Voice of Asia News

العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز ،نوازشریف سخت سیکیورٹی میں عدالت پیش

اسلام آباد(وائس آف ایشیا)العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت کے سلسلے میں سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کو انتہائی سخت سیکیورٹی میں بکتر بند کے ذریعے احتساب عدالت لایا گیا۔سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کی سماعت احتساب عدالت کے جج ملک ارشد نے کی اور اس سلسلے میں نوازشریف کو انتہائی سخت سکیورٹی میں لایاگیاجب کہ اس موقع پر میڈیا کو بھی قریب آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ قریب آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر صحافیوں اور سیاسی رہنماؤں کو احتساب عدالت میں جانے سے روک دیا گیا جب کہ سینیٹر چوہدری تنویر، سعدیہ عباسی، بیرسٹر ظفر اللہ اور پرویز رشید کو بھی احاطہ عدالت میں جانے سے روک دیا گیا۔پراسیکیوشن کے گواہ واجد ضیا اور نیب ٹیم بھی ریکارڈ لیکراحتساب عدالت پہنچی۔نوازشریف کو مختصر سماعت کے بعد واپس اڈیالہ جیل روانہ کردیا گیا جب کہ اس موقع پر کوریج کی اجازت نہ ملن پر میڈیا کے نمائندوں نے شدید احتجاج کیا۔ اس موقع پر جوڈیشل کمپلیکس کے اطراف سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، جوڈیشل کمپلیکس کے احاطے میں موبائل فون لے جانے پر پابندی عائد کی گئی تھی جب کہ نواز شریف کے روٹ پر 200 سے زائد سیکورٹی اہلکار بھی تعینات کیے گئے۔واضح رہے کہ احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نوازشریف کو10 سال قید بامشقت اور80 لاکھ برطانوی پاؤنڈ جرمانے کی سزا سنائی تھی۔عدالت نے مختصر سماعت کے لیے بعد دونوں ریفرنسز کی مزید سماعت بدھ 15 اگست تک ملتوی کردی۔دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ کا 2 رکنی بینچ ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا یافتہ نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی سزا معطل کرنے کے حوالے سے دائر درخواستوں پر سماعت کرے گا۔مذکورہ بینچ میں جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب شامل ہیں۔خیال رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کی دوسری عدالت میں منتقلی سے متعلق نواز شریف کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری کیا تھا۔جس کے بعد اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیرکو ریفرنسز کی مزید سماعت سے روک دیا گیا اور العزیزیہ ریفرنس کیس کی سماعت جج ملک ارشد کی کورٹ میں منتقل کردیا گیا۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے پاناما پیپرز کیس کے حتمی فیصلے میں دی گئی ہدایات کی روشنی میں قومی احتساب بیورو (نیب)کی جانب سے نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں حسن نواز اور حسین نواز کے خلاف 3 ریفرنسز دائر کیے گئے تھے جبکہ مریم نواز اور کیپٹن ریٹائر صفدر کا نام ایون فیلڈ ایونیو میں موجود فلیٹس سے متعلق ریفرنس میں شامل ہے۔خیال رہے کہ 20 اکتوبر 2017 کو قومی احتساب بیورو(نیب)کی جانب سے فلیگ شپ انویسمنٹ کے حوالے سے دائر ریفرنس کے سلسلے میں اسلام آباد کی احتساب عدالت نے دو ریفرنس(ایون فیلڈ ریفرنس اور عزیزیہ اسٹیل) میں نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر پرفرد جرم عائد کی گئی تھی۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پڑھ کر سنائی تھی۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے