Voice of Asia News

امریکہ،افغانستان میں حالات سے غیر مطمئن،جلد حکمت عملی کا جائزہ متوقع

واشنگٹن(وائس آف ایشیا)امریکی حکومت افغانستان میں اپنی حکمت عملی کا جائزہ لینے پر غور کر رہی ہے،جائزے میں پاکستان کیساتھ امریکہ کے تعلقات پر بھی غور کیا جائیگا،جائزہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے افغانستان کی 17 سالہ جنگ میں امریکی شمولیت میں توسیع کے ایک سال بعد کیا جا رہا ہے،افغانستان کی صورتحال میں بہتری نہ آنے کیوجہ سے صدر ٹرمپ کی مایوسی بڑھ رہی ہے،پچھلے سال اگست میں انہوں نے اپنی افغانستان حکمت عملی کے تحت شورش زدہ ملک میں مزید فوجی مشیروں،تربیت کاروں اور سپشل فورسز کے اہل کاروں کی تعداد بڑھائی تھی اور عسکریت پسندوں کیخلاف فضائی کارروائیوں کے دائرے میں اضافہ کر دیا تھا تاکہ طالبان کو کابل کی حکومت کیساتھ مذآرات کی میز پر لانے پر مجبور کیا جا سکے،صدر ٹرمپ افغانستان میں اپنی فوجی موجودگی کیخلاف تھے لیکن ان کے مشیروں نے انہیں اس بات پر قائل کر لیا تھا کہ وہ اپنے فوجیوں کو زمینی کامیابیاں حاصل کرنے کیلئے مزید وسائل اور وقت دیں۔بد ھ کو امریکی اہلکاروں نے خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت افغانستان میں اپنی حکمت عملی کا جائزہ لینے پر غور کر رہی ہے، انہوں نے پچھلے سال فوجیوں میں 3ہزار اضافے کی منظوری دی تھی جس کے بعد افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد 15 ہزار کے لگ بھگ ہو گئی ہے،نئی حکمت عملی کے تقریباً ایک سال کے بعد افغانستان کی صورتحال جوں کی توں ہے جس کی قیمت عوام کو اپنی جانوں کے بھاری نذرانے کیساتھ ادا کرنی پڑ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے دیہی علاقوں میں طالبان کا کنٹرول اور اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے لیکن وہ بڑے شہری علاقے حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے،جبکہ افغان سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی پر بدستور سوالیہ نشان ہیں،حالات سے براہ راست آگاہی ر کھنے والے کئی عہدے داروں اور مشیروں کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے ابھی تک باضابطہ طور پر جائزے کا حکم نہیں دیا لیکن وہ اگلے چند مہینوں کے دوران سرکاری سطح پر تفصیلی جائزے کی تیاری کر رہے ہیں،عہدے داروں کا کہنا تھا کہ ہمیں کچھ ایسے اشارے ملے ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ اگلے کچھ مہینوں میں جائزہ لینے کیلئے کہہ سکتے ہیں اس لیے ہم تیاری کر رہے ہیں کہ وہاں صورتحال کیا ہے۔عہدے داروں کا کہنا تھا کہ جائزے میں موجودہ حکمت عملی سمیت تمام حقائق کی جانچ پڑتال کی جائیگی جن میں یہ معاملات بھی شامل ہوں گے کہ امریکی فوجی موجودگی،طالبان کیساتھ مذآرات،اور اب تک والی پیش رفت بھی شامل ہو گی۔جائزے میں پاکستان کیساتھ امریکہ کے تعلقات پر بھی غور کیا جائیگا۔ایک سینیر عہدے دار کا کہنا تھا کہ کہ کئی امریکی عہدے پاکستان پر شورش پسندوں کی مدد کا الزام لگاتے ہیں جبکہ پاکستان اس الزام کو مسترد کرتا ہے،امریکی قیادت کی فورسز نے 2001 میں طالبان کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے افغانستان پر حملہ کیا تھا کیونکہ انہوں نے القاعدہ کو اپنے ملک میں پناہ دے رکھی تھی،یہ امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ ہے جس میں اب تک تقریباً 1900 امریکی فوجی مارے جا چکے ہیں،افغانستان میں کرپشن اور بدعنوانی اپنے عروج پر ہے اور ملک کی سیکیورٹی بدستور کمزور ہے۔حال ہی میں ایک امریکی نگران ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ افغان حکومت کے کنٹرول اور دائرہ اثر میں ملک کا صرف 56 فیصد علاقہ ہے جبکہ باقی ماندہ حصوں پر طالبان قابض ہیں یا ان کا اثر ہے۔سرکاری عہدے داروں نے رائٹر کو بتایا کہ صدر ٹرمپ افغانستان کی صورتحال میں بہتری نہ آنے پر سوال اٹھا چکے ہیں،اور وہ کئی بار یہ پوچھ چکے کہ ہم نے افغانستان میں کیا پیش رفت کی اور ہم وہاں 2001 کے بعد سے کتنا کچھ خرچ کر چکے ہیں۔ایک امریکی عہدے دار کا کہنا تھا کہ صدر افغانستان کے حالات میں بہتری نہ آنے پر مایوس ہیں اور یہ پوچھ رہے کہ اتنی سرمایہ کے بدلے میں ہم نے وہاں کیا حاصل کیا ہے۔ایک امریکی تھنک ٹینک وڈرو ولسن سینٹر کے جنوبی ایشائی مور کے ایک ماہر مائیکل کوگل مین نے کہا کہ انتظامیہ، ریویو کے بعد لازماً یہ کہے گی کہ زمینی صورتحال میں بہتری نہیں آئی ہے،اس لیے وہاں رکنے کا مقصد کیا ہے۔امریکی وزیر خارجہ نے پیر کے روز افغانستان کا اچانک دورہ کیا جس کا پہلے سے اعلان نہیں کیا گیا تھا۔انہوں نے افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی اور طالبان سے مذآرات پر بات کی۔انہوں نے امریکہ کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ امریکہ عسکریت پسندوں کیخلاف جنگ میں ان کی حمایت کرتا رہے گا۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے