Voice of Asia News

پاکستان میں تعمیرات کی صنعت ترقی کے سفر پر گامزن:محمد قیصر چوہان

بین الاقوامی سطح پر اس امر کو تسلیم کر لیا گیا ہے کہ تعمیرات کی صنعت کسی بھی ملک کے لیے ترقی کا پیمانہ ہے اس کو مثال کے ذریعے واضح کیا جا سکتا ہے دوسری عالمی جنگ کے بعد جب یورپ تباہ ہو چکا تھا اور یورپی ممالک کی معیشتیں دم توڑ چکی تھیں۔ قریہ قریہ، شہر بہ شہر ملبے کا ڈھیر بن چکے تھے یورپ نے ہاؤسنگ اور انفرااسٹرکچر منصوبوں کو اولین ترجیحات میں رکھا۔ جس کے نتیجے میں دوسری عالمی جنگ سے قبل دو سو سالوں میں اتنی ترقی نہیں ہوئی جتنی گزشتہ50برسوں میں ترقی ہوئی۔ اس بارے میں برطانیہ کے ایک رہنما سرونسٹن چرچل نے کہا تھا ’’ہم بلڈنگ بناتے ہیں اور بلڈنگز قوم کو بناتی ہیں۔‘‘
گھربنانا ایک بہت بڑا کام ہے چاہے اس کا بجٹ چھوٹا ہو یا بڑے حجم کا ہو، لیکن آرکٹیکٹ کے لیے ایک لگژری گھر بنانا مشکل کام ضرور ہوتا ہے اگر بڑا بجٹ ہے تو پھر آپشنز بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ خدوخال اگر روایت کے ساتھ جڑے ہوں اور جدید جدت کاری بھی ہو تو سب کنٹریکٹرز کی بھی زیادہ ضرورت ہو گی۔ اس میں حاصلات ہی اس کے نتیجے پر اثرات مرتب کرتے ہیں۔ معیار کس طرح کا ہے ڈیزائن میں جمالیات کا کتنا عمل دخل ہے۔ اس کے کتنے ہنر مندوں اور پروفیشنلز کی ضرورت ہے جو آپ کو فیصلے کرنے میں مددگار ہوں۔ اگر ہم آرکیٹکچر کو لیں تو یہ بات ظاہر ہوتی ہے اور اس کا مفہوم کچھ یوں بنتا ہے کہ جدید آرکیٹکچر عام طور پر سادہ ہیت، اسٹرکچر پر تخلیق کئے جانے والی زیبائش و نقش و نگار عمارت کا نفس موضوع یعنی ’’تھیم‘‘ کے تصور کو کہتے ہیں۔وسیع تر پس منظر میں ابتدائی جدید آرکیٹکچر 20ویں صدی کے اوائل میں ظہور پذیر ہوا۔ تاہم اس ڈیزائن اور ٹیکنالوجی دونوں کی آمزیش اور جدید معاشرت کے نئے رہن سہن کے رجحانات نے آرکیٹکچر کو ایک تازہ رُخ دیاہے ۔
پاکستان میں تعمیرات کا شعبہ بھی کسی سے پیچھے نہیں اس کا اندازہ پاکستان میں تعمیر کی جانے والی بعض خوبصورت عمارات کو دیکھ کر بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ہم آرکیٹکچر کی جمالیات اور انجینئرنگ کے کمالات میں کس قدر پیش رفت کر چکے ہیں۔ تعمیرات کی صنعت میں ترقی کا سفر نہایت سرعت کے ساتھ جاری ہے۔ صرف چند عشروں کے دوران رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں ملکی اور عالمی سطح پر جو غیر معمولی ترقی دیکھنے میں آئی ہے وہ آنے والے دور کی حیرت انگیز تخلیقات کی جانب سے ایک واضح اشارہ ہے۔
تعمیرات کی صنعت میں پاکستان نے عالمی سطح پر اپنی پیشہ وارانہ مہار تخلیقی صلاحیتیں اور منفرد ہنر مندی کی بدولت ایک اعلیٰ مقام پیدا کیا۔ بحریہ ٹاؤن کے سربراہ ملک ریاض سمیت عمدہ اور مستحکم کاروباری ساکھ کی شہرت یافتہ تعمیراتی کمپنیوں نے گزشتہ کچھ عرصے سے رہائشی منصوبوں کا اعلان کیا جن کے اشتہار اور دستاویزی فلمیں بھی عوام دیکھ رہے ہیں۔ یہ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان میں تعمیرات کی صنعت اب ترقی کے سفر پر گامزن ہو گئی ہے۔ ہر کوئی ایسی رہائشی تعمیرات کو پسند کرتا ہے جو دلکش ڈیزائن کی مثال ہو۔ عوامی پارکس، کالج کے احاطے، شاپنگ سینٹرز، گالف کورسز،پارکنگ ایریاز اور صنعتی پارک بڑے منظم اور دلکش انداز میں ماسٹر پلان میں دکھائے گئے ہوں تاکہ لینڈاسکیپ آرکیٹکٹس انجینئرز اور دیگر ماہرین شامل ہوں یہ کام ان ملکوں میں ہوتا ہے جہاں کی آبادی قدرے خوشحال ہو اور ان کے شہری جمالیات سے آشنا ہو۔ ان کے حکمران شہریوں کو سہولتیں فراہم کرنے کیلئے کمیٹڈ ہوں۔ ایسے ملکوں میں انجینئرز، بلڈرز، ڈویلپرز اور لینڈ اسکیپ آرکیٹکٹس رہائشی تعمیرات اور شہر کی کھلی جگہوں کی تزئین و آرائش کرتے ہیں۔ پاکستان کے بڑے شہروں میں عوام سلفر اور دھواں کے اخراج سے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں کیونکہ بڑے شہروں کی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ اس قسم کے موضوع سخن کا مقصد یہ ہے کہ لوگ آگاہ ہوں کہ زندہ رہنے کیلئے آس پاس کی خوبصورتی کتنی ضروری ہے اور خوشحالی سماجی انصاف اور برابری کا نظام اس قسم کے ماحول کیلئے بنیادی عناصر ہیں۔ لینڈ اسکپ آرکیٹکچر کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ رہائشی تعمیرات اور شہر کو اس طرح ڈیزائن کرے کہ وہ قدرتی حسن میں اضافہ کرے نہ کہ قدرتی جمال کو ماند کر دے۔ اس طرح کے ڈیزائن کیلئے عمارتوں کے لیے جگہوں کی منصوبہ بندی اولین کام ہوتا ہے یہ نہیں اراضی پر قبضہ کر کے جہاں مرضی آئے عمارت کھڑی کر دی جائے۔
شہری میونسپل منصوبہ سازوں کو علم ہونا چاہیے کہ کیسی سڑکیں بنائی جائیں کتنی کشادہ ہوں۔ چلنے والوں کیلئے راستے استوار کئے جائیں تاکہ انہیں سڑک پار کرنے میں کوئی تکلیف نہ ہو۔ ہمارے ہاں ٹریفک جام پر لکھا تجزیہ کیا ہے لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ مختلف ملکوں میں ٹرانسپورٹ پالیسی کے تحت شہر کو کس طرح انسانوں کی بود باش کیلئے ڈیزائن کیا جاتا ہے۔ قطار اندر قطار پھولوں کی کیاریاں فٹ پاتھوں کے ساتھ بنائی جاتی ہیں۔ اس کے لیے میونسپل ادارے، حکومتیں سماجی کارکنان، ماہرین اور شہریوں کو علم ہونا چاہیے۔ کہ تجارتی و رہائشی تعمیرات اور شہر کو ماسٹر پلان کے تحت کس طرح بنانا چاہیے درختوں کے جھنڈ شہر میں اس قدر ہونے چاہئیں کہ شہر جنگل کے اندر منگل کا ماحول پیش کریں۔ تاکہ آسمان کی رنگت بھی گدلی نہ ہو بلکہ نیلی ہو، تاریخی اور قدرتی وسائل کو محفوظ رکھا جائے۔ شہر کے بد نما حصوں کو لینڈ اسکیپ آرکیٹکٹس ازسر نو ڈیزائن کر کے پیش منظر اور پس منظر دونوں کو خوبصورت ڈیزائن سے آراستہ کریں۔ باہر کے ملکوں میں میونسپل افسران اور رئیل اسٹیٹ کمپنیاں لینڈ اسکیپ آرکیٹکٹس کو اہمیت دیتی ہیں جو اپنی تکنیکی ہنر مندی سے تحقیق، منصوبہ بندی، ڈیزائن کے ذریعے قدرتی حسن اور تعمیرات کو ہم آہنگ کرتے ہیں۔ لینڈ اسکیپ آرکیٹکٹس قدرت اور انسانی بنائے گئے انروائرمنٹ کے درمیان توازن پیدا کرتے ہیں۔ یہ ایک واحد بلڈنگ کو شہر کی مجموعی خوبصورتی کے ساتھ جوڑ کر عمارت ڈیزائن کرتے ہیں۔ ازل سے آج تک دنیا بھر میں معماروں نے انوکھی تعمیرات بنا کر انسانی ذہن کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ ڈیزائن میں کلچر کے نمائندگی شہروں دیہاتوں کے ڈیزائن میں مرکزی خیال ہوتا ہے۔ لینڈ اسکیپ آرکیٹکٹس اراضی کے غلط استعمال کے راستے میں رکاوٹ ہوتے ہیں اور فزیکل کلچر کے حامی ہوتے ہیں۔
ڈیزائن میں جنگل میں ویرانے بھی ہوتے ہیں تاکہ لوگ قدرتی ماحول میں آرام کریں لینڈ اسکیپ آرکیٹکٹس قومی، علاقائی اور مقامی ثقافت اُجاگر کرتے ہیں اور ان کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ انہیں یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ اراضی کو کتنا مختص کیا جائے، پانی کے وسائل کس قدر ہیں۔ پھر شہرکی ترقی کے تصور و لینڈ اسکیپ آرکیٹکٹس شہری ماہرین، انجینئرز اور سائنسدانوں کے ساتھ مل کر سڑکیں اور عمارات تعمیرکرتے ہیں اس میں یہ بھی دیکھتے ہیں کہ آب و ہوا کیسی ہے نکاسی آب نکالنے کی کس قدر گنجائش ہے۔ زرعی اراضی کو شہروں کے بھینٹ نہ چھڑایا جائے۔ عالمی بینک کی ہدایت پر شہر کشادہ نہ کئے جائیں۔ تاکہ ان کی گاڑیاں لیزنگ پر لوگ نہ لیں اور پیٹرول ڈیزل کی قیمتوں کو اتنا بڑھایاجائے تاکہ ملٹی نیشنلز کمپنیوں کافائدہ ہو۔ بلکہ نئی بستیاں اور شہر آباد کئے جائیں جس سے روز گار میں بھی اضافہ ہوا ، اور لاتعداد صنعتیں سرگرم عمل ہوں اور معاشی صورتحال بہتر ہو۔ یہ یاد رہے کہ تعمیراتی پروگرام کے لئے گرافک ڈیزائن بنانا چاہیے تاکہ حتمی ڈیزائن میں ترامیم یا اضافہ آسانی سے ہو سکے۔ یہ بھی دیکھنا ہے کہ گیلی اراضی کو کیسے محفوظ رکھا جائے ، اور تاریخی ورثہ کو خراب نہ کیا جائے۔ آخری منصوبے سے پہلے تمام رپورٹیں اسکیچز، ماڈلز فوٹو گرافر، اراضی کے استعمال کی مطالعاتی دستاویزات اور لاگت کے تخمینے تیار ہوں جسے ریگولیٹری ایجنسی منظور کرے۔ یہ وہ طریقہ ہے جو انسانوں کی بود باش بہتر بناتے ہیں۔
صحت مند اور جدید طرز رہائش کا ہر کوئی خواہش مند ہے۔ پاکستان میں کم لاگتی مکانات، بنگلوز، اپارٹمنٹس کی شدید کمی ہے اور اس کمی کو پورا کرنے کیلئے شہروں کے گردونواح میں اس افراط زر کے دور میں 6سے 9لاکھ روپے کے درمیان کم لاگت کی ہاؤسنگ کا تعمیر کرنا بلڈرز اور ڈیولپرز کا منفرد کارنامہ ہے۔ یہ کارنامہ ہاؤسنگ کے فروغ میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ 20گز یا 5 مرلے کی اراضی پر ایسے بنگلے فراہم کرنا درمیانے اور تنخواہ دار طبقے کے لیے ایک ریلیف ہے۔ مزید برآں ان میں دیدۂ زیب فیملی پارک بھی ہوں، انڈور آؤٹ ڈور کھیلوں کا انتظام بھی ہو تو اس طرح رہائش پذیر خاندان ایک کمیونٹی بن جاتے ہیں جو اپنی سکیورٹی کا مل جل کر انتظام بھی کر لیتے ہیں اس طرح امداد باہمی اور باہمی تحفظ کا احساس بھی اُجاگر ہوتا ہے۔ اب تو یہ بات بھی مشاہدے میں آئی ہے کہ 120گز کے بنگلوز میں سلائیڈرز سے آراستہ واٹر پارک بھی فراہم کئے جاتے ہیں ان میں سوئمنگ پولز کا بھی انصرام ہے تاکہ نوجوانوں میں جسمانی کلچر کا فروغ ہو۔ مزیدبراں بڑی عمر بلکہ ہر عمر کے افراد کے چلنے پھرنے کی گنجائش بھی پیدا کی گئی ہے۔ آج کے دور میں اس قسم کے بنگلوز کی خریداری میں 20ہزار روپے ماہانہ پانے والا تنخواہ دار طبقہ کوشش کر سکتا ہے کہ وہ خرید کر اپنے چھت کے تلے رہ کر بہت سی ذہنی مشکلات سے بچ سکتا ہے البتہ 30 ہزار روپے سے زائد تنخواہ دار طبقہ ایک کے بجائے دو بنگلے بھی خرید کر مزید کشادگی کا حصول آسان بنا سکتاہے۔
پاکستان کے بڑے شہروں میں بسنے والے پروجیکٹس عوام میں مقبولیت کے بام افق کو چھو کر وقت سے پہلے فروخت ہو رہے ہیں۔ کم لاگتی، بنگلوز ار اپارٹمنٹس میں رہائشی ایک ایسی کمیونٹی بنا سکتے ہیں جو بھائی چارے کی مثالی فضا قائم کر سکتی ہے اس بھائی چارے اور اتفاق سے وہ بہت سی سماجی، اقتصادی اور دیگر مسائل کو بخوبی حل کر سکتے ہیں۔ جدید رہائش میں ماحول دوستی کو اولیت دی جاتی ہے اور جن ملکوں میں انتہائی موسم ہوتے ہیں وہاں کولنگ ہیڈنگ کے علاوہ صاف پانی، ویسٹ مینجمنٹ اور روشنیوں کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ نشاۃ الثانیہ کے دور میں معنوی میں تبدیلی آئی۔ پہلے مذہب کی علاقات وخدوخال کا بڑا خیال رکھا جاتا تھا۔اب تعمیرات میں افراد یا انسانوں کی بہتر زندگیوں کا خیال رکھا جانے لگا ہے۔ چنانچہ دنیا میں جدید رہائش کے کارہائے نمایاں کے نئے سنگ میل طے ہوئے ہیں۔ یہ بھی قابل تعریف امر ہے کہ انفرادیت پسندی کے باوجود آرٹسٹ، آرکیٹکٹ اور انجینئر میں کوئی فرق روا نہیں رکھا گیا ہے اب یہ تینوں مل کر بہترین تعمیراتی منصوبے پیش کرتے ہیں۔ دنیا میں اب فلک بوس عمارتوں میں ان گنت ہنر مندوں نے حصہ لیا ہے اور لیتے ہیں۔ اسی لیے سڈنی کا اوپیرا دور سے محو رقص نظر آتا ہے اسی لیے انسانی ہاتھوں کی ہنر مندی ہی تعمیرات کی شان ہے۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے