Voice of Asia News

فوج کوانتخابی عمل میں بے ضابطگی خود دور کرنے کا اختیار نہیں، ترجمان پاک فوج

راولپنڈی(وائس آف ایشیا) ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ فوج کو انتخابی عمل میں بے ضابطگی خود دور کرنے کا اختیار نہیں تاہم اگر فوجی اہلکاروں نے کسی جگہ بے ضابطگی نوٹ کی تو ان کا کام الیکشن کمیشن کو آگاہ کرنا ہے۔راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ہر پریس کانفرنس میں سوال ہوتا رہا کہ انتخابات ہوں گے یا نہیں اور اس حوالے سے شکوک و شہبات کا اظہار ہوتا رہا تاہم وقت کے ساتھ ساتھ تمام شکوک و شہبات نے دم توڑدیا ہے اور پاکستان انتخابات کی طرف جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تیسرا الیکشن ہے جو پاکستان میں جمہوری نظام کو جاری رکھے گا، خوشی کی بات ہے کہ پاکستانی عوام اور سیاسی جماعتیں اس عمل کو کامیابی سے آگے لیکر جارہی ہیں اور 25 جولائی کو عوام اپنا حق اداکرے گی اور ملک کو جمہوری نظام کی طرف لیکر جائی گی۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان کا کردارالیکشن کمیشن سے تعاون کرناہے تاہم انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے، افواج پاکستان الیکشن کمیشن کے حکم پر پہلے بھی الیکشن میں کام انجام دیتی رہی ہیں،1997  کے الیکشن میں فل سیکیورٹی کے لیے موجود تھے اور 2008 کے الیکشن میں کوئیک ایکشن فورس نے ڈیوٹی دی۔ انہوں نے کہا کہ انتخاب کے دن ووٹر کسی بھی دباؤ کے بغیر اپنا ووٹ کاسٹ کریں جب کہ انتخاب کے دوران کوئی بے ضابطگی ہوئی تو اسے ٹھیک کرنا بھی الیکشن کمیشن کا کام ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ فوج کو انتخابی عمل میں بے ضابطگی خود دور کرنے کا اختیار نہیں، اگر فوجی اہلکاروں نے کسی جگہ بے ضابطگی نوٹ کی تب بھی فوجی اہلکار نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو آگاہ کرنا ہے، افواج پاکستان کو اس بے ضابطگی کو دور کرنے کے لیے خود ملوث ہونے کا اختیار حاصل نہیں، بے ضابطگی کوئی بھی شخص دیکھے وہ الیکشن کمیشن کو آگاہ کرے گا اور اسے ٹھیک کرنا الیکشن کمیشن کی ہی ذمہ داری ہے۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پرنٹنگ میٹریل کی ترسیل کرنا بھی ہمارا کام ہے، سیکیورٹی کے لیے ہمیں 3 لاکھ 72 ہزار جوانوں کی ضرورت ہے، 21 جولائی تک چھپائی کا مرحلہ مکمل ہوجائے اور 22 جولائی تک ہماری سیکیورٹی مکمل ہو جائے گی، کوئی بھی ترسیل الیکشن کمیشن کے اسٹاف کے بغیر نہیں ہو رہی جب کہ ہم نے غیرسیاسی رہتے ہوئے الیکشن کمیشن کی مدد کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حساس پولنگ اسٹیشنز میں 2 جوان اندر اور 2 جوان باہر تعینات کیے جائیں گے، پولنگ اسٹیشنز کے اندر تعینات جوان کی ڈیوٹی یہ ہوگی کہ کسی غیرمتعلقہ شخص کو اندر داخل نہیں ہونے دیا جائے گا جب کہ پولنگ اسٹیشنز کے باہر امن وامان کی ذمہ داری پولیس کی ہوگی۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان میں ایسا کونسا الیکشن ہوا ہے جس سے پہلے کسی سیاسی جماعت یا سیاستدانوں نے دھاندلی کا الزام نہ لگایا ہو، کوئی ایک ایسا الیکشن بتایا جائے جس سے پہلے کسی نے پارٹی نہ تبدیل کی ہو، یہ انتخابات کا وقت ہے اور سیاسی پارٹیاں دوسری پارٹیوں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتی ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاک فوج 15 سال سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے، قربانی دے کر ہم نے ملک میں امن قائم کیا جسے ہم قائم رکھیں، جس ماحول میں آج انتخابی مہم چلائی جارہی ہے،2013 میں ایسا ماحول نہیں تھا جب کہ اس وقت سیاسی جماعتوں کو دہشت گردوں کی جانب سے جلسہ کرنے پر دھمکیاں دی جارہی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج کو مرکزی مسائل سے ہٹاکر جزوی مسائل میں میں گھیسٹنے کی کوشش کی جارہی ہے، ہم نے وہ چیزیں برداشت کی ہیں جو عام حالات میں برداشت نہیں کرتے، ٹاک شوز میں جس کے دل میں جو آتا ہے کہتا ہے، فوج کا فوکس اہم مسائل پر ہے جب کہ قیادت سے اختلاف پر سیاست دانوں کا پارٹیاں تبدیل کرنا انوکھی بات نہیں، ہر الیکشن سے پہلے ایسا ہوتا ہے یہ باتیں کوئی نئی نہیں ہے۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ جنرل فیض سے متعلق بے بنیاد الزامات لگائے جارہے ہیں، جنرل فیض کا نام لینے والوں کو پتہ نہیں کہ دہشت گردی کی آدھی جنگ جنرل فیض کا ڈیپارٹمنٹ انجام دیتاہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا ہم ہر پاکستانی کو جاکر کہیں گہ اس کو ووٹ دیں اور اس کو ووٹ نہ دیں، یہ ناممکن ہے، ووٹر جس کو ووٹ ڈالنا چاہتے ہیں ڈالیں گے اور کونسی جماعت جیتتی ہے یہ 26 جولائی کو پتہ چلے گا، پاک فوج کی ساکھ ہے جب کہ جو سپاہی ہمارے حکم پر جان دینے پر تیار ہوتا اسے غلط آرڈر کیسے پاس کرسکتے ہیں۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے