Voice of Asia News

الٹراساؤنڈ کیا ہے اور یہ کیوں ضروری ہے؟

لاہور(وائس آف ایشیا) الٹراساؤنڈ درحقیقت آواز کی ان لہروں کا نام ہے جو انسانی کان کی قوت سماعت سے بالاتر ہیں۔ انسانی کان 20-20,000 ہر ٹز تک کی آواز کو سن سکتے ہیں۔ یہ لہریں زیادہ قوت کی آواز کو الٹراساؤنڈ کہا جاتا ہے۔ یہ لہریں خصوصی مشین کے ذریعے انسانی جسم میں داخل کی جاتی ہیں اور اندرونی اعضاء کی تصویر یا شبیہ الٹراساؤنڈ سکرین پر نمودار ہو جاتی ہے۔ رنگین الٹراساؤنڈ میں درحقیقت خون کی نالیوں میں خون کا بہاؤ مختلف رنگوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس کے ذریعہ سے اب تشخیص کے مراحل آسان ہو گئے ہیں۔
رنگین الٹراساؤنڈ کے بہت سے استعمال سامنے آئے ہیں جن میں خون کی نالیوں میں لوتھڑے جم جانا یا ان کا تنگ ہو جانا سرفہرت ہیں۔ گردن کی شریانوں یعنی شہ رگ میں اکثر چربی کی تہہ جمنا شروع ہو جاتی ہے یہ بیماری شوگر اور دل کے مریضوں اور موٹاپے میں نمودار ہوتی ہے۔ چربی کے لوتھڑے کی وجہ سے دماغ کو خون کا دورہ کم ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات یہ لوتھڑا گردن سے جدا ہو کر دماغ کی شریانوں میں جا اٹکتا ہے۔ جس کے نتیجہ میں فالج کا حملہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ماں کے پیٹ میں بچے کو خون اور آکسیجن مہیا کرنے والی نالی کا الٹراساؤنڈ کیا جاتا ہے۔ ایسی حاملہ خواتین جو ہائی بلڈپریشر یا دیگر پیچیدگیوں کی مریض ہوں ان کیلئے یہ ٹیسٹ انتہائی مفیدثابت ہوتا ہے اور بچے کی افزائش کا بخوبی پتہ چلایا جا سکتا ہے اس کے علاوہ کینسر کے پھوڑے میں خون کا بہاؤ بڑھ جاتا ہے لہٰذا رنگین الٹراساؤنڈ کے ذریعے ہمیں کینسر کی تشخیص میں بہت مدد ملتی ہے۔
3-D الٹراساؤنڈ ایک انتہائی جدید اور مفید ایجاد ہے عام الٹراساؤنڈ میں جسم کے ٹکڑوں کی شبیہ سکرین پر نمودار ہوتی ہے۔ جبکہ 3-D الٹراساؤنڈ میں ایک بڑی جگہ سے الٹراساؤنڈ لہروں کو مجتمع کیا جاتا ہے اور پھر ان کو کمپیوٹر کی مدد سے جوڑا جاتا ہے۔ اس طرح ہو بہو اصل انسان عکس یعنی انسانی تصویر سکرین پر دیکھی جا سکتی ہے۔ اس کے ذریعے شکم مادر میں بچے کو پورا دیکھا جا سکتا ہے۔ بہت سے موروثی امراض جو پہلے تشخیص نہ کئے جا سکتے تھے اب بآسانی نظر آجاتے ہیں اور بعض کا علاج فوری طور پر ممکن ہے۔
جدید الٹراساؤنڈ مشنیوں سے بچے کی جنس کا تعین اب 14 سے 15 ہفتوں میں کیا جاسکتاہے لیکن حتمی طور پر عموماً بیسویں ہفتے کے بعد یقینی طور پر بچے کی جنس معلوم کی جاسکتی ہے۔ بدقسمتی سے مشرقی معاشرہ میں بچیوں کو بار سمجھا جاتا ہے بہت سے ملکوں میں حمل کے دوران جنس معلوم ہونے پر بچیوں کا اسقاط حمل کروا دیا جاتا ہے جو ایک ظالمانہ فعل ہے اور قتل کے مترادف ہے۔
چھاتی کا سرطان ساری دنیا میں عورتوں کی موت کا ایک بڑا ذمہ دار ہے۔ یورپ اور امریکہ میں ایک قانون کے ذریعے چھاتی کا سالانہ معائنہ کروانا 40 سال سے زائد عمرکی خواتین کیلئے لازم ہے۔ اس ٹیسٹ کو میمو گرافی کہا جاتا ہے۔ بہت بڑے پیمانے پر تشخیصی سہولت مہیا ہونے کے باعث مغربی ممالک میں بریسٹ کینسر کا ابتدائی سطح پر کھوج لگا لیا جاتا ہے اور یوں علاج معالجہ میں آساتی ہوتی ہے۔ اسی باعث چھاتی کے سرطان کی وجہ سے شرح اموات میں کمی آگئی ہے مگر ہمارے یہاں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ خواتین کی بڑی تعداد اور دائتی شرم و حیاء کے باعث چھاتی کی تکلیف کسی پر ظاہرنہیں کرتیں اور اکثر و بیشتر مرض کی تشخیص اس وقت ہو پانی ہے جب سرطان چھاتی سے نکل کردوسرے اعضاء تک پہنچ جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں میمو گرافی کروانے کا سرے سے رواج ہی نہیں۔ اس ضمن میں بہت بڑے پیمانے پر کوششوں کی ضرورت ہے۔ چھاتی کا الٹراساؤنڈ خصوصی مشین سے کیا جاتا ہے۔ جو انتہائی مفید ہے۔ اس کے ذریعے چھاتی میں پانی کی تھیلیوں کی تشخیص کی جا سکتی ہے اور سرطان کی رسولی کی بائیوپسی بھی کی جا سکتی ہے۔
الٹراساؤنڈ ایک محفوظ طریقہ تشخیص ہے جس میں آواز کی لہروں کو استعمال کیا جاتا ہے امریکہ میں ایک بڑا ادارہ (F-D-A) ایف ڈی اے کے نام سے کام کررہا ہے۔ جس کا کام مختلف اشیاء کے انسانی جسم پر استعمال کو جانچنا ہے۔ الٹراساؤنڈ کا استعمال F.D.A کی جانب سے بالکل محفوظ تصور کیا جاتا ہے۔ اس اجازت کے پیچھے تیس سال سے زائد کے تجربات شامل ہیں لہٰذا الٹراساؤنڈ بلاخوف و خطر مگر حسب ضرورت ہی کروانی چاہیے۔
بد قسمتی سے ہمارے ملک میں کوئی طبی ضابطہ اخلاق موجود نہیں یہاں ہر طرح کی عطائیت عام ہے۔ امریکہ اور یورپ میں مستند ریڈیالوجسٹ کے علاوہ کوئی شخص الٹراساؤنڈ رپورٹ جاری کرنے کا مجاز نہیں۔ مگر ہمارے یہاں ہر وہ ڈاکٹر جو چند لاکھ روپے کی مشین خریدنے کی استطاعت رکھتا ہے نے یہ مشین خرید رکھی ہے۔ الٹراساؤنڈ کی تربیت دینے والے دو نمبر کاروباری ادارے بھی جگہ جگہ قائم ہو گئے ہیں محض چنددنوں میں ان خواتین حضرات کو سند جاری کر رہے ہیں۔ در حقیقت الٹراساؤنڈ معائنہ کسی ایسے ماہر ریڈیالوجسٹ سے کروانا چاہیے جس نے ریڈیالوجی کی باضابطہ تعلیم و تدریس مکمل کی ہو۔ ورنہ غلطیوں کی بھرماہ موجود ہے۔
 

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے