Voice of Asia News

تہاڑ جیل میں کشمیری قیدیوں کو بنیادی سہولیات سے محروم

سری نگر(وائس آف ایشیا) کل جماعتی حریت کانفرنس ع نے محبوس خاتون رہنما آسیہ اندرابی اور ان کی دو ساتھیوں کو تہاڑ جیل میں اذیت ناک مراحل سے گزارنے پر شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔حریت کانفرنس ع نے اپنے بیان میں مزاحمتی خاتون رہنماآسیہ اندرابی اور انکی دو ساتھی خاتون رہنماؤں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو این آئی اے کی جانب سے گرفتاری کے بعد تہاڑ جیل منتقل کرنے اوروہاں انکے ساتھ روا رکھے جارہے غیر انسانی اور غیر اخلاقی رویوں پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موصوفہ جو پہلے ہی مختلف عوارض میں مبتلا ہیں اور جیل میں اپنے ساتھیوں سمیت الگ الگ سیلوں میں رکھا گیا ہے اور ان کو کھانے کیلئے جو غذا دی جارہی ہے وہ ایک تو پالی تھین کے لفافوں میں بھر کر دی جارہی ہے اور دوسری وہ اتنی ناقص ہوتی ہے جس سے ان کی صحت پر مضر اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔ جیل میں ان کو ضروری حیات بخش ادویات سے بھی محروم رکھا جارہا ہے اور ان سے ملاقات کیلئے جو رشتہ دار گئے تھے انہوں نے کہا کہ جیل میں ان تینوں خاتون رہنماؤں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہہ ہے اور جیل حکام کا سلوک ان کے ساتھ انتہائی نامناسب اور غیر انسانی ہے ۔بیان میں کہا گیاہے کہ اس سے قبل بھی متعدد کشمیری مزاحمتی رہنماؤں اور کارکنوں کو این آئی ائے NIA اور ED ای ڈی نے فرضی کیسوں میں ملوث کرکے پابند سلاسل کررکھا ہے اور مختلف حیلے بہانوں سے انکی معیاد قید کو طول دیا جارہا ہے اور ۔بیان میں کہا گیا کہ دلی کے بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں ایام اسیری کاٹ رہے کشمیری حریت رہنماؤں شبیر احمد شاہ، الطاف احمد فنٹوش، ایڈوکیٹ شاہد الاسلام، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، معراج الدین کلوال ، نعیم احمد خان، فاروق احمد ڈار ، شاہد یوسف اور تاجر ظہور وٹالی کے ساتھ جیل حکام کا غیر انسانی سلوک حد درجہ افسوسناک صورتحال ہے اور اس ضمن میں جب ان محبوسین کے رشتہ داروں نے تہاڑ جیل جاکر ان لوگوں سے ملاقات کی تو واپسی پر انہوں نے بتایا کہ ان محبوسین کو جیل میں طبی ،کھانے پینے اور بستر وغیرہ جیسی بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جارہا ہے جس کی بنا پر جیل میں ان کی حالت بہت ہی ناگفتہ بہہ ہے

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے