا ، اسلام سے کسی کو انکار نہیں تھا بلکہ یہ پیغام تھا کہ مذہب کی بنیاد پر ریاست چلانے سے مسائل حل نہیں ہونگے بلکہ فرقہ وارانہ اور دیشت گردی جیسی پیچیدگیاں پیدا ہونگی جیسا کہ یہ پیچیدگیاں دہشت گردی کی صورت میں سامنے آئیں اور ہم سب بھگت رہے ہیں ۔ مذہبی جماعتوں نے مذہبی ریاست کا منشور دیا تھا جو عوام نے قبول نہیں کیا ، اس ملک کے عوام اسلام پسند ہیں ، ذہنی اور اور عملی طور پر ذہن بھی رکھتے ہیں، لیکن سیاسی طور پر وہ اتنی عقل رکھتے اور سمجھتے ہیں کہ اگر مذہبی جماعتوں کو ووٹ دیں گے تو مذہبی رہنماؤں کے برسرِ اقتدار آنے کی صورت میں ان کے کئی مذہبی اختلافات بھی سامنے آئیں گے جن کی وجہ سے عوام کے بنیادی مسائل حل نہیں ہونگے ، مذہبی رہنما ملک چلانے کی اہلیت نہیں رکھتے ۔ بائیں بازو کے لوگ درست طور پر سمجھتے ہیں کہ ریاست اگر مذہب کی بنیاد پر چلے گی تو مسائل حل نہیں ہونے ، یہی بات عوام نے بھی سمجھی تھی ۔ پھر وقت نے ثابت کیا کہ جب مذہبی گروں نے طاقت پکڑی، مذہبی گروہ بنے ، انہوں نے سر اٹھایا تو فرقہ واریت شروع ہوئی ، اور وہ لوگ آگئے جنہوں نے کہا کہ ہم ہی اصل اور حقیقی مسلمان ہیں ، یہاں سے دہشت گردی شروع ہوئی جو جاری ہے ۔
سوال: یعنی آپ کے خیال میں ستر کے بعد سے نظریاتی بنیادوں پر الیکشن نہیں ہوئے ؟
احسان وائیں: بڑی حد تک ایسا ہی ہوا ہے ، ستر کے بعد نظریے پر بھی ووٹ ڈالے گئے ، اور ضروریات کے تحت بھی ۔ملک میں غیر جمہوری دور میں مسائل بڑھے ، غربت میں اضافہ ہوا ، تعلیم ، صحت جیسی بنیادی مسائل حل ہی نہ کیے گئے ، لوگوں پر نظریات کے بجائے مسائل اور ضروریات حاوی ہوگئیں، سیاسی جماعتیں ان مسائل کو ایکسپلائٹ کرتی رہیں مگر کوئی مسئلہ حل نہ کیا ۔ بینظیر بھٹو کو بھی لوگوں نے بینظیر کو یہ سوچ کر ووٹ دیے تھے کہ شائد بھٹو کے نعرے کے مطابق انہیں روٹی کپڑا اور مکان مل جائے گا ۔ مگر اس دور میں بھی سیکولر اور لبرل لوگ مسائل حل نہ کرسکے بلکہ سیاسی جماعتوں نے عوام کی حالت بدلنے کے بجائے اپنی حالت بدلنے کو فوقیت دی ، بینظیر بھٹو کے بعد لوگوں نے نواز شریف کا انتخاب کیا ۔ اس میں کسی حد تک تعصب کا عمل دخل بھی تھا ، جونہیں ہونا چاہئے تھے لیکن جب پنجاب کے کلاف دوسرے صوبوں نعرے لگ رہے ہوں تو پنجابی نعرہ بھی لگنا تھا ، یہ نعرہ نوازشریف نے لگایا تھا ، یہ پہلا موقع تھا جب دوسرے سوبوں سے پنجاب کے بارے میں منفی گفتگو کا جواب اسی انداز میں دیا گیا۔ نواز شریف نے جمہوری روپ اختیار کیا حالانکہ وہ اس اتحاد کا حصہ رہے تھے ۔جس نے بینظیر بھٹو کو پاکستان کے وقار کے منافی قرادیا تھا اور اسے اقتدار سے باہر رکھنے کیلئے اسلامی جمہور ی اتحاد ( آئی جے آئی ) بنایا گیا یہ اتحاد بنانے والے جنرلوں، اسلم بیک ، اسد درانی اور حمید گل نے سیاستدانوں میں روپوں کی تقسیم کا اعتراف بھی کیا اور یہ کیس ابھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ اس ملک میں ایک ریاستی ادارے کی منشاء کے بغیر کوئی حکومت ہی بن نہ سکی۔
سوال: آپ کی جماعت بھی اقتدار کا حصہ رہی ، ا س نے بھی فوج کا آ شیر باد قبول کیا ، اسٹیبلشمنٹ کے سامنے آپ کی جماعت کی اصولی سیاست کہاں گئی ؟
احسان وائیں: جی ہاں ہماری جماعت نے بھی ایسا ہی کیا ۔ لیکن ایسے کیسے کیاَ یہ بھی جاننا ضروری ہے ۔ ستر کے بعد سے عوامی نیشنل پارٹی اپنا قومی کردار ادا کرتی رہی لیکن عوامی مقبولیت کے حوالے سے صوبے تک محدود رہی ، وفاق میں قلیل نمائندگی کے باوجود اپنی آواز دبائی نہیں ، اے این پی کو جب کم نشستیں ملیں گی اور زیادہ نشستیں رکھنے والی قومی پارٹیاں حکومت بنانے کیلئے اتحاد بنائیں گی تو اس اتحاد کا حصہ بننے کی وجہ سے سمجھ کہ اے این پی بھی اسٹلیبشمنٹ کی رضا کے اقتدار کا حصہ بنی ، تنہا اے این پی تو کبھی اسٹلبشمنٹ کا حصہ نہیں بنے گی ، جس جس نے بھی اقتدار لیا اسٹلیبشمنٹ کی رضا اور منشاء سے لیا ۔
سوال: دوہزار تیرہ کے الیکشن کے بارے مین بھی کہا جاتا ہے کہ اس میں دھاندلی ہوئی اور ایک ادارے نے نواز شریف کو اقتدار میں لانے کیلئے مدد کی ؟
احسان وائیں: میں ایسا ہرگز نہیں سمجھتا ، میں سمجھتا ہوں کہ دو ہزار تیرہ میں تو’ ادارہ ‘ پرویز مشرف کی ٹیم لانا چاہتا تھا، بس اس نے نواز شریف کی مخالفت نہیں کی اور نواز شریف جیت گئے، میرے خیال میں دھاندلی بالکل نہیں ہوئی تھی یہ محض الزام کہا جاسکتا ہے اس الیکشن کے بعد فون اور عدلیہ نے نواز شریف کو چلنے نہیں دیا ، جرنلوں سے نواز شریف کی چِخ چِک ہی رہی ، نواز شریف اور شہبازشریف کے ترقیاتی منصوبوں کی راہ مین رکاوٹیں ڈالی گئیں اورنج لائن ٹرین کا منصوبہ اور اس پر عدالتی حکمِ امتناعی کا معاملہ سب کے سامنے ہے ۔ اسی طرح میں کرپشن کے الزامات کو بھی اس بنیاد پر تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوں کہ اس وقت تک کوئی تحقیقاتی ادارہ یا عدالت یہ کرپشن ثابت نہیں کرکسی ، اسے نااہل کیا گیا تو وہ بھی اقامے کی بنیاد پر جبکہ میرے نزدیک یہ کوئی بنیاد نہیں ، ہاں ! یہ الگ بات ہے کہ پنامہ کیس کہیں یا لندن فلیٹ کیس کہا جائے اس کیس میں نواز شریف خود ہی اپنی ’’مس ہینڈلنگ ‘‘ کا شکار ہوئے ہیں ۔ وہ خود پارلیمنٹ میں بھی باتیں کرتے رہے اور معاملہ عدالت میں بھی لے گئے ۔ انہوں نے اس معاملے کو ’’ لائٹلی ‘ لیا تھا ۔ اس معاملے میں سعودی عرب اور یو اے ای نے نواز شریف کاساتھ نہیں دیا، ۔ کوئی یہ بتا سکتا ہے کہ لندن فلیٹس کے معاملے میں آج کے دن تک کوئی منی لانڈرنگ ثابت ہوسکی ہے ؟ یہ نواز شریف کی اپنی غلطی ہے جو اس نے پارلیمنٹ اور عدالت میں کی جہاں اس معاملے کو بہت لائٹلی لیا گیا ۔ میں سمجھتا ہوں مکہ سعودی عرب اور یو اے ای نے نواز شریف کے ساتھ اس لئے نہیں کہ یران اور سعودی عرب کے معاملے پر نوازشریف نے ماضی کے فیملی تعلقات کے مطابق پہلے کی طرح کھل ہوں سعودی عرب کا ساتھے دینے کے بجائے پارلیمنٹ کے ذریعے غیر جانبدار رہنے کا فصلہ کیا تھا۔
سوال: لبرل جماعتوں کا گراف کیا ہے آپ کے خیال میں ؟
احسان وائیں: اس وقت مجھے تو ن لیگ لبرل جماعت لگتی ہے ، دوسری طالبان کی حامی عمران خان کی جماعت ہے، پیپلز پارٹی قومی پارٹی او سیکولر تھی لیکن بڑے دکھ اور تکلیف سے کہنا پڑتا ہے کہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد یہ سندھ کی دیہی ع،للاقوں کی جماعت بن چکی ہے جہاں تک عوامی نیشنل پارٹی کی بات ہے کہ ہم نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ہم ملک گیر کامیابی حاصل کریں گے ، پارلیمنٹ میں تو ہماری چند سیٹیں ہوتی ہیں کبھی تھوڑی کبھی زیادہ ، صوبہ کیبر پختونخوا میں ہم بڑی جماعت ہیں اور ہم انتخابی سیاسی مقبولیت نہیں بلکہ اصولی اور نظریے نصب العین اور منشور کی بنیاد پر خود کو بڑی پارٹی کہتے ہیں اور ہم ہیں بھی ۔ اسی بنیاد پر اے این پی الیکشن بھی لڑتی ہے ۔ اے این پی کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ یہ واحد جماعت ہے جس کا منشور ملک سے جاگیردارانہ نظام کا خساتمہ ہے ، یہ منشور ذوالفقار علی بھتو کا بھی نہین تھا ، بھتو کا منشور بھی لینڈ ریفارمز کی حد تک تھا ، اے این پی کا منشور ہے کہ ہر کاشتکار کو زرعی مقاصد کیلئے اراضی دی جائے گی ، جہاں تک کزشتہ الیکشن میں اے این پی کی انتخابی ناکامیابی کا معاملہ ہے تو اس حقیقت سے کون واقف نہیں کہ اے این پی کو انتخابی مہم ہی نہیں چلانے دی گئی سیکڑوں کارکن ، وزیر اور رہنما شہید کیے گئے ، یہاں تک کہ جس گھر میں اے این پی کا جھنڈا لہراتا تھا وہ دہشت گردی کا نشانہ بن جاتا تھا ، باقی کس جماعت نے دہشت گردی کا اس طرح مقابلہ کیا ہے؟ ۔ اے این پی واحد جماعت ہے جس نے کہا تھا کہ دہشت گردوں کے ساتھ ٹیبل پر بات نہیں کرنی ، عمران خ سمیت باقی سب ٹیبل پر بات کرنے کی تجویز دیتے تھے اس کے برعکس اے این پی نے سوات آپریشن خود کرویا ۔ اس دہشت گردی کی وجہ سے اے این پی کی نشستیں دوسری جماعتوں کے پاس چلی گئیں ، اب دہشت گردی بڑی حد تک کم ہوئی ہے ،اس وقت اے این پی اپنے کارکنوں کو خود تحفظ دے رہی ہے اور حالات بھی کچھ بدلے ہیں تو اے این پی اچھی خاصی نشستیں جیتیں گی ۔ ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ وفاق اور صوبے میں حکومت بنائیں گے لیکن گذشتہ الیکشن سے زیادہ نشستیں حاصل کریں گے ۔ یہی نہیں ، کراچی سے بھی ہمیں کامیابی ملے گی ۔ پختونوں کے کاروبار اور محنت مزدوری کے مرکز کراچی اور لاہور ہیں ، اے این پی اب ملک بھر میں پھیل رہی ہے ، پختونوں کو بھی احساس ہو گیا ہے کہ ان کی نمائندہ جماعت کونسی ہے اور پختونوں کو اپنا حق لینے کا ڈھنگ بھی آگیا ہے اور ان کا شعور بھی بلند ہوا ہے ۔
سوال:الیکشن میں عام آدمی کی ’سرکار‘ کہاں دکھائی دیتی ہے ، جبکہ عام آدمی تو جمہوریت کے نام پر حاکم چنتا ہے اور پھر اس کے خلاف نعرہ زن بھی ہوتا ؟
احسان وائیں: ملک میں جمہوریت ڈی ریل نہ ہو ، بار بار الیکشن ہوں تو عام آدمی کی سپیس پیدا ہوگی ، عوام مین شعور برھ رہا اور وہ تمیز کررہے ہیں کہ ان کے چنے ہوئیے لوگ کیا کرتے ہیں ۔ بار بار الیکشن ہونگے تو عوام سے جھوٹے وعدے کرنے والے خود ہئی اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے ۔ جہاں تک ملک میں جمہوریت پر سرمایہ دار اور جاگیرار کے قبضے کا تعلق ہے تو اس میں کوئی دورائے نہیں ، ملکی جمہوریت سرمایہ دار اور جاگیرار کے ہاتھوں یرغمال ہے یہ درست بات ہے یہ مٹھی بھر لوگ کروڑوں پر مسلط ہیں ، پہلے صرف جاگیردار مسئلہ تھے ، اب جاگیرادر اور اور سرمایہ دار دونوں ہیں مسئلہ ہیں ، جو جاگیردار تھے وہ ذرداری ٹائپ وہ لوگ اب سرمایہ دار بھی بن گئے اور نوازشریف ٹائپ جو لوگ سرمایہ دار تھے وہ زرعٰ زمیںیں لیکر اب جاگیردار بھی بن گئے ہین تو یوں اب سرمایہ دار اور جاگیردار دونون ہی عوامپر مسلط ہیں لیکن ان کا واحد حل بار بار الیکشن کا انعقاد ہے ۔
سوال: یہ جو تبدیلی کا نعرہ لگ رہا ہے ؟ سیاستدان نواز شریف بھی ، زرداری عمران خان اور ادارے سبھی یہ نعرہ لگا رہے ہیں ؟ کس کو کیا تبدیلی نظر آتی ہے ؟
احسان وائیں: سیاسی قیادت ہمیشہ حالات بدلنے کی بات کرتی ہے، تبدیلی نظریاتی طور پر آتی ہے ۔بہتری کی جانب بڑھنا یا ایسا سوچنا اچھی بات ، سیاسی قیادت اگر اخلاص سے اور اتفاق سے کام کرتی تو بہت پہلے بہت کچھ تبدیل کیا جاسکتا تھا ۔جو ایک شخص خاص طور پرتبدیلی کی بات کررہا ہے اور نیا پاکستان بنا رہا ہے اسے معلوم ہوگا کہ تبدیلی کیا ہے ؟ تبدیلی تو فلسفے اور نظریات کی بنیاد پر ہوتی ہے ؟ کیا کسی نے عوام کی معاشی حالت کی تبدیلی کی بات کی ہے ؟ کوئی پروگرام دیا ہے یا صرف نعرہ لگا یا ہے ۔ یہ عوا م بہتر جانتے ہیں اور اپنی رائے سے اس کا جواب بھی بھی دیں گے ۔ جو کہتے ہیں کہ پاکستان کو تبدیل کردیں گے ، کیا وہ پاکستان کا نام بدلیں گے یا بارڈر بدلیں گے ؟ مجھے تو کوئی تبدیلی دکھائی نہیں دیتی ، ماسوا اس کے کہ ایک نعرہ ہے یا یہ تبدیلی (ن) لیگ میں دکھائی دیتی ہے جس کسی ادارے کا عوام پر حکمرانی کا حق برقرار رکھنا کوئی حق نہیں ، یہ مثبت بات ہے جو نوازشریف نے کی ہے ہم اس تبدیلی کے حق میں ۔
سوال:اے قاین پی کے اصول کہا جب اتحادی صورت میں ہی سہی ، اسٹیبلشمنٹ کی سوچ پر عمل تو کیا ؟
احسان وائیں: میں پہلے ہی واضح کرچکا ہوں کہ اے این پی کبھی بھی براہِ راست اسٹیبلشمنٹ کا حق حکمرانی یا عوام کے حق حکمرانی مین حصہ داری کو تسلیم نہیں کرتی ، ہمیشہ اس کی مذاحمت کرتی ہے اور ابھی بھی ہم اسی اصول پر قائم ہیں ، آج تک پختونوں کا کوئی گورنر لگایا گیا ہے ؟ ہمیں تو آج تک کلیئر ہی نہیں کیا گیا ؟ ہم تو جمہوری انداز میں جدوجہد کے قائل ہیں ۔
سوال:اگلے دنوں میں ممکنہ انتخابی نتائج کیا دیکھ رہے ؟
احسان وائیں: الیکشن میں ووٹ عوام نے ڈالنا ہے ، عوام شعور رکھتے ہیں ، مجھے یوں لگتا ہے کہ الیکشن مین ن لیگ کافی سیٹیں لے گی لیکن لگتا ہے کہ حکومت نہیں بنا سکے گی ،جس طرح جنوبی پنجاب میں ن لیگ کے لوگوں کو دوسری جماعتوں میں بھیجا جارہا ہے یہ کوئی فیئر عمل تو قرار نہیں دیا جاسکتا ۔
جہاں تک عمران خان کا تعلق ہے تو وہ بھروسے کے قابل نہیں ، پاکستان پ خوش نصیبی یا بد نصیبی سے ایک غریب ایٹمی ملک ( ایٹمی طاقت رکھنے والا غریب ملک ) ہے۔ اس میں ایسا حکمران نہیں چل سکتا جو ہمسائے کو بھی قبول کرنے کیلئے تیار نہ ہو ، نہ اس میں استقلال ہو ، سپر پاورز ایسے لوگوں کو’ استعمال ‘ تو کرلیتی ہیں ، مگر اقتدار میں نہیں دیکھ سکتیں ، ایسے ناقابلِ اعتبار بندے کا کیا پتہ کہ فوج جہاز نہ دے تو ایٹم بم ترین کے جہاز مین ہی اٹھا کر لے جائے ۔
سوال: کراچی شہر انتخابی عمل میں ایک ،کردار کا حامل رہا ہے ، اب وہاں کی سیاست مختلف دکھائی دیتی ہے ؟
احسان وائیں: کراچی میں متحدہ کے فاشسٹ گروپوں نے عام مہاجر کو متنفر کیا مگر ابھی بھی الطاف حسین کا اثر رسوخ موجود ہے م مہاجر نوجوانوں میں شعور بڑھ رہا ہے ، بار بار الیکشن ہونے اور کوٹہ سسٹم کے خاتمے سے یہی مہاجو خود کو وہاں کا نیشنل یعنی سندھ کے باسی کہلانے لگ جائیں گے ، بدقسمتی کی بات تو یہ ہے کہ مہاجروں کے مسائل کسی حکومت نے حل نہیں کیے اور وہ فاشست گروپ بن کر دہشت گردی کرنے لگ پڑے ، یہ دہشت گردی عام مہاجر کو قبول نہیں ، وہ بھی دوسرے صوبوں میں بسنے والے ان مہاجروں کی طرح رہنا چاہتے ہیں جو خود کو پنجابی بھی کہلاتے ہیں ۔ جہاں تک کراچی کی اتخابی سیاست کا تعلق ہے تو وہاں کی نشستیں مختلف گروپوں میں تقسیم کرنا مقصود ہیں اور یہی ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔
سوال: ملک میں نئے صوبے نعرہ بڑا رواج پا رہا ہے ؟
احسان وائیں: یہ صرف اور صرف انتخابی نعرہ اور عوام کو فریب دینے کی کوشش ہے ، کوئی بھی ایسا نہین کرے گا ، صوبہ اگر بنے گا تو کسی ایک صوبے میں نہین ، سندھ ، بلوچستان اور خیبرپکتونخوا میں بھی بنے گا ۔ ایسی تقسیم بہت سوں کو سوٹ نہیں کرتی نہ کوئی کرے گا بس نعرہ رہے گا اور عوام کو فریب دیا جائے گا ، ان کے جذبات کا کھلواڑ ہے ۔
سوال:پانی کا بحران اور کالا باغ ڈیم کی بازگشت ؟
احسان وائیں: یہ منصوبہ نہیں ایک فریب ، نعرہ ، بہانہ ہے ، کیا اس کیلئے کبھی فنڈ رکھے گئے ہیں ، سیاسی شعبدہ بازی ہے۔اگر کسی نے یہ ڈیم بنانا ہوتا تو فنڈز مختص کرتا، کیا کسی بجٹ میں فنڈز رکھے گئے ہیں ، میں نے ایک بار ایک سیمینار میں واپڈا کے چیئر میں کالاباغ ڈیم کی پلاننگ کے بابت بات کی تو اس نے کندھے اچکائے اور بتایا کہ اس پر واپڈا نے کوئی پلاننگ نہیں کی ۔ کیا ڈیم ایک روز مین بن جاتا ہے ؟ اس کی فزیبلٹی بنی ہے ، اس پر اے این پی کے تحفظات ہیں کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے کچھ حصے دلدل بن جائین گے ، سوبہ سندھ کے تحفظا ت ہیں ، اور بلوچستان بھی حامی نہیں جبکہ پانی ہماری ضرورت ہے ، بھارت ڈیم پر ڈیم بنا رہا ہے اور ہم سیاست سیاست کھیلنے پر لگے ہیں ، کیا کالا باغ ڈیم ہی ہر مسئلے کا حل ہے دیگر مقامات پر چھوٹے ڈیم نہیں بنائے جاسکتے ، اب تک کی حکومتوں نے کیو ں نہیں بنائے، ہمیں چھوٹے ڈیم بنانے سے کون روکتا ہے ؟ میں سمجھتا ہوں کہ کالا باغ ڈیم محض ایک سیاسی نعرہ ہے ۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے