Voice of Asia News

مسائل کے حل کیلئے عوام ووٹ کی اہمیت کو سمجھیں : محمد جہانزیب منظور

عام انتخابات میں صرف چند دن ہی باقی ہیں۔اُمید واروں کی الیکشن مہم بڑے جوش وخروش سے جاری ہے،جگہ جگہ وسیع و عریض بینر لگے ہوئے ہیں اور جلسوں میں دھواں دھار تقاریریں کی جارہی ہیں۔ تمام غیر جمہوری جماعتوں کی جمہوریت کے لبادے میں خوب خوب پبلسٹی کی جارہی ہے، اُمیدواروں کی شان میں مشرق و مغرب سے لا کر قلابے ملائے جارہے ہیں۔عوامی نمائندؤں نے ایک بار پھر بے روزگاری اور مہنگائی کو جڑ سے ختم کرنے، بجلی، پانی، گیس گھر گھر تک پہنچانے، علاج اور تعلیم مفت فراہم کرنے کے سہانے خوابوں کی پٹاریاں کھولی ہوئیں ہیں۔ اپنی ’نیک نیتی‘ کو ثابت کرنے کیلئے پانچ سال سے بند گٹر لائنیں کھلوائی جارہی ہیں، سڑکوں کی ملمع کاری ہورہی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے عوامی نمائندے منتخب ہوتے ہی دوسری دنیا پدھار گئے تھے، اب انتخابات سے قبل انہیں اچانک یاد آیاکہ اْن کے ووٹرز مشکل میں ہیں۔ہر سیاسی جماعت کے نمائندے کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس عوام کے تمام مسائل کا حل ہے، لہٰذا ووٹ انہیں ہی دیا جائے کیونکہ وہ منتخب ہوکر چٹکی بجاتے ہی تمام مسائل کا فوری حل نکال لیں گے جبکہ عوام اپنی تقدیر پر حیران و پریشان ہیں کہ ان کے ساتھ یہ مشق کب تک دہرائی جاتی رہے گی؟ کب تک انہیں ووٹ کے تقدس کے نام پر لوٹا جاتا رہے گا؟ منتخب نمائندوں کی جانب سے مسلسل وعدہ خلافیاں، محض کھوکھلے نعروں اور دعوؤں کی وجہ سے آج عوام کی نظر میں ووٹ کی اہمیت تقریباً ختم ہوکر رہ گئی ہے۔ لوگ انتخابی عمل میں صرف روایتی طور پر شرکت کرتے ہیں۔ سیاستدان بھی جانتے ہیں کہ عوام کا حافظہ بہت کمزور ہے، اس لیے وہ ہر بار نئے اور خوشنما دعوؤں کی دکان سجاتے، وعدوں کا نیا جال بنتے اور عوام کو اْس میں پھنسالیتے ہیں۔ہمارے ہاں سیاسی رہنماؤں کا حافظہ الیکشن جیتتے ہی کام کرنا چھوڑ دیتا ہے جبکہ انتخابات قریب آتے ہی ان کی یادداشت لوٹ آتی ہے، وہ دوبارہ سے پانچ سال قبل کیے گئے دعوؤں پر نیا میدان مارنے کی تیاری میں جْت جاتے ہیں۔ مگر اس کے برعکس عوام کا حافظہ بہت کمزور ہے، وہ پرانے کو بھول کر نئے راگ پر اعتبار کرلیتے ہیں اور نتیجے میں پھر وہی دیرینہ مسائل کا انبار ہوتا ہے۔اگر آپ پڑھے لکھے ہیں تو یقیناً یہ تو جانتے ہی ہوں گے کہ آپکا ووٹ آپکی طرف سے اپنے ملک،ملکی اثاثہ جات، ملک کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں اور اپنی آنے والی نسلوں کی بہتری جیسی چیزوں کو امانت کے طور پر کسی کے حوالہ کرنے کیلئے آپکا اعتماد ہوتا ہے ۔اس لئے اپنے ووٹ کو کسی بھی طرح کی جذباتیت، کسی ذاتی مفاد، کسی برادری ازم، کسی علاقائی و لسانی تعصب کی بنیاد پر ہرگز ہرگز مت دیں بلکہ پوری طرح سوچ سمجھ کر پورے شعور کے ساتھ، ہر طرح سے موازنہ کر کے اور باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد ہی دیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہاں ہمارے ملک میں تو سیاست کا آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے، ہر پارٹی اور اسکا ہر امیدوار خود کو فرشتے اور دوسروں کو شیاطیں ثابت کرنے کی پوری کوشش میں رہتے ہیں، اور دوسری طرف ملک کو اس بدحالی کا شکار رکھنے میں سب ہی برابر کے حصہ دار بھی نظر آتے ہیں تو ایسے میں عام آدمی کیلئے یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے کہ ان سب میں سے بہتر امیدوار کا انتخاب کیسے کیا جائے؟ کیسے پرکھا جائے کہ کونسی پارٹی اور کونسا امید وار اس ملک و ملت کا زیادہ مخلص ہے؟ کون زیادہ ایماندار ہے؟ تو اس کا طریقہ بہت آسان ہے، اس کیلئے آپ اپنے وقت میں سے محض ایک گھنٹہ نکالنا ہے۔ دو صفحات لے کر ان پہ گراف بنا ئیں ایک گراف پہ آپ نے ورٹیکلی ہر خانے میں پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کے نام لکھنے ہیں اور پھر ہر پارٹی کے نام کے آگے ہوریزینٹلی اس پارٹی کی خوبیاں اور اس کے کارہائے نمایاں الگ الگ خانوں میں لکھنے ہیں۔اسی طرح دوسر گراف پہ آپ نے یوں ہی پارٹیوں کے نام لکھ کرآگے ان کی خامیاں، ان کے سکینڈلز وغیرہ لکھنے ہیں۔اس طرح جو اعداد و شمار آپ کے پاس حاصل ہوں گے ان کی بنیاد پہ آپ فیصلہ بہت آسانی سے کر سکیں گے کہ کس جماعت کا انتخاب بہتر رہے گا؟
یہ تو ہوئی وہ ترکیب جس سے آپ جائزہ لے سکتے ہیں، لیکن خوبیوں اور خامیوں کا تعین بھی ایک الگ جج منٹ کا متقاضی ہے۔ اس کیلئے آپ نے صرف یہ کرنا ہے کہ کچھ وقت کیلئے اپنی ہر وابستگی کو بھلا کر خود کو بالکل غیر جانبدار کر لینا ہے، اور کسی بھی پارٹی یا پارٹی سے جڑے فرد اور لیڈرز کا ہر وہ کام جو ملک و ملت کے مفاد میں ہو. اور اس سے ملک و قوم کو فائدہ ہوا ہو. وہ اس پارٹی کی خوبی میں لکھی اور ہر ایسا کام جس سے ملک و ملت کا نقصان ہوا ہو۔یا عالمی سطح پہ بدنامی ہوئی ہو، یا کسی قسم کا معاشی یا نظریاتی نقصان ہوا ہو، یا ملک میں انتشار اور بدامنی کا سبب بنے ہوں، وہ اسکی خامی کے خانہ میں لکھیں اس طرح آپ اپنے ذہن میں آنے والی ہر وہ چھوٹی سے چھوٹی بات بھی تحریر کریں جو کبھی کسی بھی طرح آپکے علم میں آئی ہے ۔اس طرح آپ بالکل درست اور قابل اعتماد ڈیٹا اکٹھا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور تب پھر آپ کے سامنے ہر پارٹی کی پوزیشن واضح ہوگی ۔اب اس کے بعد جو پراسس ہے وہ سب سے زیادہ اہم ہے، اور وہ پراسس یہ ہے کہ اپنی ذاتی پسند و ناپسند کو ٹھکرا کر، اپنے ذاتی مفادات کو اگنور کر کے، اپنے متسقبل، اپنے ملک کے مستقبل اور اپنی آنے والی نسلوں کی بہتری اور فلاح کے لئے صرف اپنے عقل و شعور کے ماتحت اپنے نکالے ہوے نتیجہ کے عین مطابق، اپنا فیصلہ بھی کرنے کی ہمت پیدا کرنے سے ہی بنیادی کام اگر بہت مشکل اور اہم ضرور ہے مگر ناممکن بالکل بھی نہیں بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ زیادہ مشکل بھی نہیں ہے کیونکہ آپ تو پڑھے لکھے اور باشعور جو ہیں۔اب تو طرح طرح کے زرائع اطلاعات نے یہ کام بے حد آسان بنا دیا ہے ۔ہمیں صرف اپنے حلقے کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لینا ہے۔مزید یہ کہ حلقے کی بنیادی ضروریات اور اس حوالے سے ترقیاتی کاموں کی تاریخ، اعداد و شمار کو امید وار کے وعدے وعید کی روشنی میں پرکھنا ممکن ہو سکے۔
ووٹ ایک قومی امانت ہے اور یہ وہ قیمتی اثاثہ ہے جس کی بنیاد پر عوام و خواص پر اثرات مرتب ہوتے ہیں، قوموں کے عروج و زوال کی داستانیں رقم ہوتی ہیں، حکومتوں کی پالیسیوں کے تبدیل ہونے کے امکانات روشن ہوتے ہیں۔ قطع نظر اس بات سے کہ ایک عام آدمی اس بات کی اہمیت سے ناآشنا ہوتا ہے کہ اس کا ووٹ اس کے ملک کی بقا اور سا لمیت کے لیے کتنی اہمیت کا حامل ہے۔لہٰذا ووٹر حضرات کو چاہئے کہ اپنا بیش قیمت ووٹ دینے سے قبل اپنے ووٹ کی طاقت و اہمیت اور اس کی دینی وشرعی حیثیت کو خوب اچھی طرح سمجھ کر کسی کو اپنا ووٹ دیں۔ خود غرضی ، عارضی مفادات ، قرابت و تعلقات ، دوستانہ مراسم یا کسی کی غنڈہ گردی کے ڈر و خوف کی وجہ سے جھوٹی شہادت جیسے حرام اور کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ کریں۔ یہ انتخابی عمل اور اس میں کسی امیدوار کا حصہ لینا محض سیاسی ہارجیت اور دنیاداری کا کھیل نہیں ہے بلکہ جیتنے والے امیدوار کے ہر اچھے برے کاموں کے اجر یا گناہ میںآپ بھی برابر کے شریک ہوں گے۔لہٰذاریاست کا ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے ہمیں اپنے اور اپنے گھروں کے ووٹ کا درست استعمال کرنا چاہئے اگر ہم لوگ ووٹ کا اہم استعمال سیکھ جائیں تو یہ ووٹ کی طاقت اتنی مسلمہ ہے کہ صرف چند اہل اور قابل با صلاحیت افراد منتخب کر لئے جائیں تو قوم کا کارواں درست سمت کی جانب گامزن ہو سکتا ہے۔ہماری قوم بہت با صلاحیت ہے ،قدرت نے بے بہا وسائل کی نعمت سے نوازا ہے اگر آج ہمارے اندر خرابیاں اور مسائل ہیں تو وہ اپنے عوامی نمائندوں کے انتخاب کے وقت ہمارے غلط یا جذباتی چناؤ کے باعث ہی ہیں اس جانب توجہ کی ضرورت ہے کہ قانون فطرت ہے کہ
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
jahanzaibmalik129@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے