Voice of Asia News

اہم زیارت درگاہ حضرت سیدسخی بلاول شاہ نورانی اور ’’لاہوت لامکاں‘‘ :تحریر : محمد قیصر چوہان

بلوچستان رقبے اور وسائل کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے وسیع اور مالا مال صوبہ ہے۔ پاکستان کے کل رقبے کا 43فیصد بلوچستان پر مشتمل ہے اور اس کے مختلف شہر پہاڑ صحراء اور وادیاں معدنی ذخیروں سے مالا مال ہیں۔ جغرافیائی طور پر عالمی سیاست میں اس خطے کوبڑی اہمیت حاصل ہے۔750 کلو میٹر ساحلی علاقہ بلوچستان کا حصہ ہے۔ ایران اور افغانستان سے اس کی سرحدیں ملتی ہیں جو اس وقت عالمی طاقتوں کااہم ترین مراکز ہیں۔اس صوبے میں عالمی شہرت یافتہ گوادر پورٹ بھی ہے ۔تاریخی طور پر یہ صوبہ آج بھی ہزاروں سال قدیم قبائلی روایات کا مسکن ہے ۔بلوچستان تیل،گیس، کوئلے، سونا اور دوسری قیمتی معدنیات سے مالا مال ہے۔ بلوچستان کے ضلع خضدار کا علاقہ شاہ نورانی کراچی سے 120 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، یہ مقام چاروں طرف سے پہاڑوں میں گھرا ہوا ہے، علاقے کی وجہ شہرت صدیوں پرانا حضرت سیدسخی بلاول شاہ نورانی کا مزار ہے۔جہاں ملک اور بیرون ملک سے ہزاروں کی تعداد میں زائرین آتے ہیں۔شاہ نورانی سنگلاخ پہاڑی علاقہ ہے، دور دراز ہونے کے سبب علاقے میں کوئی ہسپتال نہیں، مکین بجلی،موبائل فون سروس اور دوسری اہم اور بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہیں۔
بلوچستان کے ضلع خضدار کی تحصیل وڈھ کے جنوب میں سارونہ کے علاقے میں واقع ایک اہم زیارت ’’لاہوت لامکاں ‘‘کہلاتی ہے۔لاہوت کے لغوی معنی ہیں ’’وہ جگہ جو فنا فی الرسول اور فنا فی اللہ (اولیاء کرام) والے لوگوں کا آستانہ ہو‘‘ اسے لاہوت کہتے ہیں۔لاہوت لامکاں تصوف کی ایک مشہور اصطلاح ہے جس کا مطلب اس مادی دنیا سے ماورا ایک ایسی روحانی دنیا ہے جہاں وقت اور مکان نہیں ہوتا۔لیکن بہرحال نورانی میں یہ ایک بڑے سے غار کا نام ہے جہاں مقامی لوگوں کی کئی زیارتیں ہیں جو ان کی روایات کے مطابق نورانی بابا اور دیگر بزرگوں سے منسوب ہیں۔’’لاہوت لامکاں ‘‘ کے بارے میں روایات ہیں کہ کائنات میں سب سے پہلے یہی مقام تخلیق کیاگیاتھااورکچھ روایات کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام کواسی جگہ اتاراگیاتھا۔ لاہوت لامکا ں کے بارے میں عجیب وغریب روایات موجود ہیں۔یہی وجہ ہے کہ مختلف مکاتب فکرسے تعلق رکھنے والے اور عجائبات عالم میں دلچسپی لینے والے ہزاروں لوگ ہر سال یہاں دشوار گزار راستہ طے کر کے آتے ہیں۔ اس کے نزدیک ہی ایک مشہوربزرگ حضرت سخی بلاول شاہ نورانی کامزاربھی ہے۔حضرت سیدبلاول شاہ نورانی ہے کا مزار کراچی سے تقریبا200کلومیٹر دور بلوچستان کے پہاڑی دامن میں واقع ہے ۔حضرت سید بلاول شاہ نورانی ہے کو عام طور پر شاہ نورانی کے نام سے پکارا جاتا ہے۔شاہ نورانی کا مزار پانچ سو سالہ پراناہے۔ حضرت سید سخی بلاول شاہ نورانی کے بارے میں کچھ زیادہ تفصیلات مستند ذرائع سے نہیں ملتیں ۔تاہم موجودہ شکل میں مزار کی تعمیر قیام پاکستان کے بعد عمل میں آئی۔ شاہ نورانی کا سلسلہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے ملتا ہے۔ شاہ نورانی کے عرس اور میلے میں آنے والے زائرین قافلوں کی شکل میںآتے ہیں اور ان قافلوں کے شرکاء جئے شاہ جبل میں شاہ۔نورانی نور ہر بلا دور۔جئے شاہ نورانی جئے شاہ نورانی۔کے فلگ شگاف نعرے لگاتے ہوئے آتے ہیں ۔
حضرت سیدسخی بلاول شاہ نورانی اور ’’لاہوت لامکاں‘‘ تک جانے کیلئے کراچی کے مشہور علاقے لیاری کی معروف لی مارکیٹ سے محبت فقیر تک بس چلتی ہے جو شیر شاہ،سعیدآباد، مہاجر کیمپ ،بلدیہ ٹاؤن، پولیس لائن کراچی،مواچھ گوٹھ ،حب ریور روڈ ،رئیس گوٹھ اور حب ندی کے پل سے حب چوکی شہر سے ہوتے ہوئے حب دریجی روڈ پر ساکران کے ہرے بھرے باغات سے ہوتے ہوئے یہ راستہ تقریبا ڈیڑھ سو کلومیٹر طویل حب دریجی روڈ،لنگ لوہار،حسن پیر ،پڑیاں اور نورانی کراس اور محبت فقیر سے ہوتا ہوا شاہ نورانی کے مزار پر پہنچتا ہے۔یہ تمام راستہ دشوار گزارش اور پہاڑوں کے درمیان میں سے طے کرنا پڑتا ہے۔ دوسرا راستہ سیہون سے محبت فقیر تک کا ہے ،سیہون میں جب حضرت شہباز قلندر کے عرس کا اختتام ہوتا ہے تو زائرین قافلے کی شکل میں ’’لال باغ‘‘ میں آکر جمع ہوتے ہیں۔ اور ہر قافلہ وقفہ وقفہ سے لاہوت کیلئے روانگی اختیار کرتا ہے۔ سیہون سے چل کر پہلی منزل ’’جھانگارا باجارا‘‘ آتی ہے دوسری منزل ’’صالح شاہ‘‘، تیسری منزل ’’باغ پنج تن پاک‘‘، چوتھی منزل ’’چھنگھن‘‘۔ اس کے علاوہ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر کچھ دیر آرام کرنے کی منزلیں ہیں جن کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔سید آری پیر،علی کا کنواں،جہاں انسان کے ہاتھ نہیں پہنچ سکتے لیکن جب زائرین ’’مولا علی‘‘ کا نعرہ بلند کرتے ہیں تو پانی تیزی سے اوپر آ جاتا ہے تمام زائرین حاجت کے مطابق پانی پی لیتے ہیں، بعد میں پھر پانی اپنی نچلی سطح پر واپس چلا جاتا ہے۔آہوت جبل،بہلول دیوانے کا آستانہ، اس کے مطابق کہا جاتا ہے کے ایک شخص حضرت علی کے شیدائی تھے وہ کچھ اشیاء بیچ کر پیسہ جمع کر کے لوگوں کو کہتے تھے علی کا نعرہ بلند کرو جب لوگ ایسا کرتے تو وہ اپنی کمائی ہوئی رقم ان لوگوں کو تقسیم کر دیتے تھے اس لیے ان کو بہلول دیوانہ کہا جاتا ہے۔مسجد لطیف ،بولالک اور لطیف جی کھوئی۔ اس کے بعد زائرین محبت فقیر پر حاضری دیتے ہیں۔محبت فقیرکے بارے میں روایت ہے کہ یہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے غلام تھے۔محبت فقیر کے ڈیرے سے اگلی منزل حضرت سیدسخی بلاول شاہ نورانی کا مزار ہوتا ہے ۔ مزار تک پہنچنے کے کئی طریقے تھے ،ایک اونٹ کی سواری، دوسرا قدیم سی جیپ کی سواری اور تیسرا پیدل مارچ۔ پیدل چلنے وال ذائرین ایک گھنٹے کے سفر کے بعد ایک جگہ پہنچتے ہیں جو ‘‘علی کا قدم ’’ کے نام سے مشہور ہے۔یہاں ایک بڑا سا قدم بنا ہے۔ جس کے بارے میں کہاجاتاہے کہ یہاں حضرت علی کے پاؤں کے نشانات ہیں۔ ان نشانات کوریشمی جھالروں سے سجایاگیاہے۔یہیں پرایک پتھر ایسا بھی رکھاہے جس کے متعلق مشہورہے کہ اسے کھاٹ جبل سے لایاگیاجس پرواضح اورقدرتی طورپرکلمہ طیبہ لکھاہے۔ کھاٹ جبل کویہ نام اس لئے ملاکہ اس پہاڑپرایک بزرگ کی چارپائی رکھی جاتی تھی۔ اسی کھاٹ یعنی چارپائی کاایک پایہ وہاں کے گدی نشین کے پاس موجودہے۔جس کی زیارت کے لیے زائرین بڑی تعدادمیں آتے ہیں۔ قدم گاہ کے نزدیک پہاڑی پرحضرت رحیم علی شاہ بخاری کی درگاہ ہے۔ جس پہاڑ ی پریہ درگاہ ہے وہاں بھی قدرتی طورپرقرآنی آیات نقش ہیں۔
حضرت سخی بلاول شاہ نورانی کامزاریہاں سے نزدیک ہی ہے جبکہ قریب ہی ایک مسجدبھی موجودہے جس کے بارے میں کہاجاتاہے کہ اس کوکسی نے تعمیرنہیں کیایہ خودہی وجود میں آئی یہاں ایک دلفریب پتھربھی نظرآتاہے۔اس قدم گاہ سے نزدیک ہی ”پریوں کا باغ” بھی موجود ہے اس باغ میں کھجور’ املی اور دوسرے درختوں کے ساتھ آم کے درخت بھی نظر آتے ہیں جن پر جا بجا واضح طور پر اللہ لکھا ہوا ہے۔ یہاں کے بارے میں روایت ہے کہ یہاں ایک ظالم دیوگوگل کی حکومت تھی اورلوگ اس سے تنگ تھے۔ لوگوں نے اللہ تعالی سے دعاکی توایک نورانی صورت بزرگ تشریف لائے جنھوں نے اس دیوکوشکست دے کرلوگوں کواس کے ظلم سے نجات دلائی۔اس مقابلے کی نشانیاں اس پہاڑکے سنگلاخ بدن پرموجودہیںیہ نشانات بھاگتے قدموں ‘خراشوں اورلڑائیوں کوظاہرکرتے ہیں۔بزرگ نے اس دیوکوقید کرکے باغ اوراس کے مضافات میں پانی پہنچانے کاکام سونپ دیااورصدیوں سے بہتے ہوئے اس چشمے سے پریوں کاباغ اوردیگرکھیت سیراب ہورہے ہیں۔اس باغ سے اصل زیارت گاہ لاہوت لامکاں کے راستے نکلتے ہیں۔
لاہوت لامکاں کا پہاڑ ایک بڑا حسین ترین آبشار معلوم ہوتا ہے۔ لاہوت لامکاں کا پہاڑ کراچی سے آنے والے روڈ سے مغرب میں اور سید بلاول شاہ نورانی اور محبت فقیر کے مزارات سے جنوب میں واقع ہے۔ لاہوت لامکاں کا خوبصورت ترین پہاڑ بہت بلندہے۔ یہ پہاڑ سطح سمندر سے اندازہ 4000 ہزار فٹ بلند ہے۔ لاہوت کا پہاڑ پیدل عبور ہی کیا جاتا ہے۔ لاہوت لا مکاں کا پہاڑ دو اطراف سے عبور کیا جا سکتا ہے۔ ایک راستہ حضر ت سیدسخی بلاول شاہ نورانی کے مزار کے راستے میں موجود پریوں کا باغ سے اُوپر کی جانب نکلتا ہے ۔پیدل زائرین کیلئے سات پہاڑوں چار پائی پہاڑ،کشتی نما پہاڑ،پیالہ یا لوٹا نما پہاڑ،دال پہاڑاور مزید تین پہاڑ ہیں جن کا کوئی نام نہیں ہے کوعبورکرکے ’لاہوت لامکاں‘‘ کی زیارت گاہ تک پہنچنا پڑتاہے اس راستے سے صرف سخت جان لوگ ہی گزرسکتے ہیں۔حضرت سید سخی بلاول شاہ نورانی کے مزار سے ’’لاہوت لامکاں‘‘ جائیں توراستے میں چلتے ہوئے پریوں کا تالاب آتا ہے ۔یہ چاروں اور پہاڑ وں میں گھری ایک چھوٹی سی وادی ہے جس کے بیچوں بیچ ایک چشمہ ابل رہا ہے اس کاپانی شفاف ہے۔اردگرد تھوڑا بہت سبزہ بھی ہے ۔سامنے پہاڑ پر قریب پندرہ فٹ کی بلندی پر ایک غار دکھائی دیتا ہے جولطیف جی کھوئی کے نام سے مشہور ہے اور روایات کے مطابق شاہ عبدلطیف بھٹائی نے یہاں بیٹھ کر چلہ کشی کی تھی یہ غار کوئی چھ فٹ لمبا اور چار فٹ اونچا ہے ۔راست میں مائی جو گوٹھ ایک مختصر سی آبادی پر مشتمل ایک گاؤں بھی آتا ہے۔ اس کے نام کی وجہ ایک مائی ہے جو منتیں مانگنے والوں کو دھاگوں پر پھونک کر انہیں گنڈے دیا کرتی تھی تاکہ ان کی مرادیں پوری ہوجائیں۔
زیارت ’’لاہوت لامکاں ‘‘کیلئے دوسرا راستہ محبت فقیر کے مزار تک پہنچنے سے پہلے مین سڑک سے نکلتا ہے جہاں لاہوت لامکاں کا سائن بورڈ نصب ہے۔ یہاں روڈ کے قریب ایک چھوٹا سا ہوٹل اور مسجد ہے جہاں سے سفر شروع ہوتاہے۔ یہ راستہ بھی آسان نہیں مگر اکثر لاہوتی اسی راستے سے جاتے ہیں۔ لاہوت لامکان کی غار کی طرف یہ راستہ پہاڑیوں میں سے بل کھاتا ہوا اوپر غار کی طرف جاتا ہے۔ اس خطرناک راستے میں کہیں کہیں لوہے کی سیڑھیاں بھی لگی ہوئی ہیں۔ دیکھنے میں یہ سیڑھیاں بہت کمزورلگتی ہیں لیکن کئی سومن وزن آسانی سے برداشت کرلیتی ہیں۔ ان سیڑھیو ں سے ہزاروں زائرین بیک وقت چڑھتے اترتے ہیں۔لاہوت لامکاں کی غار سے پہلے ایک ہوٹل ہے جہاں کچھ لمحے جانے والے بیٹھ کر چائے پیتے ہیں اور تھکن دور کرتے ہیں۔ راستے میں ایک دکان بھی ہے جہاں سے لوگ تبرک کے طور پر چیزیں لیتے ہیں۔ پھر لاہوت لامکاں کی زیارت گاہیں شروع ہوتی ہیں۔
لاہوت لامکاں میں ایک قدرتی چشمہ بھی موجود ہے جو ”سبیل” کہلاتا ہے اس چشمے کے نیچے ایک قدرتی پتھر کا پیالہ ہے عین اس پیالے کے اوپر پہاڑ سے پانی ٹپک رہا ہے سیڑھیاں عبور کرنے کے بعد خونخوار جانور کی شکل جیسے پتھر سے سامنا ہوتا ہے کہاں جاتا ہے کہ یہ ایک ایسی بلا تھی جو روزانہ دیگ بھر چاول منوں کے حساب سے روٹیاں اور بعض اوقات جیتے جاگتے انسان کو بھی کھا جاتی تھی یہاں خونخوار جانوروں اور شیر کی شکل جیسے پتھر بھی ملتے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں روحانی قوت کے زور پر پتھر بنا دیا گیا صدیوں پرانی یہ درگاہ ایک عجوبہ سے کم نہیں۔یہاں آگے ایک ایسی جگہ بھی آتی ہے جوحضرت لعل شہبازقلندرسے منسوب ہے ،کہاجاتاہے کہ آپ نے یہاں آگ جلاکرچلہ کشی کی تھی۔ اس کے بعدایک غارآتاہے جس میں داخل ہوتے ہی پاؤں ایک ایسے پتھر پر پڑتا جو شیرکی صورت کاہے اسے نگہبان کہاجاتاہے۔ اس بارے میں مشہورہے کہ یہ شیران زیارت گاہوں کی حفاظت پرمامورہے۔
لاہوت لامکاں کے غار کے نیچے ملنگ کی گدی ہے اس کے بالکل سامنے جس پتھر پر جھرنا گر رہا ہے وہ پتھر ایک بہت بڑے سانپ کی شکل کا ہے جس نے اپنے پھن کو اوپر کو اٹھایا ہوا ہے۔ اس کے پیچھے ایک چھوٹا سا سانپ ہے جسے وہ اس بڑے سانپ کی مادہ بتاتے ہیں۔ مقامی ملنگوں کا کہنا ہے کہ ‘اس جگہ امام حسین اور حسن کھیل رہے تھے ان سانپوں نے انہیں ڈسنے کی کوشش کی لہٰذا یہ پتھر کے ہو گئے۔ پتھر کے سانپوں اور ملنگ بابا کی گدی کے درمیان میں عین ملنگ کے سامنے ایک چھوٹی سی مسجد بنی ہے جس کے اوپر ’’مسجد آدم اور حوا‘‘ کی تختی لگی ہوئی ہے، کہتے ہیں کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں آدم و حوا کو دنیا میں سب سے پہلے اتارا گیا۔ اس مسجد میں، میں نے اکثر زائرین کو نفل ادا کرتے دیکھا۔سجدہ گاہ لاہوت لامکاں کی غار کے طرف جانے والے راستے میں ہے۔ کہتے ہیں کہ لاہوت لامکاں کائنات میں پہلی جگہ ہے جو زمین پر رونما ہوئی۔ اس کا ثبوت یہاں سجدہ گاہ کی جگہ سمجھا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ آدم علیہ السلام جب زمین پر یہاں اتارے گئے تھے تو انہوں نے اللہ کی بارگاہ میں یہاں پہلا سجدہ کیا تھا۔ وہ جگہ سجدہ گاہ کہلاتی ہے۔ یہاں تعمیر کی گئی چھوٹی سی مسجد یا سجدہ گاہ آدم علیہ السلام سے منسوب ہے۔
لا ہوت لا مکاں غار کے منہ سے اندر کی جانب رسے کی مدد سے اترنا پڑتا ہے۔ غار میں اترتے وقت سب سے پہلا پاؤں ’’پتھر کے دیو قامت شیر‘‘ پر پڑتا ہے مقامی روایت کہ مطابق، یہ شیر حضرت علی کی سواری ہوا کرتا جب آپ یہاں سے ہجرت کر گئے تو یہ پتھر کا بن گیا۔ (حضرت علی جب خلیفہ تھے تو وہ اپنے عہد میں سفر طے کرتے رہتے تھے جس کا ثبوت مختلف روایات سے ملتا ہے) پھر اس کے بعد غار کے اندر داخل ہونے پر کچھ دکھائی نہیں دیتا تو زائرین فرش پر جمع ہوئے پانی سے منہ کو دھوتے ہیں جس کے بعد ان کو سب کچھ دکھائی دینے لگتا ہے۔ اس غار کی چھت چودہ فٹ اونچی ہے۔ غار میں ہوا اور روشنی کیلئے ایک ہی سوراخ ہے جس سے زائرین داخل ہوتے ہیں اور باہر جاتے ہیں۔اس کے علاوہ مقامی راویات کے مطابق، حضرت علی کا تخت، پنجتن پاک کی چلہ گاہ۔ حضرت علی کی پتھر کی شکل میں اونٹنی بھی موجود ہے جس کو لال شہباز قلندر نے 21 دن کے استخارہ کرنے کے بعد ثابت کیا کہ یہ حضرت علی کی اونٹنی ہے جو ادھر آئی اور پتھر کی بن گئی۔اس کے علاوہ مقامی روایات کے مطابق خاتون جنت کی چکی اور بی بی فاطمہ سے منسوب صابن پتھر کی شکل میں موجود ہے جس صابن نما پتھر سے آج بھی خوشبو آتی ہے۔اورایک پتھربھی جوفرش سے برآمد ہوکرغارکی چھت کی طرف بڑھ رہاہے۔ اسی جگہ پر ایک پتھر کا چولہا بھی ہے جس کے بارے میں روایات ہیں کہ یہ دخترِ رسولؐ خاتون جنت حضرت بی بی فاطمتہ الزہرہ کا چولہا ہے۔ اور حضرت علی کی اونٹنی کے اردگرد چھوٹے چھوٹے پیروں کے نشانات بھی موجود ہیں۔ یہاں کہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ امام حسن و حسین کے پیر ہیں۔جو اپنے والد ماجد کے ساتھ اونٹنی پر گھوما کرتے تھے۔ (حضرت علی سفر طے کرتے رہتے تھے جس کا ثبوت مختلف روایات سے ملتا ہے)۔ اس کے ساتھ ہی پنجتن پاک کی چلہ گاہ موجود ہے۔ آپ کی چلہ گاہ کے قریب ایک سرنگ بنی ہوئی جس میں ایک راستہ بنا ہوا ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ راستے سات دن کے سفر کرنے کے بعد مدینہ منورہ میں نکلتا ہے۔غار کے میں ایک طشت کا سا پتھر بھی رکھا ہے ،کہتے ہیں کہ قدیمی زمانے میں اہل اللہ میں سے چالیس فقرا کا ایک دانہ اس میں پس کر سب کے سب شکم سیر ہوئے تھے۔
غار کے اندر ایک قدرتی چشمہ بھی طویل عرصے سے جاری ہے اس چشمے کے عین نیچے ایک قدرتی پتھرکاپیالہ موجودہے اورحیرت انگیزبات یہ ہے کہ چشمے کاپانی عین ا س پیالے کے اوپرگررہاہے۔ اس غارکے بعدایک اورغاربھی ہے جس میں بہت اندھیرا ہوتا ہے اورپھلسن بھی زیادہ ہے۔ اس غارمیں کوئی بھی انسان سیدھے رخ داخل ہی نہیں ہوسکتا۔اسی غارکے آخری دہانے پرشاہ نورانی کی چلہ گاہ موجودہے جس کے ساتھ ایک اورچشمہ بھی جاری ہے۔اس سارے علاقے کی خاص بات یہ ہے کہ ہرجانب پتھرکے عجیب عجیب جانور‘پرندے پائے جاتے ہیں۔ کہیں اژدھے کے منہ سے پانی ٹپک رہاہے توکہیں کسی اورخونخوارجانورکی آنکھوں سے پانی آرہاہے۔ایک مقام پربھینس کے تھنوں سے مشابہہ پتھرموجودہیں جہاں سے چشمہ پھوٹ رہاہے۔کہاجاتاہے کہ ا ن پتھروں سے کسی زمانے میں دودھ بہتاتھاجورفتہ رفتہ پانی بن گیا۔ اس مقام پرموجودپتھروں کارنک بھی کسی حدتک سفیدی مائل ہے جودورسے دیکھنے میں سفید چونا لگتے ہیں۔اس مقا م پربھینس کے تھنوں سے گرتا پانی ، کبوتروں کے غول اورچڑیوں کی چہچہاہٹ ایک عجیب سحرخیز منظر پیش کرتی ہے۔
لاہوت، شاہ نورانی اور اس کے آس پاس مقامی آبادی براہوئیوں کی ہے۔ یہ لوگ زیادہ تر خانہ بدوش ہیں۔ بھیڑ، بکریاں چرانا اور اونٹوں پر باربرداری کرنا ان کا آبائی پیشہ ہے۔ یہ لوگ انتہائی محنت کش، طاقتور، بہادر اور ایماندار ہیں۔ انتہائی غریب ہیں۔ یہ لوگ چھوٹے موٹے کاروبار اور مزدوری کے علاوہ اور کسی چیز میں دلچسپی نہیں لیتے۔ کئی مقامی لوگ دیہات سے لائے ہوئے بکری کے بچے، دودھ، خالص شہد، گھی اور کھجور کے پتوں کی بنی چٹائیاں، ببول کی گوند، پتھر کی گونڈیاں اور سپاریوں کی مدد سے تیار کردہ گلے کے ہار وغیرہ لاہوت لامکاں اور شاہ نورانی درگاہ پر فروخت کرتے ہیں۔لاہوت کے پہاڑوں پر پکھراج اور زہر مہرہ کافی مقدار میں پیدا ہوتا ہے۔ ان پہاڑوں میں آنکھ کی بیماری کے لیے ’’سرمے‘‘ میں کام آنے والی بوٹی جسے ’’ممیری‘‘ کہتے ہیں عام پائی جاتی ہے۔ بروہی لوگ اس نایاب بْوٹی کی چھوٹی چھوٹی گھچیاں لا کر زائرین کے ہاتھ نہایت ارزاں قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ نایاب قسم کی جڑی بوٹیاں درگاہ شاہ نورانی اور لاہوت کے راستوں میں دستیاب ہیں اس کے علاوہ ’’سلاجیت‘‘ بھی کافی مقدار میں لاہوت کی پہاڑیوں میں پایا جاتاہے۔
اگرآپ اس مقام کی سیرکے لیے آناچاہتے ہیں تواس کیلئے ہرگزشدید سردی یابہت زیادہ گرمی کاانتخاب نہیں کیجئے گا۔ورنہ راستے میں آپ کوشدید دشواریوں کے ساتھ موسم کی سختی کابھی سامنا کرناپڑسکتا ہے۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے