Voice of Asia News

سندھ میں حلال جانوروں کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کے منصوبے میں تین ارب روپے کی کرپشن

لاہور ( رپورٹ : محمدقیصر چوہان ) سندھ میں حلال جانوروں کا ڈیٹا اکٹھا کرنے او’ر ٹیگنگ‘ کے منصوبے میں تین ارب روپے سے زائد کی خرد بد کی کوششوں اور اس منصوبے میں بدعنوانیوں کا انکشاف ہوا جس میں سندھ کے طاقتور ترین سیاستدان کے قریبی عزیز کا کلیدی کردار بھی سامنے لایا گیا اور اب یہ منصوبہ ختم ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے ۔ وائس آف ایشیاء کو موصول ہونے والی دستاویزات اور سرکاری ریکارڈ کے مطابق مالی سال 2014میں صوبہ سندھ میں عالمی طرز پر حلال جانوروں کی پیدائش سے ان کی زندگی کے آخری مراحل تک ان کی تعداد اور حالات کی تمام تفصیلات جمع کرنے کا ایک منصوبہ بنایا گیا جس کا پائلٹ پروجیکٹ کراچی اور حیدر آباد ڈویژن سے شروع کیا گیا ۔ اس منصوبے کے تحت کم و بیش پچاس لاکھ حلال جانوروں کی رجسٹریشن کرکے رجسٹریشن نمبر ،پیدائش اورعمر وغیرہ کی تمام تفصیلات کا ٹیگ ان کے گلے میں لٹکایا جانا ہے، اس منصوبے کے تحت جانوروں کے مالکان اور سلاٹر ہاؤسز کو جملہ سہولیات بھی فراہم کی جانا ہیں اور اس کا تخمینہ ساڑھے تین ارب روپے سے زائد لگایا گیا ہے ۔ اس منصوبے نے تین مرحلوں میں مکمل ہونا ہے جس میں تجربہ کار غیر ملکی کمپنیوں کی تکنیکی معاونت بھی حاصل کی جانا ہے لیکن دوسرے مرحلے (تجاویز پیشکش ) کے دوران ہی اس منصوبے پر ’’ مال بناؤ‘‘ مافیا کی نظر پڑگئی جس نے اس منصوبے کے اہم ذمہ داران کو رشوت کی پیشکش اور سیاسی طاقت سے مرعوب کرنے کی کوشش بھی کی لیکن ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تو اس منصوبے کے ذمہ داروں پر ’’واضح‘‘ کیا گیا کہ وہ اس منصوبے میں سینہ زوری سے بھی اپنا ’’ حصہ‘‘ حاصل کرلیں گے جبکہ اس ضمن میں سندھ کی طاقتور ترین سیاسی شخصیت سے تعلق اور ٹیلیفونک ’ سفارشی رعب بھی جمایا گیا ۔ دستاویزات کے مطابق منصوبے کے ذمہ داروں سے مایوس ہونے کے بعد سیاسی اختیار استعمال کیا گیا اور عجلت میں ہی مختصر ترین وقت میں ایک اتھارٹی بنائی گئی اور اس ڈائریکٹر جنرل کا اضافی چارج ایک ایسے ’ معروف‘ افسر کو دیا گیا جو پہلے ہی سندھ سولر پاور پراجیکٹ لیاری ڈویلپمنٹ اتھارٹی وغیرہ کے پراجیکٹس میں زبانِ زدعام منفی شہرت کا حامل لیکن سندھ کی اہم ترین سیاسی شخصیت کا قریبی عزیز ہے جبکہ سندھ اسمبلی سے منظور کیے جانے والے قانون کے تحت بھی یہ افسر مطلوبہ اہلیت پر پورا نہیں اترتا ۔ ذرائع کے مطابق اس منصوبے میں لوٹ مار کرنے والے افراد کے بڑھتے ہوئے قدم دیکھ کر انہیں روکنے میں مشکلات کے پیشِ نظر اب یہ تحریری طور پر سفارش کی ہے محض لوٹ مار کی خاطر یہ منصوبہ حقیقی مقاصد سے ہٹانے اور وفاقی حکومت کے ذریعے عالمی مالیاتی اداروں سے حاصل کیا جانے والا تین ارب ساٹھ کروڑ روپے جو عوام کے خون پسینے سے وصول کیے گئے ٹیکس سے ادا ہوں گے کوخرد برد ہونے سے بچانے کیلئے فوری اور مناسب اقدامات اٹھائے جائیں۔ ذرائع کے مطابق یہ معاملہ نگران حکومت کے سامنے بھی اٹھایا جارہا ہے تاہم ابھی تک اس میں کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہوسکی ۔ ان حالات میں یہ تجویز بھی پیش کیے جانے کاخدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ اس منصوبے کو ختم ہی کردیا جائے۔ ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ ختم ہونے سے پاکستان عالمی منڈی میں حلال جانور اور گوشت ایکسپورٹ کرکے بھاری زرِ مبادلہ سے محروم جبکہ مقامی لوگ بین الاقوامی معیار کے نظام سے محروم ہوجائیں گے ۔ 

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے