Voice of Asia News

عمران خان مدینہ جیسی فلاحی ریاست بنا پائیں گے۔؟محمد قیصر چوہان

ایک ڈکٹیٹر جس نے 12 اکتوبر 1999 کے دن جمہوریت پر شب خون مار کر مارشل لاء لگا کر اقتدار پر قبضہ کر لیاتھا،2008ء میں جنرل پرویز مشرف کی رخصتی کے بعد سے جمہوریت کا سفر جاری ہے گو کہ اس راہ میں کئی نشیب و فراز آئے لیکن قافلہ جوں توں کرکے آگے بڑھتا رہا۔ تب سے یہ تیسرا عام انتخاب ہے جو 25 جولائی کو عمل میں آیا۔جس کے نتیجے کے مطابق قومی اسمبلی کی نشستوں پر پاکستان تحریک انصاف سر فہرست ہے اور عمران خان کے وزیراعظم بننے کے امکانات قوی ہیں۔چنانچہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ایک وزیر اعظم کی طرح قوم سے خطاب بھی فرمالیا۔ الفاظ کی حد تک تو یہ بڑا ’’مومنانہ‘‘ خطاب تھا جسے سراہا جارہاہے۔ خدا کرے کہ انہوں نے جو کچھ کہا ہے وہ اس پر قائم بھی رہیں، خاص طور پر اس بات پر کہ ’’ پاکستان کو مدینے جیسی فلاحی ریاست بناؤں گا ‘‘۔ خوش گمانی سے کام لیتے ہوئے ان کے اس عزم کی تحسین کی جانی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ قادر و قیوم ہے وہ کسی سے بھی اچھا کام لے سکتا ہے لیکن سیکولر عناصر اور بعض بیرونی طاقتوں کو یہ بات پسند نہیں آئے گی اور ایک تبصرہ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اگر وہ منتخب ہونے سے پہلے ایسی باتیں کرتے تو ان کے لیے مشکلات کھڑی ہوسکتی تھیں۔ امریکا جیسی طاقت کسی بھی مسلم ملک میں یہ گوارہ نہیں کرسکتی کہ کوئی اپنے ملک کو نہ صرف اسلامی شناخت دے بلکہ مدینہ منورہ جیسی ریاست بنانے کے عزم کا اظہار کرے۔ بارہا یہ ہواہے کہ کسی مسلم ملک میں مغربی جمہوریت کی اتباع کرتے ہوئے کوئی دین دار جماعت کامیاب ہوئی اور حکومت بنا لی تو اس کے خلاف فوجی بغاوت کروادی گئی۔ الجزائر سے مصر تک ایسی کئی وارداتیں ہوئی ہیں۔ تاہم عمران خان مغرب کیلئے ایک پسندیدہ چہرہ ہیں، اس لیے شاید ان کے ساتھ ایسا نہ ہو اور یہ انتظار کیا جائے کہ ان کے دعوے محض الفاظ ہیں یا وہ سچ مچ پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ عمران خان کا ماضی تو کچھ اور کہتا ہے لیکن کسی کی بھی قلب ماہیت اللہ کے اختیار میں ہے چنانچہ ان کیلئے دعا کی جانی چاہیے۔ وہ ایک عرصے سے تبدیلی لانے کے نعرے لگا رہے ہیں۔ اب جب کہ زمام اقتدار ان کے ہاتھ لگ گئی ہے تو اپنے نعرے کو عملی شکل دیں۔ لیکن انہوں نے انتخابات جینے کیلئے جو الیکٹ ایبلز جمع کرلیے ہیں کیا وہ بھی عمران خان کے عزائم میں ان کا ساتھ دیں گے۔۔ ؟ عمران خان کو سب سے مشکل چیلنج جو درپیش ہوگا وہ گرتی ہوئی معیشت کو سنبھالا دینا ہے۔ فوری طور پر تو انہوں نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں کہا ہے کہ سادگی اپنائیں گے، سرکاری اخراجات کم کریں گے، وزیر اعظم ہاؤس کو تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا یعنی اسے جامعہ یا کالج بنا دیا جائے گا اور اسی طرح گورنر ہاؤسز کو عوامی مقاصد کیلئے استعمال کیا جائے گا، ٹیکس چوری نہیں ہوگی اور سب سے پہلے احتساب خود ان کا ہوگا، پھر وزراء کی باری آئے گی۔ اُمید ہے کہ وہ سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک سے دو کروڑ روپے کی چائے پلانے کا حساب بھی لیں گے جن کی کارکردگی سے خوش ہو کر انہیں دوبارہ وزیر اعلیٰ بنایا جارہا ہے۔ گورنر ہاؤس لاہور کو تعلیمی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کا وعدہ میاں نواز شریف نے بھی کیا تھا مگر اس پر عمل نہیں ہوسکا۔ لیکن کیا صوبوں کے گورنر اس سے اتفاق کرلیں گے۔۔ ؟ سرکاری اخراجات پر قابو پالینا عمران خان کا بڑا کارنامہ ہوگا۔ سرکاری ادارے کرپشن کی فیکٹریاں بن چکے ہیں۔ اُمید ہے کہ عمران خان اسپیکر پختونخوا اسمبلی اسد قیصر سے ان گاڑیوں کا حساب بھی لیں گے جو ان کے قبضے میں ہیں۔ عمران خان نے اگر اپنے وعدے پورے کردیے تو یقیناًوہ تبدیلی لانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ورنہ تو ایسے وعدے ڈکٹیٹر کرتے رہے ہیں۔ عمران خان کو نیا پاکستان بنانے کا موقع ملا ہے جہاں قانون کی بالادستی ہوگی۔ خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔ ایک کام وہ ضرور کریں کہ اپنے پروٹوکول میں کمی لائیں اور عوام کے لیے راستے بند کرنے کی روایت ختم کریں۔ عمران خان نے اپنی کابینہ کے متوقع وزراء کا اشارہ بھی دے دیا ہے۔ شیخ رشیدکو ان کی وفاداری کے صلے میں وزارت ریلوے مل سکتی ہے جوجنرل پرویز مشرف نے ان کوعطا کی تھی مگر شیخ صاحب کسی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکے۔ اسد عمر کو وزارت خزانہ دینے کا فیصلہ اچھا ثابت ہوسکتا ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف نے حکومت سازی کیلئے دوسری جماعتوں سے رابطے شروع کردیے ہیں ا ور پہلا رابطہ ایم کیو ایم کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول سے ہوا ہے۔ تحریک انصاف نے کراچی سے غیر متوقع کامیابی حاصل کی ہے چنانچہ ممکن ہے کہ کابینہ میں کراچی سے بھی کسی کو لیا جائے۔ لیکن اگر ایم کیو ایم کو ساتھ ملانے کیلئے اسے وزارت دی گئی تو یہ تحریک انصاف کو ووٹ دینے والوں کی توہین ہوگی جنہوں نے ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے مقابلے میں عمران خان کو ترجیح دی۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی لوٹ مار کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ ایم کیو ایم میں توڑ پھوڑ کا پورا فائدہ پیپلز پارٹی کو پہنچا ہے۔ پنجاب میں ابھی تک الٹ پھیر جاری ہے۔ پنجاب میں کس کی حکومت بنتی ہے یہ بات بہت اہم ہے۔ لیکن اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ بیشتر سیاسی جماعتوں نے نتائج مسترد کردیے ہیں۔ متحدہ مجلس عمل کے صدر مولانا فضل الرحمن نے بھٹو کے خلاف پاکستان قومی اتحاد جیسی تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے جس کی کامیابی کو فوج نے اپنے حق میں استعمال کیا تھا۔ شہباز شریف نے دھاندلی کے ثبوت الیکشن کمیشن کو پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن اس بار دھاندلی اس خوبی سے کی گئی ہے کہ اس کا ثبوت حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔ عوام کو آزادی کے ساتھ ووٹ ڈالنے کا موقع ضرور فراہم کیا گیا لیکن ہیرا پھیری نتائج میں کی گئی ہے۔ انتخابی نتائج سے عدم اتفاق اور احتجاج پرانی روایت ہے اور ہارنے والے ہمیشہ نتائج کو مسترد کرتے رہے ہیں۔ اس بار بھی یہی ہوا ہے چنانچہ 8 بڑی سیاسی جماعتوں نے نتائج مسترد کردیے ہیں۔ پیپلزارٹی بھی گو مگو میں ہے کیونکہ اسے سندھ میں برتری حاصل ہوگئی ہے اور احتجاج کرنے پر یہ برتری خطرے میں پڑسکتی ہے۔ چشم دید گواہوں کے مطابق دھاندلی کے نئے نئے طریقے آزمائے گئے ہیں۔ کہیں پر پولنگ ایجنٹوں کو زبردستی باہر نکال دیا گیا اور کہیں فارم 45 نہیں دیے گئے۔ ووٹوں کی گنتی میں بھی دھاندلی کی گئی تاہم الیکشن کمیشن نے اعتراضات مسترد کردیے۔ یہ بھی ہوا ہے کہ گنتی کے دوران میں عملے نے پولنگ ایجنٹوں کو بیلٹ پیپر دکھانے سے انکار کردیا اور بس انتخابی نشان کا اعلان کردیا، ہر طرف بلے بلے ہوتی رہی۔ عمران خان نے بھی ضابطے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے میڈیا کے سامنے بلے پر مہر لگائی ۔
عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ جن حلقوں میں دھاندلی ہونے کا الزام ہے وہ تمام حلقے کھولنے کو تیار ہیں۔ 2013ء کے انتخابات میں عمران خان نے بھی دھاندگی کا الزام لگایا تھا اور چار حلقے کھولنے کا مطالبہ کیا تھا۔ نواز شریف کی حکومت نے یہ حلقے کھولنے میں طویل عرصہ لگا دیا۔ اس کے برعکس عمران خان ہر مشکوک حلقہ کھولنے پر تیار ہیں۔ ویسے تو عمران خان نے 35پنکچر لگانے کا شور مچایا تھا مگر اب تو تمام عمل ہی مشکوک ہوگیا ہے جس پر 21ارب روپے خرچ ہوئے ہیں۔ مطالبہ تو نئے انتخابات کا ہے لیکن یہ ممکن نہیں ہوگا۔
پچیس جولائی کو ہونے والے الیکشن میں کئی بڑے بڑے برج الٹ گئے اور کراچی کے انتخابی نتائج حیرت انگیز رہے۔ کراچی اور حیدرآباد کئی عشروں کے بعد ایم کیو ایم کے شکنجے سے آزاد ہوئے ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو متحدہ قومی موومنٹ کا متحد نہ رہنا ہے دوسری بڑی وجہ الطاف مافیا کا عدم وجود ہے۔ الطاف حسین نے بندوق کی نوک پر اپنے گروہ کو متحد رہنے پر مجبور کر رکھا تھا۔ یہ قلادہ اترتے ہی ایم کیو ایم بکھر گئی اور نئی قیادت نالائق ثابت ہوئی۔ اس بار اسے جیتنے کے لیے مخصوص ہتھکنڈے آزمانے کا موقع بھی نہیں مل سکا۔ ایم کیو ایم کو طویل عرصے تک یہ موقع میسر رہا کہ وہ دلوں کو جیتنے کی کوشش کرتی لیکن عوام کو خوف کے حصار میں بند رکھا گیا۔ الطاف حسین کے سب سے بڑے وکیل عامر لیاقت نے بروقت درست اندازہ لگاکر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی جو اس سے پہلے عمران خان کی مخالفت میں آگے آگے تھے۔ لیکن انتخابی سیاست میں یہ تو ہوتا ہی ہے، راولپنڈی کے شیخ رشید کے بارے میں عمران خان نے کہا تھا کہ میں تو اس کو اپنا چپراسی بھی نہ رکھوں لیکن شیخ رشید عمران خان کی خاطر بیگانی شادی میں ڈھول بجاتے رہے۔ ایک اور حیرت انگیز نتیجہ لیاری کا ہے جو پیپلزپارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا رہا ہے اسی لیے نوخیز بلاول زرداری کو وہاں سے کھڑا کیا گیا لیکن ان کی پہلی ریلی ہی پر پتھراؤ ہوگیا اور مٹکے برسائے گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بلاول وہاں سے ہار گئے، چارسدہ سے لڑواکر بلاول کو پریشانی میں ڈالا۔ لاڑکانہ سے بلاول کی کامیابی اہم نہیں۔ ملیر بھی پیپلزپارٹی کا گڑھ سمجھاجاتا رہا ہے لیکن یہاں بھی پیپلزپارٹی پیچھے رہ گئی۔ مجموعی طور پر پاکستان پیپلزپارٹی تیسرے نمبر پر رہی جب کہ آصف زرداری کا دعویٰ تھا کہ مرکز اور چاروں صوبوں میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہوگی۔ وہ دوسرے نمبر پر بھی نہیں آسکی۔ پنجاب میں صوبائی نشستوں پر مسلم لیگ ن آگے ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ 2013ء کی طرح مرکز میں کسی اور کی حکومت ہوگی اور پنجاب و سندھ میں کسی اور کی اور اس طرح مرکز اور صوبوں میں محاذ آرائی کی فضا گرم رہے گی۔ عمران خان مرکز میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ امید کی جانی چاہیے کہ عمران خان وزیراعظم کا اہم منصب سنبھالنے کے بعد سنبھل جائیں گے اور یوٹرن لینے کی شہرت سے پیچھا چھڑالیں گے وہ اور ان کی پارٹی مرکز میں پہلی مرتبہ اقتدار میں آئے گی۔ ابھی تک عمران خان نے خارجہ اور اقتصادی پالیسی کے بارے میں سوائے دعوؤں کے کوئی ٹھوس منشور پیش نہیں کیا ہے البتہ خیبر پختونخوا میں پودے لگانے اور درخت اگانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔عمران خان نے پاکستان کو کرپشن سے نجات دلانے کا وعدہ کر رکھا ہے۔اللہ کرے کہ ملک اس عظیم لعنت سے چھٹکارا پالے ۔عمران خان کی 22سال کی جدوجہد کامیاب ہوگئی ہے۔ اب انہیں چاہیے کہ ٹیریان وائٹ سمیت اپنی اولاد کو پاکستان بلا لیں۔ جمائما گولڈ اسمتھ کی نگرانی میں پلنے والے عمران خان کے بیٹوں کو بھی پاکستان کو مدینہ جیسی فلاحی ریاست بنانے کے عمل میں شامل ہونا چاہیے ورنہ مغرب کا رنگ اتنا پختہ ہو جائے گا کہ مدنی رنگ ہرگز نہیں چڑھے گا۔
پاکستان کی سیاست میں فوج کی مداخلت ماضی میں عام رہی ہے تاہم فوج کے موجودہ سربراہ جنرل قمر جاویدباجوہ یقین دلاتے رہے ہیں کہ فوج غیر جانبدار اور جمہوریت کی محافظ ہے۔اللہ کرے ایسا ہی ہو۔ اللہ تعالیٰ ملک و قوم پر رحم کرے اور حکمرانوں کو راہ راست پر چلنے کی توفیق دے۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے