Voice of Asia News

مفاد پرست حکمرانوں نے پاکستان کی سلامتی داؤ پر لگا دی:محمد قیصر چوہان

قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں لاکھوں افراد کی قربانیوں، برصغیر کی بڑی ہجرت اور عصمتیں لٹنے کے ہوش رباخونیں واقعات کے بعد بالآخر 14اگست 1947 کے دن پاکستان کا قیام عمل میں آیا اور یہ آزاد خودمختار ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ پاکستان کا تصور علامہ اقبال نے دیا جس کا مقصد ایک ایسا وطن قائم کرنا تھا جو آزاد ہو اور جہاں پر اسلامی قدروں کے مطابق مسلمان اپنی زندگی گزار سکیں۔ پاکستان کو حاصل کرنے کے بعد اسے اللہ کی ذات کے ساتھ وابستہ کر دیا گیا۔ جب اس وطن کو اللہ کے نام پر حاصل کیا گیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ پاک وطن اور پاک سرزمین ہے بالکل اس طرح جس طرح مسجد کا صحن ہو، جہاں پر لڑائی جھگڑا نہیں ہو سکتا۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا اسلام اور اس کی بلند نظری نے ہمیں جمہوریت سکھائی ہے اسلام نے ہمیں مساوات اور ہر شخص سے انصاف اور رواداری کا حکم دیا مگر ہم نے قائداعظمؒ کے فرمان پر توجہ نہ دی اور آئین شکنی کی راہ اختیار کئے رکھی۔ تعلیمی نظام کو غارت گری سے نہیں بچا سکے اور جمہوریت پر شب خون مارنے کی روایت ہمارا وتیراہ بن گئی، ہماری سماجی و معاشرتی اور معاشی ناہمواریاں طبقاتی تقسیم کے ساتھ موجود ہیں۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی نے امن عامہ کو تباہ کر دیا ہے۔ 1956 تک ملک کو بے آئین رکھا گیا اور 1956 میں بننے والا آئین 1958 میں ملک کے پہلے فوجی آمر جنرل ایوب خان کے ہاتھوں ختم ہوا۔ ایوب خان کے بعد جنرل یحییٰ خان کے دور میں ملک دولخت ہوا اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا اور بعد میں ذوالفقار علی بھٹو جیسے عظیم قومی رہنما کو استعماری قوتوں نے اپنے مقاصد کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہوئے تختہ دار پر لٹکا دیا انہوں نے 1973 کا آئین دیا جس میں جنرل ضیاء الحق نے ترامیم کا آغاز کیا۔جنرل ضیاء الحق کی پالیسیوں کے باعث ملک آج دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو دہشت گردوں کے ہاتھوں شہادت پا چکی ہیں۔ جنرل پرویز مشرف 10 سالہ اقتدار میں آئینی ترامیم کی گئی انہوں نے بھی اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کیلئے آئین شکنی کا ارتکاب کیا۔ ملک کی اس مختصر تاریخ میں حکمرانوں نے ملکی معیشت اور اقتصادی ترقی کے ضمن میں ایسے اقدامات نہیں کئے جن کے دور نتائج برآمد ہوتے اور آج جن بحرانوں کا سامنا ہے ان کی نوبت نہ آتی۔قائداعظم نے جس جمہوری ملک کا خواب دیکھا تھا وہ آج بھی ادھورا ہے آمریت نے وطن عزیز کو جمہوریت کی منزل سے دور کیا۔ ملک کی سیاسی جماعتیں وہ کردار ادا نہ کر سکیں جس کی ہدایت بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے دی تھی۔ قائداعظم نے جاگیرداری نظام کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا تھا مگر کسی حکومت نے اس جانب توجہ نہیں دی۔
ہم اپنی آزادی کے 71سالہ تاریخ کا جائزہ لیں تو جو سب سے بڑی اور ٹھوس حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے یہ ہے کہ ہم پاکستان کو ان خوابوں کی تعبیر نہیں بنا سکے جو برصغیر میں مسلمانان ہند نے الگ وطن کے حصول کی جدوجہد کرتے ہوئے اپنی آنکھوں میں سجائے تھے۔ ہمارے آباؤ اجداد نے آزاد وطن کے قیام کیلئے بے پناہ قربانیاں دیں اور پھر قیام پاکستان کے بعد ہجرت کے عذاب ناک لمحات سے بھی انہیں گزرنا پڑا اور وہ اس امتحان پر پورے اترے۔ ہمارے آباؤ اجداد نے لاکھوں لازوال قربانیوں کے بعد پاکستان حاصل کر لیا لیکن محسوس ہوتا ہے کہ اس کے بعد کسی نے ہماری آنکھوں پر پٹی باندھ دی یا شاید ہم غفلت کی نیند سو گئے کیونکہ ہم اپنے پاکستان کو ترقی کی اس معراج اور اقوام عالم میں اس حد تک سر بلند کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے جس کا ہمارے بڑوں نے ہدف مقرر کیا تھا۔ ہم میں بہت سی خرابیاں در آئیں ہم نے اجتماعی پر انفرادی مفادات کو ترجیح دینا شروع کر دی۔ رشوت، کرپشن اور اقرباء پروری نے میرٹ اور عدل کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا اور غلط پالیسیاں کی وجہ سے ہم نہ صرف اپنے ایک بازو سے محروم ہو گئے بلکہ اپنی آزادی کے نصف سے زیادہ عرصہ ہم نے آمریت کے سائے میں گزارا جب آئین کا حلیہ بگاڑا جاتا رہا اور لوگوں کے حقوق غضب کئے جاتے رہے ہم نے روکھی سوکھی کھا کر آزادی سے جینے کی بجائے غیر ملکی قرضوں پر تکیہ کئے رکھا جس کی وجہ سے نہ صرف ہمارے ملک کی پیداواری صلاحیت متاثر ہوئی بلکہ ہمارا بال بال قرضے میں جکڑا گیا اور اب صورتحال یہ ہے کہ ہم ان قرضوں پر بھاری سود ادا کر رہے ہیں اور قرض دہندگان کے بہت سے احکامات ماننے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ ان قرضوں کے بل پر ہم نے خاطر خواہ ترقی کر لی ہوتی تو کوئی بات نہیں تھی لیکن اس کے برعکس ہم اس وقت بھی اقتصادی بحران کا شکار ہیں۔ اور عالمی اقتصادی اداروں سے قرضے حاصل کر کے گزارہ کرنے پر مجبور ہیں۔ سماجی سطح پر بات کی جائے تو لوگوں کو ضروریات زندگی تک میسر نہیں ہیں مراعات اور ریلیف تو بڑی دور کی بات، مہنگائی محض اس وجہ سے بڑھ رہی ہے کہ حکومت اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بننے والے عوامل پر قابو پانے میں ناکام ہو چکے ہیں اور صرف اپنے سیاسی کھیل میں مصروف ہیں۔ دوسری جانب بے روزگاری اور غربت کا لیول مسلسل اونچا ہو رہا ہے۔ اور خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہونے والوں کی شرح بھی مسلسل بڑھ رہی ہے حالات کو مناسب انداز میں نہ سنبھالنے اور مناسب پالیسیاں اختیار نہ کرنے کا نتیجہ ہے کہ آج ہمارا ملک دہشت گردی، انتہا پسندی، بنیاد پرستی اور عسکریت پسندی کے نرغے میں آچکا ہے۔
افسوس کہ ہم نے اللہ، رسول اللہ ﷺکے پیغام کو بھلادیا، قائد کے فرمودات کو پس پشت ڈال دیا اور اب یہ صورتحال ہے کہ دشمن ہمارا گھیرا تنگ کر رہا ہے۔ فرقہ پرستی و قوم پرستی کو ابھار رہا ہے۔ ہماری سرحدیں غیر محفوظ ہیں، ہماری شہہ رگ کشمیر ابھی تک دشمن کے پنجہ استبداد میں ہے اور ہم ابھی مستیوں میں مست ہیں، ہمارا نوجوان انڈین گانوں اور فلموں کے سحر میں مبتلا ہے۔ انٹرنیٹ اور sms میں الجھا ہوا ہے۔ ارباب اختیار محض اپنے اقتدار کو طول دینے کی فکر میں لگے ہوئے ہیں۔ بے گناہ انسانوں کاخون بہایا جارہا ہے لیکن کسی کو کوئی فکر نہیں ہے۔ خوف و ہراس ہے اور ہر طرف ایک مایوسی کا عالم ہے۔ اس کی بنیادی وجہ قائداعظم کی وفات کے بعد ہم مجموعی طور پر قول و فعل کے تضاد کا شکار ہوگئے ہیں۔ آزادی کی روح کو فراموش کربیٹھے ہیں جس کا خمیازہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے مگر ہم تاریخ سے سبق سیکھنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یوم آزادی کا سبق اور پیغام یہ ہے کہ نوجوان قائداعظم کی اساسی تعلیمات اور آزادی کی روح کے مطابق پاکستان کی تشکیل نو کی جدوجہد کا آغاز کریں اور سیرت رسول کے خلاف چلنے والوں اور قائداعظم کے ذہنی اور فکری مخالف عناصر کا بے دریغ اور بلاامتیاز کا قلع قمع کرکے آزادی کی روح کو بازیاب کرائیں۔ انقلابی عوامی جدوجہد کے بغیر پاکستان کو غاصبوں اور ظالموں کے قبضے سے نجات دلانہ ممکن نہ ہوگا۔جب تک آزادی کی روح بحال نہ ہوجائے ہم اپنے مسائل سے باہر نہیں نکل سکیں گے۔
تم جسم کے خوش رنگ لباسوں پہ ہو نازاں
میں روح کو محتاج کفن دیکھ رہا ہوں
ملک کی موجودہ صورتحال کو مد نظر رکھ کر غور کیا جائے تو یہی حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ اگر ہم نے اقوام عالم میں سر بلند ہو کر زندگی بسر کرنی ہے اگر ہم نے ترقی کے میدان میں دیگر اقوام عالم کے شانہ بشانہ آگے بڑھنا ہے اگر ہم نے دوسروں کا پیروں کار بننے کے بجائے عالمی برادری کا لیڈر اور رہنما بننا ہے تو ہمیں اپنی کمزوریوں اور خامیوں پر قابو پانا ہو گا، امریکا اور آئی ایم ایف کی غلامی کا طوق اتار پھینکنے کے بعد باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت آگے بڑھنا ہو گا۔ ملک کی ترقی و خوشحالی کیلئے سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ اور انتھک محنت اور ایمانداری کو بنیاد بنا کر ایسا لائحہ عمل تیار کرنا ہو گا جو ماضی کے تمام داغ دھو ڈالے اور ہم پاکستان کو اس کا اصل مقام دلانے میں کامیاب ہو جائیں۔ جس کی 22کروڑ سے زائدعوام توقع کر رہے ہیں۔ پوری قوم کو یوم آزادی والے دن یہ عہد کرنا ہو گا کہ ہم ملک کی ترقی و خوشحالی کیلئے کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے اور محنت، لگن، دیانت کو اپنا شعار بنائیں گے۔ 71ویں یوم آزادی کے موقع پر اس امر کا عہد کرنا ہو گا کہ ہم نئی نسل کو حب الوطنی کے مستحکم جذبے کے ساتھ امن، تعلیم اور معاشی ترقی سے ہمکنار کرنا ہے ایسے نظام کو لاگو کرنا ہے جس میں حکمرانوں کا کڑا احتساب ہو سکے۔ حکمرانوں، دانشوروں اور سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ ماضی کی کوتاہیوں سے سبق سیکھتے ہوئے روشن مستقبل کیلئے جدوجہد کا آغاز کریں اور ملک میں چھائے اندھیروں کو روشنیوں میں بدلنے کے لیے ہر وہ قدم اٹھانا ہوں گے جس کی نئی نسل نظریہ پاکستان، استحکام پاکستان اور ملکی ترقی کے ہر پہلو سے آگاہ ہو سکے اور وہ آزادی کا جشن مناتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھنے کی بجائے وطن عزیز کے روشن مستقبل کے سویروں میں آگے بڑھ سکیں۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے