Voice of Asia News

کروڑوں دلوں پر راج کرنے والے عظیم فٹبالر:رپورٹ : محمد جہانزیب منظور

فٹ بال کی تاریخ میں مختلف ٹیموں کی جانب سے بڑے بڑے کھلاڑی سامنے آئے ہیں جن میں برازیل کے پیلے‘ ارجنٹائن کے ڈیاگومارا ڈونا ،فرانس کے زیڈان، انگلینڈ کے ڈیوڈ بیکھم، ارجنٹائن کے لیونل میسی ،پرتگال کے کرسٹیانا رونالڈو سمیت دیگر نام شامل ہیں ۔ان کھلاڑیوں نے اپنے دلکش کھیل سے کروڑوں دلوں پر راج کیا۔
پیلے
برازیل کے عظیم ترین فٹ بالر کو فٹ بال کی تاریخ کا عظیم ترین کھلاڑی قرار دیا جاتا ہے۔ 1958ء میں جب پہلی بار پیلے نے ورلڈ کپ میں اپنے ملک کی نمائندگی کی تو اس وقت اس کی عمر صرف 17 برس تھی۔ اپنے پہلے ہی ورلڈ کپ میں پیلے نے غیر معمولی کھیل کا مظاہرہ کرکے پوری دنیا میں اپنی دھاک بٹھا دی۔ اس کے 6 گول کی مدد سے برازیل کی ٹیم نے پہلی بار ورلڈ کپ جیتا۔ 1962 اور 1966ء کے ورلڈ کپ میں بدقسمتی سے وہ فٹنس کے مسائل کا شکار رہا لیکن 1970ء4 کے ورلڈ کپ میں اس نے برازیل کے ورلڈ کپ کا 100واں گول اسکور کیا اور اپنی ٹیم کو تیسرا عالمی کپ جتوا دیا۔بلیک پرل کی عرفیت اور پیلے کے نام سے جانے والے فٹبالرنے اپنے عرصہ کھیل میں انہوں نے 1280 گول کیے ، ورلڈ کمبائنڈ اولمپک کمیٹی نے انہیں پلیر آف دی سینچری کا خطاب دیا۔ پیلے 13 سالوں برازیل کے کھیل کے وزیر رہے ہیں۔
ڈیئیگو میریڈونا
فٹ بال کی کوئی کہانی ڈیئیگو میریڈوناکے تذکرے کے بغیر مکمل نہی ہوسکتی۔ 1986 کے ورلڈ کپ میں ماراڈونا نے ارجنٹائن کی طرف سے 6 گول اسکور کیے اور اپنے غیر معمولی اور شاندار کھیل سے پوری دنیا کو اپنا دیوانہ بنا لیا صرف ایک ہی ٹورنامنٹ سے وہ دنیا بھر میں کھیل کی مقبول ترین شخصیت بن کر ابھرا۔ اس کے جارحانہ کھیل کی بدولت ارجنٹائن نے 1986 کا ورلڈ کپ جیتا۔ورلڈ 1986 میں ڈیئیگو میریڈونا نے بہترین انفرادی کارکردگی مظاہرہ کیا جو کسی بھی عالمی ایونٹ کبھی دیکھا ہو۔نیپولی سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی نے بعد والوں کیلئے ایک ایسے معیار کا تعین کردیا جسے قومی ٹیم کیلئے میسی بھی اب تک نہیں چھو سکے۔پورے ٹورنامنٹ میں ڈیئیگو میریڈونانے پانچ گول اسکور کیے اور پانچ گولز میں مدد کی۔انگلینڈ کیخلاف کوارٹر فائنل میں ان کارکردگی قابلِ دید تھی۔ جس میں انہوں نے اپنا کھاتا مشہور’ہینڈ آف گاڈ’ گول سے کھولا اور پھر دوسرا گول زبردست گول دور سے گیند لاکر کیا۔ان کا کھیل بیلجئیم کیخلاف سیمی فائنل میں بھی واضح فرق ثابت ہوا جس میں انہوں نے دو گول کیے۔اس کے بعد ڈیئیگو میریڈونانے ارجنٹینا کومغربی جرمنی کیخلاف فائنل میں ایک لاکھ 14ہزار تماشائیوں کے سامنے فتح سے ہمکنار کرایا۔ 1990 کے عالمی کپ کے فائنل میں شکست کے بعد 1994 کے ورلڈ کپ میں دنیا بھر میں اس کے شائقین کو اس وقت سخت دھچکا لگا جب وہ ڈرگ ٹیسٹ پاس کرنے میں ناکام رہا اور اسے ٹورنامنٹ چھوڑ کر جانا پڑا۔کوکین کے استعمال میں خاصے بدنام ہوئے اور ان کے کیریر کا خاتمہ اسی اسکینڈل سے ہوا۔بعد میں 2010 میں وہ ارجنٹائن کا کوچ بن کر واپس آیا۔
ڈیوڈ بیکھم
ڈیوڈ بیکھم 1998 میں ارجنٹائن کے خلاف میچ ریڈ کارڈ کے بعد 2002 کے ورلڈ کپ میں انگلینڈ کا کپتان بن کر آیا اور پھر دنیا بھر میں فٹ بال کے پرستاروں کی آنکھوں کا تارا بن گیا۔ دنیا بھر کے دور دراز کے ممالک میں بھی نوجوان اس کے ہیئر اسٹائل کو اپنائے ہوئے دکھائی دیے۔ 2006 میں ریٹائرمنٹ تک وہ انگلینڈ کا کپتان ۔بے شمار اعزازات رکھنے والے عظیم کھلاڑی ڈیوڈ بیکھم نے اسپائیس گرلز اسٹار وکٹوریا سے 1999 میں شادی کی ۔سیدھے پاؤں سے بہترین کک لگانے والے ڈیوڈ بیکھم بطور سیلیبرٹی دنیا ئے فٹبال میں سب سے زیادہ شہرت حاصل کی۔وہ 2010 میں میں برطانوی ٹیم کا کوچ بنا۔ انہوں نے مانچسٹر یونائیٹڈ کو چھ پریمیئر لیگ، دو ایف اے کپ اور چیپمئنز لیگ کا ٹائٹل دلانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اسپین کے فٹ بال کلب ’ریئل میڈرڈ‘، امریکہ کے ’ایل اے گلیکسی‘ اور فرانس کے ’پی ایس جی‘ کو بھی لیگ ٹائٹلز دلانے میں بیکھم کا اہم کردار رہا ہے۔بیکھم نے اپنے انٹرنیشنل کیریئر کا آغاز 1992ء میں ’مانچسٹر یونائیٹڈ‘ سے کیا تھا اور اس وقت ان کی عمر صرف 17 برس تھی۔برطانوی فٹ بال ٹیم کے سابق کپتان نے برطانیہ کی طرف سے 115 میچز کھیلے ہیں جب کہ وہ صفی اول کے کئی کلبز سے بھی منسلک رہے ہیں۔ لوگ آج تک اس کے سحر میں مبتلا ہیں۔
زینیڈین زیڈان
زیزو،زینیڈین زیڈان کی عرفیت اور زین الدین کے نام سے جانے جانے والے یہ فٹبالر فرانس سے تعلق رکھتے ہیںیہ اکلوتے کھلاڑی ہیں جنھوں نے فیفا پلیر آف دی ائیر کا ایوارڈ تین دفعہ حاصل کیا۔ 2006 کا اختتام زیڈان کیلئے تباہ کن رہا جس میں ان کے ورلڈکپ اور پروفیشنل کیریئر کا اختتام اطالوی کھلاڑی مارکو میٹارازی کو ٹک مارنے کی صورت میں گراؤنڈ چھوڑنے پر ہوا۔ریڈ کارڈ حاصل کرنے سے پہلے پہلے زیڈان فائنل میں بہترین اور جارحانہ کھیل کا مظاہرہ پیش کررہے تھے۔زیڈان نے پورے ورلڈ کپ میں ہی زبردست کھیل پیش کیا تھا۔ لیکن بدقسمتی سے فائنل میں ان کے باہر جانے کی وجہ سے فرانس پینلٹی شوٹ آؤٹ کا میں 3۔5سے شکست کھاگئی۔ وہ فائنل میں دو گول اسکور کر کے فران کے ہیرو بنے تھے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ورلڈ کپ ان کا سب سے بہترین ورلڈ کپ تھا۔
فرانز بیکن
ڈر کیسر کی عرفیت اور فرانز بیکن بوائیر کے نام سے شہرت پانے والے جرمن فٹبالر ہیں۔1972 اور 1976 میں یورپین فٹبالر آف دی ائیر کا خطاب پایا۔
جوہان کریوف
جوہان کریوف ڈچ فٹبالر ہیں ، تین دفعہ یورپین فٹبالر آف دا ائیر کا اعزاز رکھتے ہیں ، اور یورپین پلیر آف دی سینچری کے مقابلے میں دوسرے نمبر پر رہے۔
گریڈ مولر
گریڈ مولر ، 62 انٹر نیشنل میچوں میں68 ، 74 یورپین کپ میچوں میں 66 گول اور 427 Bundesliga games میں 365 گول کرنے والے عظیم اسٹرائیکر مانے جاتے ہیں۔
رونالڈو
رونالڈو۔فینیومینین کی عرفیت سے جانے جانے والے یہ برازیلی کھلاڑی پیلے کے بعد سب سے بڑے برازیلی فٹبالر مانے جاتے ہیں۔ورلڈ کپ 1998 برازیل کی فائنل میں رسائی میں رونالڈو کے چار گولزاسکور کرنے اور 3گولز نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ ان کی طاقت، رفتار اور غضب کی فنیشنگ مخالف ٹیم اور ان کے درمیان واضح فرق ہوتا تھا۔ جو بالخصوص کوارٹرفائنل میں چلی اور سیمی فائنل میں نیدرلینڈز کیخلاف واضح طور پر دیکھا گیا۔فائنل سے قبل بدقسمتی سے رونالڈو بیمار پڑ گئے اور آخری وقت میں ٹیم سے ان کا نام نکالنا پڑگیا اور بازیل ، فرانس کیخلاف فائنل 0۔3سے ہارگیا۔
کارلوس البرٹو ٹوریس
کارلوس البرٹو ٹوریس ، عظیم برازیلی فٹبالر ، جنھیں بہترین دفاعی کھلاڑی سمجھا جاتا ہے ، 1970 میں اٹلی کے خلاف ورلڈ کپ میں کیا گیا ان کا گول فٹبال مقابلوں کی تاریخ میں بہترین گول مانا جاتا ہے۔
مشعل پلاٹینی
مشعل پلاٹینی ، فرانسیسی فٹبالر ، یورپ چیمپین شپ فائنلز میں سب سے زیادہ گول اسکور کرنے کا ریکارڈ رکھنے والے کھلاڑی ، بہترین "فری کک” اور ساتھیوں کو گیند "پاس” کرنے والے کھلاڑی مانے جاتے ہیں۔
رول گونزالیز
رول گونزالیز ، اسپین سے تعلق رکھنے والے یہ فٹبالر "میڈرڈ کا فرشتہ” کی عرفیت سے جانے جاتے ہیں۔رئیل میڈرڈ کے دسرے بہترین اسکورر اور تین بار بہترین کھلاڑی کا اعزاز پا چکے ہیں۔
الفرڈو ڈی اسٹیفانو
الفرڈو ڈی اسٹیفانو ، اسپین کے اس عظیم کھلاڑی نے ، 282 لیگ میچوں میں 216 گول اپنے نام کر رکھے ہیں ، اسپین کے کھلاڑیوں میں تیسرے سب سے زیادہ اسکور کرنے والے کھلاڑی ہیں ، انھوں نے رئیل میڈرڈ کے 329 میچوں میں 228 گول اپنے نام کیے ، بنیادی طور پر "اسٹرائیکر” کی پہچان رکھنے والے یہ کھلاڑی میدان کے کسی بھی حصے سے بہترین کھیل پیش کرتے اور بہترین دفاعی کھلاڑی بھی سمجھے جاتے تھے۔
لوئیس فیگو
لوئیس فیگو ، پرتگال کے عظیم کھلاڑی ، 2000 میں یورپین فٹبالر آف دی پلیر کا اعزاز جیتنے والے یہ کھلاڑی ، جارحانہ کھیل پیش کرنے میں مشہور ہیں 56 ملین کی ریکارڈ رقم کے ساتھ انھوں نے 2000 میں رئیل میڈرڈ میں شمولیت اختیار کی تھی۔
رونال کوئی مین
رونال کوئی مین ، بہترین فری ککر اور دفاعی کھلاڑی ہیں ، اور مردہ (پرانی) گیند کے ساتھ بہترین کھیل پیش کرتے ہیں ،503 لیگ میچوں میں 193 گول اپنے نام رکھتے ہیں ، جو دنیا میں کسی بھی دفاعی کھلاڑی کے سب سے زیادہ گول ہیں۔
لیو یاشین
لیو یاشین ، فٹبال کی تاریخ میں بہترین گول کیپر مانے جاتے ہیں ، روس سے تعلق رکھتے ہیں ، بیسویں صدی کے عظیم گول کیپر کا اعزاز رکھتے ہیں ، اور اکلوتے گول کیپر ہیں جو یورپین فٹبالر آف دی ائیر کے لیے نامزد ہوئے۔
زیکو
زیکو ، گورا پیلے (وائیٹ پیلے) کہلائے جانے والے یہ عظیم فٹبالر اسی کی دہائی کے بہترین کھلاڑی مانے جاتے ہیں ، انھیں دنیا کا بہترین "فری کک اسپیشلسٹ” مانا جاتا ہے۔۔ اور ان کی لگائی ہوئی کک سب سے زور آور کک سمجھی جاتی ہے۔
اولیور کاہن
اولیور کاہن ،جرمنی سے تعلق رکھتے ہیں ، جرمنی کے سب سے کامیاب اور عظیم کھلاڑی مانے جاتے ہیں ، دو بار "جرمن فٹبالر آف دی ائیر” کا اعزاز رکھتے ہیں۔ اور دنیا کا بہترین گول کیپر کا اعزاز بھی۔
روبارٹ کارلوس
روبارٹ کارلوس ، اپنی ایک شاندار فری کک سے 35 میٹر کے فاصلے سے فرانس کے خلاف بہترین گول کر کے شہرت کمانے والے عظیم برازیلی فٹبالر ہیں۔
لیلین تھورام
لیلین تھورام ، فرانس کے بہترین دفاعی کھلاڑی ہیں 1998 میں کروشیا کے خلاف عالمی کپ کے سیمی فائنل میں دو گول کر کے شہرت کمائی ، فرانس یہ مقابل 3 کے مقابلے ایک گول سے جیت گیا تھا ، جس کے بعد فائنل بھی فرانس نے اپنے نام کر لیا۔
جارج بیسٹ
جارج بیسٹ کا شمار فٹ بال کی تاریخ کے چند عظیم ترین فٹ بالرز میں ہوتا ہے بعض ماہرین کا خیال ہے دنیا میں اس سے بڑا فٹ بالر کبھی پیدا نہیں ہوا لیکن اس عظیم ترین کھلاڑی کی یہ بدقسمتی ہے کہ وہ کبھی ورلڈ کپ میں حصہ نہیں لے سکا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی ٹیم ناردرن آئرلینڈ کبھی ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی نہ کرسکی۔
لیونل میسی
ہسپانوی کلب بارسلونا کے سپر اسٹار کھلاڑی لیونل میسی 24 جون 1987کو ارجنٹائن کے شہر روزاریو میں پیدا ہوئے۔وہ ارجنٹائن کی فٹ بال قومی ٹیم کا کپتان ہے ،لیونل میسی کی صرف 21 سال کی عمر میں فیفا ورلڈ پلیئر آف دی ایر اور فیفا بالن ڈی اور کیلئے نامزدگیاں ہوئیں جس کے اگلے ہی سال2009ء میں انہوں نے یہ دونوں اعزازات جیت لیے۔اگلے دو سالوں 2010ء اور 2011ء میں مسلسل فیفا بالن ڈی اور کا اعزاز حاصل کیا ، اس کے بعد 2010۔2011 میں میسی نے یورپ میں یوئیفاکپ کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ بھی جیتا تھا۔
کرسٹیانو رونالڈو
کرسٹیانو رونالڈو کا پورا نام کرسٹیانو رونالڈ ڈوس سینٹوس ایورو ہے اور وہ 5 فروری 1985 میں پرتگال کے جنوب مغربی شہر فنچل، میڈیرا میں پیدا ہوئے جب کہ انہوں نے اپنے کیرئیر کا آغاز 1992 میں کیا۔انہوں نے 2002 میں پرتگالی فٹبال کلب اسپورٹنگ سی پی بی سے باقاعدہ طور پر فٹبال کھیلنے کا آغاز کیا۔ اب رونالڈو پرتگال فٹبال ٹیم کے کپتان بھی ہیں اور 2009 سے ہسپانوی کلب ریال میڈریڈ کی بھی نمائندگی کررہے ہیں۔وہ ریال میڈریڈ کو 13 ٹرافیاں جتواچکے ہیں جن میں دو بار لالیگا، دو بار کوپا ڈیل رے، دو بار سپر کوپا ڈی اسپین، تین بار یوئیفا چیمپئنز لیگ ٹائٹلز اور دو بار یوئیفا سپر کپ شامل ہیں تاہم قومی سطح پر وہ ٹیم کو کوئی ورلڈ ٹائٹل نہیں جتوا سکے ہیں۔پرتگالی فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نیچار بار یوئیفا پلیئر آف دی ایئر کا اعزاز اپنے نام کیا ہے۔کرسٹیانو رونالڈو کو شہرت، عزت و دولت، کامیابی اور کامرانی کسی طشتری پر رکھ نہیں ملی اور نہ ہی وہ کوئی سونے کا چمچہ لے کر دنیا میں آئے تھے بلکہ انہوں نے اتنی ساری کامیابی و کامرانی سخت محنت سے حاصل کی ہے۔
پاؤلو روسی
پاؤلوروسی سب سے پہلے گولڈن بال ایوارڈ جیتنے والے کھلاڑی ہیں۔وہ 1982 کے ورلڈ کپ میں خود کو منوانے آئے تھے کیوں کہ اس سے قبل ان کو سٹے بازی میں ملوث پائے جانے کی وجہ سے معطل کیا گیا تھا۔ ان الزامات کی روسی نے ہمیشہ تردید کی۔انہوں نے 1980کی یورپین چمپئن شپ میں حصہ نہیں لیا تھا جسے انہوں نے’ناانصافی’ کا نام دیا تھا جبکہ ورلڈ کپ سے پہلے 82۔1981سیزن کے آخری میں وہ ایکشن میں دِکھائی دیئے تھے۔گروپ مراحلے میں ان کی کارکردگی متاثر کن نہیں تھی لیکن کوچ اینزو بیئرزوٹ نے دلیرانہ فیصلہ کرتے ہوئے انہیں ناک آؤٹ مراحل میں بھی ٹیم میں رکھا۔اگر اٹلی کے دفاع کی بات کی جائے تو انہوں نے ارجنٹینا کے خلاف 1۔2سے فتح سمیٹی۔ روسی نے سیمی فائنل میں ٹورنامنٹ فیورٹ برازیل خلاف ہیٹ ٹریک داغ کر سب کی توجہ اپنی جانب مرکوز کرلی۔
مغربی جرمنی کیخلاف فائنل میں انہوں نے پہلا گول کر کے ٹیم کی 1۔3سے حاصل کی جانے والی فتح کی بنیاد ڈالی گولڈن بال، گولڈن بوٹ اور ورلڈ کپ حاصل کیا۔

jahanzaibmalik129@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے