Voice of Asia News

ریاست جموں کشمیر کے سیاسی قیدیوں کی حالت زار کا سنجیدہ نوٹس لیا جائے

سری نگر(وائس آف ایشیا)تحریک حریت جموں کشمیر کے چیرمین محمد اشرف صحرائی نے تہاڑ جیل انتظامیہ کی طرف سے سیدہ آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین پر روا رکھے جارہے غیر انسانی سلوک کی پُرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہماری عزت مآب بیٹیوں کے ساتھ جو ناروا سلوک کیا جارہا ہے وہ ہمارے لیے سوہانِ روح ثابت ہورہا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق تینوں غیور بیٹیوں کو قید تنہائی میں تین الگ الگ سیلوں میں مقید رکھا گیا ہے۔ ان کا قصور صرف یہ ہے کہ انہوں نے بھارتی ناجائز قبضے کو تسلیم کرنے سے انکارکر رکھا ہے اور right of speechکے تحت سیاسی سطح پر اپنی آواز کو عالمی رائے عامہ تک پہنچانے کی سعی پر عمل پیرا ہیں۔ ان غیور بیٹیوں کو ذہنی ٹارچر کرکے ان کے عزم وجزم کا امتحان لینے کے ساتھ ساتھ پوری قوم کی غیرت کو بھی للکارا جارہا ہے۔ صحرائی صاحب نے مزید کہا کہ مذکورہ بیٹیوں کو کھانا پالیتھین لفافوں میں دے کر ان کی صحت کو مزید خراب کیا جارہا ہے۔ سیدہ آسیہ اندرابی پہلے سے ہی بہت سارے افراض میں مبتلا ہیں۔ ڈاکٹروں نے ان کو خصوصاً Hygenicکھانے پینے اور ادویات وقت پر لینے کی سخت تاکید کررکھی ہے، لیکن ان کی زندگی کے ساتھ تہاڑ جیل میں کھلواڑ کیا جارہا ہے کہ انہیں ضروری ادویات بھی مہیا کرنے سے صاف انکار کیا گیا ہے۔ صحرائی صاحب نے تہاڑ جیل میں محبوس شاہد یوسف کے رشتہ داروں کو ان سے ملنے نہ دینے پر جیل انتظامیہ کے جلادی رویہ پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت سیاسی قیدیوں کے ساتھ جو سلوک کررہا ہے اس سے جنیوا کنونشن کے پرخچے اڑ جاتے ہیں، حالانکہ اس میں بھارت نے بھی دستخط کررکھے ہیں۔ صحرائی نے اقوامِ عالم کے باضمیر اداروں کو ریاست جموں کشمیر کے سیاسی قیدیوں کی حالت زار کا سنجیدہ نوٹس لینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی جیلوں میں حکومتی اشاروں پر ریاست کے سیاسی قیدیوں کے خلاف جو انتقام گیر پالیسی پر عمل پیرا ہورہا ہے اس کے تحت ان کو قیدِ تنہاہی میں رکھنا، ضروری ادویات سے محرومی، ناقص خوراک اور رشتہ داروں کا لمبی لمبی مسافت طے کرنے کے بعد ملاقات نہ دینا اب معمول بن چُکا ہے۔ اسطرح کے واقعات کشمیری قوم کے پیمانہ صبر کو لبریز کریں گے اور ہماری جدوجہدِ آزادی دبنے کے بجائے نئی حرارت کے ساتھ آگے بڑھے گی۔تہاڑ جیل میں مقید ڈاکٹر غلام محمد بٹ، معراج الدین کلوال، الطاف احمد شاہ، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، نعیم احمد خان، شبیر احمد شاہ، شاہد الاسلام، ظہور وٹالی ، محمد اسلم، شاہد یوسف، فاروق احمد ڈار، مظفر احمد ڈار، مشتاق احمد لون، محمد شفیع پچھلے کئی سالوں سے جیل انتظامیہ کے ناروا سلوک کا شکار ہیں۔ اسطرح کے واقعات کشمیری قوم کے پیمانہ صبر کو مزید لبریز کریں گے اور ہماری جدوجہدِ آزادی دبنے کے بجائے نئی حرارت کے ساتھ آگے بڑھے گی۔ صحرائی صاحب نے 15؍اگست کے حوالے سے بلاجواز چھاپوں اور گرفتاریوں کو حکومت ہند کی بوکھلاہٹ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح سے نہ آج تک ہمارے جذبۂ آزادی کو دبا سکے اور نہ ہی وہ مستقبل میں کامیاب ہوں گے۔ ان شاء اللہ۔ حالیہ چھاپوں کے دوران تحریک حریت سے وابستہ کئی لیڈران اور کارکنان کو پولیس نے گرفتار کرکے تھانوں میں مقید رکھا ہے جن میں عاشق حسین صوفی، شکیل احمد خان، فیاض احمد، عمر عادل ڈار، اشفا ق احمد خان اور دیگر وابستگان شامل ہیں۔ پچھلے سال شہید محمد یٰسین ایتو کی شہادت کو یاد کرتے ہوئے صحرائی صاحب نے کہا کہ شہید موصوف کی زندگی کا بیشتر حصہ جدوجہدِ آزادی سے عبارت ہے۔ موصوف نے قیدوبند میں رہ کر بھی جذبۂ آزادی کو جلا بخشی ہے۔ عسکری ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ شہید عملی صلاحیت سے بھی مالا مال تھے۔ تحریروتقریر میں بھی یدعولیٰ رکھتے تھے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ان کی شہادت قبول فرماکر ہمیں آزادی برائے اسلام سے ہمکنار کرے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے