Voice of Asia News

پھل بچوں کی صحت کیلئے بے حد مفید

لاہور(وائس آف ایشیا)پھل ایسی نعمت ہے جو اپنے اندر صحت اور شفاء کے تمام عناصر سموئے ہوئے ہے۔ بچوں اور بڑوں دونوں کیلئے مفید ہیں۔ لیکن بڑھتے ہوئے بچوں کی غذائی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے پھل ایندھن کا کام کرتے ہیں کیونکہ پھلوں میں موجود وٹامنز پروٹین اور فوری توانائی مضبوط صحت کی ضمانت ہے بلکہ ریسرچ سے بھی یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ پھل بڑھتے ہوئے بچوں کی غذائی عادت کالازمی حصہ ہونے چاہئیں۔ اس تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بچوں کواگرروزانہ تازہ پھل کھلائے جائیں تو وہ ان بچوں کے مقابلے میں جو پھل نہیں کھاتے زیادہ پھرتیلے ہوشیار اور زندگی میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ماہرین نے بچوں کو پھل کھلانے کی کئی اہم وجوہات اور فوائد بتائے ہیں جس کے بارے میں جاننا ماؤں کیلئے بے حد ضروری ہے۔
*پھلوں میں ایسے اہم غذائی عناصرہوتے ہیں جو کہ بچوں کو توانائی فراہم کرکے بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت بڑھا دیتے ہیں۔
*پھلوں میں گاجر کا جوس بچوں کی بہتر بینائی کیلئے بہت مفیدہے۔
*تازہ پھل اور جوس بچوں کا آئی لیول بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
*پھلوں کاذائقہ اچھا ہوتاہے کہ بچے خوشی سے کھا لیتے ہیں۔ بچوں کو پھل کھلانے کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ اگر بچوں کی غذائی عادات میں روزانہ دو سے تین پھل شامل ہوں تو اس سے نہ صرف بچوں کو توانائی (نیوٹریشن) ملتی ہے بلکہ توانائی کے ساتھ ساتھ سکول جانے والے بچوں کی بہتر اور کامیاب امتحانی نتائج کیلئے ضروری ہیں۔
*پھل ہر لحاظ سے مثبت اثرات کے حامل ہوتے ہیں اور بچوں کو کم از کم دن میں تین مرتبہ پھل ضرور دیں۔
طبی ماہرین کے مطابق بچے بہت حساس اور کمزور ہوتے ہیں اور ان کی اس حساس طبیعت کو تندرست اور باوقار شخصیت بنانے میں تازہ پھل اور جوس بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں لیکن ہمارے یہاں صورتحال بالکل مختلف ہے۔ ہم بچوں کو ابتدا ہی سے غیر صحت بخش کھانے کھلانے کی عادت ڈال دیتے ہیں۔ آج کل رہی سہی کسر جنک فوڈز نے پوری کر دی ہے اور چھوٹے چھوٹے بچے بھی ان کے دیوانے ہوتے ہیں۔ مائیں بھی بچوں کو کاہلی یاخود کو بہت ماڈرن ظاہر کرنے کی وجہ سے یہ غذائیں بچوں کو کھلانے میں فخر محسوس کرتی ہیں اورجب ان غذائی عادات کو اپنا کربچہ بیمار اورکمزور ہونے لگتا ہے تو وٹامنز اورکیلشیم کی گولیاں کھلائی جاتی ہیں۔ والدین ذرا عقل مندی سے کام لے کر بچوں کی خوراک میں ابتدا ہی سے پھلوں کو ضرور شامل کریں تو بچے کی صحت قابل رشک رہے گی اور بچے امراض اور کمزوریوں سے محفوظ رہ کر زندگی کی رنگینیوں سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔
والدین خاص طور پر ماؤں کو پھلوں کی افادیت اورغذائیت سے وقتاً فوقتاً آگاہی حاصل کرتے رہنا بہت ضروری ہے۔ پھلوں کی افادیت کے چارٹ پر غور کربھی لیا جائے تو اس بات کاخیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ بچوں کو پھل اچھی طرح دھو کردیے جائیں کیونکہ اگر پھل دھوئے بغیر بچوں کے ہاتھ میں پکڑا دیئے جائیں گے تو اس پر لگے کیمیکل صحت کے کھلے دشمن ہوتے ہیں اور بجائے فائدے کے نقصان ہوتا ہے۔امریکن ڈائٹنگ ایسوسی ایشن نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تازہ پھلوں اور جوس کا اچھی صحت سے گہرا تعلق ہے۔ لیکن ہمارے پاس لاپرواہی اور ناخواندگی کی وجہ سے بچوں کوغیر معیاری جوس خرید کر پلائے جاتے ہیں لیکن کون جانتا ہے کہ اس ڈبے کا جوس بچے کیلئے کتنا مفید ہے اور یہ کن مراحل سے بن کر آتا ہے۔ کیا اس کی تازگی اور افادیت بچے کو اتنی توانائی ہی دے گی جتنا ایک تازہ پھل۔ یہ بات ریسرچ سے ثابت ہوتی ہے کہ بازاری جوس صرف ذائقے کی تسکین کرتے ہیں اور ان میں کچھ غذائیت نہیں ہوتی۔
اکثر گھر پرتیار کئے جانے والے جوس کیلئے پھل کاٹ کردو دو گھنٹے تک بھگو کر رکھ دیئے جاتے ہیں یا جوس نکال کر اسے فریج میں رکھ دیا جاتا ہے تو اس صورت میں بھی پھلوں کی اصل افادیت یعنی وٹامنز ضائع ہو جاتے ہیں اور فریش جوس اور پھلوں کی طرح اتنا فائدہ بچوں کو نہیں ہوتاجتنا کہ ہونا چاہیے۔ بچوں کیلئے تمام پھل ہی افادیت سے بھرپور ہیں۔مثلاً اگر آم کی بات کی جائے تو پھلوں کا بادشاہ کہلاتا ہے۔ اس کا ملک شیک بھی انتہائی افادیت کا حامل ہوتا ہے اوربڑھتے ہوئے بچوں کے جسم کی مضبوطی کیلئے بہت ضروری ہے۔ اسی طرح کیلا ایسا نرم اور زد ہضم غذا ہے جو بڑھتے ہوئے بچوں کو فوری توانائی فراہم کرتا ہے اور غذائی ماہرین کے مطابق ایک کیلا 6 دیگر پھلوں کے برابر توانائی مہیا کرتا ہے۔ ایک سے پانچ سال کی عمر کے بچوں کے لیے کیلا بہت مفید غذا ہے اور بچے کو روزانہ 3 سے 4 کیلے ضرور کھلائیں کیونکہ کیلے میں وٹامن B1,A,B6,B2 اور C اورساتھ ہی فائر پوٹاشیم اور میگنیشیم چھوٹی عمر کی غذائی ضروریات پوری کرتے ہیں۔
اپنے بچوں کو زندگی میں کامیاب اور صحت مند بنانے کیلئے چھوٹ عمر ہی سے ان کی غذائی عادات کو متوازن اور صحت مند بنائیں تاکہ وہ اپنی توانائی کا بھرپور استعمال کر سکیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ آج کل پھلوں کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں مگربجٹ میں مناسب کمی کر کے پھلوں کو غذا میں ضرور شامل کرنا چاہیے۔ بحیثیت ایک ماں آپ چاہیں تو اپنے بچے کی صحت اور سکول میں بہتر کارکردگی کیلئے بچت اور کفایت شعاری سے مہنگائی کو مات دے سکتی ہیں اور کچھ نہ کچھ پھل اپنے بچوں کو ضرور کھلا سکتی ہیں۔
 

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے