Voice of Asia News

ملکی سیاست میں برداشت اور مستقل مزاجی کا فقدان:محمد قیصر چوہان

اللہ تعالیٰ نے اِنسان کو بطور اشرف المخلوقات اِس فانی دنیا میں بھیجا۔پھر اْسے عقل و شعور عطا کرکے اچھے اور بْرے کی تمیز سے آشنا کیا۔ انسان کو اس کی ان ہی صفات کی بِنا پر اشرف المخلوقات تصور کیا جاتا ہے۔ انسان میں ایک مادہ پیدا کیا جسے صبر و تحمل اور برداشت کہتے ہیں۔برداشت اور مستقل مزاجی کا آپس میں گہرا رشتہ ہے، اگر نفسیاتی طور پر دیکھا جائے تو جس بندے میں برداشت ہوگی وہ بلا کا مستقل مزاج بھی ہوگا، برداشت کامیابی کی طرف پہلا قدم ہے تو مستقل مزاجی وہ اڑن کھٹولہ ہے جس میں اڑ کر انسان بام عروج پر پہنچتا ہے۔برداشت اور مستقل مزاجی کا یہ فارمولہ صرف انفرادی سطح پر ہی نہیں بلکہ اجتماعی طور پر بھی نافذ ہوتا ہے، ماضی کا افیونچی چین آج دنیا بھر کا بے تاج بادشاہ بن بیٹھا ہے۔
عمرانیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کل معاشرے کے نوے فیصد مسائل کی جڑ برداشت نہ کرنا اور عدم رواداری ہے۔ عدم برداشت ہی کی وجہ سے معاشرے میں انتشار، بدعنوانیت، معاشرتی استحصال اور لاقانونیت جیسے ناسور پنپ رہے ہیں۔عدم برداشت انفرادی طور پر بھی لوگوں کو متاثر کرتا ہے اور لوگ بے چینی، جلد بازی، حسد، احساس کمتری اور ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ دنیا بھر میں مختلف نفسیاتی و ذہنی بیماریوں میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ بھی عدم برداشت ہے۔
بجا کہ معاشروں کے اِقدار میں یکدم تبدیلیاں پیدا نہیں ہوا کرتیں، ان تبدیلوں کے پیچھے مختلف عوامل کی ایک طویل تاریخ ہوا کرتی ہے۔ ہمارے سماج سے بھی برداشت اور عمل آنِ واحد میں نایاب نہیں ہوئے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ کی ہوس اور اس کی خاطر بہر صورت طاقتور اور با رسوخ ہونے کی طمع نے ان سماجی اوصاف کا گلا دبانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی ،نتیجے کے طور پر حالات سب کے سامنے ہیں۔ آپ یہ سنتے ہی ہونگے کہ ’’جیسے عوام ہوتے ہیں ویسے ہی حکمران ہوتے ہیں۔‘‘ بھلے یہ مقولہ عام زندگی میں بولا جاتا ہو، مگر اس کا حقیقت سے کافی گہرا تعلق ہے۔ سماج کی بالائی پَرت یعنی حکمران طبقہ میں پیدا ہونے والی خرابیاں بتدریج عوام میں منتقل ہوتی چلی آرہی ہیں اور پورا سماج ان ہی قباحتوں کا شکار ہے۔ زیادہ ماضی میں جانے کی ضرورت نہیں، آپ بس گزشتہ 71 برس کا دور دیکھ لیں۔ اس میں کیا کچھ ہوتا چلا آرہا ہے، سب سمجھ آجائے گا۔ سیاسی معاملات میں عوام کی دلچسپی کافی نمایاں نظر آئی گی تاہم آپ حقیقت کو فراموش نہیں کر سکتے۔
پاکستان کے حالات نے پندرہ برس میں جو رْخ اختیار کیا ہے وہ حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ شائستگی، خیالات کی دْرستگی، غور و فکر کی جگہ پھکّڑ پن اور دشنام طرازی نے لے لی ہے۔ حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے بات کرتے ہوئے اِتنی ذہنی پَستی اور اخلاقیات سے اْتر کر ذاتیات پر آجاتی ہیں۔ مْلک میں بد زبانی، بد تہذیبی اور گْستاخی کا سلسلہ عروج پر ہے ۔ایسا کوئی دن نہیں جاتا کہ ایک دوسرے پر لفظی حملے نہ کیے جاتے ہوں، طعن و تشنیع کی تو جیسے عادت سی ہوگئی ہو۔ ملک کے دانشور طبقے نے ان کی اصلاح اور سیاستدانوں کو اس چلن سے دور رکھنے کی کوشش تو کی ہے، مگر خدانخواستہ حالات قابو سے باہر ہوگئے تو تشدد کو روکنا نا مْمکن ہوگا۔
افسوس کہ جمہوریت کے کئی سال کے تسلسل کے بعد حالات پہلے سے زیادہ ابتر ہیں۔ بعض لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کیلئے جمہوریت مْوزوں نظام نہیں ہے۔ جب گالیاں بکی جارہی ہوں، ملک کے نامور سیاستدانوں پر سیاہی اور جوتے اچھالے جارہے ہوں بلکہ بات گولی چلانے تک جا پہنچے تو کیا سیاستدانوں کے پاس جمہوریت کے حق میں کوئی دلائل باقی بچتے ہیں۔ جمہوریت کی اہمیت مسلمہ ہے، یہاں بات اس روش کی ہورہی ہے جسے پاکستان میں جمہوریت کہا جارہا ہے۔سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر اخلاقیات کا جنازہ نکالنے والوں کو سوچنا چاہئے کیونکہ اسی جمہوریت کی خاطر کئی قربانیاں دی گئی ہیں۔ جب آمریت کا ملک پر سایہ تھا تو لوگ جمہوریت کے متلاشی تھے لیکن جب جمہوری نظام رائج ہوا تو اس کے تقدْس کو پامال کر دیا گیاہے۔ اخلاقیات کا جو جنازہ نکالا ہے اس کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ آمریت میں کم از کم یہ تو معلوم ہوتا تھا کہ کس سے خوف کھانا ہے اور کس سے بچ نکلنا ہے، جمہوریت میں تو یہ آگاہی بھی چِھن گئی ہے۔ اگر سیاسی جماعت کے لیڈرز ایک دوسرے کو دھمکیاں دیں گے تو ان کے کارکن باہم دست و گریبان تو ہوں گے۔ خدا نخواستہ یہ سلسلہ آگے انتشار کی جانب گامزن ہوجاتا ہے تو سیاستدان ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔
سیاستدانوں کو چاہیے کہ سیاست میں شائستگی، تحمل، برداشت اور رواداری کا کلچر واپس لائیں، نہیں تو دوسرے ممالک کی سیاست کے اصول آپ کے سامنے ہیں۔ ان سے ہی کچھ اوصاف مْستعار لے لیں۔بدگوئی تو خود اپنی ذات کو بھی نقصان پہنچاتی ہے، سب سے اہم بات کہ عوام حکمرانوں سے متاثر ہوتے ہیں، لوگوں کی نفسیات پر اس کا براہ راست اثر ہوتا ہے، حکمرانوں کا رویہ اور کردار جیسا بھی ہوگا عوام اسے اپنائیں گے۔ملک کی موجودہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ سیاستدانوں کو غور و فکر کے ساتھ کام لینا ہوگا اور محتاط رہنا ہوگا۔ اس حوالے سے حکمرانوں کا فریضہ ہے کہ خود کو عوام کیلئے رول ماڈل بنائیں۔موجودہ حالات میں صبر احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں کہ دراصل یہ ملک کی سب سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کا امتحان ہے۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے