جلال آباد میں محکمہ تعلیم کے دفتر پر حملہ، 10 افراد ہلاک

کابل(وائس آف ایشیا) افغانستان کے شہر ننگرہار میں شعبہ تعلیم کی عمارت پر نامعلوم مسلح ملزمان نے حملہ کرکے شہریوں کو یرغمال بنالیا ہے، جبکہ 10 افراد دہشت گردوں کی فائرنگ سے جاں بحق ہوگئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق افغانستان کے صوبے جلال آباد کے مشرقی شہر ننگرہار میں واقع شعبہ تعلیم پر آج صبح نامعلوم مسلح ملزمان حملہ کرکے عمارت میں موجود افراد کو یرغمال بنالیا تھا، جن میں 10 افراد دہشت گردوں کی فائرنگ سے جاں بحق ہوگئے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ افغان حکام نے شعبہ تعلیم پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے عمارت کو گھیرے میں لے کر دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کردیا گیا ہے۔افغانستان کے صوبے جلال آباد کے گورنر عطااللہ کوغیانی کے ترجمان کا کہنا تھا سیکیورٹی فورسز اور نامعلوم مسلح ملزمان کے درمیان فائرنگ تبادلہ جاری ہے۔

عطااللہ کوغیانی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ شعبہ تعلیم کی دہشت گردوں صبح ساڑھے 9 بجے عمارت میں داخل ہوئے فائرنگ شروع کردی، تاہم اب تک عمارت موجود حملہ آوروں کی تعداد کا اندازہ نہیں ہوسکا ہے، جبکہ عمارت کے اندر موجود 50 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ننگرہار کے شعبہ تعلیم کے ڈائریکٹر کے ترجمان آصف شنواری نے بتایا کہ دہشت گردوں کی فائرنگ عمارت میں موجود ایک سیکیورٹی گارڈ جاں بحق ہوگیا ہے، جبکہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو بھی گھیرے میں لے لیا ہے۔

خیال رہے کہ افغانستان کے صونے جلال آباد میں ایک ہفتے کے دوران دہشت گردوں کا یہ تیسرا بڑا حملہ ہے، یکم جولائی کو افغانستان کی سکھ برادری کے ایک گروپ پر حملہ کرکے قتل کیا گیا تھا، جبکہ منگل کے روز دہشت گردوں کے حملے میں 12 افراد لقمہ اجل بنے تھے۔

افغان میڈیا کا کہنا تھا کہ تاحال شعبہ تعلیم کی عمارت میں حملے کی ذمہ کسی نے قبول نہیں کی ہے، تاہم گذشتہ دنوں ہونے والے تمام دہشت گردانہ حملوں کی ذمہ داری دہشت گرد تنظیم داعش نے قبول کی تھی۔