Voice of Asia News

کرپشن کا ناسور پاکستان کی ترقی رکاوٹ ہے : محمد قیصر چوہان

قائد اعظم اور علامہ اقبال کا پاکستان مفاد پرست حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کی بدولت آج کرپشن، دہشت گردی، توانائی کے بحران، ،مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سمیت دیگر بے شمار مسائل کا شکار ہے۔ پاکستان کو لوٹنے والوں نے گروپ بنا رکھے ہیں جس طرح ڈرگ مافیا، کلاشنکوف مافیا، کرکٹ مافیا، بھتہ مافیا، پولیٹیکل مافیا، امپورٹر مافیا، کارٹل مافیا اور بیورو کریسی مافیا ہیں جو ایک دوسرے کو تحفظ فراہم کرتے ہیں اسی طرح کرپٹ سیاستدانوں کا مافیا بھی ایک دوسرے کا تحفظ کرتا چلا آرہا ہے۔ بھتہ مافیا کی سرپرستی بعض کرپٹ سیاستدان کر رہے ہیں۔ بعض کلیدی عہدوں پر وہ بیورو کریٹ براجمان ہیں جو حکمرانوں کو کرپشن کے داؤ پیچ سکھاتے ہیں۔ اسی لیے دیانتدار بیوروکریٹس کو ہر حکومت کھڈے لائن لگا کر اپنے چہیتے اور فرمانبردار عہدیدار لگاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں بیورو کریسی کے باصلاحیت، دیانتدار، محب وطن افسران سائیڈ لائن میں بیٹھ کر اپنی ریٹائرمنٹ کے دن پورے کررہے ہیں۔ پاکستان میں لبرل ازم کے نام پر بے راہ روی، فحاشی، عریانی، اخلاق سوز سرگرمیوں کی حمایت کرنے والے امریکا اور یورپ کے ایجنٹ اپنے اثر و رسوخ کی بدولت ملک میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں اور وہ جی بھر کر پاکستان کی نوجوان نسل کو امریکا یورپ کی طرح مادر پدر آزاد بنارہے ہیں۔ پاکستان میں ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی، بد عنوانی کے خاتمے، ٹیکس چوری، انسداد چور بازاری اور بلیک مارکیٹنگ کے قوانین روز اول سے کتابوں میں موجود ہیں مگر ان قوانین پر ایمانداری کے ساتھ عملدرآمد کوئی حکومت نہیں کر پائی جس کا خمیازہ ملک کے غریب عوام ایک عرصہ سے بھگت رہے ہیں۔ پاکستانی قوم کی ستم ظریفی یہ ہے کہ اس کے حکمران فوجی ہوں یا جمہوری، وہ سبھی پاکستانی عوام کے ٹیکسوں سے جمع خزانے کی لوٹ مار قومی اداروں پر اربوں نہیں کھربوں روپے ہتھیا کر بیرون ملک خفیہ یا بے نامی اکاؤنٹس میں جمع کرانے والوں پاکستان کے باہر کروڑوں، اربوں کے منقولہ و غیر منقولہ اثاثے بننے والے سیاستدانوں میں شامل شخصیات انصاف کے کٹہرے میں لانے کے عزم میں کمزوری کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں تاکہ جب وہ بھی اپنی معیاد پوری کر کے چلتے بنے تو ان کی جگہ اقتدار میں آنے والے ان سے بھی پوچھ گچھ نہ کرنے کی روایت برقرار رکھیں۔یہ صورتحا ل واضح کر تی ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے۔
سب سے پہلے اس بات کو واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ کرپشن کیا ہے، عموما ہمارے ہاں کرپشن کو ’’رشوت ‘‘ کا ایک اور نام سمجھا جاتا ہے جب کہ کرپشن ایک انتہائی وسیع المعانی لفظ ہے، اگر آپ اردو یا انگریزی کی لغت میں اس لفظ کو دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ ہر معاشرتی برائی اس لفظ کے مطالب میں سما جاتی ہے۔اس کرپشن کی تشریح میں لغت میں ہر برا لفظ موجود ہے۔بے ایمانی، خرابی، گمراہی، سڑن، گلن، بد اخلاقی، بد قماشی، بداخلاقی وضعداری کی تباہی، بد عنوانی، رشوت، ناپاکی، بے حیائی، زبان کا بگاڑ، بد کرداری، بد اعمالی، بد خصلتی، خیانت، چوری، حقوق غصب کرنے کا عمل اور ایک طویل فہرست۔ اب آپ سوچیں کہ ان سب خرابیوں کو جب ایک لفظ کرپشن میں سمویا جاتا ہے تو اس لفظ کی کیا اہمیت بن جاتی ہے اور اس سے معاشرے کا چہرہ کس طرح مسخ ہو تا ہے، اس کے خلاف جنگ کو بھی جہاد کا درجہ دیا جانا چاہیے کہ اس میں کوئی بیرونی دشمن کارفرما نہیں ہے بلکہ ہمارے اپنے اندر پروان چڑھا ہوا کرپشن کا پودا، تناور درخت بن چکا ہوتا ہے جسے ایک طرف سے تلف کریں تو کہیں نہ کہیں اور طرف سے پھوٹ پڑتا ہے۔شنید ہے کہ جھوٹ ہر گنا ہ کا باپ ہے، یعنی سارے گناہوں کی بنیاد جھوٹ پر رکھی جاتی ہے۔گناہ کی عمارت کی بنیاد کی پہلی اینٹ،جھوٹ اصل میں ایک ایسا پردہ ہے جو سچائی کو ہم تک پہنچنے نہیں دیتا اور ہم دوسروں کو پہچان نہیں سکتے۔ جس طرح قبض کی بیماری، ہر بیماری کی ماں ہے، اس کے بطن سے ہر بیماری جنم لیتی ہے، جب تک قبض کا علاج نہ کیا جائے ، جسم سے دوسری بیماریوں کا خاتمہ کرنا مشکل ہوتا ہے اسی طرح کرپشن بھی قبض جیسی ایک بیماری ہے، اسی کے بطن سے تمام جرائم، خرابیاں اور برائیاں جنم لیتی ہیں۔
کرپشن یا بد عنوانی صرف رشوت اور غبن کا نام نہیں ہے بلکہ اپنے عہد اور اعتماد کو توڑنا یا مالی اور مادی معاملات کے ضابطوں کی خلاف ورزی بھی بدعنوانی کی شکلیں ہیں، ذاتی یا دنیاوی مطلب نکالنے کے لئے کسی مقدس نام کو استعمال کرنا بھی بد عنوانی ہے۔کرپشن ایک ایسا مرض ہے جو چھوت کی طرح پھیلتا ہے اور معاشرے کو کھا جاتا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اس موذی مرض نے ہماری سماجی، سیاسی اور روحانی زندگی کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔کرپشن آکاس بیل کی طرح سے ہے یعنی وہ زرد بیل جو درختوں کو جکڑ کر ان کی زندگی چوس لیتی ہے یہ ایک ایسی لعنت ہے کہ اگر ایک بار یہ کسی معاشرہ پر آگرے تو ایک شاخ سے اگلی اور اگلی شاخ کو جکڑتی چلی جاتی ہے حتیٰ کہ زرد ویرانی کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا۔ یہاں تک کہ معاشرہ کی اخلاقی صحت کے محافظ مذہبی اور تعلیمی ادارے بھی اس کا شکار ہو جاتے ہے۔کسی برائی کے خلاف جد وجہد کا انحصار معاشرہ کے اخلاقی معیاروں پر ہوتا ہے ۔ اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کے ہم کس بات کو رد اور کس کو قبول کرتے ہیں، بد عنوانی کے رویوں کے ساتھ بدعنوانی کا مقابلہ ممکن نہیں، کوئی نگران اگر خود بد دیانت ہو تو لوٹ میں اپنا حصہ مانگ کر کرپشن میں معاونت کرتا ہے جس سے بربادی کا عمل اور گہرا ہو جاتا ہے۔
کرپشن کسی جڑواں بچے کی طرح پاکستان کے بنتے ہی ساتھ آ گئی تھی وہ لوگ جو آج معاشرہ میں امتیازی حیثیت کے مالک ہیں، پاکستان کے ابتدائی دنوں کی تاریخ کو بڑی احتیاط سے چھپاتے ہیںیہ لوگ کرپشن کے خلاف تقریریں تو کرتے ہیں لیکن کرپشن کی وجوہات اور پیدائش پر بات نہیں کرتے یہ پاکستان کی ابتدائی تاریخ کا وہ افسوس ناک باب ہے جس میں ہماری کرپشن، موقع پرستی، مذہبی بلیک میل اور بے حسی کی جڑیں چھپی ہیں۔ہماری قیادت کو ان مسائل کا شائد کوئی تصور ہی نہ تھا جو ہمارے عوام کو تقسیم ہند کے وقت پیش آنے والے تھے چنانچہ مہاجروں کی آباد کاری کا کوئی ٹھوس منصوبہ موجود نہ تھا۔
عین اس وقت جب ہمارے بزرگ لہو میں نہائے ہوئے مہاجر کیمپوں میں پڑے سڑ رہے تھے تو ملک کے طول و عرض میں ہندووں اور سکھوں کی متروکہ املاک کی لوٹ مار یوں جاری تھی۔چالاک موقع پرستوں کی چاندی ہو رہی تھی ،وہ لوگ بحالیات کے دفتروں میں بیٹھے اپنے حصّوں کی سودے بازی کر رہے تھے۔یہی سے پراپرٹی کلیم کی کہانی شروع ہوتی ہے ،لیکن پراپرٹی کلیم کیا تھا؟بے شمار مسلم عوام تھے جنہوں نے اپنے اس نئے وطن پاکستان کے لئے ہندوستان سے ہجرت کی، ان میں بہت سے ایسے تھے جو بھارت میں اپنے گھر اور جائداد چھوڑ آے تھے لیکن ان گنت ایسے بھی تھے جن کا وہاں کچھ بھی نہ تھا یا بہت معمولی تھا۔ا گرچہ حقائق معلوم کرنے کا کوئی قابل اعتماد طریق موجود نہ تھا پھر بھی ہر شخص کو یہ دعویٰ کرنے کا حق تھا کہ اسنے ہندوستان میں یہ چھوڑا اور وہ چھوڑا اور اسے پاکستان میں اس کے برابر ملنا چاہئے، اس کا نام کلیم تھا۔ لیکن لوگ اپنا کلیم کیسے ثابت کرتے تھے؟ ظاہر ہے کسی کے پاس ملکیت کا کوئی کاغذ نہ تھا۔ایسی صورت حال میں جھوٹی کہانیوں کی گنجائش موجود تھی جس کی تصدیق کے لئے ذاتی گواہی کے سوا کچھ موجود نہ تھا اور اس کی بھی کچھ ایسی مجبوری نہ تھی، کیونکہ کوئی "ہمدرد” افسر، تحریک پاکستان کا کوئی کارکن یا کوئی سیاسی رہنما آپ کا کلیم منظور کر کے آپ کی تقدیر بدل سکتا تھا۔چنانچہ ہندووں اور سکھوں کی چھوڑی ہوئی شہری اور دیہی ملکیتیں، رہائشی اور کاروباری جائیدادیں ایسے ایسے لوگوں کے ہاتھ لگیں جن کا کوئی استحقاق نہ تھا۔ سب سے زیادہ ننگے انداز میں یہ عمل صنعتی، تجارتی اور کاروباری شعبوں میں سر زد ہوا جہاں مسلمانوں کو کوئی تجربہ نہ تھا یا بہت کم تجربہ تھاچنانچہ جو نیا کاروباری طبقہ پیدا ہوا اسے کاروبار کے اصولوں، اس کی اخلاقیات اور اس کے مزاج کے بارے میں تربیت دینے کا بھی کوئی انتظام نہ تھا ۔
"راتوں رات امیر” ہو جانے کے خواب کے سبب پاکستان میں کرپشن صحت مندی کی علامت بن گئی ہے، ایک ایسا عمل جو ذہانت کا معیار ہے ، سماج میں موزوں ہونے کا ثبوت ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ کرپشن کو گالی دینا بھی اتنا ہی معیاری اور موزوں ہے ہم میں سے ہر ایک کے پاس دوسرے کی کرپشن کے "ٹھوس” ثبوتوں کے ساتھ ایک فہرست موجود ہوتی ہے جس کے ساتھ ہی ویسی ہی "کامیابیوں” کی آرزو ہمارے دل میں مچلتی ہے ۔عمل اور فکر کا یہ تضاد یعنی ہاتھ سے کرنے اور زبان سے کوسنے کا یہ عمل اس ریا کاری کو جنم دیتا ہے جو بد عملی کو دوام بخشتی ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جو ایک شاندار دین پر ایمان رکھتا ہے لیکن جن اصولوں کی تعظیم کرتا ہے عمل میں ان کے مخالف چلتا ہے، اسے ضمیر کی آسودگی کیلئے کسی بڑی تسلی کی ضرورت پڑتی ہے لہٰذا ہمارے حکمرانوں نے معاشرہ کیلئے نمازوں اور حج کی رسوم پر مبنی نمائشی اسلام کو بڑھاوا دیا ہے ۔اس سے ہم اپنے ہر روز کے احساس ندامت کو دھو لیتے ہیں تاکہ ہر نئی صبح ہلکے پھلکے ہو کر پھر سے وہی کرنے نکلیں جو کل دھویا تھا۔
موجودہ صورتحال میں ملک میں معاشی، سیاسی، انتخابی اور اخلاقی کرپشن کا ناسور قومی سلامتی کیلئے خطرناک شکل اختیار کر گیا ہے۔ بے انتہا غربت، مہنگائی، بے روزگاری اور بد امنی کی جڑ موجودہ کرپٹ سسٹم ہے جس کی وجہ سے بے انتہا معدنیات، بے پناہ صلاحیتوں سے مالا مال جفا کش اور محنتی قوم کے باوجود غریب، غریب تر اور امیر، امیر ہو رہا ہے۔ آئین پاکستان میں عام شہری کو عزت کی روٹی، تعلیم، علاج اور رہائش دینے کی ضمانت دی گئی ہے مگر کرپٹ حکومتوں نے ان بنیادی حقوق سے شہریوں کو محروم رکھا ہوا ہے۔ پاکستان قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ افراط زر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ بے روزگاری، غربت، معاشی بد حالی روز افزوں بڑھتی جار ہی ہے جس کی وجہ سے مائیں اپنے شیر خواروں کو بیچنے پر مجبور ہیں۔ خودکشی کے واقعات کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ غرض حکومت کے ہر شعبہ اور زندگی کے ہر میدان میں کرپشن، بد عنوانی میں بے تحاشا اضافہ ہی ہوا ہے۔
معاشرے کی بہت سی برائیوں میں سب سے بڑی برائی بدعنوانی ہے،جو غربت اور ہر طرح کے مسائل پیدا کرتی ہے،اس کو تمام معاشرتی برائیوں کی ماں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔کیونکہ انسان کے وجود کا تعین اس کے سماجی وجود سے متعین ہوتا ہے،اور سماجی وجود اور مقام کو قائم رکھنے کیلئے ہر شہری کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اس کی بنیادی ضروریات پوری ہوں تاکہ وہ آگے بڑھ کر سماج کیلئے کچھ تخلیق کر سکے۔مگر کرپشن ایک ایسی سماجی برائی ہے،جو معاشرتی ترقی اور انسان کی روحانی و جسمانی نشو نما کو روک دیتی ہے،اور عوامی وسائل اور فنڈز سے ایک ہی کلاس مستفید ہو تی ہے،جس سے بڑے بڑے طبقات پیدا ہو تے ہیں،اور باقی مڈل کلاس،لوئر مڈل کلاس اور محروم طبقے میں وسیع خلیج حائل ہو جاتی ہے۔غیر طبقاتی سماج میں کرپشن بالکل ختم ہو جا تی ہے اور طبقات میں اگر وسیع خلیج قائم نہ ہو ،تو کرپشن نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے پھر جب طبقات میں توازن قائم نہ رہے اور معاشی ناہمواری بڑھتی جائے،تو اعلیٰ اقدار انصاف،مساوات احترام آدمیت اورانسان دوستی کو فروغ ملنا بند ہو جاتا ہے۔ عام فرد اپنے آپ کو زمین پر بے مقصد پھینکا ہوا انسان سمجھتا ہے غربت اور بے روزگاری میں اضافے سے چوری،قتل،ڈاکے دہشت گردی ،جارحانہ رویوں ا ور اخلاق سوز سر گرمیوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔کرپشن کی وجہ سے عام آدمی کی قوت خرید کم ہو جاتی ہے، صحت عامہ خراب ہو جاتی ہے۔امن و امان داؤ پر لگ جا تا ہے رشوت کی وجہ سے صحت مند مقابلہ کا رجحان ختم ہو جاتا ہے علم و اہلیت کا قتل ہوتا ہے ،نا اہل اور بد دیانت افراد چھوٹے اور بڑے عہدوں پر فائز ہو جاتے ہیں۔عام شہری اور دیگر طبقات میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت،حسد، اورکینہ کی فضا پیدا ہوتی ہے۔نفسیاتی طور پر کرپشن ایک مایوس معاشرے کو جنم دیتی ہے،جہاں کے عام شہری تو کیا ان کے حکمران بھی دوسری ترقی یافتہ اقوام کے سامنے بے تو قیر اور بے وقار ہوتے ہیں۔
کرپشن ایک ہمہ جہت سماجی برائی ہے،اس کی ان گنت شکلیں اور صورتیں ہیں،ہر برائی اور بیماری میں اس کا حصہ ہے۔اسی طرح اس کے معاشرے پر برے اثرات بھی ہیں۔مگر اس کی سب سے بد تر صورت سیاسی اکا برین اور والئی ریاست کا ملوث ہونا ہے،جو اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لئے عوامی فنڈز کا استعمال ذاتی اور سیاسی مقاصد کے لئے کرتے ہیں،پھر ان کی پیروی میں کرپشن کا یہ سلسلہ تمام اداروں تک پھیل جا تا ہے،اور اداروں کی کار کردگی متاثر ہوتی ہے اور عوام کا ان پر اعتماد اٹھ جا تا ہے۔سروس کی فراہمی میں تاخیر ، اہلکاروں کی نا اہلی اور کم سٹاف ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے،جس سے وہ کسی بھی بحرانی صورتحال کا مقابلہ نہیں کر سکتے،کیونکہ پبلک فنڈز میں خورد برد ہر طرح کے مسائل پیدا کرتا ہے،کرپشن کا یہ سلسلہ ہمیشہ بالائی حکومتی ڈھانچے سے شروع ہوتا ہے اور ا نچلے اداروں تک پھیل جاتا ہے،اگر ریاست کا بالاائی سیاسی ڈھانچہ درست ہو تو نچلی سطح پر کرپشن کے اکا دکا واقعات سزا و جزا کے عمل سے بہ آسانی ختم کئے جا سکتے ہیں۔
سماجی برائیوں کے سدباب کے لئے اکیلے فلسفے اور تجاویز کام نہیں آتیں،اس کے لئے سیاسی پلیٹ فارم کی ضرورت ہوتی ہے،جو ایکشن اور عوامی قوت کے ذریعے اداروں پر اصلاحات کا اطلاق کرتی ہے یا کرواتی ہے،اس کے بغیر معیاری تبدیلی واقع نہیں ہو سکتی۔پھر دیگر سماجی ،فلاحی اور مذہبی تنظیمیں بھی اس میں موثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔قانون پر عملدر آمد تو اس سلسلے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے،مگر مذہب و اخلاق اعلیٰ اقدار کو قائم رکھنے میں بھی موثر کردار ادا کرتے ہیں، جہاں فلسفہ و مذہب او ر روحانیات عوام کو برائی سے نفرت اور نیکی سے محبت کا درس دے کر روحانی تسکین حاصل کرنے کی تعلیم دیتے ہیں۔نیکی کی ترغیب اور کردار سازی سے فرد کی شخصیت کے اندر انسانی خدمت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔تعلیمی نظام کو سائنسی طرز فکر اور طرز عمل پر ڈھالنے سے سوال اور احتساب کی علمی فضا قائم ہوتی ہے،جہاں عقیدت اور جہالت کے بر عکس تجربے اور عقلیت کا علمی ماحول پیدا ہوتا ہے اور کرپشن و بد عنوانی کا خود بخود خاتمہ ہو جاتاہے۔ شکایات سیل قائم کرنے اورسو شل میڈیا ، عوامی اجتماعات اور انجمنوں کے ذ اتی پیجز پر اداروں کی کرپشن، اہلکاروں کی نا اہلی،کام چوری اور بد انتظامی کی خبریں اور رپورٹ شائع کرنے اور بہترین دیانتدار ا ملازمین کی بھی حسن کارکردگی بیان کرنے کا سلسلہ شروع ہو جائے تو اصلاح و احوال کی صورت پیدا ہو سکتی ہے۔اس کے علاوہ ٹیکس اور ریونیو کے نظام کو موثر بنانے اور بالخصوص پولیس اور ٹیکس ڈیپارٹمنٹ پر کڑی نظر رکھنے سے معاشرے میں بہت زیادہ محرومیوں کا ازالہ کیا جا سکتا ہے،اوردولت کی ری ڈسٹری بیوشن سے آبادی کے تناسب اور مسائل کو پیش نظر رکھ کر بد عنوانی کا سد باب کیا جا سکتا ہے۔
کرپشن کے ساتھ ساتھ عدل و انصاف پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ کسی بھی شعبہ زندگی کو دیکھ لیں، وہاں عدل نظر نہیں آئے گا۔ نظام عدل و انصاف کے کمزور ہونے سے ہی فرقہ بندی ہے، دہشت گردی ہے، کرپشن ہے، جس کی وجہ سے غربت و بے روزگاری ہے اور ملک میں توانائی بحران ہے۔ اگر احتساب کا نظام، انصاف کا نظام درست کام کر رہا ہو تو پاکستان میں یقین کریں کوئی بحران پیدا نہ ہو۔وہی ملک ترقی کر سکتا ہے جہاں عدل و انصاف بکتا نہ ہو، ذمہ داروں کو کڑی سزا دی جائے، ہمارے ہاں عدل کیلئے مثال تو حضرت عمر فاروق کی دی جاتی ہے لیکن صرف مثال دی جاتی عمل سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ عدل و انصاف کے ذریعے ہی لوگوں کے درمیان حقوق و فرائض کا تعین ہوتا ہے اور اپنے فرائض پورے نہ کرنے پر انہیں سزا دی جاتی ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ ہم نے کتاب اور میزان کو نازل کیا تاکہ لوگوں کے درمیان انصاف کیا جا سکے۔ اسلام کے نظام انصاف میں تاریخوں کے دینے کا کوئی وجود نہیں ہے فیصلہ فوری طور پر کیا جاتا تھا۔ اسلام میں انصاف سہل الحصول اور قاضی، جج، وکیل و تھانہ کچہری جانبدار نہ ہو اس میں رشوت اقرباء پروری نہ ہو۔ یہ رشوت کا ناسور بھی انصاف و عدل کے نظام کے کمزور ہونے کی وجہ سے ہی معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کرتا ہے۔ معاشرے کو ملک کو کامیابی سے چلانے کیلئے ضروری ہے کہ ملک میں قانون ہو اور اس قانون پر سختی سے عمل ہو۔ دنیا میں جتنے بھی عدالتی نظام ہیں ان میں کوئی نہ کوئی خامی تو ہے، مجرم کے بچ نکلنے کے راستے موجود ہیں لیکن جس نے اس مخلوق کو بنایا ہے اس کے خالق کے بنائے ہوئے نظام عدل میں تو کوئی خامی نہیں ہے۔ اسلامی نظام و عدل و امیر و غریب ، خاص و عام، شاہ گدا، قاضی اور بادشاہ، خلیفہ یا وزیراعظم و صدر کسی کو استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔ انصاف پر ہی دین و دنیا کی فلاح کا دارومدار ہے۔ بغیر عدل کے کسی بھی معاشرے کی ترقی، فلاح، کامیابی، ناممکن ہے۔ عدل یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کریں۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے احکامات کے مطابق زندگی گزاریں۔میں سمجھتا ہوں کہ وطن عزیز میں بد عنوانی کا زہر روز مرہ زندگی تک محدود نہیں رہا بلکہ قوم کی اجتماعی سوچ بد دیانتی کا شکار ہو چکی ہے۔ دوسرے الفاظ میں معاشرے کے ضمیر اور اجتماعی دانش میں کرپشن کا عنصر جگہ بنا چکا ہے جو انتہائی تشویشناک ہے۔ ایسے حالات میں جتنی بھی کوششیں کر لی جائیں بد عنوانی کو بد عنوانی کو اجتماعی سوچ میں انقلابی تبدیلی کے بغیر کبھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس مقصدکیلئے تبدیلی کا آغاز عام آدمی سے نہیں برسر اقتدار طبقات سے ہونا چاہیے۔ ہمارے حکمران جب تک قانون کی حاکمیت کو عملی طور پر تسلیم کرتے ہوئے بد عنوانی کے خلاف اقدامات کو اپنی ذات اور اپنے اقربا سے شروع نہیں کریں گے معاشرے کو اس ناسور سے نہیں بچایا جا سکتا۔ اس کے ساتھ علم و آگہی، تعلیمی میدان میں اسلامی نظریات کی بنیاد پر ترقی، جمہوری اقدار کے فروغ، ذرائع ابلاغ، مذہبی مفکرین کی رہنمائی کو بنیاد بنا کر سماجی شعور کی تطہیر کیلئے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔کرپشن کی روک تھام کیلئے کرپشن پر مبنی مضمون کو نصاب میں شامل کیا جائے۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے