الیکشن 2018؛ موبائل ایپلی کیشنز عوامی رابطے کا ذریعہ بن گئیں

کراچی( وائس آف ایشیا) سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابات میں ڈیجیٹل طریقوں کااستعمال کیا جانے لگا، جماعتوں نے ووٹرز اور امیدواروں کے درمیان رابطوں کو فروغ دینے، پارٹی منشور کو عام کرنے اور تشہیری سرگرمیوں میں معاونت کے لیے درجنوں موبائل ایپلی کیشنز متعارف کرادیں۔ 25جولائی سے ہونے والے عام انتخابات کے سلسلے میں سیاسی جماعتوںکی جانب سے انتخابی مہم زوروں پرہے اس سلسلے میںشہربھرمیں جلسے جلوسوں اورکارنر میٹنگز جاری ہیں اورگلی کوچوں محلوں میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے بینرزاورپوسٹر آویزاں کیے جارہے ہیں اور عوامی رابطہ مہم جاری ہے،سیاسی جماعتوں نے ووٹرز سے رابطہ کرنے کے لیے روایتی طریقوں کے ساتھ جدید ڈیجیٹل طریقوںسے بھی استفادہ کرنا شروع کردیا ہے۔

سیاسی جماعتوں اور ان کے مداحوں کی جانب سے تیار موبائل ایپلی کیشنز ڈاؤن لوڈ کرنے کے رجحان میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ، ملک میں سرگرم تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے عام انتخابات میں اپنے ووٹرز اور امیدواروں کے درمیان رابطوں کو فروغ دینے، پارٹی منشور کو عام کرنے ، سماجی رابطے کی ویب سائٹس تک رسائی کو موثر بنانے اور تشہیری سرگرمیوں میں معاونت کے لیے درجنوں موبائل ایپلی کیشنز متعارف کرادی ہیں۔

ڈیجیٹل منظرنامے پر تحریک انصاف سب سے آگے ہے جس کے مداحوں میں نوجوانوںکی بڑی تعداد شامل ہونے سے موبائل ایپلی کیشنزکو ڈاؤن لوڈ کرنے کی تعداد بھی سب سے زیادہ ہے۔تحریک انصاف کے بعد مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ڈیجیٹل منظر نامے پر متحرک ہیں جن کے مداحوں نے انتخابی منشور،امید واروں کے کوائف ،حلقہ کی تفصیلات ووٹرز تک پہنچانے کے لیے موبائل ایپلی کیشنز متعارف کرادی ہیں، سیاسی جماعتوں کے آئی ٹی ماہرین ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کررہے ہیں۔

مختلف سیاسی جماعتوں نے انتخابات سے متعلق تشہیری میٹریل تیار کرنے میں آسانی مہیا کرنے کیلیے ریڈی میڈ پوسٹرز اور بل بورڈز کی ایپلی کیشنز تیار کی ہیں جس میں پارٹی رہنماؤں کی تصاویر کا اسٹاک موجود ہے، ووٹر یا انتخابی امیدوار کی تصاویر اور حلقہ نمبر درج کرکے باآسانی چند منٹوں میں انتخابات سے متعلق اشتہاری مواد تیار کیا جاسکتا ہے۔

ایپلی کیشن اسٹورز پر تحریک انصاف مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درجنوں فوٹو فریم ایپلی کیشنز دستیاب ہیں جس میں قائدین کے ساتھ تصا ویر لگا کر پوسٹر تیار کیے جاسکتے ہیں، سیاسی جماعتوں کی آفیشل ایپلی کیشنز بھی بڑی تعداد میں ڈاؤن لوڈ کی جارہی ہیں جن میں انتخابی امیدواروں کی تصاویر، حلقہ نمبر، انتخابی نشان اورتفصیل  موجود ہے اسی طرح انتخابی عمل سے متعلق روز مرہ بیانات ، اجلاس اور جلسے جلوسوں سے متعلق میڈیا اور اخبارات کی کوریج حاصل کرنے کیلیے بھی خصوصی ایپلی کیشنز متعارف کرائی گئی ہیں۔

جماعتوں کوڈیجیٹل ووٹ دینے کیلیے ایپلی کیشن متعارف

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور موبائل ایپلی کیشنز عوام میں حق رائے دہی اور قومی ذمے داری کے فریضہ کی اہمیت اجاگر کرنے میں بھی اہم کردار ادا کررہی ہے، ہنی ٹیک نامی ڈیولپر کی جانب سے’’ پاک ووٹ ‘‘کے نام سے متعارف کرائی گئی ایپلی کیشن بھی تیزی سے ڈاؤن لوڈ کی جارہی ہے یہ ایک غیرسیاسی اور غیرجانبدار ایپلی کیشن ہے جس کا مقصد سیاسی جماعتوں کی کارکردگی کی بنیاد پر عوام کی رائے مرتب کرتے ہوئے آئندہ انتخابات کے بارے میں عوامی رجحانات کو سامنے لانا ہے۔

اس ایپلی کیشن کے ذریعے عوام اپنی پسندیدہ جماعت کو اس کی کارکردگی کی بنیاد پرڈیجیٹل ووٹ دے سکتے ہیں،ہر فیس بک اکاؤنٹ سے ایک ووٹ کاسٹ کیا جا سکتا ہے ایک ڈیوائس سے ایک فیملی کے 5سے زیادہ افراد ووٹ نہیں ڈال سکتے ہیں ایپلی کیشن سیکنڈوں کی بنیاد پر نتائج مرتب کرتی ہے اور رائے کا اظہار کرنے والوں کے کوائف خفیہ رکھے جاتے ہیں۔

ایپلی کیشن بنانے والی ٹیم نے جعلی رائے دہندگان کی روک تھام کے لیے بھی مکینزم شامل کیا ہے اور جعلی اکاؤنٹس کا سراغ لگا کر انھیں بلاک کردیا جاتا ہے، اس ایپلی کیشن پر تبصرہ کرنے والے صارفین نے اسے ایک بہترین ایپلی کیشن قرار دیا ہے جس کے ذریعے ملک میں رائے دہنددگان کی عمومی رائے کا اندازہ لگا یا  جاسکا ہے بڑی تعداد میں صارفین کا کہنا ہے کہ اس طرز کی ایپلی کیشن کے ذریعے مستقبل میں الیکشن کمیشن پاکستان میں ڈیجیٹل رائے دہی کو ممکن بناسکتا ہے۔