Voice of Asia News

معاشی ترقی کیلئے پاکستان کو جاپان سے تجارت بڑھانا ہو گی کوئٹہ میں مقیم جاپان کے اعزازی قونصل جنرل سید ندیم عالم شاہ کا خصوصی انٹرویو

جاپان کی ترقی کا راز تعلیم ،محنت،ایمانداری اوراجتماعی سوچ میں پوشیدہ ہے
معاشی ترقی کیلئے پاکستان کو جاپان سے تجارت بڑھانا ہو گی پاکستان اپنی ٹریڈ پالیسی مضبوط بنائے
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں مقیم جاپان کے اعزازی قونصل جنرل سید ندیم عالم شاہ کا  وائس آف ایشیاء  کو خصوصی انٹرویو
:: محمد قیصر چوہان+ محمد جمیل بھٹی

چڑھتے سورج کی سرزمین جاپان تعمیر و ترقی اور ٹیکنالوجی میں دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔ ایک ایسی قوم جس نے عالمی جنگ کا سامنا کیا۔ اس پر پہلی بار ایٹم بم استعمال کیا گیا جس کے نتیجے میں بدترین تباہی رونما ہوئی لیکن کچھ ہی برسوں میں جاپانی قوم نے نہ صرف ایٹم بم سے تباہ ناگا ساکی اور ہیرو شیما کے کھنڈرات کو دوبارہ تعمیر کا شاہکار بنا لیا بلکہ ترقی کی شاہراہ پر اس تیزرفتاری سے گامزن ہوئے کہ دنیا حیران رہ گئی۔ جاپان نے ثابت کر دیا جس قوم میں جذبہ زندہ ہو اسے ایٹم بم سے بھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کے صوبے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں مقیم جاپان کے اعزازی قونصل جنرل سید ندیم عالم شاہ سے ہماری گفتگو کا مقصد اسی بے مثال، جفاکش، صابر، مخلص اور انتھک محنتی قوم کے متعلق جاننا تھا۔ سید ندیم عالم شاہ صاحب2000 سے بلوچستان میں جاپان کے اعزازی قونصل جنرل کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔سید ندیم شاہ کو جاپان اور پاکستان کے مابین دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے میں اہم ترین کردار ادا کرنے، کوئٹہ میں جاپانی شہریوں کی مدد اور بلوچستان میں جاپانی کلچر کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کرنے کے صلے میں جاپان کی حکومت نے غیر ملکیوں کو دیا جانے والا سب سے بڑا سول ایوارڈ ’’دی آرڈر آف رائزنگ سن‘‘ سے نوازا ہے۔ گزشتہ دنوں نمائندہ ’’وائس آف ایشیاء‘‘ نے دکھی انسانیت کی بے لوث خدمت میں مصروف اور پاک جاپان دوستی کو فروغ دینے میں اہم ترین کردار ادا کرنے والے سید ندیم عالم شاہ سے ان کی رہائش گاہ پر ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا۔ اس دوران ہونے والی گفتگو قارئین کی خدمت میں حاضر ہے۔

 

سوال:آپ کے خیال میں جاپان کا مشن کیا ہے؟
سید ندیم عالم شاہ:جاپان دکھی انسانیت کی بے لوث خدمت کے مشن پر گامزن ہے۔ جاپان کی حکومت نے غریب ممالک میں عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر اربوں، کھربوں ڈالر خرچ کئے ہیں۔ جاپان کا مشن دنیا بھر میں امن کو فروغ دینا ہے اور وہ اس مشن کو پورا کرنے کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے اور اس پر بھاری رقم خرچ کر رہا ہے۔ جاپان کی حکومت جب بھی کسی ملک کو امداد فراہم کرتا ہے تو وہ اس ملک کو فقیر یا حقیر نہیں سمجھتا بلکہ وہ دوست سمجھتا ہے۔کیونکہ ایک ہاتھ امداد دینے والا اور دوسرا ہاتھ استعمال کرنے والا ہوتا ہے۔ جاپان کی حکومت اپنے عوام کے ٹیکس سے غریب ممالک کے عوام کی فلاح و بہبود کے منصوبے مکمل کرتی ہے۔ جاپان کی حکومت مختلف طریقوں سے امداد کرتی ہے ایک پراجیکٹ صرف اور صرف این جی اوز کیلئے ہوتا ہے۔ دوسرا گرانٹ سسٹم کا ہے جاپان کی حکومت جو رقم عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرتی ہے۔ اس کو بہت محتاط انداز سے مانیٹر بھی کرتی ہے کیونکہ جاپانی حکومت اس بارے میں اپنی پارلیمنٹ کو جوابدا ہے۔

سوال: پاکستان اور جاپان کے مابین تجارت کی کیا صورتحال ہے ؟
سید ندیم عالم شاہ: پاکستان اور جاپان کے درمیان تجارت کا حجم زیادہ نہیں ہے۔پاکستان کی حکومت جاپان کے ساتھ تجارتی تعلقات کو ترجیحی بنیادوں پر فروغ دے کر اپنی معیشت مضبوط بنا سکتی ہے۔ پاکستان اور جاپان کے مابین اس وقت جو ٹریڈ پالیسی ہے وہ ان بیلنس ہے اگر پاکستان کی حکومت جاپان جیسے ترقی یافتہ ترین ملک کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو مضبوط بنائے اور صنعت، تعلیم، صحت، زراعت اور سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھائے تو پاکستان بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔ جاپان سے کافی چیزیں پاکستان آرہی ہیں لیکن پاکستان سے چیزیں جاپان نہیں جا رہی لہٰذا پاک جاپان ٹریڈ پالیسی بیلنس کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ جاپانی لوگ پاکستان کا آم بہت پسند کرتے ہیں ۔جاپان کی آٹو موبیل کمپنیاں مستقبل میں پاکستان میں وسیع سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتی ہیں۔ کچھ کمپنیاں اس شعبے میں کام کر بھی رہی ہیں۔پاکستان جاپان بزنس فورم بنا ہوا ہے جس کا ہیڈ کواٹر کراچی میں ہے اس فورم کو چاہیے کہ وہ دونوں ممالک کے مابین تجارتی حجم کو بڑھانے کیلئے اقدامات کرے اور دونوں ملکوں کی حکومتوں کو تجارت بڑھانے کے حوالے سے تجاویز دے۔ اس کے علاوہ (جیٹ رو) جاپان ایکسٹنل ٹریڈ آرگنائزیشن جو جاپان کا سرکاری ادارہ ہے اس کا آفس بھی کراچی میں موجود ہے یہ آرگنائزیشن تجارتی بنیادوں پر بزنس مینوں کو معلومات فراہم کرتا ہے یہ مختلف سیمنارز منعقد کراتی ہے۔ جیٹ رو کے بارے میں پاکستان کے چھوٹے تاجروں کو معلومات ناکافی ہیں اس گیپ کو فل کرنا بہت ہی ضروری ہے۔

سوال: کیا آپ پاکستان کی طرف سے کاروبار اور سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات سے مطمئن ہیں؟
سید ندیم عالم شاہ:میں موجودہ حالات میں پاکستان اور جاپان کے مابین ہونے والی تجارت کی صورتحال سے بالکل بھی مطمئن نہیں ہوں۔ پاکستان کو ایڈ نہیں بلکہ ٹریڈ پالیسی اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔ ٹریڈ پالیسی کو مضبوط اور فروغ دے کر ہی پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی حکومت کو معاشی ترقی کیلئے جاپان کو رول ماڈل بنانا ہو گا۔ پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے ہماری حکومت کو سب سے پہلے پاکستان کو امن کا گہوارہ بنانا ہو گا۔سرمایہ کاروں کو تحفظ فراہم کرنا ہوگا۔ صنعتی یونٹوں کو بجلی اور گیس کی فراہمی کو یقینی بناناہوگا۔ پاکستان کو خوشحال بنانے کے لیے حکومت کو امن قائم کر کے سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بنانا ہو گا اور سب سے اہم چیز یہ ہے کہ حکومت ٹریڈ پالیسی کو مضبوط بنائے۔

سوال: جاپان نے بلوچستان میں عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کون سے پراجیکٹ مکمل کئے ہیں؟
سید ندیم عالم شاہ: جاپان نے کاؤنٹرر ویلیو فنڈز کے طریقہ کار کے تحت بلوچستان کے غریب عوام کی فلاح و بہبود کے کئی منصوبے مکمل کئے۔ غریب فشر مین کو زندگی کی بنیادی ضروری اشیاء کے لیے جاپان حکومت نے 800 ملین روپے کاؤنٹر ویلیو فنڈز کے ذریعے پسنی فش ہاربر ڈیپارٹمنٹ کو ٹرانسفر کئے۔ اسی طرح بلوچستان میں غریبوں کے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کیلئے 200 سکول تعمیر کئے گئے۔ صحت اور زراعت کے شعبوں میں بھی کام کیاگیا۔ ساڑھے تین سو کے قریب بلڈوزر بھی دیئے گئے۔ بلوچستان میں چونکہ بارشیں کم ہوتی ہیں اس لیے وہاں پر پانی زمین کے کافی نیچے ہے۔ اس لیے وہاں پر ڈرلنگ کے لیے 22 سے زائد ڈرلنگ مشینیں دی گئیں۔ بولان میڈیکل کالج کی بھی امداد کی گئی۔

 

 

سوال: کیا جاپان نے بلوچستان کے علاوہ پاکستان کے دیگر صوبوں کے غریب عوام کی فلاح و بہبود کیلئے بھی کوئی کام کیا ہے اور پاک جاپان تعلقات پر بھی روشنی ڈالیں؟
سید ندیم عالم شاہ:جاپان پاکستان کا دیرینہ اور مخلص ترین دوست ہے۔ جاپانی حکومت اور عوام پاکستان سے بے پناہ پیار کرتے ہیں۔ جاپان نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور ہمیشہ دیتا رہے گا۔ جاپان اور پاکستان کی دوستی کو66 ہو چکے ہیں۔ گزشتہ برس پاک جاپان دوستی کی65 ویں تقریبات بڑی دھوم دھام سے منائی گئیں تھیں ۔ پاک جاپان دوستی سمندر سے گہری اور پہاڑوں سے بلند ہے۔ جاپان نے پاکستان کی بے پناہ امداد کی ہے۔ تعلیم کے فروغ اور امن کے قیام کیلئے جاپانی حکومت نے پاکستان کی بے پناہ مدد کی ہے۔ متوسط علاقوں میں غریب عوام کا معیار زندگی بلند کرنے اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے بھی جاپان نے پاکستان میں کافی کام کیا ہے۔ فیصل آباد میں جاپانی حکومت نے اربوں روپے کے فنڈز سے وہاں کے لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگا کر دیئے ہیں۔ فیصل آباد کے بعد لاہور کے مضافاتی علاقوں میں بھی جاپانی حکومت نے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں توانائی بحران کو مد نظر رکھتے ہوئے جاپانی حکومت نے پاور سیکٹر میں بھی پاکستان کی بہت زیادہ مدد کی ہے۔ جاپان کی حکومت نے پاکستان کو توانائی کے بحران سے نجات دلانے کیلئے سولر انجری پراجیکٹ متعارف کرایا ہے۔ سولر انجری کا پراجیکٹ شاندار طریقے سے چل رہا ہے اس سولر انرجی سسٹم کی سپلائی آن گریڈ ہے۔ سولر انرجی کا پراجیکٹ پاکستان انجینئرنگ کونسل اور پلاننگ کمیشن کے ساتھ جاپانی انجینئرز کا پاک جاپان دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کوہاٹ ٹنل کا منصوبہ بھی جاپان حکومت اور انجینئرنگ کا ایک شاہکار ہے۔ جاپانی حکومت نے لاہورمیں 150 سے زائد ٹیوب ویل لگائے ہیں۔اس کے علاوہ چاروں صوبوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائے گئے ہیں اور مزید لگائے جا رہے ہیں۔ فیصل آباد شہر میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے تین بلین سے زا ئد رقم خرچ کی گئی ہے۔ اسی طرح ایبٹ آباد اور تھر میں بھی لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ جاپان کی حکومت نے پاکستان کی حکومت کو اب تک 13 ارب ڈالر کی امداد دی ہے جس میں 80 فیصد لون اور 20 فیصد گرانٹ شامل تھی۔

سوال: یورپی ممالک پاکستانی طلباء کو اسکالر شپ دیتے ہیں اس سے غریب طلباء کی مدد ہو جاتی ہے اور ان ممالک کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہو جاتا ہے، کیا جاپان بھی ایسی سہولت فراہم کرتا ہے؟
سید ندیم عالم شاہ: جی ہاں! جاپان کی حکومت پاکستانی طلباء کو اسکالر شپ دیتی ہے کیونکہ جاپان کا مشن دنیا بھر میں امن کو فروغ دینا ہے اور یہ مشن تعلیم کو فروغ دے کر آسانی کے ساتھ پورا کیا جا سکتا ہے۔ جاپان کے لوگ جنگ سے نفرت کرتے ہیں اورامن سے محبت کرتے ہیں۔

 

سوال: جاپان پر ایٹم بم کے استعمال کی تاریخی ٹریجڈی کے متعلق آپ کیا کہیں گے؟
سید ندیم عالم شاہ: دوسری جنگ عظیم میں امریکہ نے جب ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے تو یہ نہ صرف جاپانی قوم بلکہ دنیا کے لیے ایک ناقابل فراموش سانحہ ہے۔ ہیرو شیما اور ناگاساکی پر 1945 میں دو ایٹم بم گرائے گئے تھے جس کے نتیجے میں 270000 معصوم شہری ہلاک ہوئے تھے۔ تابکاری کے اثرات سے بے شمار لوگ معذور ہو گئے۔ مضر اثرات کئی سالوں تک رہے۔ اس ٹریجڈی آف وار سے دنیا کو سبق سیکھنا چاہیے کہ ایٹم دوبارہ نسل انسانی کی تباہی کیلئے استعمال نہ ہو۔ ایٹمی حملوں کے بعد جاپانی لوگ جنگ سے نفرت اور امن سے محبت کرنے لگے ہیں۔

سوال: ایٹم بم سے تباہ ہونے والی قوم کی وہ کیا خصوصیات تھیں جس نے تعمیر نو میں مدد کی؟
سید ندیم عالم شاہ: جاپانی قوم کے کردار نے انہیں دوبارہ زندگی دی، جاپانی نہایت جفاکش ، صابر اور مخلص لوگ ہیں۔ ان خوبیوں کے ساتھ ان کو لیڈر شپ ایسی ملی جس نے وہ پالیسیاں بنائیں جن کی وجہ سے ایٹم بم سے تباہ شدہ قوم کو دنیا کے لیے مثال بننے کا موقع ملا گورنمنٹ اور عوام دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کیا۔ گورنمنٹ نے پالیسیاں بنائیں مثلاً 1960 میں وزیراعظم اکیتا نے ڈبل انکم اسکیم شروع کی جس کے تحت پانچ سالوں میں حکومتی اقدامات پر عملددرآمد سے تنخواہ دوگنی ہو جاتی۔ اس طرح سے جاپانی لیڈر شپ نے قوم کو ایک ہدف دیا۔ ایک خواب دیا۔ گورنمنٹ کے یہ ٹارگٹ پانچ کی بجائے تین سال میں حاصل ہو گئے۔ اسی طرح ایک اور اقدام اولمپک گیمز کا انعقاد تھا 1964 اور 1970 میں اوساکا ورلڈ ایکسپو نے جاپانی معیشت کی تعمیر نو میں بہت مدد کی۔ اولمپک گیمز سے محض دس دن پہلے 550 کلومیٹر لمبی ریلوے لائن ٹوکیو اور اوساکا کے درمیان بچھا لی گئی تھی۔ جاپانی لیڈرز نے انفرااسٹرکچر کی تعمیر کی طرف توجہ دی سیکورٹی کی طرف سب سے زیادہ توجہ دی گئی۔ اس کے بعد ترقی کے لیے ضروری اجزا مثلاً الیکٹر سٹی کی پیداوار عوام کو پانی اور دیگر ضروریات زندگی کی فراہمی یقینی بنائی گئی۔ مختصراً یہ کہ گورنمنٹ نے ایک اچھا فریم آف ورک بنایا اور لوگوں نے ایمانداری سے اس پر عملدرآمد کیا۔ جاپانیوں کی ترقی کا راز ان کی اجتماعی سوچ، سچ بولنے کی عادت اور انتھک محنت کرنے میں پوشیدہ ہے۔ ایٹم بم کے حملوں کے بعد جاپانیوں نے بہت سخت محنت کی۔ تعمیر نو کیلئے جو قرض لیا اس کو درستگی کے ساتھ استعمال کیا گیا۔ جاپان آج اتنی ترقی کر چکا ہے کہ وہ کئی ممالک کی فلاح و بہبود پر رقم خرچ کرنے کے علاوہ کئی ممالک کو قرض بھی دے رہا ہے جاپان نے عالمی معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے بھی فنڈز دیئے۔ آئی ایم ایف، ورلڈ بنک، ایشین ڈویلپمنٹ بنک کی بھی مدد کی ہے۔ اقوام متحدہ کے فلاحی کاموں میں بھی جاپان نے امداد کی ہے۔

سوال: ہیرو شیما اور ناگاساکی اب کیسے نظر آتے ہیں؟
سید ندیم عالم شاہ: یہ ہیروشیما اور ناگاساکی نہایت خوبصورت اور بالکل نئے بنا دیئے گئے ہیں البتہ ایٹم بم سے تباہ شدہ ایک عمارت کو میوزیم بنایا گیا ہے جس میں تباہی کی یادگاروں کے ساتھ جاپان کی بہترین مینوفیکچرڈ اشیاء بھی نمائش کے لیے رکھی گئی ہیں۔ یہاں ہر سال ایک امن کی تقریب منعقد کی جاتی ہے میموریل پارک بنایا گیا ہے۔ میوزیم میں نئی نسل کے لیے اس تاریخی سانحہ پر ڈسکشنز پروگرام کئے جاتے ہیں۔ انہیں فلمیں اور سی ڈیز دکھائی جاتی ہیں۔ جاپان کی نوجوان نسل اس سانحے سے پوری طرح آگاہ ہے۔

سوال: آپ کے نزدیک جاپان کی ترقی کا راز کیا ہے؟
سید ندیم عالم شاہ:میں سمجھتا ہوں کہ جاپان کی ترقی کا راز تعلیم ،محنت،ایمانداری اوراجتماعی سوچ میں پوشیدہ ہے ۔
جاپان نے جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تعلیم کو فروغ دے کر ترقی حاصل کی ہے۔جاپان میں خواندگی کی شرح سو فیصد ہے۔ دراصل جاپان نے 1868 میں اپنے دروازے بیرونی دنیا کے لیے کھول دیئے اور پہلی مرتبہ ماڈرن حکومت تشکیل پائی اس سے پہلے جاپان کے قبائلی نظام میں بیرونی دنیا سے رابطہ نہیں رکھاجاتا تھا ماڈرن maji حکومت نے ہر فرد کیلئے تعلیم لازمی قرار دی۔ تعلیمی نصاب فرد کوبہتر انداز میں سوچنے سمجھنے کے لیے تیار کرتا تھا۔ تعلیم عام کرنے سے یہ فائدہ ہوا کہ دنیا میں جب ٹیکنالوجی کا دور شروع ہوا تو جاپان اس کے لیے پوری طرح تیار تھا۔ ٹیچرز کو اچھی تنخواہیں اور معاشرے میں مقام دیاجاتا ہے۔ اسی لیے امریکن بھی جاپان میں خوشی خوشی پڑھانے آتے ہیں۔ ٹیکنالوجسٹس کو بہت زیادہ تنخواہیں دی جاتی ہیں۔ ان اقدامات نے جاپان کو تعلیم و ٹیکنالوجی میں صف اوّل میں کھڑا کر دیا۔ جاپانی لوگ جانتے ہیں تعلیم ایک میرٹ ہے۔ اگر ایک کسان کا لڑکا تعلیمی اہلیت رکھتا ہے تو وہ بھی اسی جاب کا اہل ہے جو ایک منسٹر کا بیٹا کر سکتا ہے۔ جاپان کے لوگ سو فیصد تعلیم یافتہ ہیں ہر طرف صاف ستھرا ماحول ہے۔شہروں کی طرح دیہات میں بھی یکساں ترقی ہے۔ زراعت کا نظام جدید بنیادوں پر استوار ہے۔ جاپان کی اقتصادی حالت بہت مضبوط ہے۔ لوگ مطالعے کے شوقین ہیں۔ فکشن سے خصوصی لگاؤ رکھتے ہیں۔ہر طبقے کو تمام سہولتیں میسر ہیں، جرائم کی شرح کم ہے قومی مفادات ہر شخص کے پیش نظر ہیں۔ طرزِ حکومت جمہوریت ہے، بادشاہ کی حیثیت علامتی ہے لیکن اس کا احترام برقرار ہے، استاد اور ڈاکٹر کا احترام بھی بہت زیادہ ہے۔

سوال: آپ جاپانیوں کی اچھی صحت کا راز کیا ہے؟
سید ندیم عالم شاہ: طویل عمرکی اوسط میں جاپان دنیا میں نمبر ون ہے۔ جاپان میں مردوں کی اوسط عمر 80 سال ہے اور عورتوں کی 86 سال ہے۔ جاپانیوں کی طویل عمر اور اچھی صحت کا راز غذائی عادات ہیں جاپانی کھانوں میں زیادہ چکنائی استعمال نہیں کرتے۔ بوائلڈ اور بیکڈ کھانا پسند کیا جاتا ہے تازہ اجزاء سبزی اور مچھلی کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ خوش قسمتی سے جاپانی سرزمین بہت زرخیز ہے۔ چار مختلف موسم ہیں جن میں بے شمار مختلف سبزیاں ہوتی ہیں پانی کے ذخیروں کی کمی نہیں، مچھلی وافر ہوتی ہے۔ یہ تمام اشیاء مناسب دام میں مہیا ہوتی ہیں اس کے علاوہ جاپان میں گرین ٹی کا بہت استعمال ہے۔ یہ صحت کے لیے بہت اچھی ہے مجموعی طور پر بھی جاپانی قوم ہیلتھ کانشئس ہے۔ لوگ موٹاپے سے بچتے ہیں اوورایٹنگ اور ڈرنکنگ سے گریز کرتے ہیں۔ ایکسرسائز کرتے ہیں۔ جاپان میں یہ اصول رائج ہے کہ اچھی صحت کیلئے80 فیصد کھاؤ، یعنی پیٹ بھر کر نہیں کھانا چاہیے۔

سوال: پاکستان اور جاپان کے لوگوں میں آپ کو کیا مماثلت نظر آتی ہے؟
سید ندیم عالم شاہ: دونوں ممالک میں لوگ بہتر مستقبل کے لیے کام کر رہے ہیں محنت کر رہے ہیں۔دونوں ممالک کے نوجوان نسل کافی ذہین ہے اور ان میں آگے بڑھنے کی لگن اور جستجو ہے۔

سوال: جاپان اور پاکستان کے معاشرے میں آپ کو بنیادی فرق کیا لگتاہے؟
سید ندیم عالم شاہ: جاپانی معاشرہ بہت منظم اور مربوط ہے۔ جاپانی معاشرے میں ہم آہنگی اور اجتماعی سوچ نظر آتی ہے جاپانی قوم سچ بولتی ہے جھوٹ سے نفرت کرتی ہے۔ جبکہ پاکستانی معاشرے میں مجھے نفسا نفسی اور انفرادی سوچ محسوس ہوتی ہے عمومی طور پر پاکستانی معاشرہ جینٹل ہے لیکن ڈرائیور سے لے کر افسر تک ہر ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی سوچتا ہے۔ قومی سوچ کے فروغ کی اشد ضرورت ہے۔

سوال: آپ کو جاپان کا اعزازی قونصل جنرل کب بنایا گیا تھا؟
سید ندیم عالم شاہ: جاپان کی حکومت نے مجھے 2000ء میں پاکستان میں اپنا پہلا اعزازی قونصل جنرل بنایا تھا۔ جو میرے لیے بڑے اعزاز اور فخر کی بات ہے۔

سوال: جاپانی حکومت نے کن خدمات کے عوض آپ کو اپنا اعزازی قونصل جنرل بنایا؟
سید ندیم عالم شاہ: میں نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں 1990 میں پاک جاپان فرینڈ شپ سوسائٹی بنائی تھی اور بلوچستان کے مشکل ترین حالات میں پاکستان اور جاپان کے اقتصادی تعلقات اور دوستی کے رشتہ کو مضبوط بنانے کے حوالے سے اپنا کردار ادا کیا تھا۔ میرے اس جذبے اور کام کو دیکھنے کے بعد جاپان کی حکومت نے مجھے اعزازی قونصل جنرل بنایاتھا۔ مجھ سے پہلے پاکستان میں جاپان کا کوئی بھی اعزازی قونصل جنرل نہیں تھا۔ مجھے جاپانی حکومت نے 2000ء میں اس اعزاز سے نوازا تھا۔ جو میرے لیے بڑے فخر کی بات ہے۔ بعدازاں لاہور اور پھر پشاور میں جاپان کی حکومت نے اپنے اعزازی قونصل جنرل بنائے۔

سوال: جاپان کا اعزازی قونصل جنرل بننے کے بعد آپ کے اہداف کیا تھے؟
سید ندیم عالم شاہ: میرا مقصد پاکستان اور جاپان کے درمیان دوستی کے رشتے اور تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا تھا۔ میں نے جاپانی حکومت کے تعاون سے بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں عوامی فلاح و بہبود کے کئی منصوبے مکمل کئے ہیں اور کئی پر کام جاری ہے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے