Voice of Asia News

مقناطیسی شخصیت ,عمران خان کی زندگی اور کامیابیوں پر ایک نظر:محمد جہانزیب منظور

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں کی ایک تہائی عوام غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہی ہے اس وقت ملک کی معاشرتی حالت بہت ہی بری ہے اپنی تخلیق کی سات دہائیاں گزر جانے کے باوجود یہ ملک اب تک دنیا میں اپنی شناخت ڈھونڈ رہا ہے آج تک مختلف مکاتب فکر کے درمیان یہ جنگ چل رہی ہے کہ پاکستان کو کس قسم کی ریاست ہونا چاہیے ایک بین الاقوامی دہشتگردی کا مرکز یا ایک معتدل مسلم ریاست۔ان حالات میں عمران خان نے نئے پاکستان کا نعرہ لگایا۔عمران خان کی مقناطیسی شخصیت اور لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی صلاحیت کے باوجود انہیں ملک کی روایتی، مستحکم اور طاقتور سیاسی جماعتوں کو مات دینے میں بائیس سال لگے۔پاکستان میں ہر کوئی قومیت، صوبائیت کی بات کرتا نظر آتا ہے۔ قائداعظم کا پاکستان اورہم سب پاکستانی ہیں ایسا بولنے والا دور دور تک نظر نہیں آ رہا تھا مگر عمران خان آئے توانہوں نے پنجابی، سندھی، بلوچی، پختون، سرائیکی، مہاجر ،قبائلی کی بجائے ایک قوم کا درس دیا۔ عمران خان پاکستان کی عوام کو صوبائیت اور قومیت سے نکال کر ایک قوم بنانا چاہتاہے۔
عمران احمد خان نیازی 5اکتوبر 1952ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم ایچی سن سے حاصل کی اور ہائی تعلیم( Worcestershire )اور اعلیٰ تعلیم آکسفورڈ سے مکمل کی عمران خان کو فلاسفی، سیاسیات، اور معاشعیات، میں مہارت حاصل ہے۔ان کو کرکٹ کا شوق شروع سے ہی تھا۔ جب وہ 13سال کے تھے انہوں نے( Worcestershire)کی طرف سے پہلا میچ کھیلا۔ کرکٹ کا باقاعدہ آغاز 18برس کی عمر میں 1971ء کو انگلینڈ کے خلاف برمنگھم سے کیا۔ تعلیم مکمل ہونے کے بعد عمران خان نے باقاعدہ طور پر قومی ٹیم میں شمولیت اختیار کی جو کہ 1992ء تک جاری رہی ان کی کپتانی بہت مشہور تھی یہی وجہ ہے کہ انگلینڈ کو ان کی سر زمین پر 28سال بعد ٹیسٹ میچ میں شکست ہوئی۔ عمران خان ایک نڈر اور بہادر کپتان کیساتھ ایک طلسماتی شخصیت کے حامل انسان بھی ہیں۔فلاحی کاموں میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ ان کی متعدد خدمات ہیں جنکے ذریعے وہ غریب لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ خاص کر شوکت خانم کا قیام قابل ذکر ہیں۔ شوکت خانم کی بنیاد 1994میں لاہور میں رکھی گئی تاہم اس کے فنڈز اکٹھا کرنے کی مہم 1991سے شروع کی ان کی محنت کا نتیجہ تھا کہ بہت کم عرصے میں انہوں نے 25ہزار ڈالرز اکھٹا کئے اور یوں ایک ناممکن چیز کو ممکن کر دیا۔27اپریل 2008ڈسٹرکٹ میانوالی میں ایک کالج کا قیام عمل میں لایا گیا جو کہ میانوالی ڈویلمپنٹ ٹرسٹ ( MDT) کے ذریعے تعمیر کیا گیا۔ ان کا ایک اور مشن جس کے ذریعے غریبوں کے گھروں تک بجلی پہنچانے کیلئے ملین لائیو لائٹ شروع کیا جوکہ عمران خان فاؤنڈیشن اور بخش فاؤنڈیشن نے ملکر شروع کیا ہے۔ اس کے ذریعے دور افتادہ اور پسماندہ گاؤں میں بجلی فراہم کرتاہے۔
کرکٹ کے میدانوں سے لیکر سیاسی میدانوں تک عمران خان کو کبھی ہارتے نہیں دیکھا گیا۔ وہ ہار کامیابی سے سیکھے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جس پارٹی کو ایک سیٹ بڑی مشکل سے ملتی تھی آج وہ پاکستان کی دوسری بڑی سیاسی جماعت بن گئی ہے۔ اور امید بھی یہ ہی لگائی جا رہی ہے کہ 2018ء میں پاکستان تحریک انصاف اپنی حکومت بنانے جارہی ہے۔ 1996ء میں سیاست میں جب قدم رکھا تو عمران خان کو 1997ء میں ہونے والے الیکشن میں شکست سے دوچار ہوئی۔ انہوں نے NA۔53میانوالی اور NA۔94لاہور سے حصہ لیا تھا۔ عمران کے بقول جنرل پرویز مشرف نے انہیں وزیر اعظم کا عہدہ دینے کا بھی کہا تھا۔ مگر انہوں نے اس آفر کو ٹھکرا دیا۔2008کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نے احتجاجاً شرکت نہیں کی تھی ان کے بقول جب تک اصلاحات نہیں لائیں گے وہ انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔ء 2013 کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔لاہور میں مینار پاکستان جلسے نے سیاسی ایوانوں میں ہل چل مچادی اور یوں تحریک انصاف نے تبدیلی کا نعرہ بلند کیا۔ اس نعرے کو خاص کر نوجوانوں اور تعلیم یافتہ طبقے نے بہت سراہا۔ 2013ء میں خاطر خواہ کامیابی نہ ملنے کی وجہ انہوں نے دھاندلی کو قرار دیا اور یوں 14اگست 2014کو لاہور سے اسلام آباد تک احتجاجی قافلہ روانہ ہوا جو کہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے طویل دورنیہ کا احتجاج تھا۔ عمران خان صاحب نے اپنی بات منوا کر رکھ دی اور کچھ حلقوں میں دوبارہ انتخاب بھی ہوئے۔پاکستان مسلم لیگ (ن )کی حکومت کیلئے عمران خان سب سے بڑا درد سر رہے۔ پانامہ کا ایشو سامنے آیاتو تحریک انصاف نے(ن) لیگ کو آڑے ہاتھوں لیا۔ عدالتوں میں کیس کرنے کے بعد بالاآخر پاکستان کے تیسری بار منتخب وزیراعظم نواز شریف کواپنا دورانیہ مکمل کئے بغیر گھر بھیج دیا۔
عمران خان کی اگر نجی زندگی پہ نظر دوڑائیں تو اس میں بھی کپتان نے ہار تسلیم نہیں کی۔ خان صاحب نے پہلی شادی برطانیہ کی امیر زادی جمائمہ گولڈ سمتھ سے 1995میں ذاتی مسائل کی وجہ سے یہ رشتہ زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا اور یوں نو برس کے بعد دونوں نے علیحدگی اختیار کی ان کے دو بیٹے ہوئے جو برطانیہ میں زیر تعلیم ہیں۔ عمران خان نے دوسری شادی جنوری 2015ء میں ایک ٹی وی اینکر ریحام خان سے کی۔22اکتوبر کو دونوں نے علیحدگی اختیار کی جو کہ بہت متنازعہ رہی۔ حال ہی میں عمران خان صاحب نے ایک روحانی شخصیت بشریٰ مانیکا سے تیسری شادی کی ہے جسے میڈیا اور ان کے سیاسی مخالفین بڑی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کی محنت لگن اور مسلسل جہدو جہد کی وجہ سے انہیں متعدد ایواڑز سے نوازا گیا۔ 1992ء کا ورلڈ کپ جیتنے پرانھیں دوسرا بڑا سول ایوارڈ ہلال امتیاز سے نوازا گیا۔1983 ء میں انہی پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔کرکٹ کی دنیا میں بھی انہیں متعد ایواڈز دئیے گئے جن میں سرفہرست انٹرنیشنل کرکٹ ہال آف فیم اور ایشین سپورٹس ایوارڈ شامل ہیں۔ عمران خان نے متعدد کتابیں بھی لکھی ہیں جن میں warrior race,Imran khan cricket skills, Pakistan A Personal History کافی مشہور ہے۔
عمران خان پر کسی قسم کی مالی کرپشن کے ارتکاب کا کوئی الزام ابھی تک عائد نہیں ہوسکا۔ پاکستان جیسے ملک میں ، جہاں خواص اور اثر رسوخ رکھنے والوں کو تو چھوڑیں ، اب تو عام آدمی بھی کسی نہ کسی نوعیت کی مالی جرم میں مبتلا نظرآتا ہے، وہاں اس طرح کی خصوصیت رکھنے والے انسان کو ایسے ہی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان کی اس خصوصیت کی وجہ سے وہ آج ملک کے عوام کی نظر میں ممتاز مقام رکھتے ہیں، خاص طو ر پر نوجوانوں کی نگاہ میں تو وہ ان حالات میں پاکستان کیلئے رحمت کا فرشتہ ہیں۔پاکستان کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھے جانے والا نام عمران خان کا ہے عمران خان ایک جہد مسلسل کا نام ہے ایک وہ شخصیت جس نے ملک کیلئے ہمیشہ کچھ قابل تحسین کام کیا اور کر رہا ہے یہ اک ایسی شخصیت ہے جس نے اپنی نو عمری سے ہی ملک کی خدمت شروع کر دی تھی اپنی جوانی کرکٹ میں گزاری تو وہاں بھی پاکستان کا نام روشن کیا اور دنیائے کرکٹ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں عمران خان کا نام سر فہرست ھے کرکٹ کے ساتھ ساتھ عمران خان نے فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور پاکستان کو شوکت خانم جیسا تخفہ دیا جو پاکستان کی حکومت آج تک نہ کر سکی وہ عمران خان نے کر دیکھایا اور آج یہ ہسپتال ماشاء اللہ ملک کے دوسرے شہروں تک پھیل رہا ہے اور قوم کی خدمت کر رہا ہے نمل کالج جیسے تعلیمی ادارے سے نوجوان بین الاقوامی لیول کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں وہ عمران خان کا ایک لازوال تحفہ ہے ۔عمران خان اک بڑی سوچ رکھنے والا انسان ہے جب اس نے ملک کے سیاسی نظام کی طرف دیکھا تو اس کو بدلنے کیلئے سیاست میں قدم رکھا سیاست کے میدان میں بھی عمران خان نے اک لمبے عرصے تک محنت کی عمران خان نے جب جاگیردارانہ اور سرمایہ درانہ نظام کے خلاف آواز اٹھائی تو اسے پاگل خان تک کہا گیا آخر کار وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام اس حقیقت کو تسلیم کرنے لگی کہ عمران خان حق پر ہے جب عمران خان کو عوام کی پزیرائی حاصل ہونے لگی تو اسکے سیاسی مخالفین یکجا ہونے لگے اور یک زبان ہو کر اسکی مخالفت پر اتر آئے اور اکثریت میں عمران خان کی ذاتی زندگی کو نشانہ بنانے لگے ۔
عمران خان کی سیاست میں کامیابی نے دراصل پاکستانی سیاست کو بدلا ہے عمران کی سیاست نے لوگوں میں شعور دیا عوام کو سوچنے پر مجبور کیا کہ وہ روائیتی سیاست کی بجاے مسائل کو سمجھیں اور ان لوگوں کو منتحب کریں جو مسائل حل کرنے کے اھل ہوں ? عمران کے حامی اور دشمن بھی اس بات کی گواہی دیتے ہیں کی عمران کی ایمانداری نیت اور حب الوطنی میں کوئی شک نہیں کیا جا سکتا ۔ عمران خان نے بالخصوص نوجوان نسل اور خواتین کو سیاست سے روشناس کیا اورانہیں پاکستانی سیاست کا حصہ بنایا گو کہ پاکستانی سیاست کو عمران خان نے چند سیاسی خاندانوں سے کھینچنا شروع کر دیاہے ۔عمران وہ شخص ہے جس کو پاکستان ہی نہیں بین الاقوامی طور پر جانا جاتا ہے اور اس عزت اور شہرت کے حامل چند پاکستانی ہوں گے ۔عمران خان کے ناقدین بھی اس حقیقت سے آشنا ہیں کہ وہ ایک محب الوطن اور ایماندار شخص ہے اس کی حب الوطنی میں تنکے برابر بھی شک نہیں کیا جاسکتا اسکو ذاتی مفادات کی پرواہ نہیں بلکہ ملکی مفادات کو سوچتا ہے اور عوام کے مسائل کے حل کیلئے اک محب وطن لیڈر جیسی سوچ رکھتا ہے۔ وہ ملک کے مفادات کو مدنظر رکھ کر سوچتا ہے آنے والی نسلوں کے بارے میں فکر مند ہے ۔ عمران خان کی ذاتی زندگی میں بھی اتار چڑھاو لگے رہتے ہیں ۔ 2012 میں اس کی سیاسی زندگی کا عروج شروع ہوا اور 2013 کے عام انتخابات میں منظم طریقے سے عمران خان کو ہرایا گیا اس کے باوجود عمران خان اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھا یا۔جو لوگ اس کے خلاف سازشیں کرنے میں مصروف ہیں ان کومنہ کی کھانی پڑتی ہے کیونکہ عمران خان کے خلاف ان کے پاس کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہوتے اتنی کمزور حکومت نہیں ہونی چاہیے جو صرف الزام لگائے حکومتوں کا کام الزام لگانا نہیں بلکہ کیفر کردار تک پہنچانا ہوتا ہے ۔عمران خان اس وقت حقیقی اپوزیشن کر رہا ہے مخالفین کہتے ہی عمران خان ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے عوام ک بیوقوف بنانے کا اچھا طریقہ ہے لیکن وہ اس چیز سے بخوبی واقف ہیں کہ عمران خان کے مطالبات جائز ہیں عمران خان کو ناکام کرنے کے مختلف حربے اختیار کر رہے ہیں ۔
عمران خان ایک نڈر بے باک مخلص اور محب وطن شخصیت کا حامل انسان ہے اسے کسی بھی بات کا خوف نہیں ہوتا کیونکہ اس کا اپنا دامن صاف ہے کسی کو بلیک نہیں کرتا، نا ہی خود کو ہونے دیتا ہے اس نے ماضی کی حکومت کے غلط فیصلوں کو جرات مندانہ طریقے سے مخالفت کی۔ کپتان کی یہی خوبی ہے کہ ہار نہیں مانتا ہر محاظ پر لڑنا جانتا ہے کپتان ہی وہ واحد لیڈر ہے جس نے باہر سے پیسہ کما کر پاکستان لایا اور اپنے ملک میں ہی لگایا ۔عمران خان کو مخالفین نے ہر دور میں خوب نشانہ بنایا سب کپتان کے خلاف اکھٹے بھی ہوتے رہے کبھی مذہبی لوگوں نے اسے یہودی ایجنٹ قرار دیا اور کبھی روشن خیال لوگوں نے اسے طالبان خان کا نام دیا لیکن حقیقت میں عمران خان ہمیشہ سے پاکستان خان ہے ۔عمران خان کیلئے کہا جاتا ہے کہ وہ ایک سیاست دان نہیں ہے اس بات میں صداقت ہے کہ وہ ایک مکار عیار اور منافق سیاست دان نہیں ہے بلکہ وہ ایک مخلص اور ایماندار ہیرا ہے پاکستان کیلئے دنیا کے لوگ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ پاکستان کے پاس عمران خان جیسی شخصیت ہے اور وہ ملک کو بہتر کر سکتا ہے اس وقت پاکستان کو ایک ایسے ہی شخص کی ضرورت ہے جو ملک کو مسائل سے نکال سکے جسے اپنی یا اپنے خاندان کی لالچ نا ہو جو ملک کیلئے سب کچھ نچھاور کر سکتا ہو اور بیرونی داخلی دباو بھی قبول نا کرے ۔مخالفین یہ بھی کہتے ہیں کہ عمران خان صرف وزیراعظم بننا چاہتا ہے عقل کے ماروں سے یہ پوچھا جائے اگر وہ وزیراعظم نہیں بنے گا تو ملکی مسائل کو کیسے حل کرے گا اگر کپتان کو اختیارات ملتے ہیں تبھی کچھ کرنے کے قابل ہوگااگروہ صرف اقتدار چاہتا ہوتا تو مشرف کے دور میں ہی حاصل کر لیتا ۔
صدائے قلب ہے اللہ عمران خان کو لمبی عمر عطا کرے اور کرکٹ کے میدان کی طرح سیاست کے میدان میں بھی کامیاب کپتان بنائے (آمین)
jahanzaibmalik129@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے