Voice of Asia News

کشمیری بھارت نواز سیاسی جماعتوں کی ریشہ دوانیوں اور منافقانہ چالوں سے خبردار رہیں

سری نگر(وائس آف ایشیا)کل جماعتی حریت کانفرنس نے بھارت کے سپریم کورٹ میں بھارتی آئین میں درج دفعہ 35-Aکی منسوخی کے حوالے سے دائر کردہ عرضی کے خلاف بے مثال عوامی احتجاج پر نیشنل کانفرنس کی طرف سے اپنی روائتی بھارت وازی کا ایک بار پھر برملا اظہار کرنے کو عوام کے مجروح جذبات کے ساتھ ایک بھونڈا مذاق اُڑانے کی ناکام کوشش قرار دیا۔ حریت کانفرنس نے مسئلہ کشمیر کو نیشنل کانفرنس سمیت جملہ بھارت نواز جماعتوں کی دین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا واضح موقف بھارت کے ساتھ کسی مشروط الحاق کو ردّ کرتے ہوئے حقِ خودارادیت کا مطالبہ ہے جس کے لیے پوری قوم نے پچھلے 70برسوں کے دوران مثالی قربانیوں پیش کی ہیں۔ حریت کانفرنس گ کے ترجمان نے بھارتی آئین میں درج دفعہ 35-Aاور دفعہ 370کا تحفظ فراہم کرنے کو ریاست جموں کشمیر کی مقامی ہندنواز جماعتیں اپنی قوم کا بدترین استحصال کرنے کے لیے شرمناک سیاسی حربوں کے طور استعمال کیا جاتا رہاہے۔ ان دفعات کی آئینی صورت کو مسخ کرنے کے لیے سبھی طرح کی ہندنواز جماعتوں کو مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاسکتا ہے۔ حریت کانفرنس نے نیشنل کانفرنس کے کاگزار صدر اور ریاست کے سابق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ انہیں 35-Aکے خلاف عوامی احتجاج کی اپیل کرنے میں ہماری طرف سے مسئلہ کشمیر کا حل آئین ہند کے دائرے میں تلاش کرنے کی تُک کیونکر سوجھی، جبکہ آئین ہند کے دفعہ 35-Aاور دفعہ 370کو اندر ہی اندر سے کھوکھلا بنانے کے لیے نیشنل کانفرنس سمیت سبھی ہندنواز جماعتوں کا ماضی داغدار رہ چُکا ہے۔ حریت نے اپنی آزادی پسند قوم سے ایسی سبھی بھارت نواز سیاسی جماعتوں کی ریشہ دوانیوں اور منافقانہ چالوں سے خبردار رہنے کی دردمندانہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر دفعہ 370اور 35-Aکی روشنی میں ریاست جموں کشمیر کا اپنا علیحدہ آئین ، اپنا صدر اور وزیر اعظم ہونے کے علاوہ یہاں کی عدالت عظمیٰ کا چیف جسٹس اور بیروکریسی سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ آفیسران کے لیے یہاں کا پشتنی باشندہ ہونا ضروری ہے۔ تو یہاں کے عام لوگ یہ پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ صدر اور وزیر اعظم تو درکنار یہاں کے محکمہ پولیس، بیروکریسی اور عدلیہ میں بیرون ریاست کے آفیسروں کی غالب اکثریت کو کن حکمرانوں نے کس ضابطے کے تحت یہاں کے مقامی باشندوں پر مسلط کردیا ہے؟ حریت کانفرنس نے بھارت کے آئین میں درج دفعہ 35-Aاور دفعہ370کے نام پر ریاست جموں کشمیر کے عوام کا سیاسی استحصال کرنے کی مزید اجازت نہ دینے کے عہد کا اعادہ کرتے ہوئے بھارت کی قابض انتظامیہ کی طرف سے ریاست کے مسلم اکثریتی کردار کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے منصوبوں کو کامیاب ہونے نہیں دے گی۔ جس کے لیے 1947 ؁ء سے آج تک ان سبھی ہندنواز جماعتوں کو برسرِ اقتدار لاکر ان کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔حریت کانفرنس یہ واضح کرنا چاہتی ہے کہ ہمارا غیر متزلزل موقف حقِ خودارادیت کا حصول ہے اور آئین ہند میں درج مذکورہ دفعات یہاں کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کو ختم کرکے ریاست کے مسلم اکثریتی کردار کو تبدیل کرنے کی گھناؤنی سازش ہے، جبکہ ان دفعات کا سیاسی استحصال کرنا ہندنواز جماعتوں بالخصوص نیشنل کانفرنس کی کل سیاسی جمع پونجی رہی ہے اور ریاست کے اندرونی خودمختاری کو ختم کرنے کے لیے نیشنل کانفرنس کو ہی استعمال کیا گیا ہے اور باقی سبھی ہندنواز جماعتیں ان کی تقلید کرتی آرہی ہیں۔ حریت کانفرنس اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ بھارت کی طرف سے ریاست کے آبادی کے تناسب کو تبدیل کئے جانے کے خفیہ اور اعلانیہ منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائے اور مسئلہ کشمیر جیسے دیرینہ تنازعہ کو جلد از جلد حل کرنے میں اپنا کردار نبھائیں۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے