Voice of Asia News

عمران خان ایک مخلص وہمدرد انسان اور گوہر نایاب لیڈر :محمد جمیل بھٹی

لیڈر وہ ہوتا ہے جو متحرک کرتا ہے، ایسے فیصلے کرتا ہے جو اس کی ٹیم پر مثبت اثرات ڈالتے ہیں اور جو کہ مختلف النوع افراد کی ایک ٹیم کو ایک مشترکہ مقصد کیلئے کام کرنے پر آمادہ کر لیتا ہے۔لیڈر کی بصیرت، سنار کی سی نظر، عمدہ ٹیم جمع کرنے اور ہر ایک کو اس کی صلاحیتوں کے مطابق ذمہ داریاں سونپنے کی اہلیت، سمجھوتے کرنے کی قابلیت اور لوگوں کی توقعات پر پورا اترنے کا عزم ہی کسی انسان کو لیڈر بناتا ہے۔ایک لیڈر کی حیثیت سے آپ کی عوامی اور نجی زندگی کو قابل تقلید ہونا چاہئے،لیڈر خود کو ایک مثال بناتا ہے۔قیادت کا ایک اور اہم وصف بصیرت یعنی ویژن ہوتا ہے۔ یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ بصیرت رکھے بغیر کسی بھی ٹیم یا جماعت کا لیڈر بننا ممکن نہیں۔ اور بصیرت کا براہِ راست تعلق مثبت سوچ کے ساتھ ہوتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بصیرت میں ہم اپنی مثبت سوچ اور بات کو اگلے درجے تک لے جاتے ہیں۔ صاحب بصیرت لیڈر اکثر اپنی تنظیم یا میدان میں جدت پیدا کرنے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔فیصلہ کرنے کی اہلیت، خصوصاً انتہائی دباؤ کے عالم میں فیصلہ کرنا ایک لیڈر کا نہایت قابل قدر وصف ہوتا ہے۔ جب کوئی مشکل فیصلہ درپیش ہو تو اس ہدایت کو ذہن میں رکھئے جو آپ کو شروع میں دی گئی ہے۔ آپ کے پاس کام کے بارے میں مکمل حقائق ہونے چاہئیں، تبھی آپ صحیح اور آسان فیصلہ کر پائیں گے۔ لیڈر اس لئے منتخب کئے جاتے ہیں تاکہ وہ ایک ٹیم، ایک تنظیم یا ایک جماعت کی قیادت کریں۔ اکثر آپ کو ایسی صورتِ حال کا سامنا ہوگا جہاں آپ کے ساتھی آپ کے ہمراہ نہ ہوں گے، مثال کے طور پر، جماعتی سطح پر کوئی اعلیٰ سطحی میٹنگ۔ یہاں آپ کا شخصی تحکم ان کارکنوں کا نمائندہ اور آئینہ دار ہونا چاہئے جنہوں نے آپ کی ذات پر اعتماد کیا ہے، لیڈر حقیقت پسندی کا دامن نہیں چھوڑتا۔لیڈر شپ کی بنیادی خصوصیات میں ،مثبت سوچ،مثبت عمل،بصیرت،اپنے آپ پر اعتماد،لیڈرشپ کاانداز،علم،انصاف پسندی،راست بازی،جانچ اور پرکھ،وفاداری،بے غرضی،ہمت و حوصلہ،بھروسہ مندی،پہل کاری،قوتِ فیصلہ،برداشت،جوش و ولولہ،طرزِ عمل سمیت دیگر عوامل شامل ہوتے ہیں۔اگر پاکستان کی موجودہ سیاست میں دیکھا جائے تو یہ خصوصیات عمران خان میں پائی جاتی ہیں۔
قائد اعظم محمد علی جنا ح اور عمران خان کے درمیان جو سیاسی مماثلت پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ دونوں کی ایمانداری کے حوالے سے دشمن بھی انگلی نہیں اٹھاسکے۔آج تک نہ قائداعظم کی ایمانداری پرکوئی الزام عائد ہوا اور نہ ہی عمران خان پرکوئی الزام عائد ہواہے۔ قائداعظم اور عمران خان میں سیاسی رویوں کے حوالے سے جو دوسری بڑی مماثلت ہے وہ یہ کہ دونوں صاف گو انسان ،قائداعظم اس بات کا خیال نہیں کرتے تھے کہ میرا یہ سچ ہے تودوسرے کو برا لگے گا یا اچھا لگے بلکہ وہ اس کے منہ پرکہہ دیتے تھے۔عمران خان بھی اسی لیے دوسروں کوبرا لگتے ہیں۔تیسری مماثلت یہ ہے کہ دونوں کی شخصیت طلسماتی ہے۔قائداعظم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ قائداعظم کودیکھنے کیلئے ہی لاکھوں لوگ جمع ہوجاتے تھے۔یہی حال عمران خان کا ہے کہ انہیں بھی کرکٹ سے لیکرآج تک ہیروکادرجہ حاصل ہے۔اسی طرح دونوں میں ایک یہ مماثلت بھی ہے کہ دونوں سفارش کو نہ پسند کرتے ہیں۔
اللہ نے انسان کے ہاتھ میں صرف نیت اور کوشش دی ہے، کامیابی و ناکامی کا فیصلہ وہ کرتا ہے، عمران خان نے اپنی زندگی میں آنے والے ہر چیلنج کو قبول کیا اوراللہ نے اس کو ہمیشہ سرخرو کیا۔ قدرت بہت کم لوگوں پر اس طرح اپنی فیاضی نچھاور کرتی ہے۔ عمران خان ایک کھاتے پیتے گھرانے کا چشم وچراغ ہے۔ ایچیسن کالج اور آکسفورڈ یونیورسٹی کا تعلیم یافتہ، شکل وصورت اور وجاہت میں قدرت کی صناعی کا شاہکار اور سب سے بڑھ کر اپنے شعبے میں بے انتہا کامیاب۔ صورت، دولت، شہرت، عزت کیا نہیں تھا جو اسے ملا اور خوب ملا۔ اس پر وہ کبھی اتراتا نہیں تھا لیکن وہ شرمیلا اور کم گو تھا جس وجی سے لوگ اس کو مغرور تصور کرتے تھے۔یہ ساری صفات شاید اسے ایک مشہور پلے بوائے اور دل پھینک سوشیلائٹ میں تبدیل کر دیتیں۔ لیکن قدرت نے اس کے لئے کچھ اور ہی سوچ رکھا تھا۔ وہ شاید یونہی فتوحات سمیٹتا اور شہرت کماتا رہتا اور اسے زندگی میں کسی کمی کا احساس نہ ہوتا کہ تقدیر نے اسے اپنی زندگی کے پہلے بڑے دکھ سے روشناس کرایا۔ اس کی ماں کینسر کی موذی بیماری کا شکار ہوکر اس دنیا سے چل بسیں۔ اور یہاں سے ایک نئے عمران خان کا جنم ہوا۔ وہ سوچنے لگا کہ دنیا کی ہر نعمت میسر ہونے کے باوجود میری ماں کے علاج کیلئے اس ملک میں۔ کچھ نہیں تھا۔ تو وہ جن کے پاس کچھ نہیں ہے وہ کس قدر بے بس ہوتے ہوں گے۔ اور اس طرح وہی سوچتے ہیں جن کے دل سونے کے ہوتے ہیں، جنھیں قدرت کچھ خاص کاموں کے لئے چن لیتی ہے۔ اس نے فیصلہ کرلیا کہ میرے ملک کی دوسری مائیں اور کینسر کے مریض اس بے کسی اور بے بسی کا شکار نہیں ہوں گے۔ اس نے کینسر کے علاج کیلئے ایک مثالی ہسپتال بنانے کا فیصلہ کرلیا۔ اس کا دل و دماغ اب صرف ایک ہی بات سوچتا کہ یہ ہسپتال کیسے تعمیرہو۔نیت صاف ہو تو منزل آسان ہوتی ہے اور جو کمر ہمت باندھ لیتے ہیں ان کیلئے راستے خود بخود کھلتے لے جاتے ہیں۔اس کا خلوص، اپنے مقصد سے لگن روز روشن کی طرح واضح تھانہ صرف حکومت وقت، قوم، ساتھی کھلاڑیوں نے بلکہ دنیا بھر کے لوگوں نے اس کا ساتھ دیا کیونکہ انہیں اس کی لگن اور دیانت کا یقین تھا۔اسے کسی بھی میچ میں کوئی انعام ملتا وہ اسے ہسپتال کے فنڈ میں ڈال دیتا۔دنیا بھر میں کانسرٹ، اسپیشل ڈنر، ثقافتی شوز، غرضیکہ ہر طریقہ اپنایا جس سے اس کام کیلئے پیسہ مل سکے۔ لوگوں کے سامنے زکوۃ، خیرات اور عطیات کیلئے ہاتھ پھیلائے اس کے ساتھی کھلاڑیوں، فنکاروں اور سماجی شخصیات نے اس کا بھر پور ساتھ دیا۔ کبھی نصرت فتح علی اس کے ساتھ یوروپ اور امریکہ کا دورہ کرتے ،کبھی دلیپ کمار اس کیلئے پاکستان آتے، کبھی ملکہ ترنم نورجہاں اور بھارتی فنکار مل کر اس کیلئے شوز کرتے تو کبھی لندن میں امیتابھ بچن لوگوں سے مدد کی اپیل کرتے اور یہ سب اس کی سحرانگیز شخصیت کا کرشمہ تھااب اس کے دل و دماغ پر کوئی چیز تھی تو وہ یہ ہسپتال تھا۔ اس دوران آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں کرکٹ کے عالمی مقابلے کا میلہ سجا۔ عمران ایک اوسط درجے کی ٹیم لے کر میدان میں اترا۔ اس کا سب سے بڑا اثاثہ یعنی وسیم اور وقار کی جوڑی نامکمل تھی۔ وقار زخمی تھا، اسی طرح عامر سہیل اور سعید انور کی کامیاب جوڑی بھی سعید انور کی غیر موجودگی کی وجہ سے نامکمل تھی۔ اس کی ٹیم کی ریڑھ کی ہڈی، جاوید میانداد عالمی کپ میں شامل ہونے والا آخری کھلاڑی تھا جو ایک زخمی کمر لئے ہوئے عمران کے شانہ بشانہ لڑ رہا تھا اور خود عمران درد رفع کرنے کے انجیکشن لے رہا تھا۔ ابتدا ہی سے کئی دھچکوں کا سامنا کرنے کے باوجود ٹیم فائنل میں پہنچ گئی۔ نیوزی لینڈ جس نے سیمی فائنل میں ہم سے شکست کھائی تھی اس کے کپتان مارٹن کرو نے کہا کہ عمران کرکٹ نہیں کھیل رہا، ایک مقصد کیلئے جہاد کررہا ہے اور اسے اب کوئی نہیں روک سکتا۔ اور آخری مقابلے میں جس طرح عمران، جاوید کے ساتھ بیٹنگ کررہا تھا تو یوں لگتا تھا کہ وہ اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اللہ نے اس کے جذبے کو سرخرو کیا۔ تمام ٹیم جشن منا رہی تھی۔ آنے والے دنوں کے خواب دیکھ رہی تھی جہاں انعام واکرام ان کے منتظر تھے۔ وہ اپنے گھر بنتے دیکھ رہے تھے، کہ عمران فتح کا انعام، ورلڈ کپ لینے اسٹیج پر پہنچا۔ یہ فتح پوری ٹیم کی جیت تھی۔ اس میں وسیم اکرم، انضمام، عامر سہیل، اعجاز احمد، عاقب جاوید، مشتاق احمد اور دوسروں نے بھی برابر کا حصہ ڈالا تھا۔ کپتان خان کے دل وامان پر لیکن صرف اور صرف اس کا اسپتال تھا۔ فتح کی تقریر میں اس نے اپنی ٹیم کے ایک بھی کھلاڑی کا ذکر نہیں کیا. اس نے اسپتال کے علاوہ کوئی بات ہی.نہیں کی. یہاں سے اس کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ابھر کر سامنے ویا کہاس کا ذہن جب ایک چیز کے بارے میں سوچتا ہے توآس پاس کی ساری کھڑکیاں بند کردیتاہے. اس ریل کی.مانند جو صرف ایک ہی پٹڑی پر چلتی ہے ۔ورلڈ کپ 1992 اس کے سفر کی ابتدا تھی،اس نے کھیل کو خیرباد کہا اور تن من سے اپنے ہسپتال کے مشن میں لگ گیا اور آخر ایک دن اس نے اپنے خواب کی تعبیر پا ہی لی ۔یہاں وہ زندگی کے ایک اور رخ سے آشنا ہوا۔مختصراًیہ کہ عمران خان نے 25 اپریل 1996ء کو تحریک انصاف کی بنیاد رکھ کے باقاعدہ سیاست میں قدم رکھا اور کرپٹ سیاستدانوں کے خلاف طبل جنگ بجا دیا، اب خان صاحب کی سیاسی زندگی کے ابتدائی دن بلکل اچھے نہیں تھے لوگ طرح طرح کی باتیں کرتے جملے کستے طعنہ زنی کرتے لیکن پتہ نہیں وہ کس طبیعت کا مالک تھا ڈٹا اور دن پھرتے گئے اور وہی لوگ جو اس پہ جملے کستے تھے آج اسی کی قدم بوسی کرتے نظر آتے ہیں اور کئی اس کی ٹکر میں ہمیشہ کے لیے پاکستانی سیاست کا قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔عمران خان پاکستان اور پاکستانیوں کیلئے کام وہ وہ کر چکا ہے جو لوگوں سے چالیس 40 سال حکومت کرنے کے بعد بھی نہیں ہو سکے ۔پاکستان اور پاکستانیوں کو ہمیشہ خوشیاں دینے والا یہ شخص اب تک، انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ کے 2 کینسر ہسپتال بنا چکا ہے، جبکہ اسی طرز کے دو اور ہسپتال بن رہے ہیں۔مزید برآں اس نے نمل کالج بنایا جو کہ برطانوی یونیورسٹی بریڈفورڈ سے الحاق شدہ ہے۔ اس کے طالب علم کو پاکستان بیٹھے انگلینڈ کی ڈگری یہاں ملتی ہے، فرق واضح ہے۔پاکستان پر برسوں حکمرانی کرنے والوں کو کھانسی بھی ہو تو وہ امریکہ، برطانیہ میں چیک اپ کروانے کیلئے یہاں سے بھاگ جاتے ہیں کیوں ؟۔ کیونکہ وہ پاکستان میں آج تک ایک بھی ایسا ہسپتال نہیں بنا سکے جس سے عوام کو چھوڑیں وہ اپنا ہی علاج کروا سکیں، پاکستان پر 71 برس تک حکمران کرنے والوں نے ملک کے ادارے مضبوط کرنے کی بجائے "مال بناؤ” مہم پہ عمل پیرا رہے اور غریب کا اور عام پاکستانی کا کوئی حال نہیں ہے۔پچیس جولائی 2018 کو ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی سے مایوس قوم کوعمران خان کی صورت میں ایک اُمید کی کرن نظر آئی ہے۔71 برس کی طویل ظلم اور تاریکی کی رات ڈھل چکی ہے اسی لئے اب وقت آگیا ہے کہ ہر شخص کپتان کے ہاتھ مضبوط کرے ،میرے عزیز ہموطنوں یاد رکھو عمران خان ہی وہ واحد لیڈر ہے جو پاکستان کو حقیقی ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن کرسکتا ہے۔
editorno1@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے