Voice of Asia News

خدمت خلق،اسلامی تعلیمات کا روشن باب:محمد قیصر چوہان

انسان ایک سماجی و معاشرتی مخلوق ہے وہ تمدن اورسو ل لائیزیشن کے بغیر اس دنیا میں زندگی نہیں گزارسکتا، اس کے تمام تر مسائل اور ان کا حل ، اس کے دکھ درد اور ان کا مرہم ، اس کے مصائب اور ان کا مداوا، اس کی ضروریات اور ان کی تکمیل صرف اور صرف سماج اور معاشرے میں موجود دوسرے انسانوں کے ساتھ وابستہ ہیں۔فردِ واحد ہو، گھر ہو، معاشرہ ہو، اس کی سب سے بڑی کمائی سکون قلب ہوتی ہے۔ جس معاشرے میں خدمت ہو رہی ہو، آسانیاں بانٹی جا رہی ہوں وہاں سکون قلب بڑھ جاتا ہے۔ جس معاشرے میں ہوس، خودپرستی اور لالچ آجائے، وہاں خدمت کاجذبہ ختم ہوجاتا ہے۔ خدمت ایک ہی صورت میں زندہ رہ سکتی ہے کہ جسے خدمت ملی ہو، وہ دوسروں کی خدمت کرے۔ آج کوئی سیکھنے، سکھانے اور سوچنے کو تیارنہیں ہے کہ دوسروں کی خدمت بھی کرنی ہے۔ آج خدمت کے تصور کو پیسے کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے، اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ صرف پیسے والا ہی خدمت کر سکتا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے، خالی پیٹ والا اور عاجز بھی خدمت کر سکتا ہے۔ خدمت کا تعلق مال کے ساتھ نہیں ہے، خدمت کا تعلق دل کے ساتھ ہے، سخاوت مال سے نہیں ہوتی بلکہ حوصلے سے ہوتی ہے۔ عبادت صرف نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج کا نام نہیں بلکہ ہر سانس پر، ہر قدم اور ہر معاملہ میں اطاعت الٰہی کا نام ہے اور اطاعت الٰہی میں حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں شامل ہیں۔ حقوق اللہ کے معاملہ میں حقوق العباد کی فہرست بہت طویل ہے۔ کہیں انسان کی اپنی ذات کے حقوق ہیں، کہیں والدین کے حقوق ہیں، کہیں اساتذہ کے حقوق ہیں، کہیں رشتہ داروں کے حقوق ہیں، کہیں دوستوں کے حقوق ہیں، کہیں ہمسائیوں کے حقوق ہیں اور کہیں اہل علم کے حقوق ہیں۔ یہاں تک کہ جانوروں کے حقوق ہیں اور انہیں حقوق کی کماحقہ ادائیگی پر معاشرہ کی صحت اور حسن کا دارومدار ہے۔ دین اسلام میں حقوق العباد کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔
خدمت خلق کے لغوی معنی مخلوق کی خدمت کرناہے جبکہ اصلاح شرع میں رضائے الٰہی کے حصول کیلئے جائز امور میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ تعاون کرنا خدمت خلق کہلاتاہے ۔خدمت خلق محبت الٰہی کا تقاضہ ،ایمان کی روح اور دنیا وآخرت میں سرخرو ہونے کا ذریعہ ہے، صرف مالی اعانت ہی خدمت خلق نہیں ہے بلکہ کسی کی کفالت کرنا ،کسی کو تعلیم دینا ،مفید مشورہ دینا ،کوئی ہنر سکھانا ،علمی سرپرستی کرنا ،تعلیمی ورفاہی ادارہ قائم کرنا ،کسی کے دکھ درد میں شریک ہونا اور ان جیسے دوسرے امور خدمت خلق کی مختلف راہیں ہیں۔انسان ایک سماجی مخلوق ہے اس لئے سماج سے الگ ہٹ کرزندگی نہیں گزارسکتا۔اس کی تمام تر مشکلات کا حل سماج میں موجو دہے،مال ودولت کی وسعتوں اور بے پناہ صلاحیتوں کے باوجود انسان ایک دوسرے کا محتاج ہے، اس لیے ایک دوسرے کی محتاجی کو دور کرنے کیلئے آپسی تعاون ،ہمدردی ،خیر خواہی اور محبت کا جذبہ سماجی ضرورت بھی ہے،مذہب اسلام چونکہ ایک صالح معاشرہ اور پرامن سماج کی تشکیل کا علم بردار ہے ،اس لئے مذہب اسلام نے ان افراد کی حوصلہ افزائی کی جو خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار ہو،سماج کے دوسرے ضرورت مندوں اور محتاجوں کا درد اپنے دلوں میں سمیٹے ،تنگ دستوں اور تہی دستوں کے مسائل کو حل کرنے کی فکر کرے،اپنے آرام کو قربان کرکے دوسروں کی راحت رسانی میں اپنا وقت صرف کرے۔کمال یہ ہے کہ اسلام نے خدمت خلق کے دائرہ کارکو صرف مسلمانوں تک محدود رکھنے کا حکم نہیں دیا بلکہ غیر مسلموں کے ساتھ بھی انسانی ہمدردی اور حسن سلوک کو ضروری قرار دیا، روایتوں کے مطالعہ سے پتہ چلتاہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جہاں مسلمانوں کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا وہیں تمام مخلوق کو اللہ کا کنبہ بھی قرار دیا، اس سے انسانیت کی تعمیر کیلئے آپسی ہمدردی ،باہمی تعاون اور بھائی چارے کی وسیع ترین بنیادیں فراہم ہوئی ہیں،پڑوسی کے حقوق کی بات ہو یا مریضوں کی تیمارداری کا مسئلہ ،غرباء کی امداد کی بات ہو یا مسافروں کے حقوق کا معاملہ ،اسلام نے رنگ ونسل اور مذہب وملت کی تفریق کے بغیر سب کے ساتھ یکساں سلوک کو ضروری قرار دیاہے۔
مذہب اسلام نے بنیادی عقائد کے بعد خدمت خلق کو سب سے زیادہ اہمیت دی ہے، قرآن مجید کے مطابق تخلیق انسانی کا مقصد بلاشبہ عبادت ہے،لیکن عبادت سے مراد محض نماز ،روزہ ،حج وزکوۃنہیں ہے بلکہ عبادت کا لفظ عام ہے جو حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کو بھی شامل ہے۔مذہب اسلام نے خدمت خلق کے دائرہ کار کو کسی ایک فرد یا چند جماعتوں کے بجائے تمام افراد اُمت پر تقسیم کردیا ہے، غریب ہو ،امیر ہو یا بادشاہ وقت ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق خدمت خلق کی انجام دہی کا ذمہ دار ہے، یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خدمت خلق کی محض زبانی تعلیم نہیں دی بلکہ آپ کی عملی زندگی خدمت خلق سے لبریز ہے، سیرت طیبہ کے مطالعہ سے پتہ چلتاہے کہ بعثت سے قبل سے آپ خدمت خلق میں مشہور تھے، بعثت کے بعد خدمت خلق کے جذبہ میں مزید اضافہ ہوا، مسکینوں کی دادرسی ،مفلوک الحال پر رحم وکرم ،محتاجوں ،بے کسوں اورکمزورں پر مددآپ کے وہ نمایاں اوصاف تھے جس نے آپ کو خدا اور خلق خدا سے جوڑ رکھا تھا، حلف الفضول میں شرکت ،غیر مسلم بڑھیا کی گٹھری اٹھاکر چلنا ،فتح مکہ کے موقع سے عام معافی کا اعلان اور مدینہ منورہ کی باندیوں کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کام کروالینا اس کی روشن مثالیں ہیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضوان اللہ علیہم بھی خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار تھے، حضرت ابوبکرصدیق کا تلاش کرکے غلاموں کو آزاد کرانا ،حضرت عمرفاروق کا راتوں کولباس بدل کر خلق خدا کی دادرسی کیلئے نکلنا ،حضرت عثمان کا پانی فروخت کرنے والے یہودی سے کنواں خرید کر مسلم وغیر مسلم سب کیلئے وقف کردینا تاریخ کے مشہور واقعات میں سے ہیں، انصار کا مہاجرین کیلئے بے مثال تعاون بھی اسی زمرہ میں آتاہے۔خدمت خلق کا یہ جذبہ مذکورہ چند صحابہ کرام میں ہی منحصر نہیں تھا بلکہ آپ ؐکے تمام اصحاب کا یہی حال تھا۔انہوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہوئے نظام مصطفی کی عملی تصویر دنیا کے سامنے پیش کیں، اپنے کردار سے سماجی فلاح وبہبود اور خدمت خلق کا وہ شاندار نقشہ تاریخ کے اوراق میں محفوظ کردیا جس کی نظیر دنیا کا کوئی نظام حیات پیش نہیں کرسکتا۔یہ ملت اسلامیہ کی بدقسمتی ہے کہ اس نے نماز ،روزہ ،زکوۃاور حج کو عبادات کا حدود اربعہ سمجھ رکھا ہے اورمعاشرت،معاملات اور اخلاقیات کو مذہب سے باہر کردیا ہے، حالانکہ یہ بھی دین کے اہم ترین حصے ہیں۔فرقہ پرستی اوراخلاقی بحران کے اس دور میں اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ سماج کے بااثر افراد ،تنظیمیں اور ادارے خدمت خلق کے میدان میں آگے آئیں،دنیا کو اپنے عمل سے انسانیت کا بھولا ہوا سبق یاد دلائیں ،نصاب تعلیم میں اخلاقیات کو بنیادی اہمیت دی جائے، تاکہ نئی نسلوں میں بھی خدمت خلق کا جذبہ پروان چڑھے، خدمت خلق صرف دلوں کے فتح کرنے کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ اسلام کی اشاعت کا موثر ہتھیار بھی ہے۔
یہ ملت اسلامیہ کی بہت بڑی بدقسمتی ہے کہ اس نے صرف نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃکو ہی عبادت کا حدود اربعہ سمجھ رکھا ہے اور اخلاقیات، معاملات اور معاشرت کو دین کے دائرے سے نکال دیا ہے۔ حالانکہ یہ جزو دین ہیں اور اسلام کے اندر ان کی بھی اتنی ہی اہمیت ہے، جتنی ایمانیات کی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایمانیات کا تعلق انسان کی ذات سے ہے اور معاملات و اخلاقیات کا تعلق پوری قوم، پورے سماج اور سارے معاشرے سے ہے۔ جس کی وجہ سے معاملات اور اخلاقیات کو ایمانیات پر فوقیت حاصل ہے۔دوسروں کونفع پہنچانا اسلام کی روح اور ایمان کا تقاضاہے۔ ایک سچے مسلمان کی یہ نشانی ہے کہ وہ ایسے کام کرے، جس سے عام لوگوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچے۔مثلاًرفاعی ادارے بنانا، ہسپتال وشفاخانے بنانا، سکول وکالجزبنانا، کنویں اور تالاب بنانا، دارالامان بنانا وغیرہ، یہ ایسے کام ہیں کہ جن سے مخلوقِ خدا فیض یاب ہوتی ہے اور ان اداروں کے قائم کرنے والوں کے حق میں دعائیں کرتی رہتی ہے اور یہ ایسے ادارے ہیں کہ جو صدقہ جاریہ میں شمار ہوتے ہیں یعنی ان اداروں سے جو لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں وہ قائم کرنے والے کے حق میں دعا کرتے ہیں اور اس کااجرو ثواب مرنے کے بعد بھی اس شخص کو ملتاہے اوراس کے نامہ اعمال میں لکھا جاتا ہے ۔ہمدردی اور احترامِ انسانیت جس کا ہمارا دین مطالبہ کرتا ہے ، وہ ایک معاشرتی اصلاح کا کامیاب نسخہ ہے، جس کی بدولت معاشرے کے افراد ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں جس کے نتیجے میں ایک اسلامی وفلاحی معاشرہ تشکیل پاتا ہے اور امن وسکون کا گہوارہ بن جاتا ہے۔بقول شاعر مشرق علامہ محمداقبال،
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
حضور رحمت دو عالم نے انسانوں کو باہمی ہمدردی اور خدمت گزاری کا سبق دیا۔ طاقتوروں کو کمزوروں پر رحم و مہربانی اور امیروں کو غریبوں کی امداد کرنے کی تاکیدو تلقین فرمائی۔مظلوموں اور حاجت مندوں کی فریا درسی کی تاکید فرمائی۔یتیموں، مسکینوں اور لاوارثوں کی کفالت اور سر پرستی کا حکم فرما یا ہے۔
خدمت خلق وقت کی ضرورت بھی ہے اور بہت بڑی عبادت بھی ہے۔ کسی انسان کے دکھ درد کو بانٹنا حصولِ جنت کا ذریعہ ہے۔ کسی زخمی دل پر محبت و شفقت کا مرہم رکھنا اللہ کی خوشنودی کا ذریعہ ہے۔کسی مقروض کے ساتھ تعاون کرنا اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کوحاصل کرنے کاایک بڑا سبب ہے۔ کسی بیمارکی عیادت کرنا مسلمان کا حق بھی ہے اور سنت رسولؐ بھی ہے۔کی بھوکے کو کھانا کھلانا عظیم نیکی اور ایمان کی علامت ہے۔دوسروں کے کام آنا ہی اصل زندگی ہے، اپنے لئے تو سب جیتے ہیں، کامل انسان تووہ ہے ،جو اللہ کے بندوں اور اپنے بھائیوں کیلئے جیتا ہو۔ علامہ اقبال کے الفاظ میں،
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسروں کے
دوسروں کو نفع پہنچانا اسلام کی روح اور ایمان کا تقاضا ہے۔ ایک اچھے مسلمان کی یہ خوبی ہے کہ وہ ایسے کام کرتا ہے جو دوسرے انسانوں کے لئے فائدہ مند ہوں۔ اس نیکی کے ذریعے صرف لوگوں میں عزت واحترام ہی نہیں پاتابلکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی درجات حاصل کرلیتا ہے۔ پس شفقت و محبت، رحم و کرم، خوش اخلاقی، غمخواری و غمگساری خیرو بھلائی، ہمدردی، عفو و درگزر، حسن سلوک، امداد و اعانت اور خدمت خلق! ایک بہترین انسان کی وہ عظیم صفات ہیں کہ جن کی بدو لت وہ دین و دنیا اور آخرت میں کامیاب اور سرخرو ہو سکتا ہے۔
خدمت خلق کسی ایک صورت میں محدود نہیں ہے بلکہ اس کی بے شمار صورتیں ہیں۔ مثلا، پیار و محبت کے ساتھ اچھے اسلوب میں بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔ اپنے کارو بار اور زراعت وغیرہ میں کسی دوسرے کو شریک کرنا۔کسی کو اچھا و نیک مشورہ دیناجس سے مشورہ کرنے والے کا بھلا ہو۔کسی بیمار کا علاج کرادینا۔کسی بھوکے پیاسے کو کھانا کھلادینا و پانی پلادینا۔کسی غریب کی مادی و معاشی مدد کردینا۔ یتیموں و غریبوں کی شادی کرادینا۔ اسباب فراہم کردینا ۔کسی حاجت مند کو بنا سود کے قرض دینا۔کوئی سامان کچھ مدت کے لیے ادھار دینا۔کسی کو تعلیم دلا دینا۔ننگے بدن کو لباس فراہم کرنا۔ درخت اور پودا لگا دینا جس سے انسان و حیوان فائدہ اٹھائیں۔کسی زخمی کی مدد کردینا۔کسی بھولے بھٹکے کو راستہ بتادینا۔کسی مسافر کی مدد کردینا۔کسی کی جائزسفارش کے ذریعہ کوئی مسئلہ حل کردینا۔کسی کا کام کرنے کیلئے اس کے ساتھ جانا۔ کسی کو گاڑی کے ذریعہ اس کے گھر یا منزل مقصود تک پہنچا دینا۔اپنے کام کے ساتھ دوسرے کا بھی کام کر دینا۔مثلا اپنا سامان خریدنے گئے دوسرے کا سامان بھی لیتے لائے۔کسی مظلوم کا حق دلا دینا۔راستہ سے تکلیف دہ چیزکا ہٹا دیناوغیرہ ،غرض یہ کہ خدمت خلق کی بے شمار صورتیں ہیں ۔یہاں یہ چیز قابل ذکر ہے کہ خدمت خلق صرف مال و دولت کے ذریعہ نہیں ہوتا ہے۔ہاں جہاں مال و دولت خرچ کرنے کی ضرورت ہو وہاں مال خرچ کرنا ہی افضل ہے۔ اور یہ عمل صرف مالداروں کیلئے خاص نہیں ہے بلکہ ایک غریب آدمی بھی یہ کام کر سکتا ہے۔ جیسا کہ خدمت خلق کے تحت ذکر کیے گئے کاموں سے واضح ہے۔بیوہ‘ یتیم‘ نادار‘ مفلس اور معذور افراد وہ لوگ ہیں جن کے طفیل‘ اللہ تعالیٰ ہمیں رزق دیتا ہے۔ نوازتا ہے‘ برکت اور رحمت نازل کرتا ہے جن گھروں میں ایسے لوگ بستے ہیں اور جو لوگ ایسے افراد کی دیکھ بھال کر ر ہے ہیں اہل نظر کی نگاہ میں وہ عظیم لوگ ہیں۔خدمت خلق ایک مقدس جذبہ ہے جس کی تحریک کیلئے کسی رہبر کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہ تو دل کا سودا ہے اور رضاکارانہ طور پر کیا جاتا ہے۔ ایک رضا کار دل سے عہد کرتا ہے کہ وہ دکھی انسانیت کی خدمت کے لئے ہر ممکن کوشش کریگا۔ وہ مخلوق کی خدمت کرتے ہوئے تھکتا نہیں ہے۔ بیزار نہیں ہوتا۔ دکھاوے اور نمائش سے کوسوں دور بھاگتا ہے۔ ایسے لوگ دل میں خوف خدا لئے دکھی انسانیت کی خدمت کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی وجہ سے ہی دنیا خوبصورت ہے۔ محتاجوں کے کام آنا‘ بھوکے کو کھانا کھلانا‘ اپاہجوں اور یتیموں کی سرپرستی کرنا‘ یہ وہ نیکیاں ہیں جو امن و آشتی اور انس و الفت کے پھول بکھیرتی ہیں۔ اور دلوں کو تسکین دیتی ہیں۔اللہ سے دعا ہے کہ وہ دنیا کے تمام مسلمانوں کو اسلام کی اس اہم تعلیم پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے