Breaking News
Voice of Asia News

دین اسلام میں جانوروں کے حقوق:محمد قیصر چوہان

اسلام ایک مکمل دین ہے، اسلام نے انسانوں کو زندگی گزارنے کا طریقہ سکھایاہے ۔اسلام ہی نے انسان کو حقوق بتائے کہ اگر وہ مرد ہے تو اس کی بیوی کا اس پر کیا حق ہے؟ اس پر اس کی اولاد کے کیا حقوق ہیں؟ اسی طرح اسلام ہی وہ مذہب ہے جس نے صنف نازک کو اس کا اصل حق عطا کیا، اسلام ایک جامع وکامل مذہب ہے، اسلام دین فطرت ہے، اس کا پیغام امن و آشتی اور محبت کا پیغام ہے، اور رحمتِ کریمی صرف انسانوں تک محدود نہیں، ہر ذی روح تک محیط ہے۔ اس کے فیوض و برکات نے جہاں عالم انسانیت کو سیراب کیا، وہیں بے زبان جانوروں کو بھی اپنی رحمت بے کراں سے مالامال کیا۔ زمانہ جاہلیت میں اہلِ عرب جانوروں کے ساتھ نہایت وحشیانہ سلوک کرتے تھے۔ نزولِ اسلام کے بعد گویا ان بے زبان جانوروں کو بھی جائے اماں ملی۔ اللہ ربّ العزت اور محسن انسانیت، حضرت محمدمصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حقوق متعیّن کرکے رہتی دنیا تک انہیں تحفظ فرما دیا اور ان سے بدسلوکی کرنے والوں کو دوزخ کے عذاب کی وعید سنائی۔ جانوروں کی اہمیت اور ان کی خصوصیات بیان کرنے کے لیے یہی کافی ہے کہ قرآن کریم میں اللہ جل شانہ نے دو سو آیات میں جانوروں کا ذکر فرمایا ہے، جب کہ کچھ سورتوں کے تونام ہی جانوروں کے نام پر ہیں۔ جیسے سورۃ البقرہ (گائے)، سورۂ نحل (شہد کی مکھی)، سورۂ نمل (چیونٹی)، سورۂ عنکبوت (مکڑی)، سورۂ فیل (ہاتھی)۔قرآن کریم میں35جانوروں کا ذکر آیا ہے۔ پرندوں میں بٹیر، ہدہد، کوّے کا۔ آبی جانوروں میں وہیل مچھلی، مینڈک کا۔ پالتو جانوروں میں گائے، بکرے، بھیڑ، اونٹ، گدھے، خچر، کتّے اور گؤسالہ (بچھڑے)کا۔ جنگلی جانوروں میں شیر، ہاتھی، بندر، سوّر، اڑدھے کا اور حشرات میں مچھر، مکّھی، مکڑی، تتلی، ٹڈی، چیونٹی، شہد کی مکّھی وغیرہ۔ قرآنِ کریم میں حقیر جانوروں کا ذکر کرنے پر کچھ کفار نے اعتراض بھی کیا، جس پر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا۔ ترجمہ: ’’بے شک اللہ اس بات سے نہیں شرماتا کہ (سمجھانے کے لیے) کوئی بھی مثال بیان فرمائے، (خواہ) مچھر کی ہو یا (ایسی چیز کی جو حقارت میں) اس سے بھی بڑھ کر ہو، تو جو لوگ ایمان لائے، وہ خوب جانتے ہیں کہ یہ مثال ان کے رب کی طرف سے حق (کی نشان دہی) ہے۔‘‘ (سورۃالبقرہ)۔ اللہ رب العزت نے دنیا میں کوئی بھی شے بلامقصد پیدا نہیں کی۔ اسی طرح جانوروں سے حاصل ہونے والے فوائد و خصائص کو قرآن کریم میں یوں بیان فرمایا گیا۔ ترجمہ: ’’اسی نے چوپائے پیدا کیے، جن میں تمہارے لیے گرمی کے لباس ہیں اور بھی بہت سے منافع ہیں اور بعض تمہارے کھانے کے کام آتے ہیں اور ان میں تمہاری رونق بھی ہے۔ جب چَرا کر لاؤ، تب بھی اور جب چَرانے لے جاؤ، تب بھی اور وہ تمہارے بوجھ ان شہروں تک اٹھالے جاتے ہیں، جہاں تم زحمتِ شاقہ کے بغیر پہنچ ہی نہیں سکتے۔ کچھ شک نہیں کہ تمہارا رب بڑا ہی شفیق اور نہایت مہربان ہے اور اسی نے گھوڑے، خچّر اور گدھے پیدا کیے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور (وہ تمہارے لیے) رونق و زینت (بھی ہیں)۔ (سور? النحل)۔ حضور نبی کریمؐنے بعض جانوروں کی مخصوص صفات اور منفرد خوبیوں کی وجہ سے ان کے ساتھ بہتر سلوک کا حکم فرمایا۔ گھوڑے کے متعلق فرمایا۔ ’’گھوڑے کے ساتھ قیامت کے دن تک خیر وابستہ ہے۔‘‘ (مسلم)۔ مرغ کے بارے میں فرمایا ’’مرغ کو گالی نہ دو، کیوں کہ وہ نماز کے لیے اٹھاتا ہے۔‘‘ (ابوداؤد)

جانوروں کا حقِ خوراک:جانوروں کا سب سے پہلا حق یہ ہے کہ ان کے چارے، دانے، غذا اور پانی کا خیال رکھیں۔ انسان کچھ جانور اور پرندے شوق کی خاطر پالتا ہے، تو کچھ دودھ، گوشت وغیرہ کے لیے اور کچھ آمدورفت کیلئے۔ ہر جانور کو ویسا ہی چارہ یا دانہ دیا جائے، جیسا وہ کھاتا ہے۔ جانور کو بھوکا رکھنے کا مطلب خدا کے غضب کو دعوت دینا ہے۔ حضرت عبداللہ بن جعفرؓروایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے باغ میں تشریف لے گئے، جہاں ایک اونٹ بندھا ہوا تھا۔ اونٹ نے جب حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، تو اس نے بلبلا کر غم ناک آواز نکالی اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ آپؐ اس کے پاس تشریف لے گئے اور شفقت سے اس کی دونوں کنپٹیوں اور کوہان پر ہاتھ پھیرا۔ پھر آپؐ نے دریافت کیا کہ یہ اونٹ کس کا ہے؟ ایک انصاری آگے آیا اور بولا۔ ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ میرا ہے۔‘‘ آپؐ نے فرمایا ’’اس بے زبان جانور کے بارے میں اللہ سے ڈر، جسے اللہ نے تیرے اختیار میں دے رکھا ہے، یہ اونٹ اپنے آنسوؤں اور اپنی آواز کے ذریعے مجھ سے تیری شکایت کررہا ہے۔‘‘حضرت ابن عمرؓاور حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسولؐ نے فرمایا کہ ’’ایک عورت کو اس لیے عذاب دیا گیا کہ اس نے ایک بلّی کو قید کرکے رکھا ہوا تھا، وہ اسے غذا دیتی اور نہ اس کو ا?زاد کرتی تھی۔ یہاں تک کہ وہ بھوک سے مرگئی۔‘‘ (بخاری)۔
جانوروں پر رحم کرنا:جانوروں کا ایک حق یہ ہے کہ ان پر رحم کیا جائے، ان کے گھونسلوں کو نہ توڑا جائے، پرندوں کو بلاضرورت نہ پکڑا جائے، پرندوں کے گھونسلوں سے ان کے انڈوں اور بچّوں کو نہ نکالا جائے، پرندوں پر رحم نہ کھانا، ظلم، زیادتی اور گناہ ہے، جس پر عذاب کی وعید ہے۔ حضرت عامرؓبیان کرتے ہیں کہ ’’ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک کمبل پوش شخص آیا، اس کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی، جو کمبل میں چھپی ہوئی تھی۔ اس نے کہا۔ ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں گھنے جنگل سے گزر رہا تھا، وہاں میں نے پرندوں کی آوازیں سنیں، تو ان کے گھونسلوں سے ان کے بچّوں کو پکڑ کر اپنے کمبل میں چھپالیا، ان بچوں کی ماں میرے سر پر منڈلانے لگی، میں نے کمبل کھولا، تو وہ بھی کمبل کے اندر اپنے بچّوں کے پاس آگئی، لہٰذا میں نے اسے بھی چھپالیا۔ اب وہ بھی میرے کمبل میں موجود ہے۔‘‘ حضورؐنے اس کی بات سن کر فرمایا۔ ’’ان سب کو نیچے رکھو۔‘‘ اس نے سب کو کمبل سے نکال کر سامنے رکھ دیا، تو بچوں کی ماں بے قراری کے ساتھ بچوں کے گرد طواف کرنے لگی اور فرطِ محبت سے انہیں چمٹانے لگی۔ یہ دیکھ کر حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’تم لوگ ماں کی اپنی بچوں کے ساتھ محبت پر حیران ہورہے ہو، اس ربِ کائنات کی قسم، جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، وہ رب اپنے بندوں کے ساتھ اس ماں سے کہیں زیادہ مہربان ہے۔‘‘ پھر اس شخص سے فرمایا۔ ’’جاؤ، ان بچوں کو ان کی ماں کے ساتھ وہیں چھوڑ آؤ، جہاں سے لائے ہو۔‘‘ (ابو داؤد)۔
اللہ تعالیٰ نے زمین، آسمان اور ساری چیزوں کو عظیم مقصد کے ساتھ وجود بخشا ہے انسان کو صرف اپنی عبادت و بندگی کیلئے پیدا فرمایا ہے اور انسانوں کے فائدہ کیلئے د نیا اور اس کی ساری چیزوں کو پیدا کیا ہے اور دنیا کو طرح طرح کی مخلوقات سے خوب بنایا اور سنوارا ہے، قسم قسم کے حیوانات (چرند اور پرند) بھی اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا فرمایا ہے، یہ حیوانات انسانوں کیلئے بہت ہی کارآمد ہیں، ان سب سے ہم انسانوں کی بہت سی ضروریات پوری ہوتی ہیں، کچھ جانوروں سے گرم لباس و کپڑے (کمبل، شال، ٹوپی، خیمہ اور ڈیرے) چرمی جوتے و چپل اور طرح طرح کے بہت سے چرمی سامان (کوڑا، موزہ، بیگ وغیرہ) حاصل ہوتے ہیں، کچھ جانور کھیتی، سواری اور باربرداری کے کام آتے ہیں کچھ سے دودھ، دہی، مکھن، گھی، پنیر، گوشت اور بہت سی مفید چیزیں نصیب ہوتی ہیں در حقیقت دنیا میں موجود بہت سے جانوروں میں ہم انسانوں کیلئے فائدہ ہی فائدہ ہے اور ہمیں ان سے آرام ہی آرام ملتا ہے۔کتاب ہدایت قرآن مجید کی متعدد سورتوں (خاص طور سے سورۃالال عمران۔14، سورۃ الانعام۔142 سورہ نحل: 80، سورۃحج۔ 30، سورہ مومنون۔21، سورہ غافر۔79 اورسورہ زخرف:12) کی آیات میں جانوروں سے وابستہ ہیں‘ ان ساری حقیقتوں کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے، ارشاد الٰہی ہے کہ ’’ اور چوپائے (جانور) بھی اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا فرمایا ہے ان میں تمہارے لئے گرم لباس بھی ہے اور (بے شمار دوسرے) فائدے بھی ہیں، اور ان میں سے تم کھاتے بھی ہو اور ان کی وجہ سے تمہاری شان بھی ہے، اور وہ تمہارے بوجھ بھی اٹھاتے ہیں، اور گھوڑے خچر اور گدھے کو (اللہ تعالیٰ ہی نے تمہارے لئے پیدا فرمایا ہے) تاکہ تم ان پر سوار ہو اور یہ جانور (تمہارے لئے) باعث زینت بھی ہیں‘‘۔ (سورہ نحل: 7،5 مختصراً) اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو ہم انسانوں کیلئے مسخر کردیا ہے اور ہمیں ان پر پورا قبضہ اور تصرف عطا فرمایا ہے، ان کو ہمارے تابع فرمان کردیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ حقیقت نہایت موثر اور بلیغ انداز میں یوں بیان کی ہے کہ’’ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے اپنے ہاتھوں بنائی ہوئی چیزوں میں سے ان (انسانوں) کیلئے چوپائے (بھی) پیدا کئے ہیں، جن کے یہ مالک ہیں اور ان چوپایوں کو ہم نے ان کا تابع بنادیا ہے، جن میں سے بعض تو ان کی سواریاں ہیں اور بعض کے گوشت (یہ انسان) کھاتے ہیں اور پینے کی چیزیں‘‘۔ (سورہ یٰسین: 71۔73)۔دنیا میں موجود سارے حیوانات اللہ تعالیٰ ہی کی مخلوق ہیں، دنیا میں ان کا وجود اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے، دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی رحمت و نعمت کا مظہر ہے اور ہم انسانوں کیلئے منفعت، سہولت اور زینت کا باعث ہے، اللہ تعالیٰ نے مختلف اہم موقعوں پر ان بے زبان مخلوق سے بڑے بڑے کام لئے ہیں اور ان سے اپنی قدرت مطلقہ کا یقین و اعتماد ہم انسانوں کو ان جانوروں کے ذریعہ اہم امور (خاص طور سے دفن وغیرہ کا طریقہ) کی تعلیم دی ہے، حقیقت میں یہ جانور ہماری ضروریات کی تکمیل میں ہم انسانوں کیلئے لازم و ملزوم ہیں، اس لئے اسلام نے جس طرح ہم انسانوں کی ایذا رسانی کو شرعی جرم قرار دیا ہے اسی طرح جانوروں کی ایذاء رسانی کو بھی مذہبی گناہ کہا ہے، اور اسلام میں جس طرح انسانوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا ثواب کا کام ہے اسی طرح جانوروں، پرندوں اور چوپایوں کیساتھ بہتر سلوک کرنااجروثواب کاموجب ہے، کتاب و سنت میں اس سلسلہ میں بہت سی روشن تعلیمات اور واضح ہدایات موجود ہیں چنانچہ رحمان و رحیم اللہ تعالیٰ نے ان تمام جانوروں کو بھی ہم انسانوں ہی کی طرح جماعت و گروہ قرار دیا ہے۔ چنانچہ ارشاد الٰہی ہے کہ ’’ زمین کے جانور اور ہوا کی چڑیاں بھی تمہاری ہی طرح ایک امت ہیں‘‘۔ (سورہ الانعام: 38) اس بناء پر یہ جانور بھی رحم و کرم اور شفقت و ہمدردی کے مستحق ہیں نیز ان جانوروں کے حقوق کا تذکرہ قرا?ن مجید کی مختلف سورتوں(ہود:56، عنکبوت: 60، طہٰ: 54، نازعات:33، سجدہ:27 اور یونس:24) کی آیات کریمہ میں موجود ہے چنانچہ حضرات محدثین رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنی مشہور کتابوں میں ان کے حقوق کو خاص خاص ابواب کے تحت بہت ہی اہتمام کے ساتھ بیان فرمایا ہے، ان میں سے چند قابل ذکر حقوق درج ذیل ہیں۔ ان جانوروں کا سب سے اہم حق یہ ہے کہ ہم انسان ان بے زبان جانوروں کو اللہ تعالیٰ کی مخلوق سمجھیں اور ان کے ساتھ رحم کا معاملہ کریں، کیونکہ اسلام کا یہ طرہ امتیاز ہے کہ یہ آخری دین سراسر پیغام رحمت ہے، رحمان و رحیم اللہ تعالیٰ کے آخری رحمت حضرت محمد ؐنے زمین پر بسنے والی تمام مخلوق کے ساتھ رحم کرنے کا بہت ہی تاکیدی و عمومی حکم ہی مسلمانوں کو یوں دیا ہے کہ’’مسلمانو! تم زمین پر بسنے والی تمام مخلوق کے ساتھ رحم کا معاملہ کرو تو ا?سمان والا (رب العرش) تم پر رحمت فرمائے گا‘‘۔
اسلام دنیامیں لطف ومحبت کاجوعام پیغام لے کرآیاتھااس کاسلسلہ حیوانات تک وسیع ہے، اس نے حیوانات کے ساتھ متعددطریقوں سے سلوک کرنے کی ہدایت کی۔ اہل عرب وحشت اورقساوت کی وجہ سے حیوانات پرطرح طرح کے ظلم کرتے تھے، وہ جانوروں کواندھادھندمارکرگرادیتے تھے اورلوگوں سے کہتے تھے کہ تم ان کوکھاجاؤ، اوراس کوفیاضی سمجھتے تھے، دوآدمی شرط باندھ کرکھڑے ہوجاتے تھے،اورباری باری سے اپنااپناایک اونٹ ذبح کرتاچلاجاتاتھا، جو رک جاتاوہ ہارجاتا، یہ سب جانوردوست احباب کی دعوت میں نذرہوجاتے تھے، یہ بھی فیاضی سمجھی جاتی تھی، ان واقعات کاذکراشعارِعرب میں موجود ہے۔ ایک دستوریہ بھی تھاکہ جب کوئی مرجاتاتواس کی سواری کے جانورکواس کی قبرپرباندھتے تھے اوراس کودانہ، گھاس اورپانی نہیں دیتے تھے، اوروہ اسی حالت میں سوکھ کرمرجاتا، ایسے جانورکوبلیہ کہتے تھے۔ اسلام آیاتواس نے اس سنگ دلی کومٹادیا۔ عرب میں ایک طریقہ یہ بھی تھاکہ جانورکوکسی چیزسے باندھ کراس پرنشانہ لگاتے تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کے جانوروں کے گوشت کوناجائزقرادیااورعام حکم دیاکہ کسی ذی روح چیزکواس طرح نشانہ نہ بنایا جائے۔
اسلام نے جانوروں پر بھی لعن طعن کرنے سے منع کیا ہے۔ابو جری جابر بن سلیمؓ سے ایک طویل حدیث روایت ہے کہ میں نے عرض کیا کہ کچھ وصیت فرمائیں، حضور علیہ السلام نے فرمایا کسی کو بْرا مت کہنا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اس کے بعد کسی کو بْرا نہیں کہا ،نہ آزاد کو، ناغلام کو، نہ اونٹ کو اور نہ بکری کو۔ اسی طرح حضرت عمران بن حصینؓ سے روایت ہے کہ آپ ؐسفر میں تھے، پس آپؐ نے لعنت کی آواز سنی، آپ ؐنے فرمایا یہ کیا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! فلاں عورت نے اپنی سواری پر لعنت کی ہے۔ تو آپ ؐنے فرمایا اس سواری کو چھوڑ دو، اس پر لعنت کی گئی ہے۔ان حادیث سے معلوم ہوا کہ جانوروں پر لعنت کرنا، انہیں گالی دینا، جیسا کہ بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے، شریعت کی نظر میں انتہائی شنیع فعل ہے۔جانوروں کو بے جا تکالیف دینے کے حوالے سے بہت کثرت سے احادیث وارد ہوئی ہیں، جن میں جانوروں کو تکلیف دینے پر وعید آئی ہے اور آپ ؐنے ایسے شخص سے جو جانوروں کو بے جا تکلیف دیتا ہو غصے کا اظہار فرمایا ہے اور بعض جگہ ایسے شخص پر آپؐ نے لعنت بھی فرمائی ہے۔حضرت جابرؓسے روایت ہے کہ رسولؐ نے چہرہ پر مارنے اور چہرے پر داغنے سے منع فرمایا۔ یعنی کسی جانور کے چہرے پر مارنے کو بھی آپ علیہ السلام نے منع فرمایا ہے اور ایک حدیث میں وارد ہے کہ حضور علیہ السلام کے سامنے سے ایک گدھا گزرا اور اس کے چہرے پر نشان لگاہوا تھا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جس نے اس کے چہرے کو داغا۔جانوروں کی آپس میں لڑائی کروانا یہ بھی جانوروں کو تکلیف دینا ہے بعض جگہ اونٹوں کو لڑایا جاتا ہے، کسی جگہ مرغوں کو آپس میں لڑایا جاتا ہے ،جو کہ سخت ناپسندیدہ عمل ہے اور بے زبان جانوروں پر ظلم ہے۔ حضرت ابن عباسیؓ فرماتے ہیں کہ رسولؐ نے جانوروں میں لڑائی کروانے سے منع فرمایا ہے۔ مرغ بازی اور بیٹر بازی اور مینڈھے لڑانا اسی طرح کسی اور جانور کو لڑانا سب اسی ممانعت میں داخل ہے اور یہ سب حرام ہے۔جانوروں کو بھوکا رکھنا اور ان کے کھانے پینے کا خیال نہ رکھنا بھی ظلم ہے، جو موجب عذاب ہے، جیسا کہ پہلے روایت ذکر کی گئی ہے ۔اسی طرح ان پر مشقت سے زیادہ بوجھ ڈالنا بھی گناہ ہے، اس کی ممانعت آئی ہے۔
حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم ؐنے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جوایسی چیز کو نشانہ بنائے جس میں روح ہو۔بعض لوگ محض نشانہ بازی کی مشق کیلئے یا شغل کیلئے جانوروں کو باندھ کے کھڑا کرتے ہیں اور اس پر تیر وغیرہ سے نشانہ بازی کرتے ہیں، اس سے حضور علیہ السلام نے منع کیا اور ایسے شخص پر لعنت کی۔حضرت ابن عمر وابوہریرہؓسے روایت ہے کہ حضرت محمد ؐنے فرمایا کہ ایک عورت کو ایک بلی کے سبب عذاب ہوا تھا کہ اس نے اس کو پکڑ رکھا تھا، یہاں تک کہ وہ بھوک سے مر گئی ،سو نہ تو اس کو کچھ کھانے کو دیتی تھی اور نہ اس کو چھوڑتی تھی کہ حشرات الارض، یعنی زمین کے کیڑے مکوڑوں سے اپنی غذا حاصل کر لے۔کتنی سخت وعید ہے کہ ایک بلی کو تکلیف دینے کی وجہ سے اس عورت کو جہنم کا عذاب ہو رہا تھا، ایک اور روایت میں امام ترمذی ذکر کرتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ میں نے دوزخ میں ایک عورت کو دیکھا، جس کو ایک بلی کے معاملے میں اس طرح عذاب ہو رہا تھا کہ وہ بلی اس کو نوچتی تھی جب کہ وہ عورت سامنے آتی تھی او رجب وہ ہشت کرتی تھی تو وہ بلی اس کے سرین کو نوچتی تھی۔
آج کل اس معاملے میں بہت کوتاہی برتی جارہی ہے، جانوروں سے بے انتہا کام لیا جانا معمول کی بات بن گئی ہے اور ان کی خوراک کا خیال نہیں رکھا جاتا، ہل چلانے والے ،گدھا گاڑی چلانے والے وغیرہ حضرات ان تعلیمات کو غور سے پڑھیں اور اپنے عمل کا جائزہ لیں۔ درمحتار میں بیل اور گدھے سے کام لینے میں یہ شرط لگائی ہے کہ ان سے بغیر مشقت اور مار کے کام لیا جائے۔ ردا ل محتار میں ہے کہ ان جانوروں پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ر کھے اور ان کے سر اور منھ پر نہ مارے۔
اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے جانوروں کو انسان کے لیے مسخر کیا، انسان ان جانوروں سے مختلف فائدے اٹھاتا ہے ،ان میں سے ایک ان پر سواری کا فائدہ بھی ہے، شریعت نے اس کے بھی اصول مقرر کیے ہیں۔او رایک روایت میں وارد ہے کہ جب تم چٹیل میدان خشک زمین پر سفر کرو تو وہاں جلدی سفر کرو ( یعنی آرام سے سفر میں جانور کو تکلیف ہو گی، کیوں کہ خشک زمین پر اس کے لیے چارہ نہیں ہو گا ) اور جب سبزہ زار زمین پر سفر کرو تو جانور کو اس کا حق دو ( یعنی تھوڑا انہیں چارہ کھانے کے لیے چھوڑ دو)۔اور اسی روایت میں ہے کہ تم اپنی سواری کی پشتوں کو منبر مت بناؤ۔ یعنی دوران سفر کسی جگہ پڑاؤڈالا ہو یا کسی سے بات چیت کی غرض سے روکنا پڑے تو جانوروں کی پیٹھ سے اترنے کا حکم ہے، کیوں کہ اس طرح انہیں تکلیف ہو گی۔ حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ جب ہم کسی منزل پر پڑاؤ ڈالتے تو اس وقت تک نماز نہ پڑھتے جب تک کہ ہم سواریوں سے کجاوے کو کھول نہ دیتے۔
بلا ضرورت کسی جانور کے قتل کرنے کو بہت بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ ’’اگر کسی نے چھوٹے سے چھوٹے جانور کو اس کے حق کے بغیر ذبح کیا تو خدا اس کے متعلق اس سے باز پرس کرے گا‘‘۔ صحابہ نے پوچھا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کا حق کیا ہے؟ فرمایا یہ کہ اس کو ذبح کرے اور کھائے، یہ نہیں کہ اس کا سر کاٹ کر پھینک دے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جن جانوروں کا گوشت کھایا نہیں جاتا اور وہ درندہ بھی نہیں، ان کا مارنا جائز نہیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاص طور پر چیونٹی، شہد کی مکھی، ہدہد اور صرد کے مارنے کی ممانعت فرمائی ہے۔جو جانور ضرورتاً مارے یا ذبح کئے جاتے ہیں، ان کے مارنے یا ذبح کرنے میں بھی ہر طرح کی نرمی کرنے کا حکم دیا۔ ایک حدیث میں ہے کہ ا?پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا نے ہر چیز پر احسان کرنا فرض کیا ہے، اس لئے جب تم لوگ کسی جانور کو مارو تو اچھے طریقہ سے مارو اور جب ذبح کرو تو اچھے طریقہ سے ذبح کرو، تم میں ہر شخص اپنی چھری کو تیز کرلے اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم نے تم پر پاک چیزوں کو حلال کیا، اللہ رب العزت نے انسان پر بہت سے جانوروں کا گوشت حلال کیا، انسان ضرورت کے تحت ان جانوروں کو ذبح کرکے کھا سکتا ہے، لیکن اس کے بھی اللہ رب العزت نے کچھ احکامات دیے ہیں اور ذبح کرتے وقت اسلام کا حکم ہے کہ جانور کو کم سے کم تکلیف دی جائے۔
ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص راستہ میں جارہا تھا کہ اس کو سخت پیاس لگ گئی، اتفاق سے اس کو ایک کنواں مل گیا اور اس نے کنویں میں اتر کر پانی پی لیا، کنویں سے نکلا تو دیکھا کہ ایک کتا پیاس سے زبان نکال رہا ہے اور کیچڑ چاٹ رہا ہے، اس نے اپنی پیاس کی شدت کو یاد کرکے اس پر ترس کھایا اور کنویں میں اتر کر پانی لایا اور اس کو پلایا۔ خدا کے نزدیک اس کا یہ عمل مقبول ہوا اور خدا نے اس کو بخش دیا۔ صحابہ کرامؓ نے اس واقعہ کو سناتو بولے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا جانوروں کے ساتھ سلوک کرنے میں بھی ثواب ملتا ہے؟ فرمایا کہ ہر ذی حیات کے ساتھ سلوک کرنا موجب ثواب ہے۔ صرف جان داروں ہی تک نہیں بلکہ نباتا ت تک کی خدمت اور
پرورش کو بھی اجر کا موجب بتایا اور فرمایا کہ جو مسلمان درخت نصب کرتا ہے یا کھیتی باڑی کرتا ہے اور اس کو چڑیا یا انسان یا جانور کھاتا ہے تو یہ ایک صدقہ یعنی ثواب کا کام ہے۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے