Voice of Asia News

دہشت گردی کے حالیہ واقعات کہیں الیکشن ملتوی کرانے کی سازش تو نہیں ؟ جمال احمد

صوبہ خیبر پختون خوا اور بلوچستان ایک بار پھر سفاکانہ دہشت گردی کا شکار ہوگیا ہے۔ پشاور،بنوں اور مستونگ میں دہشت گردی کے واقعات کہیں الیکشن ملتوی کرانے کی سازش تو نہیں ہیں ؟۔دشمن کی ٹائمنگ پر نظر رکھی جائے، تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ عام انتخابات کے موقع پر پاکستان میں خوف اور انتشار پھیلانا چاہتا ہے، اس کی منصوبہ بندی یہی ہے کہ دو چار دھماکے کرکے سیاسی قوتوں کو آپس میں اور کہیں فوج سے لڑا دیا جائے۔پشاور ،بنوں اور مستونگ میں دھماکوں کے نتیجے میں 150سے زائدافراد جاں بحق اور 300سے زائد زخمی ہوئے تھے ۔ ان حملوں میں انتخابی امیدواروں کو نشانا بنایا گیا تھا۔پہلے واقعے میں دہشت گردوں نے پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کی انتخابی ریلی کو نشانہ بنایا جہاں پشاور کے معروف و ممتاز سیاسی خاندان کے سپوت بیرسٹر ہارون بلور رابط عوام کے لیے موجود تھے۔ دہشت گردی کی اس واردات کا ایک اور المناک پہلو یہ ہے کہ بلور خاندان کو پہلی بار دہشت گردی کا نشانہ نہیں بنایا گیا ہے، بلکہ اس سے قبل بھی یہ خاندان دہشت گردی کا شکار ہوچکا ہے۔ پشاور میں دہشت گرد حملے میں شہید ہونے والے بیرسٹر ہارون بلور کے والد بشیر احمد بلور بھی 2012ء میں دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ اسی خاندان کے سب سے اہم رہنما غلام احمد بلور پر بھی حملہ ہوچکا ہے لیکن اللہ نے ان کو محفوظ رکھا ۔دوسرا واقعہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں میں پیش آیا۔متحدہ مجلس عمل کے ٹکٹ پر جمعیت علماء اسلام( ف )کے امیدوار سابق وزیراعلیٰ اکرم خان درانی بنوں نوخیل ہاؤس سے 25کلومیٹر دور نوائی علاقے ہوید میں جلسہ کرکے واپس آرہے تھے کہ جلسہ گاہ سے 40میٹر دور نصب بم ڈیوائس سے ان کے قافلے کونشانا بنایا گیاتھا۔ اکرم درانی بنوں کے قومی اسمبلی کے حلقہ 135سے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔تیسراواقعہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں پیش آیا تھا جہاں 132 افراد جاں بحق جب کہ271زخمی ہوگئے۔ خودکش حملہ آور نے بلوچستان عوامی پارٹی کے انتخابی جلسے کے دوران خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ دھماکے میں نوابزادہ سراج رئیسانی بھی شدید زخمی ہوگئے۔جنہیں کوئٹہ کے کمبائنڈ ملٹری اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ سراج رئیسانی حلقہ پی بی 35 مستونگ سے بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار تھے ، ان کے بھائی اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی بھی آزاد حیثیت سے اسی نشست پر الیکشن لڑرہے ہیں۔ واضح رہے 26 جولائی 2011ء کو مستونگ کے فٹ بال گروانڈ میں میچ کے دوران دہشت گردی کے واقعے میں سراج رئیسانی کے بیٹے حقمل رئیسانی بھی جاں بحق ہوگئے تھے اس حملے میں سراج رئیسانی محفوظ رہے تھے۔سراج رئیسانی نے حال ہی میں اپنی پارٹی بلوچستان متحدہ محاذ کو بلوچستان عوامی پارٹی میں ضم کردی تھی۔
دہشت گردی کے ان واقعات سے چند روز قبل ہی سینیٹ میں قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں نیشنل کاؤنٹرٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کی جانب سے رپورٹ پیش کی گئی تھی جس کے مطابق انتخابی مہم کے دوران رہنماؤں کو دہشت گردی کا نشانہ بنائے جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ اس میں عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی، تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، جمعیت علمائے اسلام کے رہنما اور سابق وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا اکرم خان درانی، قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید کے بیٹے اور امیدوار قومی اسمبلی طلحہ سعید کے نام بھی شامل ہیں۔ سیکورٹی کے ایک ادارے کی جانب سے پارلیمان کی ایک کمیٹی کے سامنے انتخابی مہم کو درپیش دہشت گردی کے خطرے سے خبردار کردیاگیا تھا، اور پشاور میں اے این پی کی انتخابی ریلی پر دہشت گردانہ حملے نے ان خدشات کی تصدیق کردی۔ ابھی تک بظاہر خیبر پختون خوا میں اے این پی کو نشانہ بنایا گیا ہے جو طویل عرصے سے دہشت گردی کا شکار ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جو آپریشن کیے گئے تھے اْس کے بعد حکومت اور سیکورٹی اداروں کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ملک میں امن قائم کردیا گیا ہے اور دہشت گرد تنظیموں کے ڈھانچے توڑ دیے گئے ہیں، لیکن پشاور ،بنوں اور بلوچستان کے علاقے مستونگ کے المناک واقعات نے یہ پیغام دیا ہے کہ ابھی تک دہشت گردی کے خطرات کم نہیں ہوئے ہیں، حالانکہ قوم نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں، بہت صبر کا مظاہرہ کیا ہے، انسانی حقوق کی پامالی کو برداشت کیا ہے۔ ان واقعات کی ایک اور تناظر میں اہمیت ہے، وہ یہ کہ انتخابی نظام الاوقات کے اعلان سے قبل الیکشن کمیشن کی جانب سے ان خدشات کا اظہار کیا گیا تھا کہ ملک میں پْرامن انتخاب کا عمل
آسان نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وہ پارلیمان کی کمیٹی کو بند کمرے کے اجلاس میں تفصیلات سے آگاہ کرسکتے ہیں۔ ان کے مطابق عالمی طاقتیں انتخابات کو سبوتاژکرنا چاہتی ہیں۔ ان خبروں کے تناظر میں انتخابی نظام الاوقات کے اعلان کے باوجود انتخابی عمل کے انعقاد پر شکوک و شبہات کے سائے برقرار رہے ہیں۔ انتخابی عمل جاری ہے، اس کے باوجود ابھی بھی بہت سے ذہنوں میں انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے شبہات پائے جاتے ہیں۔ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ وہ کون سی قوتیں ہیں جو انتخابات نہیں چاہتیں۔ اس بارے میں یہ بات کہی جارہی ہے کہ وہ قوتیں جو حکومتوں کے قیام اور خاتمے میں پس پردہ کردار ادا کرتی رہی ہیں وہ یہ چاہتی ہیں کہ انتخابات نہ ہوسکیں۔ یہ بات درست ہے کہ پاکستان مسلسل سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے، انتخابات کا تسلسل بھی ملک کو سیاسی استحکام نہیں دے سکا ہے، لیکن ہر قسم کے مسائل کے باوجود جمہوریت اور نمائندہ حکومت پر اتفاقِ رائے ہے۔ اس بات پر بھی اتفاقِ رائے ہے کہ انتخابات کا التوا ایسے سیاسی مسائل پیدا کرے گا جن کا حل کسی کے پاس نہیں ہوگا۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ پْرامن حالات میں انتخابات کا عمل مکمل ہو، لیکن انتخابات سے قبل پشاور میں اے این پی کے جلسے میں دہشت گردی کے سانحے نے آزادانہ انتخابی مہم کے بارے میں سوالات اٹھادیے ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی کے تسلسل کے باوجود انتخابی عمل جاری ہے، اس لیے 25 جولائی کے انتخابات کو بھی اپنے وقت پر ہونا چاہیے۔ البتہ سیاسی جماعتوں اور ان کے کارکنوں کی آزمائش میں اضافہ ہوگیا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کا سانحہ اندھیرے کا تیر ہے جس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ کہاں سے آئے گا، البتہ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان عالمی جنگ کا میدان ہے۔ اْس جنگ کا جو امریکہ اور اس کی اتحادی عالمی قوتوں نے جوہری قوت و طاقت پاکستان، اس کی بنیادی طاقت یعنی نظریاتی اور ایمانی طاقت اسلام کے خلاف چھیڑ رکھی ہے۔ اس تناظر میں پاکستان میں مارشل لا کے لگنے سے لے کر جمہوری اور منتخب حکومتوں کے قیام تک امر یکاور عالمی و علاقائی طاقتوں نے پاکستان کے داخلی امور میں کھلی مداخلت کی ہے۔ دہشت گردی کے واقعات میں بیرونی طاقتوں کا ہاتھ بھی کھلا راز ہے، کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کو ہمیں نہیں بھولنا چاہیے۔اور یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اسلام، پاکستان اور عالم اسلام کے خلاف عالمی طاقتوں کی یلغار جاری ہے، اس تناظر میں دہشت گردی کے واقعات اور پاکستان کی سیاست میں ان کے اثرات و نتائج کو دیکھنا ہوگا۔
jamalahmad50000@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے