Voice of Asia News

غلام حسن کی دوران حراست وفات جاری بھارتی جرائم میں ایک اور جرم کا اضافہ ہو گیا ‘یاسین ملک

سرینگر( وائس آف ایشیا ) مقبوضہ کشمیرمیںحریت رہنمائوں اور تنظیموں نے کالے قانون کے تحت جموںکی کوٹ بھلوال جیل میں نظربند ستر سالہ معرو ف آزادی پسند کارکن غلام حسن ملک المعروف نور خان کی گورنمنٹ میڈیکل کالج جموںمیں انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہارکیا ہے ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق غلام حسن ملک کی دوران حراست وفات پر دکھ اور افسوس کے اظہار کیلئے جموںوکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کی سربراہی میں سرینگر میں ایک تعزیتی اجلاس منعقد ہوا ۔تقریب سے محمد یاسین ملک نے خطاب کرتے ہوئے غلام حسن کی تحریک آزادی کشمیر کیلئے گرانقدر خدمات پر انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوںنے کہاکہ دوران حراست انکی وفات سے مقبوضہ علاقے میں جاری بھارتی جرائم میں ایک اور جرم کا اضافہ ہو گیا ہے ۔

انہوں نے کہاکہ جیل حکام نے انہیں بروقت علا ج معالجے کی سہولت فراہم کی ہوتی تو وہ اپنے اہل و عیال سے دور جموںکی کوٹ بھلوال جیل میں وفات نہ پاتے ۔ یاسین ملک نے مرحوم کی بلندی درجات اور سوگوار خاندان سے ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا ۔ حریت رہنمائوں بلال احمد صدیقی ، ظفر اکبربٹ اور جموںوکشمیر پیپلز لیگ کے وائس چیئرمین محمد یاسین عطائی نے اپنے الگ الگ بیانات میں غلام حسن ملک کے انتقال کو دوران حراست قتل قرار دیتے ہوئے کہا کہ قابض انتظامیہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کشمیری سیاسی نظربندوں کو دانستہ طورپر موت کے منہ میں دھکیل رہی ہے۔انہوں نے غلام حسن ملک کو تحریک آزادی کا ایک عظیم ہیرو قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوںنے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ مختلف جیلوں میں گزار تاہم ان کے پائیہ استقلال میں کبھی کوئی لغزش نہیں آئی ۔جموںوکشمیر نیشنل فرنٹ اور دختران ملت نے بھی اپنے بیانات میں غلام حسن ملک کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اٴْن کی بلندی درجات کیلئے دعا کی ہے۔واضح رہے کہ معمر آزادی پسند کارکن غلام حسن ملک المعروف نور خان منگل کو قابض انتظامیہ کی حراست میں وفات پاگئے تھے۔ ستر سالہ غلام حسن جموںکی کوٹ بھلوال جیل میں نظربند تھے ۔ اوڑی کے رہائشی غلام حسن کو رواں سال 22جنوری کو کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیاگیا تھا ۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے