Breaking News
Voice of Asia News

چیتا دنیا کا سب سے تیز رفتار جانور ہے:محمد قیصر چوہان

چیتا۔سنسکرت کے لفظ چترکا سے بنا ہے،بلی کی نسل  سے تعلق رکھتا ہے۔ شکار کرتے وقت اس کا زیادہ تر انحصار رفتار پر ہوتا ہے جو 120 کلو میٹر فی گھنٹہ یعنی 70 میل فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے یہ رفتار کرہ ارض پر اور کوئی جانور نہیں پا سکتا۔ چیتا 0 سے 100کلومیٹر کی رفتار صرف 3.5 سیکنڈ میں حاصل کر لیتا ہے۔چیتے کے جسم کا رنگ گلابی مائل اور کالے رنگ کے دھبے ہوتے ہیں،سر چھوٹا اور دم لمبی ہوتی ہے، دم کو بھاگتے وقت توازن برقرار رکھنے کیلئے استعمال کرتا ہے، اپنے مضبوط ، طاقتور اور شاندار جسم کی بدولت چیتابہترین شکاری ہوتے ہیں،چیتے کو بطور علامت طاقتور، بہادر، ظالم اور سنگدل استعمال کیا جاتاہے۔
چیتا،بنگلہ دیش،بھوٹان،کمبوڈیا،پاکستان،انڈونیشیا، میانمار، ملائیشیا، بھارت ،نیپال، شمالی کوریا، تھائی لینڈ، ویت نام اور روس کے مشرقی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔چیتابہت اچھے تیراک ہوتے ہیں۔ ان کے شکار کرنے کا طریق بالکل بلی کی طرح ہے۔ یہ چھپ کر شکار کرتے ہیں۔ ان کو 50 کلو تک وزن اٹھا کر 2 میٹر اونچی رکاوٹ کو پھاندتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔زیادہ تر چیتاانسانوں کا شکار نہیں کرتے۔ ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے کہ چیتااپنی بھوک مٹانے کیلئے انسانوں کا شکار کریں۔ایک بالغ چیتے کا وزن تقریباً 65 کلوگرام تک ہوتا ہے اگر اس کو قید میں رکھا جائے تو اس کی نسل کے پھیلاؤ میں کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس کی کھال کی خوبصورتی اور قیمتی ہونے کی وجہ سے اس کا غیر قانونی طور پر شکار کیا جاتا ہے۔ موجودہ پابندیوں اور سختیوں کی وجہ سے اس کے شکار میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ لیکن افریقہ میں غربت کی وجہ سے پھر بھی کچھ شکاری پکڑے جانے کا خطرہ مول لیتے ہوئے ان خوبصورت جانوروں کا شکار کرتے ہیں۔چیتے کی کھال حاصل کرنے کیلئے اس کا 990 1تک بہت شکار کیا گیا۔ یہاں تک کہ یہ خطرہ لاحق ہو گیا کہ کہیں یہ نسل ہمیشہ کیلئے ختم ہی نہ ہوجائے۔ اب ان کے شکار پر پابندی ہے چونکہ ان کی کھال کافی قیمتی ہوتی ہے اس لئے کچھ لوگ ان کی کھال حاصل کرنے کیلئے ان کا شکار کرتے ہیں۔شوقین لوگ ان کھالوں کو بھاری معاوضہ ادا کر کے خریدتے ہیں، ان کی پشت پناہی کی ہی وجہ سے اب تک ان جانوروں کا شکار جاری ہے اگر ان کے شکار کا سلسلہ یونہی چلتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب یہ نسل دنیا سے بالکل غائب ہو جائے گی۔دی اینمل فاؤنڈیشن پاکستان کی ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت صرف 3 ہزار 8 سو 90 چیتے موجود ہیں۔
چیتا شیر اورٹاےئگرکی طرح دھاڑ نہیں پاتا بلکہ بلیوں کی طرح بولتااور غراتا ہے جبکہ بہت سے چیتوں کو بھونتے بھی دیکھا گیا ہے مگر خاص بات یہ ہی کہ یہ دھاڑ نہیں پاتے۔ ان کیلئے رات میں دیکھ لینا مشکل ہوتا ہے۔ رات میں چیتوں کی حالت انسانوں جیسی ہوتی ہے۔ اس لیے چیتے صبح کے وقت یا دوپہر کے بعد شکار کے لیے نکلتے ہیں۔ چیتوں کو درختوں پر چڑھنے میں بھی دقت ہوتی ہے، جست لگاتے ہوئے چیتے کا تصور کرتے ہی آپ کو افریقی جنگلوں کا خیال آتا ہے کیونکہ عام خیال یہ ہے کہ باقی دنیا سے یہ ناپید ہوچکے ہیں۔ لیکن مکمل طور پر درست نہیں۔ آج بھی ایران میں 60 سے 100 کے قریب چیتے پائے جاتے ہیں جو کہ وسطی ایران کے پہاڑی علاقوں میں رہتے ہیں ، ایک وقت تھا جب چیتے بھارت، پاکستان اور روس کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ کے ممالک میں بھی پائے جاتے ہیں۔ ایشایائی چیتے کے سر اور پاؤں چھوٹے ہوتے ہیں۔ افر یقی چیتوں کے مقابلے میں ان کی گردن بھی موٹی ہوتی ہے۔ ایشیائی چیتے بہت بڑے دائرے میں زندگی بسر کرتے ہیں جبکہ عام طور پر یہ ہی سمجھا جاتا ہے کہ چیتے چھوٹے سے علاقے میں محدود رہتے ہیں۔ چیتوں کے بچے بڑی مشکل سے بچتے ہیں یہ اس جانور کے ختم ہونے کی وجہ ہے۔ افریقہ میں ہونے والے ایک تجربے سے پتہ چلا ہے کہ چیتوں کے بچے 95 فیصد بالغ ہونے سے پہلے ہی مر جاتے ہیں۔ یعنی چیتے کے 100 بچوں میں سے صرف 54 بچے ہی بمشکل بڑے ہو پاتے ہیں۔ چیتے کے بچوں کی مرنے کی بڑی وجہ شکاری جانور ہیں ان میں شیر، لگڑ بگے، ببون اور شکاری پرندے شامل ہیں۔ ساتھ ہی چیتوں کے رہائشی علاقوں میں انسانی مداخلت کی وجہ سے بھی چیتے اب نا پید ہوتے جا رہے ہیں۔ عرب ممالک میں چیتوں کے بچوں کو پالنے کے لیے خریدا جاتا ہے۔ ان کی قیمت دس ہزار ڈالر تک جاتی ہے یہ بھی چیتوں کے ختم ہونے کی بڑی وجہ ہے۔ چیتوں کے بارے میں سب سے زیادہ مشہور بات ان کی رفتار ہے۔ لیکن اس کے متعلق مختلف دعوے کیے جاتے ہیں۔ چیتے 95 سے 120 کلومیٹر کے حساب سے بھاگتے ہیں۔ چیتا جب پوری طاقت کے ساتھ دوڑ رہا ہو تو 7 میٹر تک چھلانگ لگا سکتا ہے لیکن چیتے اتنی تیز رفتای کے ساتھ نہیں دوڑ پاتے انکے پاس شکار کیلئے صرف اور صرف 20 سیکنڈ ہوتے ہیں۔ مادہ چیتے کی زندگی پرخطر اور چیلنجز سے بھری ہوتی ہے۔ اسے اوسطاً 9 بچوں کو تنہا ہی پالنا پڑتا ہے، مطلب یہ ہوا کہ اسے ہر دوسرے روز شکار کرنا ہوتا ہے۔ ورنہ وہ بچوں کا پیٹ کس طرح بھر پائے گی، شکار کے دوران اسے اپنے بچوں کی نگرانی بھی کرنی پڑتی ہے۔ تاکہ انہیں خطرناک جانوروں سے بچایا جا سکے۔ چھوٹے بچوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا بھی مادہ چیتوں کیلئے چیلنج ثابت ہوتا ہے۔
جنگل کا شہزادہ سمجھے جانے والے اس خوبصورت درندے کی رفتار کے بارے میں ہمیشہ ایک تجسس رہا ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دوڑ لگاتا ہوا چیتا ’پچھلے پہیوں کی طاقت پر چلنے والی کار کی طرح ہے‘۔جاپانی تحقیق کاروں نے بلی کے خاندان کے اس بڑے جانور کے پٹھوں کے ریشوں یا فائبر کی طاقت کی پیمائش کی ہے تاکہ اس کی ریکارڈ رفتار کے راز کا پتہ لگایا جا سکے۔گھریلو بلی اور کتے سے چیتے کے پٹھے کا موازنہ کرتے ہوئے سائنسدانوں نے یہ دریافت کیا ہے کہ چیتے میں حرکت دینے والی مخصوص قوت ان کے پچھلے پٹھوں میں پوشیدہ ہے۔اس مطالعے میں پہلی بار چیتے کے جسم کے تمام حصوں کے پٹھوں کے ریشوں یا فائبر کی جانچ کی گئی ہے ۔چیتے پر ریسرچ کرنے والی جاپان کی یاماگوچی یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر ناؤمی واڈا کے مطابق ’چیتے کی دوڑ کو سمجھنے کے لیے ان کے پٹھوں کا مطالعہ ناگزیر ہے‘۔چیتے کے پٹھوں کے مختلف قسم کے ریشے مختلف اقسام کے کاموں لیے موزوں ہوتے ہیں۔تمام جانوروں میں ٹائپ ون فائبر تھوڑی قوت فراہم کرنے کا باعث ہوتا ہے لیکن تھکان کو زیادہ برداشت کرتا ہے اور انھیں چہل قدمی اور بہتر ڈھنگ سے چلنے میں معاون ہوتا ہے۔زیادہ تر ریئر وہیل ڈرائیوکار چیتے کی رفتار حاصل کرنے کی قابل رشک صلاحیت کا مقابلہ نہیں کر سکتی کیونکہ یہ یہ تین سکنڈ سے بھی کم میں صفر سے ساٹھ میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر لیتا ہے۔ڈاکٹر ناؤمی واڈاکے مطابق ٹائپ ٹو اے قسم کا فائبر تیز قدموں سے چلنے میں معاون ہوتا ہے اور ٹائپ ٹو ایکس یا ’فاسٹ‘ فائبر زیادہ قوت پیدا کرنے کے عمل میں کام آتا ہے جس سے تیز دوڑنے اور جست لگانے میں مدد ملتی ہیں لیکن اس میں زیادہ قوت برداشت نہیں ہوتی ہے۔چیتے کے مختلف پٹھوں کے فائبر کی جانچ سے جانوروں کے دوڑ لگانے کی قوت کے بارے میں کافی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔چیتے کی فائبر کی پیمائش میں یہ پایا گیا ہے کہ پنجوں کے عضلے کے فائبر زیادہ تر ٹائپ ون ہیں جبکہ پچھلے پاؤں کے پٹھوں میں زیادہ تر ٹائپ ٹو ایکس فائبر ہیں۔ڈاکٹر واڈا کے مطابق ’چیتوں میں آگے کے پیروں کے کام اور پیچھے کے پیروں کے کام میں واضح فرق ہے۔‘سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ چیتوں میں رفتار ان کے پچھلے پاؤں سے آتی ہے یہ ایسا ہی جیسے یہ کوئی ریئر وھیل ڈرائیو کار ہو۔ڈاکٹر واڈا کی ریسرچ کے مطابق ’یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ چیتے کے پچھلے قدموں میں زیادہ فاسٹ فائبر نہیں ہوتے ہیں جبکہ اگلے قدموں میں یہ زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ چیتا اپنی رفتار، مڑنے یا گھومنے اور رکنے کے عمل کو اس کے ذریعے ہی کنٹرول کرتا ہے۔
پاکستان میں مختلف انواع کے جنگلی جانوروں پائے جاتے ہیں لیکن ان میں سے ایک نایاب برفانی چیتا بھی ہے۔ پاکستان میں اس کا مسکن کوہ ہندو کش اور کراکرم کا پہاڑی سلسلہ ہے یہ گلگت بلتستان، خیبرپختون خوا اور آزاد کشمیر میں نظر آتاہے یہ کسی بڑی اور خونخوار بلی کی مانند دکھائی دیتا ہے۔ سر سے لے کر دم تک ان کی لمبائی 30 سے 50 انچ ہوتی ہے۔ البتہ اس کی دم بہت لمبی ہوتی ہے۔ ان کا وزن 27 سے 55 کلوگرام تک ہوتا ہے۔ دنیا میں برفانی چیتوں ان کی آبادی کے درست اعدادوشمار نہیں ملتے کیونکہ دشوار گزار علاقے میں رہنے والے ان جانوروں کا پتا چلانا مشکل ہوتا ہے۔ تاہم اندازاً ان کی تعدادچار سے آٹھ ہزار بتائی جاتی ہے۔ یہ جانور سطح سمندر سے 8700 فٹ یااس سے بلند مقامات پر رہتے ہیں۔ بعض اوقات یہ نسبتاً کم بلند پہاڑوں میں بھی رہائش اختیار کر لیتا ہے۔ اس کے جسم پر گھنے اور قدرے لمبے بال ہوتے ہیںیہ باآسانی سرد اور برفانی موسم میں رہ لیتے ہیں۔ ان کے بال، موٹی جلد اور چھوٹے کان سردی سے بچانے میں معاون ہوتے ہیں۔ ان کے پنجے چوڑے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ان کیلئے برف پر چلنا آسان ہوتا ہے اور یہ پھسلتے نہیں۔ قدرت نے انہیں لمبی دْم بلا مقصد عطا نہیں کی۔ دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں دْم توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ ان کی دم موٹی ہوتی ہے جسے وہ سوتے وقت کسی کمبل کی طرح چہرے پر ڈال لیتے ہیں تاکہ سردی سے محفوظ رہ سکیں۔ یہ اکیلا رہنا پسند کرتے ہیں۔ یہ اپنے اردگرد دوسرے برفانی چیتوں کا آنا ناپسند کرتے ہیں اور اپنے علاقے کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہ اچھے شکاری ہیں اور گوشت کھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ یہ گھریلو جانوروں کا بھی شکار کرتے ہیں۔ یہ اپنے سے چار گنا وزنی جانور کا شکار بھی کر سکتے ہیں جن میں مارخور، گھوڑا اور اونٹ شامل ہیں۔ چھوٹے پرندے بھی ان کا شکار بنتے رہتے ہیں۔ حیران کن طور پر یہ ان علاقوں میں اگنے والی گھاس اور سبزیاں بھی کھا لیتے ہیں۔ ماں کے پیٹ میں بچہ 90 سے 100 دن تک رہتا ہے۔ بچوں کی پیدائش عام طور پر اپریل سے جون کے درمیان ہوتی ہے۔ پیدائش کے وقت برفانی چیتے کے بچے دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں۔ ان کی آنکھیں چنددنوں کے بعد کھلتی ہیں۔ 18 سے 22 ماہ تک بچے اپنی ماں کے ساتھ رہتے ہیں اور اس کے بعد آزادانہ زندگی بسر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ برفانی چیتا دو سے تین سال کی عمر میں سن بلوغت کو پہنچتا ہے۔ ان کی عمر 15 سے 18 برس ہوتی ہے۔ برفانی چیتے کا شمار دنیا میں جانوروں کی تیزی سے ختم ہوتی نسلوں میں ہوتا ہے۔ شکار اور بے جا انسانی مداخلت کی وجہ سے برفانی چیتا نایاب ہوتا جا رہا ہے۔دی اینمل فاؤنڈیشن پاکستان کی ایک ریسرچ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں برفانی چیتے کی تعداد تیزی سے کم ہوئی ہے اور اب یہ 200 کے لگ بھگ رہ گئی ہے۔ اس کمی کی مختلف وجوہ ہیں۔ جس میں انسانی آبادی میں اضافہ سب سے بڑی وجہ ہے۔ جن علاقوں میں یہ رہتے ہیں وہاں قیام پاکستان سے اب تک آبادی کم و بیش چار گنا بڑھی ہے۔ اس اضافے سے وہ علاقہ کم ہو گیا ہے جس میں برفانی چیتے آزادانہ گھومتے اور شکار کرتے تھے۔ دوسری وجہ ان جانوروں کا انسانوں کے ہاتھوں شکار کے سبب کم ہونا ہے جو برفانی چیتے کی خوراک بنتے ہیں۔دی اینمل فاؤنڈیشن پاکستان کی ایک ریسرچ رپورٹ کے مطابق قیام پاکستان سے اب تک جنگلی بکریوں کی آبادی 50 فیصد کم ہوئی ہے یہ بکریاں ان چیتوں کی خوراک ہیں۔ پاکستان کے شمالی علاقوں میں گلہ بانی کرنے والوں کو اکثرشکایت رہتی ہے کہ برفانی چیتا ان کی بھیڑ بکریوں کا شکار کرتاہے۔ اس خطرے کو کم کرنے کیلئے یا بدلہ لینے کیلئے چیتے کا شکار بھیکیا جاتا ہے۔ جن ممالک میں یہ چیتا پایا جاتا ہے ان کی تعداد 12 ہے۔ چند سال قبل ان ممالک نے ایک معاہدہ کیا جسیبشکک ڈیکلیئریشن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس میں اتفاق کیا برفانی چیتاقدرت کا انمول تحفہ، ہماری پہچان اور پہاڑی علاقوں میں ماحولیاتی توازن کیلئے اہم ہے۔ ملک میں ان کی تعداد بہت کم رہ گئی ہے اور عین ممکن ہے کہ یہ جانور ناپید ہوجائے۔ پاکستان میں اس جانور کو بچانے کی کوششیں کی جارہی ہیں لیکن یہ ناکافی ہیں۔ اس حوالے سے حکومت کے موثر اقدامات کے ساتھ ساتھ عوام میں آگاہی پھیلانے کی بھی ضرورت ہے۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے