Voice of Asia News

معاشرے میں انتشار کی بڑی وجہ عدم برداشت:محمد قیصر چوہان

کوئی زمانہ تھاکہ حق گوئی اور بے باکی جواں مردوں کاآئین اور قلندروں کا طریق سمجھی جاتی تھی مگر میری رائے میں فی زمانہ جراتِ گفتار سے زیادہ ہمتِ برداشت ،مردان خردمند اور جوانان ہوش مند کا طرہ امتیاز ہے۔قوت برداشت ان اعلیٰ صفات میں سے ہے جو افراد کیلئے انفرادی طور پر اور اقوام کیلئے اجتماعی طور پر فوزو فلاح،کامیابی وکامرانی ،عزت و عظمت اور ترقی وسر بلندی کا ذریعہ بنتی ہے۔تحمل وہ دولت ہے کہ جس کی وجہ سے انسان کے نفس میں ایسی غیر معمولی طاقت پیدا ہوتی ہے جو کسی بھی حالت میں انسان پر قوت غضب کو غالب نہیں آنے دیتی۔دین و شریعت میں حق پر ہوتے ہوئے مصائب سہنا ، مظالم برداشت کرنا،تکالیف انگیز کرنا تو اخلاق کا اونچا معیار اور انسانیت کی بڑی معراج ہے۔یہ ایک ناقابل تردیدحقیقت ہے کہ قومیں اور افراد،جب اقبال مند ہوتے ہیں تو اپنا احتساب خود کرتے ہیں ،اپنے خیالات و نظریات کو مستند سمجھ کر،مطمئن نہیں ہوجاتے بلکہ ہر وقت جائزہ لیتے رہتے ہیں کہ کہیں اِن میں کوئی کھوٹ تو نہیں ؟ خلاف عقل و شرع کوئی بات تو نہیں ؟لیکن افسوس صد افسوس کہ عصر حاضر میں جو جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے ،جو خمار ذہن و دماغ پہ چھایا ہوا ہے اور جو سودا سروں میں سمایا ہوا ہے ،بے لاگ انداز میں ،بغیر کسی ہچکچاہٹ کے،بلاخوف لوم لائم لکھاجائے تو وہ ہے۔حکم رانی کا جنوں اوربڑائی جتلانے کا فسوں وہ بھی قوت برداشت کے بغیرآج ہر کوئی کنویں کے مینڈک کی طرح خود کو حاکم اعلی اور عقل کل سمجھتا ہے ، چار لوگ کیا معاون بن گئے خود کو متبوع و مخدوم گمان کرنے لگتاہے۔
فصلِ گل ہو یا فصلِ دل،جس کی برداشت زیادہ ہوتی ہے ‘ وہ فصل بارآور بھی زیادہ ہوتی ہے۔برداشت کاتعلق قوت سے ہے اور قوت کا تعلق برداشت سے ۔برداشت ایک تخلیقی قوت ہے۔ قوتِ برداشت حسن کو عدم سے وجود میں لاتی ہے اور عدم برداشت وجودِ حسن کو سوئے عدم لے جاتی ہے۔برداشت ترتیب کا باعث ہے اور ترتیب جب اپنے حسنِ ترتیب کو پہنچتی ہے توحسن کہلاتی ہے۔عدم برداشت ایک داخلی انتشار ہے اور انتشار وجود میں ہو یا خیال میں ‘ زندگی کی لَو مدھم پڑجانے کی علامت ہے۔ برداشت مخفی کو ظہور میں لاتی ہے۔ درحقیقت باطن میں موجود بے پایاں حسن کو پرد ظاہر پر لانے کی موجد قوت کانام برداشت ہے۔برداشت دانائی کا پیش خیمہ ہے۔ جب ہم برداشت کے خیمے میں داخل ہوتے ہیں تو ہمیں تفکر کا موقع ملتا ہے۔ تفکر کی خوبی یہ ہے کہ انسان سب سے پہلے اپنی خامیوں پرمتفکر ہوتاہے۔ جب تک اپنی خامیاں نظر میں رہیں‘ اِنسان غرور کے پھندے میں نہیں پھنستا۔ اپنی کوتاہیاں پیشِ نظرہوں تو دوسروں کو معاف کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ ہمیں دوسروں کے عمل سے زیادہ اْن کی نیت پر غصہ آتا ہے۔۔۔ حالانکہ دوسروں کی نیت اْن کے متعلق ہمارا ایک گمان ہی تو ہوتا ہے۔۔۔ اور ہمارا گمان ہمارے اختیار میں ہے۔گمان اچھا بھی قائم کیا جاسکتا ہے۔ نیت کے بھید تو دلوں کے بھید جاننے والا ہی بہترجانتا ہے۔ ایک چھوٹی سی برداشت‘ بڑی دانائی دے کر جاتی ہے۔کسی معاشرے میں قوتِ برداشت کا ہونا اْس کے تہذیب یافتہ ہونے کی علامت ہے اور عدم برداشت جہالت کی نشانیوں میں سے ہے۔ انسانی تہذیب کی ساری تاریخ بس ایک قوتِ برداشت کی بتدریج ترویج سے عبارت ہے۔
آدم کو مٹی سے پیدا کیا گیا۔اس لیے اِس کی طینت میں عاجزی کو دخل ہے۔ابنِ آدم جب تک انکسار میں رہتا ہے ‘ اپنی فطری جوہر کے قریب رہتا ہے ‘ عافیت میں رہتا ہے۔ جب آگ بگولا ہوتا ہے ‘اپنی طینت سے بغاوت کا مرتکب ہوتا ہے۔ مٹی کا وصف ‘ جو اِسے آگ سے ممتا ز کرتا ہے ‘ وہ اس کی قوتِ برداشت ہے۔ زمین کی قوتِ نمو ‘ اِس کی قو تِ برداشت کے سبب ہے۔ یہ زمین کی کشادگی ہے کہ بدبودار کو ڈھانپ لیتی ہے اور خوشبودار پیدا کیے چلے جاتی ہے۔بس صفتِ بوترابی یہی ہے کہ زمین کے بیٹے بھی دوسروں کے بدبود ار رویے اپنی برداشت کی عبامیں چھپا لیں،بدلہ نہ لیں بلکہ بدبو کے بدل میں خوشبو دار رویوں کو فضا میں درد کے سورج کی طرح اْچھال دیں۔ اخلاقیات کا سارا نصاب اپنی انا کی تیز دھار تلوار کو برداشت کی نیام میں رکھنے پر مشتمل ہے۔ جس کی اَنا طاقتور ہوتی ہے ‘ اْس کیلئے برداشت ایک کڑاا متحان ہے۔ عاجزی کی گدڑی پہننے والے برداشت کی کڑوی گولی دانت پیسے بغیر نگل لیتے ہیں ، نتیجہ یہ کہ شفا یاب ہوجاتے ہیں۔ اِس کے برعکس اَناکی کلف والے جاڑجٹ میں ملبوس لوگ خود کوگلیوں بازاروں میں کتنا بھی مہذب ظاہر کریں ‘ جب انسانی معاملات کے آنگن میں آنکلتے ہیں تو یکدم ننگے ہوجاتے ہیں۔
انسانی معاشرہ ایک گل دستے کی طرح ہے جس طرح گل دستے میں مختلف رنگ کے پھول اس کی خوبصورتی کا باعث ہوتے ہیں، بالکل اسی طرح انسانی معاشرہ بھی مختلف خیال، مختلف مذاہب اور مختلف نسل کے افراد سے مل کر ترتیب پاتا ہے اور اس کا یہی تنوع اس کی خوبصورتی کا باعث ہوتا ہے ، اگر کسی جگہ ایک ہی نسل اور مذہب کے لوگ رہتے ہوں تو اسے ہم معاشرتی گروہ تو کہہ سکتے ہیں مگر اسے کلیتاً معاشرے کا درجہ حاصل نہیں ہو سکتا۔تاہم معاشرے کی مختلف اقسام ضرور ہوتی ہیں جیسے مذہبی معاشرہ، کمیونسٹ معاشرہ وغیرہ، مگر ان میں بھی ہر طرح کے افراد پائے جاتے ہیں، کسی غالب اکثریت کی وجہ سے ایسے معاشرے کو ایک خاص قسم سے منسلک کر دیا جاتا ہے۔ جیسے روس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ کمیونسٹ معاشرہ ہے اسی طرح ایران کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مذہبی معاشرہ ہے ، ایسا نہیں ہے کہ ان معاشروں میں دوسرے مکتبہ فکر کے لوگ موجود نہیں ہیں ، وہاں ہر نسل، ہر سوچ اور مذہب کے افراد موجود ہیں مگر غالب اکثریت چونکہ اقتدار میں بھی ہے اس لئے انھی کا رنگ زیادہ نظر آتا ہے۔میانہ روی ، رواداری، تحمل مزاجی ، ایک دوسرے کو برداشت کرنا، معاف کر دینا اور انصاف کرنا یہ وہ خوبیاں ہیں جن کی وجہ سے معاشرے میں امن و چین کا دور دورہ ہوتا ہے۔ جن معاشروں میں ان خوبیوں کی کمی ہو تی ہے وہاں بے چینی ، شدت پسندی ، جارحانہ پن ، غصہ، تشدد، لاقانونیت اور بہت سی دیگر برائیاں جڑ پکڑ لیتی ہیں، معاشرے کا ہر فرد نفسا نفسی میں مبتلا نظر آتا ہے، یہ نفسانفسی معاشرے کی اجتماعی روح کے خلاف ہے اور اسے گھن کی طرح چاٹ جاتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستانی معاشرے میں بھی گزشتہ کئی سالوں سے عدم برداشت کے رجحان میں خوفناک اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ یوں دکھائی دیتا ہے جیسے افراد کی اکثریت کی قوت برداشت ختم ہو چکی ہے اور رواداری جیسی اعلیٰ صفت معاشرے سے عنقا ہو چکی ہے۔ ہر فرد دوسرے کو برداشت کرنے کے بجائے کھانے کو دوڑتا ہے، بے صبری ، بے چینی اور غصہ ہر کسی کے ماتھے پر دھرا دکھائی دیتا ہے۔
عمرانیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کل معاشرے کے نوے فیصد مسائل کی جڑ برداشت نہ کرنا اور عدم رواداری ہے۔ عدم برداشت ہی کی وجہ سے معاشرے میں انتشار، بدعنوانیت، معاشرتی استحصال اور لاقانونیت جیسے ناسور پنپ رہے ہیں۔عدم برداشت انفرادی طور پر بھی لوگوں کو متاثر کرتا ہے اور لوگ بے چینی، جلد بازی، حسد، احساس کمتری اور ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ دنیا بھر میں مختلف نفسیاتی و ذہنی بیماریوں میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ بھی عدم برداشت ہے۔
پاکستانی سوسائٹی میں عدم برداشت کے بڑھتے ہوئے رجحان کے بارے میں ماہر عمرانیات ماہر نفسیات کہتے ہیں ’’ہماری سوسائٹی میں جہالت اور تنگ نظری بہت زیادہ ہے، علم کا پھیلاؤ نہیں ہے ، جہالت کی وجہ سے لوگ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ وہ پڑھتے ہیں وہی ٹھیک ہے یعنی ہم مختلف آراء جاننے کی بجائے اسی کو ٹھیک سمجھتے ہیں جو ہمارے مطابق ٹھیک ہوتا ہے ، جہاں جہالت ہو گی وہاں عدم برداشت بڑھے گی، ہمارے ہاں لوگ ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرتے، ہم ہر چیز کو اتنی سنجیدگی سے لیتے ہیں کہ زندگی موت کا مسئلہ بنا لیتے ہیں، برداشت کی صلاحیت ختم ہو گئی ہے ہر شخص چاہتا ہے کہ وہ جو چاہتا ہے اسے ضرور ملے، یوں ہر فرد ٹنشن کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ یہ ٹنشن اس کی زندگی کے دیگر معاملات میں بھی نظر آنا شروع ہو جاتی ہے۔ اسی طرح معاشرتی ناہمواریاں بھی عدم برداشت کی بہت بڑی وجہ ہیں، جو لوگ وسائل پر قابض ہیں ان کے خلاف بہت زیادہ غصہ پایا جاتا ہے، عام آدمی اسے اپنے ساتھ ناانصافی تصور کرتا ہے۔‘‘
ماہرین عمرانیات کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے مذہبی رواداری اور برداشت کو فروغ دیا جانا از حد ضروری ہے۔ ایک دوسرے کے عقائد اور مذاہب کا احترام کرنا آج کے دور کی اہم ضرورت بن گئی ہے۔ماہرین کی تجویز ہے کہ اس کا آغاز بچپن سے ہی کیا جائے اور بچوں کو برداشت کرنے کی تعلیم دی جائے۔برداشت اور رواداری زندگی گزارنے کا بنیادی اصول ہے اور معمولی باتوں پر غصہ پینے سے لے کر زندگی کے مختلف مرحلوں میں اختلافات کو برداشت کرنے تک کی تربیت گھروں اور سکولوں سے دی جائے تب ہی ایک روادار معاشرے کی تشکیل ممکن ہے۔
یادرکھنا چاہئے کہ ہمارا صبر و تحمل، ہماری قوت برداشت اور جبر ذات ہمارے لئے ہمیشہ خیر اور اجر کا سبب بنتی ہے، دانشوروں کا ماننا ہے کہ ہر معاشرے میں انتشار و خلفشار کی بنیادی وجہ قوت برداشت کی کمی ہے اگر انسان اسی بنیادی خامی بلکہ کمزوری کے خلاف نبر د آزما رہے تو یہ دنیا رہنے کیلئے ایک پر سکون جگہ بن سکے گی اور سکون سے بڑھ کر انسان کو اور کس دولت کی ضرورت نہیں ہوسکتی ۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے