Voice of Asia News

دہشت گردی کا ناسور :رپورٹ: محمد قیصر چوہان

دہشت گردی دو الفاظوں کا مرکب ہے’’ دہشت ‘‘سے مراد خوف وہراس ، افراتفری اور لفظ’’ گردی ‘‘گردش سے نکلا ہے گردش کے معنی گومنا پھرنا یا بار بار چکر لگانا کے ہیں ،مطلب کہ کسی خطے و معاشرے میں خوف اور ہراس پیدا کرکے اپنے مقاصد کے حصول کی خاطر ایسا طریقہ کار یا حکمت عملی اختیار کرنا جس سے قصوروار اور بے قصور کی تمیز کئے بغیر عام شہریوں سمیت ہر ممکنہ ہدف کو ملوث کرتے ہوئے، وسیع پیمانے پر دہشت و تکلیف اور رعب و اضطراب پھیلایا جائے۔کسی سیاسی یا ذاتی مقصد کے حصول کے لیے تشدد کا استعمال یا استعمار کی دھمکی ایک بڑے گروپ کے خلاف چھوٹے گروپ کی جانب سے ہو تو دہشت گردی کہلاتی ہے۔دہشت گردی تین طرح کی ہوتی ہیں جانی ، مالی او رمعاشر تی اخلاقی دہشت گردی۔جانی دہشت گردی سے مراد ہے کہ ایسی دہشت گردی جہاں انسانی زندگی کو نقصان پہنچا کر خطے کہ دہشت افرا تفری اور حالت جنگ جان بوجھ کرتبدیل کیا جائے۔ہر جگہ خون خرابہ، قتل و غارت ،بے گناہ لوگوں کوقتل کرنا ہے جہاں حدف صرف اور صرف انسان کی زندگی کا خاتمہ ہے۔ جہاں بم دھماکے،خود کش حملے،لوٹ مار چوری ڈکیتی کے ساتھ ساتھ انسانی زندگی کا خاتمہ کرنا بھی ہے۔جہاں مرنے اور مارنے والے ایک دوسرے ک بارے میں زرا بھی نہیں جانتے ہوں کہ کس نے ؟ کس کو؟ کیوں ؟ کب ؟ کس طرح قتل کیا کوئی کچھ نہیں جانتا ہو۔ جہاں ہر شہر میں ہر روز سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں بے گناہ مارے جا رہے ہو ۔مالی دہشت گردی سے مراد ہے انسانی زندگی میں چوری، ڈکیتی،اغواء برئے،دھوکہ،فریب اور کرپشن کی شکل میں مالی دہشت گردی ہوتی ہے جس سے انسانی مال و ملکیت کو نقصان اور جبری قبضہ کیا ئے اس مالی دہشت گردی سے انسانی جان کو بہت کم وہ اتفاق سے نقصان نہیں پہنچایاجاتا ہے چوری حکومتی اداروں میں ملازم(افسران اور زمہ داران)، چند عوامی گمراہ چوری پر زندگی کی بسر و سفرکا گزارا کرنے والا گروپ، یا کوئی فرد واحد کسی کی مال و ملکیت کو قبضہ کرنے کی کوشیش کرتا ہے یہ ڈکیتی ،اغواء برائے تاوان ،بلیک میلنگ ، لوٹ مار ،چوری بینکوں،دفتروں،گھروں،ہسپتالوں،بازاروں میں مختلف طریقے سے مختلف انداز سے ہوتی ہے۔تو یہ بھی ایک قسم کی دہشت گردی ہے جس سے کسی معاشرے کی سکوں اور نظام درہم برہم ہو کر رہ جاتا ہے۔معاشرتی اخلاقی دہشت گردی سے مراد ہے ایسی دہشت گردی جس میں انسانی معاشرے میں انسان کے ساتھ غیر اخلاقی رویہ عروج حاصل کرچکا ہو جہاں ماں ، باپ ، بہن ، بھائی ،بھابھی ،جیسے رشتوں کی کوئی قدر نا ہو۔ اچھے برے ،چھوٹے اور بڑھے کی تمیز ختم ہوجائے، ماں باپ کی کوئی عزت و احترام نہ ہو ،ہر بات پر ان سے جھگڑااور اختلاف ہویہ بھی ایک دہشت گردی ہے۔
دہشت گردی کے ناسور نے پاکستان کی معیشت، معاشرت اور داخلی سلامتی کے معاملات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ افغانستان میں سوویت یونین کی فوجی مداخلت سے علاقائی حالات میں جس بگاڑ کا آغاز ہوا اور پھر دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے نام پر اتحادی افواج کی قیادت کرتے ہوئے امریکا نے ڈیڑھ عشرے سے زیادہ عرصے تک افغانستان اور اس کے گردو نواح میں جو گل کھلائے ان کے اثرات نے پاکستان کو غیر معمولی حد تک نقصان پہنچایا۔ نائن الیون کو 17 سال ہو چکے، اس عرصہ میں امریکا اور اس کے اتحادی ممالک افغانستان میں بیٹھ کر کارپ بمباری سے ڈرون حملوں تک جس نوع کی جارحانہ کاروائیاں کرتے رہے ان کے نتیجے میں مقامی لوگوں کی طرف سے ایسا رد عمل سامنے آیا جس نے افغانستان اور پاکستان کو براہِ راست لپیٹ میں لیے رکھا۔ اس دوران افغان مہاجرین کی شکل میں لاکھوں افراد نے پاکستان کی سرزمین پر پناہ بھی لئے رکھی ہے اور ملک میں کلاشنکوف و ہیروئن کلچر کو پھیلانے میں بھی کردار ادا کیا۔ پاکستان اپنے اصولی موقف کی بنیاد پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر اول دستے کا کردار ادا کر رہا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ شر پسند عناصر نے دشمن قوتوں کی مدد سے پاکستان میں دہشت گردی کا بازار گرم کر ڈالا۔ دنیا اس حقیقت سے بے خبر نہیں کہ محض 17 برسوں میں دہشت گردی کے ہولناک سلسلے نے ایک لاکھ کے قریب بے گناہ پاکستانیوں کو لقمہ اجل بنا ڈالا۔ دہشت گردی کے اس بھیانک عفریت سے لڑتے ہوئے پولیس، رینجر، ایف سی، افواج پاکستان کے ہزاروں جوان اور افسران رتبہ شہادت پر فائز ہوئے۔
دہشت گردی کے اکثر واقعات بم دھماکوں اور خود کش حملوں کی ذمہ داری کسی نامعلوم مقام سے فون کر کے قبول کر لی جاتی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کو کالعدم قرار دینے کے باوجود اس نام سے درجنوں تنظیمیں کام کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں اور کس بھی کارروائی کو قبول کرنے میں بڑی پھرتی کامظاہرہ کیا جاتا ہے۔ اس کے دو مقاصد واضح ہیں۔ ایک یہ کہ انتہا پسند اور دہشت گرد تنظیمیں اس کی آڑ میں اپنے وجود اور سرگرمیوں کا ثبوت دینا چاہتی ہیں۔ دوسرا مقصد یہ ہوتا ہے کہ پاکستان،اسلام اور مذہبی جماعتوں کو عالمی سطح پر بد نام کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ اس کا یہ پہلو نہایت خطرناک ہے کہ فرقہ واریت کو ہوا دے کر مسلمانوں کے درمیان انتشار پیدا کیا جائے جبکہ مختلف مکاتب فکر میں فروعی اختلافات کے باوجود پاکستان میں آباد سارے مسلمان بلکہ غیر مسلم ہندو، سکھ، عیسائی، پارسی اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے تمام لوگ کسی افتراق و انتشار کے بغیر مل جل کر رہتے ہیں۔ دہشت گردی کے واقعات میں چین کے علاوہ پاکستان کے پڑوسی ملکوں کا ہاتھ ہے جن کی ایجنسیاں ، لٹریچر، پیسا اور بعض اوقات اسلحہ بھی استعمال ہوتا ہے لیکن یہ حقیقت تسلیم کرنی پڑے گی کہ بیرونی ایجنٹ ملک کے اندر آکر براہِ راست حملے اور دھماکے نہیں کرتے بلکہ وہ اپنے مقامی ایجنٹوں (پاکستانی باشندوں) کے ذریعے غیر انسانی کارروائیاں کرواتے ہیں۔ دہشت گردی کے واقعات کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا اور پاکستان کے عدم استحکام کا تاثر دینا ہے۔ تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ وطن عزیز سے اب تک دہشت گردی کا مکمل طور پر خاتمہ نہیں ہو سکا ہے اور ملک دشمن عناصر بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بے گناہ انسانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
نام نہاد روشن خیال اور سیکولر طبقے کی جانب سے پاکستان کے دینی اداروں اور علماء و طلبا ء پر تواتر سے لگایا جانے والا دہشت گردی کا الزام بنیادی طور پر حقائق کے منافق اور اسلام کے خلاف کفارو مشرکین کے پروپیگنڈے کی اہم کڑی ہے۔ اسلام دہشت گردی کا دین ہے نہ اس سے وابستہ کوئی شخص کسی بھی قسم کی وحشت و درندگی میں ملوث ہو سکتا ہے۔ جس دین نے انسانوں کے علاوہ جانوروں اور نباتات تک کے حقوق مقرر کر کے انہیں ایذا دینے سے منع کیا ہے اس کا کوئی پیروکار بے گناہ مسلمانوں اور غیرمسلموں پر حملے کر کے انہیں کیسے ہلاک کر سکتا ہے؟ داعش کی حد تک تو یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اس کی پشت پر اسلام دشمن اور مسلم کش طاقتوں کا ہاتھ ہے اور یہ عالمی دہشت گرد تنظیم ان ہی کی ساختہ و پرداختہ ہے۔ پاکستان میں طالبان کے نام سے کام کرنے والی درجنوں تنظیمیں غیر ملکی ایجنسیوں کی آلہ کار ہیں۔ کسی تنظیم کے اسلام اور مسلمانوں سے تعلق یاعدم تعلق کی واحد کسوٹی یہ ہے کہ اس کے ارکان اسلامی تعلیمات کی روح کے مطابق عمل کرتے ہوئے مسلمانوں اور عام انسانوں کی جان و املاک کی حرمت کا کتنا خیال رکھتے ہیں؟ بے گناہ شہریوں، پولیس اہلکاروں، عبادت گاہوں اور پر ہجوم مقامات پربم دھماکوں اور خود کش حملہ میں ملوث لوگ شریعت کے کسی بھی پہلو سے مسلمان تو کیا انسان کہلوانے کے بھی مستحق نہیں ہیں۔
قرآن کی ایک آیت کے مطابق زمین پر فساد پھیلانے والے اکثر افراد، گروہ یا عناصر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ لوگوں کی فلاح و بہبود کا کام کر رہے ہیں۔ قرآن کریم میں فتنہ و فساد کو قتل سے بھی بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں نا صرف قتل و غارت کا بازار گرم رہتا ہے بلکہ پر امن معاشرہ منتشر ہو کر دوسرے فتنوں کو جنم دینے لگتا ہے۔ پاکستان کی زیادہ تر حکومتیں عوام کی خدمت کے بجائے اقربا ء پروری اور لوٹ کھسوٹ میں مصروف رہی ہیں لیکن ان کا ہمیشہ یہ دعویٰ رہا ہے کہ وہ تو عوام کی خدمت میں مصروف ہیں۔ قرآن حکیم کے مطابق یہ لوگ فسادی ہیں ان سب کا استحصال اسی طرح ہونا چاہیے بلکہ ان سے زیادہ ہونا چاہیے جو قاتلوں، لٹیروں اور دہشت گردوں کیلئے ضروری خیال کیا جاتا ہے۔ گیارہ ستمبر 2001 کے بعد امریکا نے اپنے مغربی حلیفوں کے ساتھ مل کر افغانستان پر بلا جواز حملہ کر کے نہ صرف اس ملک کو تباہی سے دو چار کیا بلکہ پاکستان سمیت خطے کے کئی ممالک میں اپنی خفیہ ایجنسیوں اور ایجنٹوں کے ذریعے ریاستی دہشت گردی کو فروغ دیا۔ امریکا کے اصل مقاصد یہ ہیں کہ وہ افغانستان میں اپنے مستقل اڈے قائم کر کے پاکستان، روس اور چین پر اپنا دباؤ بڑھانا، پاکستان کو ایٹمی اثاثوں سے محروم کرنا اور خطے کے قدرتی وسائل پر قابو پانا چاہتا ہے۔
بھارت افغانستان کا ہمسایہ ہے نہ اس کی سرحدیں ملتی ہیں۔ دونوں ملکوں کے مذہبی، تہذیبی، تمدنی، روایات، رہن سہن، زبان، غرض یہ کہ ہر شے مختلف ہے۔ بھارت آبادی ، رقبے اور وسائل کے لحاظ سے دنیا کا کتنا ہی بڑا ملک ہو لیکن ذہنی اخلاقی لحاظ سے اس کا ظرف اتنا چھوٹا اور وہاں کے قائدین کا جنگی جنون اتنا آگے بڑھا ہوا ہے کہ وہ امریکی شہ اور سرپرستی کے نشے میں مدہوش ہو کر پاکستان ہی کو نہیں چین جیسی سپر پاور کو بھی آئے دن للکارتا رہتا ہے۔ امریکی چھاج کی اس چھلنی کو اندازہ ہی نہیں کہ بڑے طاقتور اور ترقی یافتہ ممالک میں امریکا سب سے زیادہ ناقابل اعتبار ملک ہے۔ وہ صرف اپنے مطلب کا یار ہے اس نے آج تک اپنے کسی دوست ملک کے ساتھ وفا نہیں کی تو وہ بھارت کو کیا اہمیت دے گا؟ جب اس کا مطلب نکل جائے گا اور بھارت سے وابستہ مفادات پورے ہو جائیں گے تو وہ اسے بھی اپنے سابقہ حلیفوں کی طرح استعمال شدہ ٹشو پیپر سمجھ کر بیت الخلا میں پھینک دے گا۔ امریکا کو اس پر نہ کوئی ندامت ہو گی اور نہ وہ کسی قسم کے افسوس کا اظہار کرے گا۔ بھارت نے امریکا کے اُگلے ہوئے لقمے کی جگالی کرتے ہوئے پاکستان پر خطے میں پر اکسی جنگ چھیڑنے اور دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزامات عائد کئے۔ پاکستان پر بھارت کی الزام تراشی اور دھمکیاں کوئی نئی بات نہیں اس نے 1947 سے آج تک تقسیم ہند اور قیام پاکستان کو دل سے تسلیم ہی نہیں کیا تو اس کی جانب سے پاکستان کو اپنا دشمن نمبر ایک ٹھہرانا کوئی تعجب خیز امر نہیں ہے۔ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے پاک سرزمین پر دہشت گردی کے کئی واقعات کرائے جس سے بے پناہ جانی و مالی نقصان ہوا۔ ایسے حالات میں افواجِ پاکستان نے سیاسی و فوجی قیادت کی تائید اور قوم کے غیر متزلزل عزم کی بنیاد پر آپریشن ضرب عضب کی شکل میں دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ کا آغاز کیا۔ اللہ کا شکر ہے کہ محض اڑھائی سال میں وطن عزیز کی سکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور خفیہ ایجنسیوں نے ایک مربوط و منظم آپریشن کی مدد سے وطن عزیز کے طول و عرض سے دہشت گردوں اور اس کے سہولت کاروں کو تہس نہس کر ڈالا۔ افواج پاکستان نے آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے بعد آپریشن رد الفساد اور خیبر ایجنسی میں آپریشنز کے ذریعے امن دشمنوں کا تقریباً خاتمہ کر ڈالا جس کے باعث ملک بھر میں امن و امان کی مجموعی صورتحال نمایاں طور پر بہتر ہوئی۔ فاٹا، جنوبی اور شمالی وزیرستان، کراچی، بلوچستان، اندرون سندھ اور جنوبی پنجاب تک میں دہشت گردی کی وادانتوں میں نمایاں کمی آئی۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے سکیورٹی اداروں کا یہ آپریشن کامیابی سے جاری ہے اور اسے منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے ضروری ہے کہ ان تمام اسباب کا قلع قمع کر دیا جائے جو کسی نہ کسی شکل میں دہشت گردی کا باعث بنتے ہیں۔اس حوالے سے داخلی سطح پر دیکھا جائے تو ایسے عناصر موجود ہیں جو دشمن قوتوں کا آلہ کار بن کر پاکستان میں شر انگیزی پھیلانے میں ملوث ہیں۔ ایسے عناصر کی بھی کمی نہیں جو جہالت اور غربت کا فائدہ اٹھا کر ملک میں مذہبی ، فرقہ وارانہ، طبقاتی، صوبائی اور لسانی انتہا پسندی کی سوچ کو پروان چڑھانے میں خطرناک کردار ادا کر رہے ہیں۔ علاقائی سطح پر افغانستان کی غیر مستحکم صورتحال وہاں دہشت گرد گروہوں کی پناہ گاہیں اور بھارتی سرپرستی میں متحرک شر پسند پاکستان کیلئے مستقل دورسر بنے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ موقع ملنے پر پاکستان میں گھس آتے ہیں اور دہشت گردی کی بزدلانہ وارداتوں کے بعد افغانستان فرار ہو جاتے ہیں۔
نیشنل ایکشن پلان سے آپریشن ردالفساد تک پاکستان کے عام شہریوں کا مشاہدہ ہے کہ دہشت گردوں کو سیاسی عناصر کی سرپرستی حاصل نہ ہوتی توسماج دشمن اور قانون شکن عناصر کا مکمل قلع قمع کرنا فوج، رینجرز اور پولیس کیلئے ہر گز مشکل نہیں تھا۔وطن عزیز میں دہشت گردی کی جڑیں اندرون ملک کے علاوہ بیرونی ممالک تک پھیلی ہوئی ہیں۔ دہشت گردوں کا خاتمہ کرنے کیلئے افواج پاکستان نے ان کا دوسرے ملکوں میں بھی تعاقب کیا ہے۔ کراچی میں امن کا قیام تقریباً نا ممکن سمجھا جاتا تھا لیکن رینجرز نے فوج کی نگرانی اور پولیس کے تعاون سے اس نا ممکن کو ممکن کر دکھایا۔ آج کراچی کے تمام دہشت گرد افراد اور گروہ منتشر ہو کر پناہ گاہیں تلاش کرتے پھر رہے ہیں۔ وہ اپنے نام اور کردار تبدیل کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں کہ شاید اس طرح اہل شہر کو دھوکا دے کر از سر نو اپنی وحشت و دہشت اور درندگی کا آغاز کر سکیں۔
آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد کے تحت دہشت گردوں کے خلاف ملک گیر آپریشن کی وجہ سے بم دھماکوں اور خود کش حملوں میں اگرچہ ماضی کے مقابلے میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے لیکن دہشت گردوں کے آسان اہداف کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ ابھی ان کا زور نہیں ٹوٹا ہے۔ وہ کہیں کسی خاص فرقے کو نشانے بناتے ہیں تو کہیں اس کے بالکل مخالف فرقے کے لوگوں کو، کبھی مارکیٹوں پر حملے کرتے ہیں تو کبھی تعلیمی اداروں پر انہیں مسجدوں، مدرسوں اور امام بارگاہوں کا تقدس پامال کرنے میں بھی ذرال تامل نہیں ہوتا۔ اس بنا پر یہ کہنا معروضی حقائق کے خلاف ہے کہ دہشت گرد کسی ایک یا دوسرے مسلک کے لوگوں کو نشانہ بنا کر خوش ہوتے ہیں۔ وہ بنیادی طور پر پاکستان، اس کے نظریئے اور لوگوں کے دشمن ہیں، وہ اپنے محدود مقصود مفادات کے حصول کی خاطر یا پاکستان دشمن عناصر کا ایجنڈا پور کرنے کیلئے بہیمانہ کارروائیاں کرتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے سول اداروں اور فوجی اہلکاروں کی راہ میں وفاق اور صوبوں کے حکمران اور دوسرے سیاستدان رکاوٹیں کھڑی نہ کریں اور انہیں ملک بھر میں بلاتفریق و امتیاز کام کرنے دیں تو شاید آئندہ دہشت گرد کبھی سر نہ اٹھا سکیں۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کی روشنی میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے خلاف بھرپور کارروائیوں کی اجازت دی تھی لیکن اہل وطن یہ دیکھ کر حیران ہیں کہ شمالی جنوبی وزیرستان، فاٹا اور بلوچستان میں پولیس اور رینجرز کو دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کی اجازت نہ دے دی گئی۔ اس طرح کراچی میں دہشت گردوں، بھتا خوروں اور قبضہ مافیا کا بہت حد تک صفایا کر دیا گیا لیکن پنجاب اور اندرون سندھ میں پولیس اور رینجرز کو مکمل کام کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔ کبھی رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا مسئلہ کھڑا کر دیا جاتا ہے تو کبھی فوجی عدالتوں کو زیربحث لا کر جرائم پیشہ عناصر کے حوصلے بلند کئے گئے۔ پاکستان ٹکڑوں میں بٹا ہوا نہیں بلکہ ایک ملک ہے، اس کے کسی علاقے میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی اجازت دے کر دوسرے علاقوں میں رکاوٹیں کھڑی کرنے ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ چور، ڈاکو، قاتل، بھتا خور اور قبضہ مافیا کے لوگ وہاں اکٹھے اور شیر ہو کر پاکستان ، عوام اور قومی اثاثوں کو نقصان پہنچانے میں مصروف ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کو اس کی پوری روح کے مطابق کام کرنے کی اجازت دیئے بغیر ملک میں امن و استحکام کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہو گا۔ آپریشن ردالفساد کامیابی سے جاری ہے لہٰذا پوری قوم یہ توقع کرنے میں حق بجانب ہے کہ جنرل قمر جاوید باوجوہ کے زیر کمان تینوں مسلح افواج کے جوان رینجرز کے اہلکار اور پولیس کے سپاہی تمام امتیازات کو بالائے طاق رکھ کر پاکستان کے ہر اندرونی اور بیرونی دشمن کا صفایا کر کے دم لیں گے اور کسی رکاوٹ کو خاصر میں نہیں لائیں گے، کیونکہ ان کی کوئی ذاتی یا گروہی مصلحتیں نہیں ہیں۔ وہ ملک اور قوم کے وفادار ہیں اور ان کے تحفظ کی خاطر مزید جانوں کے نذرانے پیش کرنے کیلئے تیار ہیں۔ افواج پاکستان کو اندازہ ہو گا کہ سیاستدانوں کی مداخلت کے باعث 2002 سے 2014 تک جو گیارہ آپریشن ہوئے ان کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہو سکے اگرچہ گزشتہ آپریشن ضرب عضب سے لوگوں کو سکھ کا کچھ سانس لینے کا موقع ملا ہے۔پاک فوج اب کامیابی سے جاری آپریشن رد الفساد کے ذریعے انشاء اللہ دہشت گردوں، قاتلوں، لٹیروں اور ان کے سرپرستوں کا خاتمہ کر کے پاکستان کو ایک بار پھر امن و امان اور عدل و انصاف کی پاک سر زمین بنانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ جب تک فتنہ و فساد کوجڑ سے اکھاڑ نہ پھینکا جائے اس کے دوبارہ بڑھنے کے امکانات باقی رہیں گے۔ قوم کی دعائیں محب وطن فوجیوں، رینجرز اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ ہیں اس لیے کہ فسادیوں سے وہی سب زیادہ متاثر اور پریشان ہے۔ اللہ کرے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ مظلوم قوم کیلئے نجات دہندہ ثابت ہوں اور یہ کامیابی ان کی دُنیامیں شہرت کے علاوہ آخرت میں نجات کا بھی سبب بنے گی۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے