Voice of Asia News

قوم کو حقیقی آزادی کب میسر آئے گی۔۔۔؟محمد جمیل بھٹی

اس میں کوئی شک نہیں کہ انگریزوں سے آزادی کی اس تحریک میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندو بھی شامل تھے ۔لیکن انگریزوں نے اپنی انتقامی کارروائیوں کا نشانہ زیادہ تر مسلمانوں کو ہی بنایا، کیونکہ اْن کا خیال تھا کہ اس سارے ’’فساد کی جڑ‘‘ یہی مسلمان ہیں، لہٰذا دنیا کا ہر ظلم و ستم ان مسلمانوں پہ ڈھایا گیا۔ چن چن کر مسلمانوں کو شہید کیا گیا، بعض ایسے بھی مسلمان تھے جنہیں توپوں کے دہانوں پر باندھ کر کھڑا کیا جاتا، توپ کا گولہ چلتا اور یوں ان کا جسم ان گنت ٹکڑوں میں بٹ جاتا، اور کوئی شخص کوشش کے باوجود چن چن کر ان ٹکڑوں کو جوڑ کر آزادی کے ان متوالوں کی لاشیں پوری نہ کرسکتا۔ چوکوں چوراہوں میں جگہ جگہ پھانسی گھاٹ بناکر مسلمانوں کو تختہ دار پہ لٹکایا گیا۔ مسلمان علماء کوکالا پانی بھیجا گیا۔ مسلمانوں کی جائدادوں کو ضبط کرلیا گیا، ان کی املاک قرق کرلی گئیں، اعلیٰ سرکاری ملازمتوں کے دروازے ان پر بند کردیے گئے، بلکہ بعض اوقات تو درجہ چہارم کی ملازمتوں کے اشتہار پر لکھا ہوتا ’’مسلمان اسامیوں کیلئے نااہل ہیں‘‘۔
ابتدا میں مسلمانوں نے ہندوؤں کے ساتھ مل کر انگریزوں سے نجات کی جدوجہد جاری رکھی، مگر جلد ہی مسلمانوں کو محسوس ہوگیا کہ انگریزوں کو یہاں سے نکالنے کے بعد ہندو خود ہی سارے برصغیر کا حکمران بننے اور مسلمانوں کو اپنا غلام بنانے کا خواب دیکھ رہے ہیں تو انہوں نے اپنے لیے ایک الگ اور خودمختار ریاست بنانے کا فیصلہ کیا، جس کا ایک واضح اور غیر مبہم خاکہ علامہ اقبال نے اپنے خطبہ الٰہ آباد میں پیش کیا۔ علامہ اقبال نے فرمایا:
’’ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں۔ ان کی ثقافت، سیاست، تمدن، معاشرت ہر لحاظ سے الگ ہیں۔ ان میں ہم آہنگی پیدا ہونا ناممکن ہے۔ اس لیے برعظیم پاک و ہند کے (تمام) مسائل کا حل یہی ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی ایک جداگانہ اور علیحدہ مملکت ہو۔ میری خواہش ہے کہ مسلم اکثریت کے علاقوں پنجاب، سندھ، صوبہ سرحد اور بلوچستان کو ایک ریاست بناکر خودمختاری دے دی جائے، کیونکہ مجھے نظر آتا ہے کہ اور نہیں تو شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کو بالاآخر ایک منظم اسلامی ریاست قائم کرنا پڑے گی۔ میں اسی منظم اسلامی ریاست کا مطالبہ کررہا ہوں۔ اس تجویز کو سن کر ہندوؤں یا انگریز حکمرانوں کو کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ برعظیم میں مسلمانوں کی تعداد اس قدر زیادہ ہے کہ یہ ضروری ہے کہ اس (خطے) میں اسلام بحیثیت ایک تمدنی قوت کے زندہ رہے اور مخصوص علاقے میں اپنی مرکزیت قائم کرسکے‘‘۔
اس خطبے کے ٹھیک دس سال بعد 22، 23 مارچ کو مسلم لیگ کا ستائیسواں سالانہ اجلاس منٹو پارک (علامہ اقبال پارک) میں منعقد ہوا، اس اجلاس میں پورے برصغیر سے مسلمانوں نے جوق در جوق شرکت کی۔ حاضرین کی تعداد ایک لاکھ کے لگ بھگ تھی۔ پنڈال کو جھنڈیوں اور علامہ اقبال کے اشعار سے خوب سجایا گیا۔ بائیس مارچ کے اجلاس کے خطبہ صدارت میں قائداعظم محمد علی جناح نے ایک بار پھر دو قومی نظریے کو بڑے واشگاف الفاظ میں پیش کیا۔ آپ نے فرمایا،
’’مسلمان ایک جداگانہ قوم ہیں، چاہے قوم کی جو بھی تعریف کی جائے، اس کے تحت یہ ایک قوم ہیں۔ اس لیے ان کا اپنا ایک الگ وطن ہونا چاہیے، ان کا اپنا علاقہ اور اپنی مملکت ہونی چاہیے۔ ہندو اور مسلمان دو جداگانہ مذہبی فلسفوں، سماجی رسم و رواج اور علمی و ادبی ورثے سے تعلق رکھتے ہیں، نہ تو وہ آپس میں شادی کرسکتے ہیں، نہ ہی مل کر کھا سکتے ہیں۔ درحقیقت دونوں مختلف تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان تہذیبوں کے افکار و نظریات بھی ایک دوسرے سے متضاد ہیں۔ زندگی اور زندہ رہنے کے حوالے سے دونوں کے نظریات ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہندو اور مسلمانوں کی رزمیہ تاریخ بھی ایک دوسرے سے الگ ہے۔ دونوں کے ہیروز مختلف ہیں۔ بلکہ ایک قوم کا ہیرو دوسری قوم کا دشمن، اور دوسری قوم کا ہیرو پہلی قوم کا دشمن ہے۔ دونوں میں سے ایک کی شکست دوسری کی فتح، اور دوسری قوم کی شکست پہلی قوم کی فتح ہے، لہٰذا ایسی دو قوموں کو ایک ہی سلطنت میں اکٹھے رکھنا، اس کیفیت میں کہ ایک تو عددی اقلیت میں ہو اور دوسری واضح اکثریت میں، اس کا نتیجہ لامحالہ بے سکونی، ابتری اور تباہی کے سوا کچھ نہیں نکل سکتا، خواہ اس کیلئے کسی بھی وضع کی حکومت بنائی جائے‘‘۔دوسرے روز 23 مارچ کا اجلاس بھی قائداعظم کی ہی صدارت میں ہوا۔ اس اجلاس میں مشہورِ زمانہ قرارداد، قراردادِ لاہور یا دوسرے لفظوں میں ’’قراردادِ پاکستان‘‘ پیش کی گئی۔ اس قرارداد کی تیاری میں سرسکندر حیات خاں، ملک برکت علی، نواب زادہ لیاقت علی خان، چودھری خلیق الزماں اور مولانا ظفر علی خان نے بھرپور حصہ لیا۔ قرارداد کا متن انگریزی میں تیار کیا گیا تھا جبکہ اس کا اردو ترجمہ عوام الناس کی سہولت کیلئے مولانا ظفر علی خان نے کیا۔ قرارداد شیربنگال مولوی فضل الحق نے پیش کی۔قراردادِ پاکستان کے منظور ہونے کے محض سات سال بعد مسلمانوں کی کوششیں، کاوشیں اور قربانیاں رنگ لے آئیں اور 14 اگست 1947ء کو پاکستان معرضِ وجود میں آگیا، جو مشرقی بنگال اور مغربی پاکستان کے چار صوبوں مغربی پنجاب، سندھ، صوبہ سرحد (خیبرپختون خوا) اور بلوچستان پر مشتمل تھا۔
پاکستان کا بننا، اسلام کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہے۔ تحریکِ پاکستان کے دوران کلمہ طیبہ پورے برصغیر کی فضا میں گونج رہا تھا اور مسلمانوں کو ان کی تاریخ اور تہذیب سے مربوط کررہا تھا۔ مسلمانوں کو لگ رہا تھا کہ ان کی تاریخ اور تہذیب پاکستان کے عنوان سے ایک بار پھر نئی توانائی کے ساتھ زندہ ہونے والی ہے، ان کے صدیوں پرانے خواب پورے ہونے والے ہیں۔ لیکن معجزات کے منکر ہر زمانے میں موجود رہے ہیں۔ بیسویں اور اکیسویں صدی میں بھی معجزات کے منکرین موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قیام پاکستان کے مطالبے کی بنیاد اسلام نہیں تھا۔ وہ اس سلسلے میں قائداعظم کی 11 اگست1947ء کی تقریر کا حوالہ دیتے ہیں جس میں قائداعظم نے کہا تھا کہ پاکستان میں جس طرح مسلمان مسجد جانے میں آزاد ہوں گے اسی طرح ہندو مندر اور عیسائی گرجا گھر جانے میں پوری طرح آزاد ہوں گے۔تجزیہ کیا جائے تو قائداعظم کا یہ فرمان اسلام کی روح کے عین مطابق ہے۔ اسلام انفرادی اور اجتماعی زندگی کے دائرے میں جبر کا مخالف ہے اور وہ تمام انسانوں کو عقیدے کی آزادی دیتا ہے۔ مسلمانوں نے ہندوستان پر ایک ہزار سال حکومت کی اور کسی ہندو کو زبردستی مسلمان نہیں بنایا۔ مسلمانوں نے اسپین پر چھ سو سال حکومت کی اور کسی عیسائی کو جبر کرکے مسلمان نہیں کیا۔ چنانچہ جو لوگ قائداعظم کی اس تقریر کو سیکولر یا لبرل معنی دینے کی کوشش کرتے ہیں وہ اسلام کے ساتھ شدید زیادتی کے مرتکب ہوتے ہیں، اور قائداعظم کے ساتھ بھی انصاف نہیں کرتے۔ اہم بات یہ ہے کہ قائداعظم کی ایسی درجنوں تقریریں موجود ہیں جن میں انہوں نے اسلام کے تناظر میں دو قومی نظریے کی تشریح کی ہے۔ دو قومی نظریے کی بنیاد جغرافیے پر نہیں تھی‘ اقتصادیات پر نہیں تھی،دو قومی نظریے کی بنیاد صرف اسلام پر تھی، مسلمانوں کی تہذیب الگ تھی تو اسی بنیاد پر، مسلمانوں کی تاریخ جدا تھی تو اسی وجہ سے، مسلمانوں کے ہیروز انفرادیت کے حامل تھے تو اسی حوالے سے، تحریکِ پاکستان جمہوری نہیں بلکہ عوامی تھی، ایسی عوامی تحریک جس کی جڑیں اسلام اور اس کی تہذیب و تاریخ میں پیوست تھیں۔
پاکستان کے قیام کو 71برس ہوگئے ہیں۔ تحریک پاکستان میں حصہ لینے والوں میں سے شاید ہی اب کوئی بچا ہو اور 1947ء میں پیدا ہونے والی نسل بھی اب 71برس کی ہوگئی۔ اسے کیا یاد کہ پاکستان کن مشکلوں سے گزر کر اور آگ کا دریا پار کر کے بنا تھا اور اس مملکت کے لیے اپنے رب سے کیا کیا وعدے کیے گئے تھے۔ اب تو نئے نئے دانشور اس نعرے پر شک کا اظہار کرتے ہیں کہ ’’پاکستان کا مطلب کیا، لاالہٰ الااللہ ‘‘۔ یہ محض ایک نعرے کا بطلان نہیں بلکہ یہ ثابت کرنے کی کوشش ہے کہ وطن عزیز کا حصول خالصتاً معاشی و اقتصادی مقصد کیلئے تھا، یہ سیکولراور نام نہاد عناصر ہیں جن کیلئے مذہب کا ہر حوالہ تکلیف دہ ہے۔ چنانچہ جنرل ایوب خان کے دور میں ان دانشوروں نے یہ تجویز پیش کی کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سے ’’اسلامی‘‘ کا لفظ نکال دیا جائے۔ لیکن کچھ سمجھ دار مشیروں نے ایوب خان کو یہ ترمیم کرنے سے روک دیا مگر ان دانشوروں کی آل ، اولاد عملاً پاکستان کو اسلامی جمہوریہ تسلیم نہیں کرتی۔ ستم تو یہ ہوا کہ پاکستان نہ تواسلامی جمہوریہ بن سکا اور نہ ہی معاشی اور اقتصادی استحکام حاصل کرسکا۔ گویا نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم۔ اس وقت پاکستان کی اقتصادی صورت حال بدترین ہے۔ اندرونی اور بیرونی قرضوں کا بوجھ ناقابل برداشت ہوگیا ہے۔ اس کا الزام فوجی حکومتوں پر رکھ دیں یا سول حکومتوں پر، لیکن زمینی صورت حال یہ ہے کہ اس بربادی میں ہرایک نے اپنا حصہ ڈالا ہے۔ قیام پاکستان کے صرف 11سال بعد 1958 میں فوج نے ملک پر قبضہ کرلیا اور کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان نے مارشل لا لگا دیا۔ حالا نکہ صرف دو سال پہلے ہی 1956ء میں پاکستان کو پہلا آئین ملاتھا۔ اس وقت حالات بالکل ایسے نہیں تھے کہ فوج اقتدار پر قبضہ کرتی، لیکن ایسا ہی ہوا۔ حالانکہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے 1947ء میں بطور گورنر جنرل ضیافت دی تھی تو چند فوجی افسران کے ایک سوال پر واضح کردیا تھا کہ’’ فوج کا کام سول حکومت کے احکامات کی بجا آوری ہے، اس کے کام میں مداخلت کرنا نہیں‘‘۔ اس کے بعد کوئٹہ میں خطاب کرتے ہوئے بھی، جس میں ایوب خان بھی موجود تھے، واضح طور پر کہا کہ’’ فوج سول حکومت کے تابع ہے، اس کا کام حکومت کرنا نہیں‘‘۔ مگر فوج ہمیشہ اس گمان میں رہی کہ پاکستان اسی کیلئے بنا ہے اور وہ ہی سب سے بہتر طریقے سے حکومت سمیت ہر کام کرسکتی ہے۔ آج بھی یہی سوچ کارفرما ہے۔ 1958ء کے مارشل لا نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی پہلی اینٹ رکھ دی تھی اوربنگالیوں کو دشمنوں نے یہ باور کرایا کہ پاکستان کے دروبست اور حکومتی معاملات میں ان کا کوئی عمل دخل نہیں۔ اس خیال کی مشرقی پاکستان میں آباد ہندوؤں نے آبیاری کی۔ مشرقی بازو میں ہندوؤں کا غلبہ تھا حتیٰ کہ بعض تعلیمی اداروں میں اسلامیات پڑھانے والے بھی ہندو تھے۔ ریاست بنگال میں مسلمان ہمیشہ پسماندہ رکھا گیا اور ساری خوشحالی ہندو بنگال کے قبضے میں تھی۔ اسی وجہ سے مسلمانوں نے تقسیم بنگال کا مطالبہ کیا جو انگریز نے تسلیم بھی کرلیا۔ لیکن ہندوؤں کے زبردست احتجاج پر تنسیخ تقسیم بنگال کا فیصلہ ہوا۔ اب وہی بنگالی مسلمان تقسیم پاکستان پر مصر تھے، جس پر 1971ء میں عمل ہوگیا۔ اس سازش میں پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کا بھرپور کردار تھا جس کا اعتراف بھارت کے انتہا پسند وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی کیا۔ ڈھاکا میں کھڑے ہو کر مودی نے اعلان کیا کہ بنگلا دیش کسی مکتی باہنی نے نہیں بلکہ بھارت کی ایجنسیوں اور فوج نے بنوایا۔ اس کے باوجود بنگالی بھائیوں کی آنکھیں نہیں کھلیں اور وہ ہر سال پاکستان سے آزادی کا دن مناتے ہیں۔ اس کی ایک اہم وجہ تو حسینہ واجد کی حکومت ہے جو بھارت کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے بلکہ بھارتی ایجنٹ کا کردار ادا کررہی ہیں۔ انہیں اور بھارت کو بنگلا دیش میں جماعت اسلامی سے خطرہ ہے۔ حسینہ واجد کے والد اور بنگلا بندھو کہلانے والے مجیب الرحمن نے 1973ء میں پاکستان، بھارت اوربنگلا دیش کی قیادت کے ساتھ سہ فریقی معاہدہ کیا تھا کہ 1971ء میں جو کچھ ہوا اس کے حوالے سے کسی پر مقدمہ چلے گا نہ سزا ملے گی۔ لیکن ان کی بیٹی حسینہ واجد نے جماعت اسلامی بنگلا دیش کے ایسے افراد کو بھی پھانسی پر لٹکا دیا جن کا کوئی تعلق 1971ء کی خانہ جنگی سے نہیں تھا۔ بھارت نے مشرقی پاکستان کو بنگلا دیش بنانے ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ وہ موجودہ پاکستان کے خلاف بھی مسلسل سازشوں میں مصروف ہے۔ اس کے ایجنٹ پاکستان میں سرگرم ہیں خاص طور پرخیبرپختونخوا اور بلوچستان میں گریٹر بلوچستان کا شوشا گاہے گاہے زندہ کردیا جاتا ہے۔ ایسے میں سرحدی گاندھی کے پیروکار خیبرپختونخوا میں سرگرم ہیں۔ اس پر مستزاد طالبان پاکستان کے نام سے دہشت گردی پھیلانے والے تخریب کاری میں مصروف ہیں۔ اس پس منظر اور پیش منظر میں ایک حوصلہ افزا بات یہ ہوئی ہے کہ پاکستان کے متوقع وزیر اعظم عمران خان نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے سے پہلے ایک وزیر اعظم کی طرح قوم سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنائیں گے۔ اس پر یہی دعا کی جاسکتی ہے کہ خدا ان کو اپنے اس عزم میں کامیاب کرے۔ لیکن انہوں نے جس قسم کے لوگ اپنے گرد جمع کرلیے ہیں ان کو دیکھ کر تحریک پاکستان کے دوران میں سید مودودی کی یہ بات یاد آتی ہے کہ ’’جس قسم کے لوگ پاکستان کے حصول کی مہم چلا رہے ہیں ان سے توقع نہیں کہ پاکستان ایک اسلامی مملکت بن سکے گا‘‘۔ ان کے یہ خدشات 71برس بعد بھی موجود ہیں۔
بہرحال یہ مخالفت تو سیاسی نوعیت کی ہے اور ان کی طرف سے ہے جنہیں پاکستان کا اسلامی تشخص گوارا نہیں۔ پاکستان صحیح معنوں میں اسلامی جمہوریہ بن کر رہے گا اور یہ وعدہ حالیہ انتخابات میں کسی نہ کسی طرح برتری حاصل کرنے والی جماعت تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے بھی قوم سے کیا ہے کہ پاکستان مدینہ منورہ جیسی ریاست بنے گا۔ انہوں نے تبدیلی لانے کا اعلان کیا ہے اور اس کے لیے سب سے پہلے انہیں اپنے آپ کو تبدیل کرنا ہوگا عمران خان نے بلا امتیاز سب کا احتساب کرنے اور ہر کام میرٹ کی بنیاد پر کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ کرپشن نے پاکستان کو کھوکھلا کردیا ہے۔ نئی حکومت سے توقع ہے کہ سب سے پہلے اس کی روک تھام کی جائے گی۔ آج پھر پاکستانی قوم 71 واں یوم آزادی منا رہی ہے۔ اب تک یہ دن رسمی طور پر منایا جاتا رہا ہے۔ جھنڈے لہرانا، جلسے، جلوس، تقریریں وغیرہ اور بس۔ قوم اب بھی منتظر ہے کہ اصل ’’ 14اگست‘‘ اصل یوم آزادی کب آئے گا۔ خدا کرے کہ آج سے اس کا آغاز ہو جائے اور قوم کو حقیقی آزادی میسر آجائے۔

voiceofasianews@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے