Breaking News
Voice of Asia News

پی ٹی آئی اور وزیر اعلیٰ پنجاب خواجہ جمشید امام

مجھے کسی کے تغافل سے کبھی گلہ نہیں ہو ا کہ میں نے عمر بھر جو کیا اپنی سوچ اور نظریے کی سچائی کو سماج کے سامنے لانے کیلئے کیا ۔ زندہ انسان ایک دوسرے سے اختلاف کرتے ہیں اور جس معاشرے میں اختلاف نہیں ہو تا وہ یا تو زندہ لوگوں کا معاشرہ نہیں ہو تا یا پھر عالم ارواح پر یقین کرنا پڑتا ہے۔تحریک انصاف سوشلسٹ انقلاب کے بعد میرا دوسرا عشق ہے اور میں آج بھی سوشلسٹ نظام معیشت کو دنیا کا بہترین نظام سمجھتا ہوں لیکن مجھے جلد ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ مجھے اپنے کام کا طریقہ کار بدلنا ہو گا کہ سوشلسٹ ہرسردیوں میں ایک کم ہو جاتا ہے اوردوسرا اُس کی عمر کو پہنچ جاتا ہے اگلی سردیوں کیلئے سو یہاں انقلاب انقلاب کھیلا تو جا سکتا ہے لایا نہیں جا سکتا ۔ جو انقلابی آپ کو بظاہر دکھائی دیتے ہیں یہ پاکستان پیپلز پارٹی کی بھٹکی ہوئی آتمائیں ہیں جن کو اُن کا عامل چھوڑ کر دنیا سے جا چکا ہے ۔بائیس سال اور چار ماہ کا یہ تھکا دینے والا سفر تکلیف دید ٗپُرخطر ٗ تذلیل آمیز اور قدم قدم پر مکرو فریب کے جالوں سے اٹا پڑا تھا لیکن بلاشبہ عمران خان کی انتھک محنت اوردیانتداری سے اس سماج میں ایک نئی کور نے جنم لے لیا جو پُرامن اور اینٹی کرپشن پاکستان کیلئے سب کچھ قربان کرنے کیلئے تیار ہے ۔ اس طویل سفر میں بہت سے ساتھی ہمیشہ کیلئے بچھڑ گئے جن کی یادیں اور نئے پاکستان کیلئے طویل مکالمے آج بھی ذہن میں منجمند ہیں ٗ کچھ آغاز میں ہی تھک گئے اور کچھ میرے چیئرمین کومردہ گھوڑا کہہ کر واپس آگئے اور پنج ہزاری منصب پر براجماں ہو گئے ۔ عمران خان کے مجھ جیسے فاقے کش ورکر جو کبھی اُس کے شعلہ بیاں مقرر ہوتے تھے پچھلی صفوں میں چلے گئے ۔ انقلاب جن کی ضرورت ہے اب وہ سب جنابِ چیئرمین کی طرف پُر امید نظروں سے دیکھ رہے ہیں کہ چیئرمین نے انہیں کبھی مایوس نہیں کیا ۔
2013 ء کے انٹر پارٹی کی شکست و فتح کے فیصلے کے بعد میں نے زندگی میں پہلی بار عبد العلیم خان کو براہ راست دیکھا اس سے پہلے میری اُن سے کبھی ملاقات نہ تھی اور الیکشن کے بعد بھی ملاقات کی وجہ یہ تھی کہ میں نے داتا گنج بخش ٹاؤن سے عبد العلیم خان اور میا ں محمود الرشید کے امیدواروں کو شکست دے ٹاؤن کا صدر منتخب ہو گیا تھا ۔ اب عبد العلیم خان میرا لاہورکا صدر تھا سو ملاقاتیں ماہانہ سے ہفتہ وارانہ اور روزانہ میں تبدیل ہو گئیں ۔ میں 30 اکتوبر کے جلسے بارے خوب جانتا تھا کہ اُس پر اٹھنے والے اخراجات عبد العلیم خان نے اداکیے ہیں اور جلسہ کی رات فراز چوہدری اور شعیب صدیقی کو میں نے جلسہ گاہ کے انتظامات میں مصروف بھی دیکھا ۔یہ جلسہ تحریک انصاف کے قیام کے تقریبا15 سال بعد وقوع پزیر ہوا اور اُس نے سب کچھ الٹ پلٹ کررکھ دیا ۔ گو مسلم لیگ نون 2013 ء کے انتخابات جیت گئی لیکن ایک انتہائی مضبوط حریف عمران خان کی شکل میں مرکز اور عبد العلیم خان کی صورت میں لاہور کی سیاست میں میاں برادران کے مدمقابل تھا ۔اُس کے بعد عبد العلیم خان نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور ایک طاقتور حریف کی صورت اُس کی فتح کا دائرہ لاہور سے نکل کر سینٹرل پنجاب اور پاکستان کے باہر تک پھیلتا چلا گیا ۔ وہ ایک طرف نون لیگ کے حقیقی مخالفین سے نبرد آزما تھا تو دوسری طرف پارٹی اندر موجود ’’دوستوں ‘‘ کی مہربانی بھی اُس پر حد سے زیادہ تھی لیکن اُس نے اپنے کام سے سب کا منہ بند کردیا ۔ لاہور کے جلسے ہوں یا پھر لاک ڈاؤن ٗ کوئی احتجاج ہو یا پھر کوئی ضمنی الیکشن عبد العلیم خان اپنے دوستوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ ہر جگہ پہنچتا رہا ۔ اللہ نے اُسے وسائل دے رکھے تھے اور اُس نے تحریک انصاف اورچیئرمین کے نظریے پر انہیں قربان کرنے میں کبھی ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں کی ۔اُس نے میاں برادران کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سیاست کی اور ڈنکے کی چوٹ پر اپنا کاروبار بھی کیا ۔ جو لوگ میاں محمد شہباز شریف کو جانتے ہیں وہ یہ بات بھی بخوبی جانتے ہوں گے کہ اپنے حریفوں کو برباد کرنے میں اُن کا کوئی ثانی نہیں اور پھر یہ کام تو اُس وقت اور آسان ہو جاتا ہے جب حریف کرپٹ ہو لیکن شہباز شریف پنجاب میں اپنے 10 سالہ دورِ اقتدار میں عبد العلیم خان کا کچھ بھی تلاش نہ کر سکے ۔ اُس کے پاس ہر محکمے کی رسائی تھی وہ خود ہر چور رستے سے واقف تھا لیکن عبد العلیم خان نے عمران خان کے نظریات کو دل سے قبول کیاتھا اور وہ جانتا تھا کہ اُس کا سب کچھ ریاست پاکستان کے علم میں ہے اِس کے باوجود اُس نے ہمیشہ اپنے آپکو عدالتوں اورمیڈیا کے ہر ٹرائل کیلئے پیش کرنے میں کبھی پس و پیش سے کام نہیں لیا ۔اُس کے انٹرویوز میں جو اینکر اُس کی غیر موجودگی میں یکطرفہ بول کر اپنی دھاک بٹھا لیتے ہیں اُس کی موجود گی میں کھسیانی بلی بن جاتے ہیں ۔اُس کا یک طرفہ میڈیا ٹرائل کرنے والوں کی فہرست بھی طویل ہے لیکن میں ایک بات جانتا ہوں کہ میں نے علیم خان کے ساتھ جتنا وقت گزار ہ ہے میں نے اُسے ایک انسان دوست اور عمرا ن خان کاسچا اور دیانتدار سپاہی پایا ہے ۔ یہ خوبیاں دوسرے بہت سے کارکنوں میں بھی ہوں گی جو ہمیشہ سے عمران کے ساتھ ہیں لیکن وسائل نہ ہونے کی وجہ سے شاید وہ اس بھیٹر میں گم ہو گئے ہیں جن کو تلاش کرنااب چیئرمین تحریک انصاف کی ذمہ داری ہے ۔
میں انتہائی دیانتداری سے لکھ رہاہوں کہ عبد العلیم خان سے میری آخری ملاقات 21 جولائی کو شالیمار باغ کے سامنے ہونے والے انتحابی جلسہ میں ہوئی جہاں میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دے رہا تھا اور چیئرمین تحریک انصاف نے بھی وہاں خطاب کرنا تھا ۔ میں نے عبد العلیم خان سے کہا : ’’ جنابِ صدر این ۔ اے 129 میں آپ وقت نہیں دے پا رہے اگر نتائج توقع کے برعکس ہوئے تو پارٹی کے اندر موجود ’’دیرینہ دوستوں‘‘ کو منہ کھول کر بات کرنے کا موقع مل جائے گا ‘‘۔ عبد العلیم خان نے میری آنکھوں میں جھانکا اور کہا بٹ صاحب آپ میرے بھائی ہیں کوئی دوسرا بندہ شاید مجھ سے یہ بات کبھی نہ کرئے ۔میری توہار جیت دو دہائیوں سے لاہور میں چل رہی ہے لیکن چیئرمین تحریک انصاف آج تک لاہور سے نہیں جیتے ٗخواہش یہی ہے کہ عمران خان لاہور سے جیت جائے تو میں سمجھوں گا کہ ہم سب جیت گئے وہ انشااللہ وفاق کی علامت بن کر ابھریں گے ‘‘اور پھر یہی ہو ا ۔چیئرمین لاہور سے جیت گئے ٗ عبد العلیم خان نے ایک فضول خرچ بچے کی طرح اپنا سب کچھ اپنے چیئرمین پر لٹا دیا ۔ اُس کے چہرے پر 25 جولائی کی رات ایک فاتحانہ مسکراہٹ تھی ۔ایسی مسکراہٹ جو راہ حق میں شہید ہونے والوں کے چہروں پر ہوتی ہے ۔ تحریک انصاف پاکستان کی بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری تو اقتدار کی دوڑ میں شامل ہونے کیلئے اپنے اپنے تالابوں سے نکل کر رنگ رنگ کی بولیاں بولنے والوں نے ناک میں دم کردیا ۔ عبد العلیم خان کا نام پارٹی ورکروں نے وزیر اعلیٰ کیلئے سوشل میڈیا پر چلایا ٗ گو کہ اس کا فیصلہ چیئرمین تحریک انصاف نے کرنا ہے اور وہی آخری اتھارٹی ہیں لیکن جمہوریت میں سیاسی ورکر کو اپنے پسند اورناپسند کے اظہار کا پورا حق ہوتا ہے ۔ سیاست میں ہمیں اہم فیصلے کرنے ہوتے ہیں چیئرمین تحریک انصاف سے محبت اور جدو جہد کے ملاپ سے معرض وجود میں آنے والا عظیم رشتہ ہے ۔ یہ بہترین موقع ہے کہ وہ عبد العلیم خان کو وزیر اعلیٰ کیلئے نامزد کریں اگر کل کچھ نیب اُن کے خلاف فیصلہ دیتی ہے تو چیئرمین سینے پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکتے ہیں کہ میرا وزیر اعلیٰ جیل میں ہے اور میں اُس کا سفارشی نہیں اور جو تحریک انصاف کا ورکر عبد العلیم خان کے ساتھ ہے وہ بھی انپے آپ کو پارٹی سے فارغ سمجھے لیکن اگر نیب انہیں باعزت بری کردیتی ہے تو چیئرمین یہ کہہ سکتے ہیں کہ مجھے عبد العلیم خان کی پیشانی پر کبھی بدیانتی کا کوئی داغ نظر نہیں آیا تھا سو میں نے اسی لیے اُسے وزیر اعلی کیلئے منتخب کیا تھالیکن جناب چیئرمین ہم بائیس سال سے جناب عمرؓ کے کُرتے کا واقعہ آپ سے سنتے آئے ہیں۔ اگر نیب زدہ شخص سپیکر صوبائی اسمبلی ہو سکتا ہے تو نیب میں اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کرنے والے عبد العلیم خان کاقصور آ پ سے وفادار ی ہی ہے ؟

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے