Voice of Asia News

حقیقی ایشو زسے محروم انتخابی مہم اور ’’لوٹا کریسی‘‘: محمد قیصر چوہان

انتخابات کے انعقاد میں اب صرف چند دن ہی باقی رہ گئے ہیں ۔ وقت پر انتخابات کے بارے میں قومی اتفاقِ رائے موجود ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انتخابات کے نہ ہونے کی وجہ سے جو سیاسی و آئینی بحران پیدا ہوگا اْس کا حل کسی کے پاس نہیں ہے۔ملک کی سیاسی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ سیاست دانوں نے اپنی کارکردگی سے عوام وخواص سب کو مایوس کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ الیکشن جس تناظر میں منعقد ہورہے ہیں اس میں کسی بھی سیاسی جماعت کو ووٹ دینے والوں کی آنکھیں ایقان سے محروم ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ انتخابی مہم حقیقی موضوعات سے محروم ہے۔ سیاسی قیادت انتخابی مہم کے ذریعے اجتماعی امور پر قوم کی رہنمائی کرسکتی ہے، لیکن اس اجتماعی سرگرمی نے اجتماعی زندگی میں قوم کی رہنمائی کرنے کے بجائے اسے اعصابی تشنج میں مبتلا کردیا ہے۔ نظریاتی سیاست کے خاتمے نے قوم کو علاقائی، صوبائی اور لسانی بنیادوں پر تقسیم کردیا ہے۔ اس وقت بہت بڑا مسئلہ ایک دوسرے پر الزام تراشی کا ہے جس سے سیاسی کلچر آلودہ ہورہا ہے۔ اصلاح و تعمیر کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی۔ اس بات پر بھی اتفاق ہوچکا ہے کہ اس وقت سیاسی و اجتماعی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ اقتدار پر فائز رہنے والے سیاست دانوں اور افسر شاہی کی بدعنوانی ہے۔ عملاً اسی پس منظر میں ایک زمانے میں احتساب سب سے بڑا نعرہ تھا، لیکن شفاف اور بلا امتیاز احتساب کا نعرہ بھی پس منظر میں چلا گیا ہے۔ ساتھ ہی احتساب کے نام پر جو کام ہورہا ہے وہ بھی اعتبار اور ساکھ سے محروم ہوچکا ہے۔ کرپشن اور بدعنوانی اب ہماری اجتماعی زندگی کی شناخت اور پہچان بن گئی ہے۔ کرپشن اور بدعنوانی مفاد پرستی کے انڈے بچے ہیں اور مفاد پرستی کی سیاست دورِ غلامی کا تحفہ ہے، جس کا تسلسل عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی شکل میں جاری ہے۔ اس کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ پاکستان میں حکومتوں کے بننے اور بگڑنے میں عالمی سامراج امریکہ کی مداخلت جاری رہی ہے، مارشل لا ہمیشہ امریکی اشارے پر نافذ کیے گئے اور جمہوریت کا تماشا بھی امریکی فرمائش پر سجایا گیا ہے۔ اسی وجہ سے جبر و استبداد کے خاتمے کے نتیجے میں جس منصفانہ سیاسی نظام کا خواب دیکھا گیا تھا اس کی تعبیر بھیانک ثابت ہوئی ہے۔ اجتماعی زندگی میں مفاد پرستی اور بدعنوانی کے فروغ کا سبب یہ ہے کہ ملک سے اصولی اور نظریاتی سیاست کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ اگر آج بھی بدعنوانی اور کرپشن کی غلاظت اور گندگی سے قومی و ملّی زندگی کو پاک اور صاف کرنا ہے تو اس کے لیے اصولی اور نظریاتی سیاست کو بحال کرنا ہوگا۔ قومی سیاست میں مفاد پرستی کی جو آلودگی آئی ہے اس کا ایک مظہر ’’لوٹا کریسی‘‘ ہے۔ آج اس کی شکایت وہ لوگ کررہے ہیں جو خود اس میں مبتلا رہے ہیں۔ اسی عمل نے پاکستان کی سیاست میں قیادت کا بحران پیدا کردیا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ قوم بانجھ ہوگئی ہے اور وہ اہل اور دیانت دار قیادت پیدا کرنے کے قابل نہیں ہے، بلکہ وہ لوگ جو قوم کو متبادل قیادت فراہم کرسکتے ہیں، اْن کے راستے میں طاقتور اور مفاد پرست طبقات حائل ہوچکے ہیں۔ اس تناظر میں جبکہ انتخابی عمل آئندہ ماہ مکمل ہوجائے گا، اس بات کی کوئی ضمانت فراہم نہیں کی جاسکتی کہ انتخابات کے نتائج اور نئی حکومت کا قیام ملک میں سیاسی استحکام کا سبب بن سکے گا۔
آج ہماری مجلسوں میں سب سے زیادہ رونا مہنگائی اور بے روزگاری کا رویا جاتا ہے، لیکن سیاسی جماعتوں کے منشور اور انتخابی جلسوں میں سیاسی قیادت کے خطاب میں مہنگائی اور بے روزگاری کے اسباب اور اس کے علاج کا کوئی ذکر نہیں ہوتا۔ معیشت کو قومی زندگی میں مرکزیت عطا کردی گئی ہے، لیکن عوام کی زندگی جہنم کیوں بنا دی گئی ہے اور ایک فلاحی معاشرہ کیسے قائم کیا جائے گا، اس کا کوئی وڑن مقبولِ عوام سیاسی جماعتوں کی قیادت کے پاس نظر نہیں آتا۔ اب تو صورتِ حال یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں رسمی طور پر بھی منشور تیار کرنے کی زحمت نہیں کررہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے اپنی حکومت کے پانچ سال پورے کیے ہیں، لیکن کہیں بھی اس بات کا تجزیہ نہیں کیا گیا کہ مسلم لیگ (ن) نے انتخابی مہم میں کیا منشور پیش کیا تھا اور اس پر اپنے عہدِ اقتدار میں کتنا عمل کیا؟ غربت و افلاس کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے، اس کے ساتھ ہی ایک طاقتور اور اقلیتی طبقے کی دولت میں غیر معمولی اضافہ ہورہا ہے۔ ملک دیوالیہ ہورہا ہے، ڈالر کے نرخ بڑھ رہے ہیں، پاکستانی روپے کی قیمت مسلسل گررہی ہے، مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے۔ پاکستانی تاجر، صنعت کار، بااثر طبقات اپنی رقم پاکستان میں رکھنے کو تیار نہیں ہیں۔ صرف یہ ایک مسئلہ ایسا ہے جسے انتخابی مہم کا موضوع بننا چاہیے۔
پاکستان میں 1997ء کے انتخابات سے کرپشن اور بدعنوانی سیاسی موضوع بنا ہے۔ اسی وقت سے یہ رائے بھی سیاسی حلقوں میں پختہ ہوئی کہ باری باری منتخب ہونے والی سیاسی جماعتوں نے بدعنوانی کے کلچر کو فروغ دیا ہے جس کی وجہ سے عوام بدحال ہوئے ہیں۔ اس کے مقابلے میں یہ بات بھی کہی جاتی رہی ہے کہ ملک پر سب سے زیادہ مدت اور پوری قوت کے ساتھ حکمرانی جرنیلوں نے کی ہے جن کے ساتھ افسر شاہی شریک رہی ہے۔ فوجی حکومتوں نے ہی پاکستان میں بدعنوان سیاست دانوں کی سرپرستی کی ہے۔ یہ ایک مختصر منظرنامہ ہے پاکستان کی سیاسی تاریخ کا۔یہ حقیقت ہے کہ بدعنوانی اور کرپشن پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ کسی بھی سیاسی جماعت اور سیاسی قیادت کے جو بھی افکار، خیالات اور نظریات ہوں، اْن پر اتفاق اور اختلاف کیا جاسکتا ہے، لیکن بدعنوانی اور کرپشن کو کسی بھی صورت میں قابلِ قبول قرار نہیں دیا جاسکتا۔ دنیا کے تقریباً ہر ملک میں حکومتوں پر فائز رہنے والے افراد کے خلاف کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ کئی افراد کو سزا بھی ہوئی ہے۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ پاکستان میں بھی بلاامتیاز اور شفاف احتساب کے عمل کو جاری رکھا جاتا۔ لیکن جس طرح ملک میں دھاندلی سے پاک شفاف انتخابات کی ضمانت سیاسی استحکام کی لازمی شرط ہے تاکہ ملک پر حقیقی نمائندہ حکومت قائم ہو، عوام کی رائے ہی حکومت کے بننے اور ختم ہونے کا ذریعہ بنے، اسی طرح شفاف اور بلاامتیاز احتساب بھی لازمی شرط ہے۔ اگر احتساب کو سیاسی کھیل کا ذریعہ بنایا جائے تو یہ ملک کیلئے بہت خطرناک ہے۔ یہ بات تو درست ہے کہ دنیا میں کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی مجرم اپنے جرم کو تسلیم کرے، اسی طرح پاکستان میں بھی بدعنوانی اور کرپشن کے الزام میں سزا پانے والے اپنے خلاف سزاؤں کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں۔ یہ بھی المیہ ہے کہ پاکستان میں احتساب کے حوالے سے قائم اداروں کا طرزِعمل شفاف نہیں رہا ہے۔ اس کا یہ بھی مطلب نہیں ہے کہ بدعنوانی میں ملوث افراد پاک صاف رہے ہیں۔ بدعنوانی پاکستان کا حقیقی مسئلہ ہے۔ حکومتوں پر فائز رہنے والے افراد کی دولت میں غیر معمولی اضافہ یہ بتا رہا ہے کہ بدعنوانی حقیقی مسئلہ ہے۔ اس اعتبار سے بدعنوانی کے خلاف حقیقی اور منصفانہ احتساب اوّلین ترجیح ہے، لیکن افسوس یہ ہے کہ احتساب کے عمل کو شفاف انداز میں نہیں چلایا گیا ہے، اس لیے قوم کی دولت لوٹنے والے خائن اور مفاد پرست عناصر بھی مظلوم بن جاتے ہیں۔
پاکستان میں کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف تحریک موجود رہی ہے۔ اسی کے ساتھ انتخابات کی شفافیت پر سوالات ہمیشہ رہے ہیں۔ ابھی تک کرپشن اور بدعنوانی کے بارے میں مختلف سیاسی گروہ اپنے مخالفین پر الزامات عائد کرتے رہے ہیں، لیکن ایسا کلچر پیدا نہیں ہوسکا ہے کہ کسی بھی بدعنوان کو برداشت نہ کیا جائے چاہے وہ کوئی بھی ہو۔ پھر بھی پاناما دستاویزات کی اشاعت نے پاکستان میں بدعنوانی کے خلاف تحریک کو نئی شکل دے دی ۔ بدعنوانی، سرکاری وسائل کی لوٹ کھسوٹ، کرپشن اور ناجائز ذرائع سے دولت اکٹھی کرنے کے مسئلے پر ہر نظریہ اور فکر رکھنے والوں کے درمیان اتفاق ہوتا ہے، لیکن جب سزا و جزا اور احتساب کے نظام کی شفافیت پر سوال اٹھادیے جائیں تو اس کا نتیجہ انتہائی غلط نکلتا ہے۔ پاکستان کی سیاست اور سیاسی تاریخ کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ عوام کے نمائندہ اداروں کو فیصلہ کن بالادستی حاصل ہونی چاہیے، اس لیے کہ افسر شاہی اپنی فطرت اور مزاج کے اعتبار سے عوام دشمن ہوتی ہے۔ لیکن پاکستان میں انتخابی نظام کی شفافیت اور ساکھ پر سوالات اور سیاست دانوں کی بدعنوانی اور مفاد پرستی نے عوامی سیاست کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ اس کی ذمے داری اْن سیاست دانوں پر عائدہوتی ہے جن کو عوام نے ووٹوں کی طاقت عطا کی۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے