Voice of Asia News

کشمیر کی مختلف جیلوں میں مقید کشمیر یوں کی حالت زارباعث تشویش ہے، حریت قائدین

سرینگر(وائس آف ایشیا)حریت قیادت سید علی گیلانی میر واعظ عمر فاروق ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے کورٹ بلوال جیل جموں میں محبوس آزدی پسند کارکن 44سالہ غلام حسن ملک عرف نورخان کے انتقال کو ایک انسانی المیہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعہ نے ایک بار پھر ہمارے ان خدشات کو تقویت بخشی ہے کہ جموں کشمیر اور بھارت کی مختلف ریاستوں کی جیلوں میں مقید کشمیری حریت پسند قیدیوں کی زندگیاں کس درجہ غیر محفوظ ہیں اور کس طرح جیلوں میں مقید ان قیدیوں کو جان بوجھ کر موت کے منہ میں دھکیلا جارہاہے مرحوم نورخان کی تحریک آزدی کے حوالے سے خدمات و قربانیوں اور اس صبر استقامت کو شاندر الفاظ میں خرچ عقیدت پیش کرتے ہوئے قائدین نے کہا کہ مرحوم نورخان کو بروقت طبی امداد کی عدم فراہمی اور جیل حکام کا انکی صحت کے بارے میں غیر ذمہ دارنہ رویہ انکی موت کا سبب بنا ہے قائدین نے حقوق انسانی کے عالمی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان جیلوں میں مقید کشمیری نظر بندوں کی حالت زدہ مشائدہ کرنے کیلئے اپنی ٹیمیں روانہ کریں اور بھارتی حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ ان قیدیوں کو جنیوا کنوشن کے تحت طبی اور دیگر سہولیات فراہم کرے

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے