Voice of Asia News

نوجوان نسل میں نشہ کا بڑھتا ہوا رجحان: محمد قیصر چوہان

منشیات سے کیا مراد ہے؟ منشیات سے مراد وہ اشیاء یا’’ادویات‘‘ ہیں، جو انسان کی ذہنی کیفیات اور رویوں کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کے استعمال سے ذہنی و جسمانی تکالیف اپنی شدت کھو دیتی ہیں۔نشہ کیا ہوتا ہے؟ جو آپ کو غافل کرے ،حاضر سے غیر حاضر کرے، حال سے بے حال کرے، ہر نشہ اپنا مخصوص رویہ رکھتا ہے۔ کوئی نشہ دماغ کو سکون اور کوئی تحریک دیتا ہے،بعض نشے درد ختم کرنے والے اور بعض خیالات کو توڑنے مروڑنے والے ہوتے ہیں۔منشیات کی عادت ایک خطرناک موذی مرض ہے یہ خود انسان ، اس کا گھر، معاشرہ اور پورے ملک و قوم کو تباہ کردیتی ہے۔ یہ انسان کے جسمانی سسٹم کو مکمل درہم برہم کردیتا ہے۔ ایسے افراد ہمیشہ خوف کی حالت میں ہوتے ہیں۔ اپنے اس نشے کو پورا کرنے کیلئے انہیں بہت سارے دوسرے جرائم کا بھی مرتکب ہونا پڑتا ہے۔ چوری ڈاکہ لگانا پڑتا ہے۔مکرو فریب کے ذریعے لوگوں کو لوٹنا پڑتا ہے۔ یوں یہ موذی مرض بہت ساری دوسری معاشرتی بیماریوں کیلئے پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔ نشے میں شدت آنے کے بعد گٹر نالوں اور کچرہ خانوں کی وہ زینت بن جاتے ہیں۔ انھیں گلی کوچوں میں کوڑا کرکٹ کی مانند پڑے رہنا پڑتا ہے۔
گھر کے کسی فرد کا نشے میں مبتلا ہونے کا اثر پورے گھر پر پڑتا ہے اور ساتھ ہی اس کے ہم عصروں، سوسائٹی اور ارد گرد کے لوگوں کیلئے کسی عذاب سے کم نہیں ہوتا کیونکہ منشیات کااستعمال ذہنی و جسمانی تکلیف کے علاوہ ذلت و رسوائی کا باعث بھی بنتا ہے۔خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتا ہے ۔مستقبل داؤپر لگ جاتا ہے ،کیرئر برباد ہو جاتا ہے اور ساتھ ہی نشہ کرنے والا گھریلو تشدد کا شکار بھی ہوتا ہے جس سے اسے سخت جسمانی اذیت اٹھانی پڑتی ہے۔ ایک وقت تو ایسا آتا ہے کہ اس کا جسم اتنا بے اثر ہو جاتا ہے کہ وہ ذرا سی اپنی نشہ کی خوراک حاصل کرنے کے لئے ڈھیر سارے تشدد کا شکار ہو کر بھی بے حس ہو جاتا ہے۔ بس اس کی ایک ہی طلب باقی رہ جاتی ہے کہ کسی بھی قیمت پہ اور کسی بھی طرح اس کومطلوبہ منشیات حاصل ہو جائیں۔ دین سیدوری تو ہو ہی جاتی ہے ، سماج اور معاشرہ بھی اپنانے سے انکار کر دیتا ہے۔ لوگ نشہ کرنے والے کے پاس سے گزرنے کو بھی معیوب سمجھتے ہیں۔نشہ کرنے والے فرد کے دماغ کے خلیوں میں تبدیلی آنے لگتی ہے جس کا اثر اس کے رویوں پہ پڑتا ہے،وہ نا مناسب کیفیات کا شکار ہو جاتا ہے اور خاص کر فیصلہ کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھا ہے۔دماغ کے علاوہ جگر بھی بری طرح متاثر ہوتا ہے، ناک کے پردے میں سوراخ ہوجاتا ہے۔ ممکنہ طورپر وہ کینسر کا مریض بن کر جلد موت کے منہ میں چلاجاتاہے۔ نشہ آور اشیاء استعمال کرنا یا نشے کی لت لگ جانا اور نشے کا مریض بن جانا بھی دو مختلف حالتیں ہیں۔شوقیہ نشئی منشیات کی مقدارسے اپنے حواسوں پر کنٹرول رکھتے ہیں جب کہ نشے کا مریض مکمل طور پراپنے حواسوں میں نہیں ہوتا۔ اس کا جسم تو نشے سے چور ہوتا ہے لیکن دماغ کی طلب باقی رہتی ہے۔
دیکھنے میں آیا ہے کہ پریشان حال، نارمل، خوش باش اور ہر قسم کے لوگ نشہ کرتے ہیں۔ نشے کا آغاز عام طورپر تفریح، رواج یا ’’علاج‘‘ کے طور پر کیا جاتا ہے، بے سکونی، نشے کا ماحول اور اس کی آسان دستیابی اس کو ہموار کرتے ہیں، لوگ نشے کا استعمال پھولوں کی طرح خوشی اور غم دونوں موقعوں پر کرتے ہیں۔جو لوگ نشہ کرتے ہیں انہی میں سے کچھ لوگ نشے کی بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ نشے کی بیماری کیلئے جسم کی کیمسٹری میں ایک بنیادی نوعیت کی تبدیلی کا آنا ضروری ہے۔ تاہم اس تبدیلی کا تعلق موڈ یا مزاج سے نہیں۔ ایسا کب اور کیوں ہوتا ہے، اس کی حتمی وجہ ابھی معلوم نہیں ہو سکی۔نشے کے مرض میں جسم زیادہ سے زیادہ نشہ طلب کرنا شروع کر دیتا ہے اور مریض یہ طلب ہر حالت میں پوری کرنے پر مجبورہوتا ہے۔ شوقیہ نشہ کرنے والے لوگ نشے کی مقدار، وقت اور جگہ پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ جبکہ نشے کا مریض یہ اختیار مکمل طور پر کھو دیتا ہے۔ مریض سمجھتا ہے کہ نشے میں کوئی نقص ہے لہٰذا وہ مزید نشے کی جستجو میں رہتا ہے۔ ’’نقص‘‘ اصل میں مریض کے جسم میں ہوتا ہے جو ایک طرح سے شے سے ’’الرجک‘‘ ہو جاتا ہے۔نشے کا آغاز عام طور پر تفریحاً کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے دوست و احباب نشے کی دعوت دیتے ہیں یا کسی کی دیکھا دیکھی یا چوری چھپے انسان اس غلط عادت کو اختیار کرلیتا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ یہ عادت بیماری کی شکل اختیار کرلیتی ہے، مستقل نشہ کرنے کی صورت میں نشہ کرنے والوں کا جسم تیزی سے نشے کی مقدار کو ضایع کرنے کی صلاحیت حاصل کرلیتا ہے اس طرح نشہ کرنے والے مجبوراً اس کی مقدار میں اضافہ کرتے جاتے ہیں۔ اس طرح مختلف نشے کرنے والوں کی زندگی کا حصہ بنتے چلے جاتے ہیں اور نشے باز کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کردیتے ہیں۔جنگ اور محبت کی طرح نشے کا مریض بھی اپنی ہر حرکت کو جائز سمجھتا ہے۔ نشے کی خاطر غیر اخلاقی اور غیر قانونی سرگرمیوں تک میں ملوث ہوجاتا ہے۔ ایسے حالات میں والدین رونے دھونے، چیخنے چلانے، دھاڑنے ، لعنت ملامت، زور زبردستی، تنقید، منت و سماجت، دھمکیوں، دھونس، آنسو، وعظ و نصیحت جیسے تمام حربے استعمال کرتے ہیں لیکن اس کا نتیجہ صفر نکلتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ نشے کا مریض نشے کے زیر اثر ہوتا ہے، اسے اپنے ارد گرد کے حالات کا شعور نہیں ہوتا۔شراب کی خاص خوبی سکون دینا ہے۔ کوکین تحریک دینے اور ہیروئن درد ختم کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ چرس خیالات اور نظریات بدل دیتی ہے۔تاہم ان کا تواتر سے استعمال انسان کی صلاحیتوں اور ان خصوصیات کو زنگ آلود کردیتا ہے۔ پھریہ عادت نشہ بن کر مریض کے لیے دردِ سر ہوجاتی ہے۔دنیامیں جتنے لوگ نشہ کرتے ہیں اتنی ہی نشہ کرنے کی وجوہات ہیں، جن میں سے چند ایک گھریلو ناچاقی، جنسی کمزوری، ڈپریشن، عشق میں ناکامی، خرابی صحت، بیروزگاری، بوریت اور ٹینشن ہیں۔جنگ اور محبت کی طرح نشے میں مبتلا شخص اپنی ہر حرکت کو جائز سمجھتا ہے۔ نشے کی خاطر وہ غیر اخلاقی اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہوتا ہے۔
شریعتِ مطہر ہ نے جن چیز وں کو انسان کیلئے حرام قرار دیا اور جو چیزیں انسان کے روح و جسم کونقصان پہنچانے والی ہیں ان میں ایک نشہ آور چیز بھی ہے۔ نشہ آور چیزیں انسان کی عقل کو بیکارکردیتی ہیں۔اللہ تعالی نے انسان کی غذا اورتفریحِ طبع کیلئے انہی چیزوں کو متعین اور حلال کیا ہے جو انسان کی روح اور جسم کو فائدہ دیتی ہیں اور جو چیزیں انسان کے روح اور اس کے جسم کیلئے نقصاندہ اور مضرت رساں ہیں انہیں حرام قرار دیا ہے ،انسانی صحت کا رازحلال اور پاکیزہ غذاؤں میں مضمر ہے، اسی لیے غذا سے متعلق اسلامی تعلیمات میں حفظانِ صحت کی پوری رعایت کی گئی ہے۔ اسلام کے وضع کردہ غذائی قوانین پر عمل پیرا ہونے سے انسان کی صحت پر خوش گوار اثرات مرتب ہوتے ہیں اور وہ قوی اور تندرست رہتا ہے، اور ساتھ ہی وہ مختلف متعدی امراض اورمہلک بیماریوں سے محفوظ رہ سکتا ہے،یوں توتمام چیزوں میں اصل حلت واباحت ہے مگرجن چیزوں کے بارے میں شریعت نے منع کیا ہے یاجن کے مفاسد یقینی اور واضح ہیں ان کا استعمال انسان کے لئے واقعی مضر اور نقصاندہ ہے۔تم پرحرام کیا گیا مرداراورنہتا ہواخون اورخنزیرکاگوشت اوروہ جانورجن پرغیر اللہ کا نام لیاگیا ہواوروہ جانور جوگلا گھٹنے سے مرا ہویا چوٹ لگنے سے مرا ہویا بلندی سے گرکر مرا ہو یا کسی دوسرے جانور سے سینگ مار کر ہلا ک کردیا ہو یا جسے درندوں نے پھاڑکھایا ہو،لیکن تم اسے ذبح کے ذریعہ حلال کرڈالاہو (تووہ حرام نہیں)ہے۔
انسانی تہذیب کے آغاز سے ہی منشیات کا استعمال شروع ہو چکا تھا۔ انسان ہمیشہ سے چیزوں کے ساتھ ایسے تجربات کرتا چلا آیا ہے جو اسے سکون بخش احساسات سے روشناس کراتے ہیں۔ آثار قدیمہ شہادت دیتے ہیں کہ شراب کی سب سے پہلی فیکٹری 3000قبل مسیح میں دریائے نیل کے کنارے قائم ہوئی تھی۔ 1492عیسوی میں کولمبس سمندری سفر کرتا ہوا جب جزائر غرب الہند (ویسٹ انڈیز) پہنچا تو اس نے مقامی باشندوں کو سگریٹ سے شغل کرتے ہوئے دیکھاتھا۔ 1600 میں امریکا میں جیمز ٹاؤن کے باشندوں نے پہلی بار ماری جوا ناکاشت کی وہ اس سے مضبوط دھاگا حاصل کر کے اپنے لیے کپڑے اور رسیاں بناتے تھے۔ بعدازاں یہ چیز نشے کے طور پر استعمال کی جانے لگی۔ابتدائی انسان نشے کو محض ذہنی آسودگی حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتا تھا۔ کوئی نہیں جانتا کہ کون سی طاقت انسان کو چیزوں کا عادی بننے پر مجبورکرتی ہے اور کس طرح اس سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔ نشے سے مراد صرف منشیات اور شراب کا نشہ نہیں بلکہ یہ بھی ایک قسم کا نشہ ہوتا ہے کہ انسان بعض ایسی چیزوں کا کثرت سے استعمال کرنے لگتا ہے جن سے پیچھا چھڑانا اس کے بس سے باہر ہوتا ہے۔
انسان کے اندر بہت سے کیمیائی عوامل رونما ہوتے رہتے ہیں۔ جن کے باعث وہ نشے کی جانب ٹپکتا ہے۔ نشے کی لت ایک نقصان دہ رویہ ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ لمبے عرصے کے ارتقائی عمل سے نشہ انسانی آبادی میں پھیل چکا ہے۔ کچھ لوگ جینیاتی طور پر نشے سے رغبت رکھتے ہیں لیکن اس میں بھی دماغ کے بنیادی افعال کار فرما نظر آتے ہیں۔ بہت سے افراد ذہنی دباؤ سے چھٹکارا پانے کیلئے نشے کا سہارا لیتے ہیں۔ ذہنی دباؤ نشے کی خواہش کو بڑھاتا ہے۔ جب انسان گھبراہٹ اور خو ف کی حالت سے گزرتا ہے تو وہ ذہنی دباؤ محسوس کرتا ہے۔ یہ دباؤ دماغی سوچ کے زاویوں کو بدل سکتا ہے جس سے دو طرفہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ ہمارا دماغ ایک پروگرام کے تحت ہمیں خطرات سے آگاہ کرتا رہتا ہے۔ اس کی واضح مثال ’’خوف‘‘ ہے۔ نیورولوجسٹ اس تعلق کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں۔ انسان جب کسی چیز سے خوف محسوس کرتا ہے تو وہ اس سے دور بھاگتا ہے۔منشیات کی لت دماغ کے بنے ہوئے پروگرام کو تباہ کر دیتی ہے۔ منشیات سے یادداشت، فیصلہ سازی کی قوت اور ذہن کی تیز رفتاری متاثر ہوتی ہے۔ نشے کی عادت صرف دماغی افعال کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ یہ انسانوں کے باہمی رویوں کے ذریعے بھی ذہن میں گھر کر لیتی ہے۔ نشہ انسان پہلے پہل شوقیہ کرتا ہے بعد میں یہ عادت بن جاتی ہے۔ نشہ کے دوران وقت زیادہ سکون سے گزرتا ہے۔ لیکن نشہ کی عادت صرف ایک چیز تک محدود نہیں رہتی بلکہ یہ خوشیوں کو تہس نہس کر دیتی ہے۔ جب انسان کا کردار حد سے تجاوز کر جائے تو نشے کی عادت پڑتی ہے۔ ہمارا نظام اسے چلاتا ہے۔ یہ نظام اس سے ہاتھ ملا کر کہتا ہے کہ نشہ اچھی چیز ہے اسے دوبارہ کرنا چاہیے۔مغربی ممالک میں شراب نوشی کے میدان میں مردوں کے مقابلے میں عورتوں کا تناسب زیادہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ خواتین مردوں کے مقابلے میں شراب نوشی میں زیادہ تیزی سے گرفتار ہوتی ہیں۔ اُن میں شراب جذب کرنے کی صلاحیت مردوں سے زیادہ ہوتی ہے۔
پوری دُنیا آج منشیات کے حصار میں ہے، جہاں جہاں تہذیب نو موجود ہے ممکن نہیں کہ وہاں نشہ آور اشیاء موجود نہ ہوں، کبھی آپ نے سوچا ہے کہ کیا دنیا میں کروڑوں افراد اچانک نشہ کے عادی بن گئے ہیں۔ منشیات سے مراد ایسی دوائیں ہیں جن کے استعمال سے سکون کی کیفیت محسوس ہو۔ دنیا سے بے نیازی اور بے خودی کی کیفیت طاری ہوجائے اور نیند، بے ہوشی، مدہوشی اور بد مستی طاری ہو کر تمام دکھ درد بھول جائیں۔ شروع شروع میں تو سکون کا متلاشی بے انتہا فرحت محسوس کرتا ہے مگر جب نشہ ہرن ہوتا ہے تو اس کی طلب پھر بے چین کر دیتی ہے اور اس کے حصول کیلئے وہ پھر کوشاں ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی زندگی کا مقصد ہی نشہ کرنا رہ جاتا ہے، دنیا میں پانچ سو سے زائد ایسے مرکبات یا مفردات ہیں جنہیں بطور نشہ استعمال کیا جاتا ہے۔
ماہنامہ غازی میگزین کی جانب سے کی گئی تحقیق کے دوران یہ بات سا منے آئی کہ پاکستان کے بڑے شہروں میں اس وقت30سے زائد اقسام کے نشوں کا استعمال ہو رہاہے جس کو غریب طبقہ سے لے کر امیرلڑکیاں اور لڑکے تک استعمال کرتے ہیں منشیات کی اقسام میں،شراب،تمباکو،نشیلی بیڑی،نشیلی سگریٹ ،وہسکی،سیمپین،بئر،ایل ایس ڈی ،ہیروئن ، چرس، صمد بونڈ، انجکشن ، کوریکس، ٹینو شربت ، کوکین، پٹرول ، نشہ آور گولیاں ،نشہ آور پکوڑے ،نسوار،بھنگ، بوٹی ، ،بھنگ کے پاپڑ ، افیون، گانجا ، گٹکا،ایکس ٹیسی، آئس یاکرسٹل میتھ،فحش تصاویر یا فلمیں دیکھنا،بچھو کا ڈنگ اور افیم وغیرہ مقبول ہیں۔نشے کی اقسام کے حوالے سے اپر کلاس اور لوئر کلاس کے نشے بھی علیحدہ علیحدہ ہیں۔ اپر کلاس کے نشے میں سب سے خطرناک کرسٹل آئس، ایس ٹی سی گولی، ایل ایس ڈی، غیر ملکی شراب، کوکین، ہشیش، ہیروئن شامل ہیں جبکہ مڈل اور لوئر کلاس کے نشوں میں گٹکا، دیسی شراب، افیون، بھنگ، چرس، نسوار، ڈرگ انجکشن، کھانسی کے تمام سیرپ جن میں الکوحل 20 فیصد تک ہو، جوڑ سلوشن، صمد بانڈ سمیت 20سے زائد نشے شامل ہیں۔نشہ بھی ایک طرح سے خود کشی کے مترادف ہی ہے۔ نشہ کرنے والا آہستہ آہستہ موت کی طرف ہی بڑھ رہا ہوتا ہے اور وہ بخوبی اس بات سے واقف بھی ہوتا ہے اور بلاخر ایک دن اپنی جان گنوا بیٹھتا ہے۔ایک نشئی جتنی زیادہ اپنی پسندیدہ منشیات استعمال کرتا ہے اتنا ہی تباہی کی جانب بڑھتا جاتا ہے جہاں سے نارمل زندگی کی طرف اس کی واپسی کے امکانات کافی مشکل اور اکثر نا ممکن ہوتے ہیں۔
منشیات کے استعمال سے انسان سرور و انبساط کی کیفیت محسوس کرتا ہے اس پر دنیا سے بے نیازی اور بے خودی کی کیفیت طاری ہو جا تی ہے اور نیند، بے ہوشی، مدہوشی اور بدمستی طاری ہو کر تمام دکھ درد بھول جائیں،ابتداء میں تو سکون کا متلاشی بے انتہا فرحت محسوس کرتا ہے مگر جب نشہ ختم ہوتا ہے تو اس کی طلب پھر بے چین کر دیتی ہے اور اس کے حصول کیلئے وہ پھر کوشاں ہو جاتا ہے،یہاں تک کہ اس کی زندگی کا مقصد ہی نشہ کرنا رہ جاتا ہے ،پھر جب کثرتِ مئی خوری اور نشہ آور چیزوں کی عادت پڑجاتی ہے تو اس سے سیکڑوں امراض پیدا ہوتے ہیں جو انسانیت کیلئے سم قاتل ہیں۔ نشہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں حلق کی خرابی،جگرکی خرابی،امراض قلب،اسقاط حمل،قلت عمر،معدہ کازخم،فاسدخون،تنفس کی خرابی،ہچکی،کھانسی،پھپھڑوں کی سوجن،کینسر،سردرد،بے خوابی ،دیوانگی،ضعف اعصاب ، فالج ،ٹی بی، ہارٹ اٹیک، خفقان،ضعف باہ،بواسیر،دائمی قبض،گردے کی خرابی،ذیابطیش وغیرہ اہم بیماریاں ہیں۔ ان میں بعض ایسی بیماریاں ہیں جو انسان کو موت کے منہ میں ڈھکیل دیتی ہیں۔طبی ماہر ین کے مطابق تمباکو میں تین خطرناک قسم کے زہریلے اجزاء کی ملاوٹ ہوتی ہے، ان اجزاء میں ایک روغنی اجزاء سے بناہوا نیکوٹین ہے اگر اس روغن کو نکال کراس کا صرف ایک قطرہ کتے ،بلی یا کسی بھی جانور کو کھلایا جائے تو فورا وہ موت کے منہ میں چلا جائے گا۔
ایکس ٹیسی کا نشہ دراصل دماغ کے عصبی ریشوں کو نقصان پہنچاتا ہے اور سیروٹونن کی سطح کو کم کرتا ہے۔ ایسا نقصان عموماً دائمی ہوتا ہے۔کچھ عرصہ بعد یہ ڈپریشن اور حافظے کی کمزوری جیسے امراض کا باعث بن سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ فحش فلموں کی عادت بھی نشہ ہے، یہ لت کسی کو ایک بار لگ جائے تو اس سے جان چھڑانی مشکل ہو جاتی ہے۔ انسان کے دماغ میں کیمیکل ’’ڈوپامین‘‘ کا اخراج بڑھ جاتا ہے اورا سے سکون ملتا ہے۔ ماہرین کے مطابق فحش مواد دیکھنے سے قوت حافظہ کمزور ہوتی ہے۔زندگی میں آگے بڑھنے کاجذبہ ماند پڑجاتا ہے۔ چہرے کی تازگی اور خوبصورتی بھی متاثر ہوتی ہے۔اس کے علاوہ بچھو کے ڈنگ کا نشہ بھی کیا جاتا ہے۔صوبہ خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں جن میں بنوں ،کوہاٹ، کرک ،اپر دیر،لوئر دیر،چارسدہ ،اور بٹ خیلہ شامل ہیں میں لوگ بچھو کو پہلے دھوپ میں خشک کرکے بعد بچھو کوکوئلے پر جلا یا جاتا ہے۔پھر آگ سے نکلنے والے دھوئیں کو سانس کے زریعے اپنے جسم داخل کرتے ہیں،کچھ لوگ بچھو کی جلی ہوئی دم اور حثیش کو تباکو میں ملانے کے بعد سگریٹ میں بھر کر پیتے ہیں ۔بعض لوگ بچھو کے ڈنک کا نشہ کرتے ہیں ۔اس کے ڈنک کا نشہ دس گھنٹے تک برقرار رہتا ہے ،پہلے چجھے گھنٹے زیادہ تکلیف ہوتی ہے اس کے بعد سرور ۃنے لگتا ہے اور پھر ہر شے نا چتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ ماہرین کے مطابق بچھو کے زہر کے کش لگانا انسانی دماغ کے خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ بچھو ؤں کی 1750 اقسام میں سے 25 انسانوں کیلئے جان لیوا ثابت ہوتی ہیں، دیگر اقسام اگر ڈنک مارے تو ہلاکت تو نہیں ہوتی مگر ڈاکٹرزکے مطابق ان کا زہر دیگر منشیات کے مقابلے میں زیادہ مضر ضرور ثابت ہوتا ہے۔
نسوار گہرے سبز رنگ کی تمباکو سے بنی ایک نشہ آور چیز ہے۔ جس کو ایک چٹکی کی صورت میں نچلے ہونٹ اور دانتوں کے درمیان میں رکھا جاتا ہے۔ اور اس کے بعد پڑیچ پڑیچ کر کے تھوکتے ہوئے اس کے نشے سے مزا لیا جاتا ہے۔نسوار بنانے کیلئے تمباکو کے پتوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جن کو چونا ، راکھ اور ایک خاص گوند کے ساتھ ایک تناسب سے ملایا جاتا ہے اور اس کے بعد لکڑی کے موصل سے پتھر کی اوکھلی میں جسے لنگڑی بھی کہا جاتا ہے پیسا جاتا ہے۔ اس پیسنے کے دوران پانی کے چھینٹے ڈال ڈال کر اس کو نرم بھی کیا جاتا ہے۔خیبر پختونخوا کے علاقے بنوں کی نسوار سب سے زیادہ مقبول ہے۔ اس کے علاول چارسدہ اور صوابی کی نسوار کو بھی پسند کیا جاتا ہے۔نسوار کی مختلف اقسام ہوتی ہیں جن میں سبز ، کالی اور لال نسوار شامل ہیں۔ ان میں لال نسوار کو ناک کے نتھنوں میں رکھ کر سانس اندر کی طرف کھینچ کر استعمال کیا جاتا ہے۔اس کو استعمال کرنے کے نتیجے میں اس کے اندر موجود نکوٹین انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے۔جس کے اثر سے ہمارا دماغ ڈوپامائن نامی ہارمون کا اخراج کرتا ہے اور اس ہارمون کے اثر سے دماغ کو یہ تاثر ملتا ہے کہ اس نے بہت اچھا کام کیا ہے۔نسوار کو برصغیر پاک و ہند میں پختونوں کی میراث تصور کیا جاتا ہے لیکن بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ ان کا آغازپندرہویں صدی میں امریکہ سے شروع ہوا۔اس کے بعد سترہویں صدی میں یورپ میں اس کا استعمال عام ہوا۔کولمبس نے جب امریکہ کو دریافت کرنے کیلئے سفر کیا تو ہیٹی کے سفر کے دوران اس نے دیکھا کہ مقامی ریڈ انڈین ایک پودے کے پتے کو رول بنا کر اس کو آگ لگا کر اس کے کش لگاتے ہیں۔ یہ پودا تمباکو کا پودا تھا جس کو کولمبس اپنے ساتھ امریکہ لے کر گیا۔ اور پھر اس پتے سے نشہ کرنے کا آغاز ہوا۔یورپی لوگ جب برصغیر پاک و ہند میں آیاتو وہ اپنے ساتھ یہ نشہ آور اشیا بھی لایااور انہوں نے ہی اس کا آغازکیا۔ جو کہ بعد میں پختونوں کی روایت بن گیا۔نسوار ایک انتہائی مضر صحت نشہ ہے۔ اس کے اثرات انسانی جسم پر انتہائی مضر ہوتے ہیں۔ چونکہ اس کو براہ راست منہ میں رکھا جاتا ہے۔ اس لئے اس کے سبب منہ کے کینسر ہونے کے واقعات کا تناسب بہت زیادہ ہوتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ یہ پھپھڑوں کے کینسر اور دل کی بیماریوں کا سبب بھی بنتی ہے۔ اس کے عادی افراد کو اگر یہ نہ ملے تو ان کی طبیعت میں بے چینی اور غصہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی عادت کے سبب، اگر یہ نہ ملے تو انسان کے کام کرنے کی استعداد بھی متاٹر ہوتی ہے۔اس کو استعمال کرنے والے کے ہاتھ ،اور دانت ہر وقت گندے رہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کے استعمال کرنے والے کی بار بار تھوکنا پڑتا ہے جس سے اس کی شخصیت کا تاثر دیکھنے والے پر انتہائی برا پڑتا ہے۔
ذلت، رسوائی اور بربادی کی تصویر بنے، گندگی کے ڈھیر پر زندگی گزارنے والے نشے کے عادی لوگوں کی کہانی کے کئی رخ ہیں ، لیکن کی ان کی سوچ اور خواہش صرف نشے کا حصول ہے۔نشے کی لت میں مبتلا افراد کو کسی کی بھی فکر نہیں ،نہ ہی انہیں دنیا سے کوئی سرور کار بلکہ وہ تو خوشی ،غم ،درد اور خیال نام کی چیز سے بھی دور ہیں۔یہ صرف چاہتے ہیں کہ مل جائے تو صرف نشہ اس کے بعد انہیں کسی اور چیز کی پروا نہیں۔ صبح سے شام بس ایک ہی دھن سوار ہے ، نشے کی لت پڑی تو گھر بار سے ناطہ ہی ختم ہوگیا۔ملک کے بڑے شہروں میں نشہ کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہاہے، ساتھ ہی نشے کی اقسام بھی بدلتی جارہی ہیں۔ صمد بونڈ جسے عام طور پر چیزیں جوڑنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے اسے سونگھ کر دماغ کو سن کرنے والے یہ نوجوان اپنی دنیا میں مگن ہیں۔خطرناک اور زہریلی بدبو جو ان نشیوں کیلئے راحت وسکون کا سبب ہے۔
منشیات کی ایک نئی قسم ’’ آئس‘‘ جسے مختصر طور پر ’’ میتھ‘‘ بھی کہاجاتا ہے نوجوان نسل ہیروئن کے بعد اس نشے کی عادی ہوتی جارہی ہے۔ مختلف کیمیکلز سے تیار ہونے والے نشے ’’ آئس‘‘ ایک مہنگا نشہ ہے جواسلام آباد،لاہور ، کراچی، پشاور ،ملتان،فیصل آبادسمیت دیگر بڑے شہروں کی نوجوان نسل کیلئے سب سے بڑا خطرہ بن گیا ہے،تعلیمی ادارے، کارپوریٹ سیکٹرز، بینکنگ سیکٹر اس نشے کے سب سے بڑے شکار ہیں۔ذرائع کے مطابق اس نشے کے عادی زیادہ تر افراد کا تعلق پڑھے لکھے طبقے سے ہے، نوجوانوں کو منصوبہ بندی کے تحت اس نشے کی لت لگائی جاتی ہے۔پوش علاقوں میں مختلف فلیٹس اڈے کے طوراستعمال ہورہے ہیں جنہیں آئس کے ڈیلرز نے خصوصی طور پراسی مقصد کیلئے لے رکھا ہے۔ملزمان نے ان فلیٹس میں سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب کر رکھے ہیں، فلیٹس میں پارٹیز منعقد کی جاتی ہیں جہاں ابتداء میں مفت نشہ کرایا جاتا ہے،اس نشے سے سب سے زیادہ 15 سے 25 سال کے لڑکے لڑکیاں متاثر ہورہے ہیں۔ان میں 50 فیصد نوجوان لڑکیاں ہیں، اس نشے کی پہنچ تعلیمی اداروں تک بھی ہے جس کے تدارک پر کام جاری ہے، ذرائع کے مطابق تین سے چار بار آئس لینے سے اس نشے کی لت پڑ جاتی ہے، لت پڑنے کے بعد جو آئس خرید نہیں پاتا اسے سپلائر بنادیا جاتا ہے۔سپلائر بننے والوں میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں شامل ہوتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس نشے کے حصول کیلئے نوجوان لڑکیاں جسم فروشی تک پر آمادہ ہوجاتی ہیں۔آئس خریدنے والوں کی تعداد سیکڑوں میں ہے اور اس کے خریداروں میں 50 فیصد لڑکیاں شامل ہیں۔ملک کے بڑے شہروں کا نوجوان اور پڑھا لکھا طبقہ آئس نشے کے سوداگروں کا ٹارگٹ بنا ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق بڑے شہر وں میں پارٹی گرلز بھی آئس کی سپلائی میں ملوث ہیں جبکہ شہر میں آئس زیادہ تر پشاور اور کوئٹہ کے راستے لائی جاتی ہے۔پاکستان کے تعلیمی اداروں میں منشیات کا استعمال ہو رہا ہے۔ماہنامہ غازی میگزین کی تحقیق کے مطابق لاہور، کراچی اور اسلام آباد کے بعض بڑے بڑے نجی سکولوں اور درجن کے قریب نجی و سرکاری یونیورسٹیوں میں 57فیصد طالبعلم کسی نہ کسی قسم کے نشے کے عادی ہیں، طالبعلموں کی عمریں 18 سے 24 کے درمیان ہیں اور ہیروئن کا نشہ کرنے والے 75فیصد عادی افراد کی عمریں بھی 24 سے کم ہیں۔فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا کے ذریعے آرڈر لے کر مہلک ترین نشہ آئس پاوڈر، کوکین، ہیروئن اور چرس سپلائی کی جاتی ہے ۔ منشیات فروخت کرنے والے لوگ فیس بک پر لڑکیوں سے دوستی کر کے پہلے مفت میں نشہ پلاتے پھر پیسوں کی ڈیمانڈ کرتے جبکہ پرائیویٹ پارٹیوں میں بھی مطلوبہ نشہ سپلائی کیا جاتا ہے۔
تعلیمی اداروں اوران کے ہاسٹلز میں مقیم نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی تعداد ’ آئس‘‘ کے نشے کی لعنت کا شکار ہورہی ہے۔اس کے فروغ کی ایک بڑی وجہ اس کا بغیر بدبو کے ہونا ہے۔ اس کو سگریٹ کے ذریعے عوامی مقامات پر بھی بآسانی استعمال کیاجاسکتا ہے اور یہ دوسرے نشہ جات کی طرح بظاہر معیوب بھی محسوس نہیں ہوتا علاوہ ازیں اس نشے میں جگانے یعنی بیدار رکھنے کی خاصیت موجود ہونے کی وجہ سے طلبہ اس کی جانب راغب ہوتے ہیں تاکہ وہ امتحان کی ڈٹ کر تیاری کرسکیں مگر انہیں اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ اس طرح وہ ایک عذاب میں مبتلا ہونے جارہے ہیں۔ ’’ آئس‘‘ میں پایاجانے والا میتھا ایمفیٹامین اپنے اندر وزن کم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے وزن گھٹانے کے لیے بھی بعض عاقبت نااندیش لوگ اسے استعمال کر بیٹھتے ہیں اور مستقل خطرات سے دو چار ہوجاتے ہیں۔ فی الحال ’’ آئس‘‘ امیروں کا نشہ قرار دیاجاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق اصل اور خالص ’’ آئس‘‘ نشے کی ایک پڑیا 5سے 10ہزار روپے میں فروخت ہوتی ہے۔ تاہم علاقائی سطح پر غیر قانونی لیبارٹریوں میں تیار ہونے والی ’’ آئس‘‘ دوسرے درجے کی ہوتی ہے اور اس کی قیمت بھی ایک سے دو ہزار فی پڑیا ہوتی ہے۔ مگردو نمبر ’’ آئس‘‘ مزید ہلاکت خیز اور تباہ کن اثرات مرتب کرتی ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق ’’ آئس‘‘ نشے کی بڑی مقدار افغانستان سے پاکستان سمگل ہورہی ہے جبکہ اس کے علاوہ ایران اور چین سے بھی مختلف طریقوں سے پاکستان پہنچ رہی ہے۔ چین سے تحصیل علم کے بعد واپس آنے والے کئی طلبہ میں بھی ’’ آئس‘‘ کی لت پائی گئی کیوں کہ وہاں یہ نشہ کافی عام ہورہا ہے۔’’ آئس پشاور اور قبائلی علاقوں میں آسانی سے مل جاتی ہے جہاں خاص مقامات پر اس کی فروخت ہورہی ہے۔ پشاور میں ملنے والی ’’ آئس‘‘ عام طور پر ایران سے لائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ اس کے علاوہ افغانستان سے بھی یہ بھاری مقدار میں پاکستان پہنچ رہی ہے۔ اس کے علاوہ ملک کے مختلف حصوں میں کام کرنے والی خفیہ لیبارٹریاں بھی ’’ آئس‘‘ تیار کرکے فروخت کررہی ہیں۔ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں ’’ آئس‘‘ کو ہیروئن کی جگہ استعمال کیاجارہا ہے۔ تحقیق سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ ’’ آئس‘‘ پینے والے بیشتر افراد پہلے ہیروئن کے عادی رہ چکے ہیں۔ ’’ آئس‘‘ کیا ہے؟ بھاڑی نما مخصوص پودوں اور درختوں سے ایک خاص کیمیکل حاصل کیاجاتاہے۔ یہ کیمیکل ’’میتھ ایمفیٹامین‘‘ کہلاتا ہے۔’’ آئس‘‘ یاکرسٹل میتھ کہلانے والا یہ مادہ مقامی سطح پر ایک کیمیائی عمل کے ذریعے ایفیڈزین سے بنایا جاتاہے۔ چینی یا نمک کے کرسٹل نما سفید ٹکڑے بنائے جاتے ہیں۔ اسی لئے اسے ’’ آئس‘‘ کہاجاتا ہے کیونکہ یہ برف کی ٹکڑیوں جیسا دکھائی دیتا ہے۔ نشہ بازان ٹکڑیوں کو باریک شیشے سے گزار کر حرارت دیتے ہیں عام طور پر اس کا م کے لیے کوئی سائنس لیب ٹیوب یا بلب کے باریک شیشے کو استعمال کیاجاتاہے۔ کچھ نشہ باز اس زہر کو انجکشن کے ذریعے بھی جسم میں اتارتے ہیں۔ سگریٹ میں استعمال کے لیے آدھی سگریٹ تمباکو سے خالی کرنے کے بعد درمیان میں آئس پاؤڈر ڈال دیاجاتا ہے۔ اسے پگھلا کر بوتل میں ڈالتے ہیں جس کے نیچے آگ جلائی جاتی ہے اور پھر اس میں اسٹرالگا کر اس میں سے نکلنے والا دھواں کھینچا جاتا ہے۔ پانی اور الکحل میں فوری حل ہونے والی ’’ میتھ ایمفیٹامین‘‘ کی ایجاد 1993ء میں مختلف بیماریوں کے علاج کی دوا کے طور پر ہوا تھا۔1920ء میں اس دوا کے ذریعے جرمنی میں مختلف بیماریوں کا علاج کیا گیا۔ 1930ء میں یہ دمہ، بخار اورسردی کے بچاؤکی دوا کے طور پر جانی جاتی تھی۔ 1950ء کے عشرے میں امریکانے اس کی گولیوں کو طلبہ، ٹرک ڈرائیوروں ،نائٹ ڈیوٹی کرنے والوں اور کھلاڑیوں کے لیے بیدار رکھنے والی دوا کے طور پر استعمال میں لانے کا عمل شروع کیا۔ 1970ء تک مارکیٹ میں اس کے انجکشن بھی آگئے اور یہ نشہ بازوں کے ہاتھ لگ کر نشے کی چیز بن گئی۔ افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج نے جنگی حکمت عملی کے تحت ’’ آئس‘‘ کا استعمال شروع کرایا۔’’ آئس‘‘ کے استعمال سے ان فورسز کی جنگی صلاحیتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ وہ تین دن تک بغیر کھائے پینے اور سوئے لڑتے رہے۔ ماہرین کاکہناہے کہ ’’ آئس‘‘ کے استعمال سے انسان اپنے اندر دوگنی توانائی محسوس کرتاہے۔ اس نشے کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے استعمال سے نشہ باز ایک عام شخص 24سے لے کر 48گھنٹوں تک زیادہ جاگ سکتا ہے۔ وہ اس قدر چوک ہوجاتاہے کہ اسے طویل اوقات نیند نہیں آتی، تاہم جب نشہ اترتا ہے تو انسان انتہائی تھکاوٹ اور سستی محسوس کرتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ’’ آئس‘‘ استعمال کرنے والوں کا حافظہ بھی وقتی طور پر بہت تیز ہوجاتا ہے۔ یہ الگ بات کہ اس کا دماغ رفتہ رفتہ کمزوری کی طرف مائل ہونے لگ جاتا ہے۔بدقسمتی سے یہ نشہ ملک کے تعلیمی اداروں میں فروغ پارہا ہے۔ سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ’’ آئس‘‘ استعمال کرنے والوں میں طالبات کی ایک قابل ذکر تعداد بھی شامل ہے۔ بدکار عورتیں بھی ’’ آئس کا استعمال زیادہ کررہی ہیں۔ علاوہ ازیں طلبہ ، تجارت پیشہ افراد ، سیاستدانوں، سرکاری افسران اور خواتین بھی اس نشے کی شکار ہورہی ہیں۔ذرائع کے مطابق آئس کا نشہ کرنے والے اس کو مشروبات یا پھر سگریٹ کے ساتھ پیتے ہیں۔ یہ بالکل کوکین کی طرح کام کرتی ہے۔‘‘پاکستان کے بڑے شہروں اسلام آباد، لاہور، پشاور اور کراچی میں ’’ آئس‘‘ کا پھیلاؤ خطرناک حد تک جاری ہے۔ یہاں مقامی سطح پر خفیہ لیبارٹریز قائم ہیں جو آئس نشہ تیار کرکے فروخت کرتی ہیں۔ کراچی،لاہو،پشاورر اور اسلا م آباد میں تو ’’ آئس‘‘ کانشہ کرنے والوں کی کافی تعداد کا پتہ چلا ہے جو یہ کام کئی برسوں سے کررہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ’’ آئس‘‘ فروشی کا سلسلہ ان شہروں میں برسوں سے جاری ہے۔
سگریٹ نوشی کے مضرّات اور انسانی صحت پر اس کے مہلک اثرات سے متعلق تحقیقات کی خوب تشہیر کی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ ہر سال دنیا بھر میں لاکھوں افراد سگریٹ اور تمباکو نوشی کے نتیجہ میں لاحق ہونے والی بیماریوں کے باعث موت کا شکار ہوتے ہیں اور کروڑہا ڈالرز ایسے مریضوں کے علاج معالجہ پر خرچ کئے جاتے ہیں جو سگریٹ نوشی کی وجہ سے مختلف امراض میں مبتلا ہوتے ہیں۔ چنانچہ سگریٹ اور تمباکو پر بھاری ٹیکس اور سگریٹ کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ کے علاوہ کئی ایسے اقدامات کئے جا رہے ہیں کہ کسی طرح لوگ سگریٹ نوشی ترک کر دیں۔ لیکن بایں ہمہ تمباکو کی صنعت پر کوئی برا اثر نہیں پڑا اور لوگ جنہیں سگریٹ نوشی کی عادت ہو چکی ہے وہ اسے چھوڑنے پر آمادہ نظر نہیں آتے۔ سگریٹ نوشی بلا شبہ ایک لغو اور بے فائدہ بلکہ مہلک چیز ہے اور خود اپنے ہاتھوں ، اپنی جیب سے رقم خرچ کر کے ہلاکت مول لینے والی بات ہے۔ لیکن صرف یہی تو ایک ایسی چیز نہیں جو انسانی معاشرہ میں مختلف بیماریاں پھیلانے اور اس کے امن و امان کو برباد کرنے کا باعث ہے ۔سگریٹ نوشی کے تعلق میں ہی جو تحقیقات سامنے آئی ہیں ان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسے لوگ جو اگرچہ خود تو سگریٹ نہیں پیتے لیکن ایسے ماحول میں ان کا اٹھنا بیٹھنا ہے جہاں سگریٹ نوشی ہوتی ہے وہ بھی اسی طرح سگریٹ کے زہریلے دھوئیں سے متاثر ہوتے ہیں۔ اسے Passive Smoking کا نام دیا گیا ہے کہ یہ بھی ایک رنگ کی سگریٹ نوشی ہی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق یورپ بھر میں عورتوں کے مقابلے میں مردوں کے جلدی مر جانے کی بڑی وجہ سگرٹ نوشی ہے۔حیرت ہوتی ہے کہ ترقی یافتہ ممالک تو اب اس موذی چیز سے چھٹکارا حاصل کرنے کے خواہاں ہیں لیکن نسبتاً غریب اور پسماندہ ممالک جو پہلے ہی اقتصادی بدحالی کا شکار ہیں وہاں بڑی کثرت سے سگریٹ نوشی کی جاتی ہے اور گویا عملاً روزانہ لاکھوں ڈالر ز نہ صرف نذر آتش کئے جاتے ہیں بلکہ وہ آگ اپنے جسم کے اندر دہکائی جاتی ہے اور اس کا زہریلا دْھواں فضا میں چھوڑکر ماحول کو بھی آلودہ کیاجاتا ہے جس کے نتیجہ میں کئی قسم کے عوارض لاحق ہو کر انسانی صحتوں میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس بدعادت سے متعلق کئی قسم کی اخلاقی اور روحانی کمزوریاں ایسی ہیں جو سوسائٹی میں مزید بے چینی اور انتشار کا موجب بنتی ہیں۔ نامعلوم تیسری دنیا کے ان غریب ممالک کے سربراہوں کو کب یہ توفیق ملے گی کہ وہ اپنے ممالک کے عوام کو تعلیم اور تشہیر اور مناسب قانون سازی کے ذریعہ اتنا شعور بخشیں گے کہ وہ ایسی لغویات سے بچیں اور اپنی اور اپنے ملکوں کی تعمیر و ترقی کیلئے مثبت کردار ادا کریں۔
دنیا بھر میں بیس کروڑجبکہ پاکستان میں80لاکھ سے زائد افراد منشیات کا زہر اپنی رگوں میں گھول رہے ہیں۔پاکستان میں ہر سال پچاس ارب روپے مالیت کی منشیات استعمال کی جا رہی ہیں۔نشے کے باعث ہر سال دنیا میں پچاس لاکھ سے زائد افراد زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ملک کی22فیصددیہاتی آبادی اور38فیصد شہری آبادی منشیات کا شکار ہے۔ان نشہ کرنے والوں میں ایک لاکھ تیس ہزار افراد سرنج کے ذریعے نشے کے عادی ہیں اور 80فیصد افراد مشترکہ سرنج استعمال کرتے ہیں جس سے بعد ازاں مہلک ترین بیماریاں’ہیپاٹائٹس سی’ ایڈز ‘کئی قسم کے کینسر اور دیگر خطرناک امراض جنم لیتی ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان میں زیادہ تر 14 سے 18سال کے نوجوان ہیں پاکستان میں کم وبیش2ملین افراد ہیروئن اور 55ہزار افراد افیون کے نشے کے عادی ہیں۔ایلوپیتھک نشہ آور اور سکون آور ٹرانکولائزر گولیاں استعمال کرنے والے افراد کی تعداد 20ملین کے قریب ہے اور سکون ونیندآور ان ادویات کی بغیر نسخہ دستیابی سے ان کا استعمال کرنے والوں کا گراف بتدریج بڑھ رہا ہے۔ ان گولیوں کا استعمال چھوٹے اور بڑے مرد اور عورتیں جوان اور بوڑھے سب ہی کرتے ہیں۔ اگرچہ کوئی بھی کوالیفائڈ طبیب جنسی اور دیگر امراض میں نشہ آور دوا دینے سے پرہیز کرتا ہے تاہم ملک میں عطائیوں اورنیم حکیموں کی بھی کمی نہیں جن کی وجہ سے ہر سال 45ہزار افراد صرف نشہ آورجنسی ادویہ کا شکار ہورہے ہیں۔ نئی نسل میں نشہ آور اشیا کے استعمال کا رجحان درحقیقت دولت کی انتہائی فراوانی یا انتہائی غربت’ دوستوں کی بری صحبت، جنس مخالف کی بے وفائی، اپنی زندگی کو بے مقصد سمجھنے،اپنے مقاصد میں ناکامی اور اس تناظر میں پیدا ہونے والی بے چینی اور مایوسی والدین کی مادیت پرستی ‘انتہائی مصروفیت اور بچوں کے معاملات میں عدم دلچسپی وعدم تعاون معاشرہ کی طرف سے نظر انداز کئے جانے’ عدم مساوات’ ناانصافی’دہشت گردی اس کی جنگ کے عوارضات’عدم تحفظ’ انارکی ‘والدین کے گھریلو تنازعات بھی نشہ کے آغاز کے اسباب ہو سکتے ہیں اس کے علاوہ موجودہ ملکی معاشی و سیاسی حالات اور بجلی’پانی ‘گیس جیسی بنیادی ضروریات کی حکومت کی طرف سے عدم فراہمی منشیات کے استعمال کا باعث ہے۔اسلام نے 14سو سال قبل تاقیامت انسان کیلئے جو ضابطہ حیات تفویض کیا اس میں ہر طرح کے نشے کو حرام قرار دیا گیا ہے تاکہ انسان روحانی و جسمانی بیماریوں سے محفوظ رہے۔منشیات کا آغاز چھوٹے نشوں سے ہوتا ہے۔چائے ‘سگریٹ کافی ‘پان اور گٹکے کے استعمال کو نشہ نہ سمجھنا غلط فہمی ہے۔انہی سے ہیروئن’ افیون ‘چرس جیسے بڑے نشوں کی رغبت بڑھتی ہے۔ ظاہر ہے اس بد عادت کا پرہیز ہی اصل علاج ہے۔شراب’ ہیروئن ‘چرس’ افیون’ بھنگ’ صمد بونڈ’شیشہ’ نشہ آور
ٹیکے اور ادویات نیز دیگر جدید نشہ آور اشیا کا استعمال کرنے والوں کی تعداد دن بہ دن بڑھ رہی ہے۔منشیات فروش مافیا اور ان کے سرپرست وطنِ عزیز میں ہر طرف دندنا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان منشیات فروشوں کوایسی حکومت عبرت ناک سزا دے سکے گی جس نے نہ صرف شراب کے پرمٹ اور لائسنس ہر خاص و عام کو جاری کرکے بلکہ بیشتر حکمرانوں نے شراب کی فیکٹریاں لگا کرمنشیات فروشی کا دھندہ اپنا رکھا ہے۔پاکستان کی آنے والی نسل کس طرح انسانیت کے ان دشمنوں سے محفوظ رہے گی؟ان کے خلاف ایکشن کون لے گا؟ ان کو پھانسی پر کون لٹکائے گا؟یہ ایک لمحہ فکریہ ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ حکومت کے ساتھ ساتھ ہم سب کو بھی منشیات کے تدارک کیلئے اقدامات کرنے ہوں گے۔ ایسا شخص جو نشہ کرتا ہے اس سے لوگ نفرت کرنے لگتے ہیں اور اسے کمتر سمجھتے ہیں جبکہ منشیات کے عادی سے نفرت نہیں کرنی چاہئے بلکہ منشیات بیچنے والوں اور اس دلدل کی جانب دھکیلنے والوں سے نفرت کی جانی چاہئے۔
محققین اور علمائے کرام نے بھی منشیات کے برے اثرات پر طبی ومذہبی نقطہ نظر سے روشنی ڈالی ہے،علامہ ابن حجرنے کئی محققین سے حشیش (نشہ آور چیزوں )استعمال کرنے کے 120طبی اور روحانی نقصانات بیان کیے ہیں،ابن سینا کہتے ہیں کہ نشہ آور چیزوں کے استعمال سے بڑی مقدارمیں منی خشک ہوجاتی ہے اور اس طرح آدمی کی قوتِ مردانگی کو ختم کردیتی ہے ۔ابن بیطار کہتے ہیں کہ بعض لوگوں نشہ آور چیزوں کا استعمال کیا تو وہ پاگل ہوگئے۔علامہ ابن تیمیہ فرماتے ہیں جو نقصانات شراب میں پائے جاتے ہیں اس سے زیادہ حشیش (نشہ آور چیزوں ) میں پائے جاتے ہیں ،کیوں کہ شراب کے اکثر نقصانات دین کو متاثر کرتے ہیں، مگر حشیش دین اور جسم دونوں کو متاثر کرتا ہے( بحوالہ منشیات کے استعمال کے نقصانات)مولانا ادریس کاندھلوی اپنی تفسیر معارف القرآن میں شراب کے نقصانات ذکر کئے ہیں۔ (1)نشہ کرنے سے انسان کی عقل پر پردہ پڑجاتاہے اور اس کی عقل بے کار ہوجاتی ہے۔ (2)شرابی کی زبان اور اعضا ء اس کیاختیار اور قابو میں نہیں رہتے، اس سے غیر معتدل حرکتیں سرزد ہوتی ہیں اور اس کے ہوش و حواس بالکل ختم ہوجاتے ہیں ،اور اپنے افعال و اقوال کے عواقب سے بے پرواہ ہوجاتا ہے۔ (3) شراب انسان کے اندر حیوانی جذبہ کو بڑھا وا دیتی ہیں بسا اوقات نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ دامنِ عفت و عصمت کوداغ دار کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتاہے، اور صنفی آوارگی اور جنسی خواہش کی تکمیل پر آمادہ ہوجاتاہے۔ (4)شراب کی وجہ سے انسان عبادت اور ذکر الہٰی سے بالکل غافل ہوجاتا ہے بلکہ فرائضِ زندگی کی بھی اس کے نزدیک کوئی قدر و قیمت نہیں رہتی ۔(5)شراب مال و دولت کی بربادی کا سبب ہے ، زندگی بھر کا تمام مال شراب کی نذر ہوجاتا ہے ، بسا اوقات اس قدر تنگی ہوجاتی ہے کہ آدمی خود کشی کی طرف مائل ہوجاتا ہے یا دوسرے جرائم کو کرنے پر آمادہ ہوتا ہے۔(6)شراب خوری باہمی دشمنی اور عداوت کا سبب بنتی ہے اور آپسی تعلقات میں بگاڑ پیدا کرتی ہیاور ہر شریف النفس آدمی شرابی سے نفرت کرتا ہے۔ (7)شرابی کی طبیعت جادہ اعتدال سے منحرف ہوجاتی ہے اور اس کے تمام جسمانی قوتیں کمزور ہوجاتی ہیں ،نتیجتاً وہ مختلف بیماریوں میں مبتلاء ہوجاتاہے۔ (8)شرابی قویٰ کی کمزور ہونے کی وجہ سے اکثر کام کاج سے جی چراتا ہے ، بغیر شراب کے کا م نہیں کرسکتا۔
ان میں سے معروف نام شراب، بھنگ، چرس، گانجا، افیون، سگریٹ، حقہ، کافی، قہوہ، کوکو، چائے اور افیون کے مشقات میں سے نارکوٹین، نازینین، مارفین، ہیروئن اور کوڈین ہیں۔ یہ بات بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ شراب ’’مشروب مغرب‘‘ ہے۔ تمباکو امریکا اور یورپ والوں کی گھٹی میں پڑا ہوا ہے۔ افیون سے اخذ کی جانے والی ان تمام بلاؤں کی ایجاد کا سہرا بھی تقریباً امریکا کے سر ہے اور اسی نے دنیا کو ان سے متعارف کروایا ہے۔ شراب ام الخبائث ہے، یہ دماغ میں فتور پیدا کرتی ہے، عقل کو قتل کر دیتی ہے، ہوش و حواس سے بیگانہ کر دیتی ہے، برے بھلے کی تمیز مٹا دیتی ہے۔اسلام ہی میں نہیں عیسائیت اور یہودیت میں بھی اس کا استعمال قطعاً حرام ہے۔ امریکادولت کے پچاری ’’یہودیوں‘‘ کے قبضہ میں ہے اور ان کی سب سے بڑی کمزوری پیسہ ہے دیگرممالک خصوصاً اسلامی دنیا کو شراب برآمد کر کے انہیں اربوں ڈالر ماہوار کی آمدنی ہوتی ہے۔ چونکہ اس کے ذریعہ مسلمانوں کے ایمان پر بھی ڈاکہ پڑتا ہے اور جیبوں پر بھی اور اپنی تجوریاں بھی بھری جاتی ہیں، اس لیے شراب کا استعمال تہذیب جدید کے عین مطابق ہے اور جو اس کی مخالفت کرے یا محفل میں جام کو ہاتھ نہ لگائے وہ ’’بنیاد پرست‘‘ ہے۔ امریکا میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق شراب پی کر ہلاک ہونے والوں کی تعداد دیگر منشیات سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد سے کہیں زیاد ہ ہے۔ دنیا میں ہونیوالے ٹریفک کے نصف سے زائد حادثات کا سبب شراب نوشی ہے اور آدھے سے زیادہ جرائم کی وجہ بھی شراب ہے۔ نصف صدی پہلے ایک جرمن ڈاکٹر نے یہ بات کہی تھی۔ ’’تم شراب کی آدھی دکانیں بند کر دو تو میں تمہیں آدھے ہسپتال، جرائم کے اڈے اور جیلوں کے بند ہوجانے کی ضمانت دیتا ہوں‘‘ کیا امریکا اور یورپ کی حکومت نے اپنے ہی ڈاکٹروں، محققین اور سروے رپورٹوں کی روشنی میں شراب کے اڈے تباہ کرنے کی کوئی مہم چلائی؟ ہرگز نہیں اور اس کا واحد سبب یہ ہے کہ شراب کشید کرنے کیلئے سب کچھ انہیں اپنے ہاں سے ہی مل جاتا ہے اور اس پر زرمبادلہ خرچ نہیں کرنا پڑتا۔ اس لیے دولت کی ہوس میں مبتلا اس قوم کو شراب کے بارے میں کوئی تشویش نہیں ہے۔ ایک اور اہم نشہ تمباکو ہے۔ دوسرے تمام نشے استعمال کرنے والے ابتداء تمباکو نوشی سے کرتے ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ تمباکو کی پیدائش اور استعمال امریکی ریاستوں میں ہوتا ہے۔ اب بھی سگریٹ اور پائپ کے ذریعے امریکا کھربوں ڈالر سالانہ کازرمبادلہ کماتا ہے۔ برصغیر میں سگریٹ کو متعارف کرانے والے اور لوگوں کواس کا عادی بنانے والے بھی اہل مغرب ہی ہیں۔ایک مغربی ماہر نفسیات نے اس بات کا برملا اظہار کیا ہے کہ جو افراد سگریٹ پی سکتے ہیں وہ کوکین، مارفین اور ہیروئن کے بھی عادی ہو سکتے ہیں۔
افیون اگرچہ برصغیر پاکستان و ہند، ایران، افغانستان وغیرہ کی پیداوار ہے لیکن اس علاقہ میں اس کو لانے والا یونانی فاتح سکندر اعظم تھا۔ انگریزوں نے جب ہندستان پر قبضہ کیا تو سب سے پہلے افیون کی تجارت کو قابو کیا اور کاشتکاروں پر پابندی لگا دی کہ وہ صرف انگلش سرکار کو تمام کی تمام فصل فروخت کریں۔ مقامی آبادی کو وہ ڈپوؤں کے ذریعے لائسنس ہولڈرز کو معمولی مقدار مہیا کر کے باقی چین اور دوسرے ممالک کو برآمد کرتاتھا۔ منشیات کے استعمال سے جسم میں خون کے سرخ ذرات کم ہو جاتے ہیں اورجسم انتہائی کمزور اور لاغر ہو جاتاہے۔ کندھے کے نیچے بغل میں یا گردن پر غدود بننا شروع ہو جاتے ہیں۔ بار بار نشہ کے انجکشن لگوانے سے نبض کی رفتار سست پڑ جاتی ہے، شریانوں میں سوزش ہونے لگتی ہے۔ جسم میں رعشہ اور لرزش پیدا ہو جاتی ہے۔ آنکھوں کی چمک دمک ختم ہو جاتی ہے۔ کچھ نشوں سے آنکھوں کی پتیاں سکڑ جاتی ہیں اور کچھ ان کو ضرورت سے زیادہ پھیلانے کا سبب بنتی ہیں۔ کو کین کے کثرت استعمال سے ناک کے پردہ میں سوراخ ہوجاتی ہے۔ فیٹائن کے نشہ سے چیزیں چبانا مشکل ہو جاتاہے اور بعض اوقات دانت بوسیدہ ہوکر گرجاتے ہیں۔ شریانوں میں خون کے لوتھڑے جم جاتے ہیں۔جس سے دل کی دھڑکن باقاعدہ نہیں رہتی اور ہارٹ اٹیک ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں پھیپھڑوں میں فشار خون اور سوزش ہو جاتی ہے، ہیروئن کے اثر سے پھیپھڑوں میں چھوٹے چھوٹے پھیپھڑے بن کر ان کے دباؤ کو بڑھا دیتے ہیں۔ ہیروئن کے استعمال کی وجہ سے جسم میں آکسیجن کی کمی ہو جاتی ہے جو بعض اوقات موت کا سبب بن جاتی ہے۔ ہر نشہ آور غذا، دوا یا انجکشن گردوں اور ان کی نالیوں میں نقص اور درد پیدا کرتا ہے۔ نشہ کی زیادتی بالآخر مردوں میں ضعف باہ، سرعت انزال اور نا مردی اور عورتوں میں ترک خواہش کا باعث بنتی ہیں جگر بڑھ جاتا ہے یا متورم ہو جاتا ہے۔ بعض حالتوں میں جگر کا کینسر بھی ہو جاتا ہے۔ جگر کار گزاری اتنی متاثر ہوتی ہے کہ 3 سال کے اندر اندر موت کا سبب بن جاتا ہے۔ معدہ اور آنتیں زخمی ہو جاتی ہیں اور ان کا السر کسی بھی وقت کینسر میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ حرام مغز کی جھلی متورم ہو کر دماغ کو متورم کردیتی ہے۔مرگی اور تشنج کے دورے شروع ہو جاتے ہیں۔ ہیروئن کا نشئی ہر تین چار گھنٹے بعد انجکشن کی حاجت محسوس کرتا ہے اوراگر ایسا نہ ہو تو اس کے حصول کیلئے ہر نیچ سے نیچ حرکت پر آمادہ ہو جاتاہے۔خواب اور مسکن دوائیں استعمال کرنے والی ماؤں کے بچوں کو مرگی وراثت میں ملتی ہے۔ ایڈز ’’عصر حاضر کی نا ممکن العلاج‘‘ بیماری کا جنسی بے راہ روی کے علاوہ ایک سبب منشیات کا کثرت استعمال بھی ہے۔ مختصراً نشہ جسم کے ہر حصہ کو گھن کی طرح چاٹ جاتا ہے اور پورا جسم اس کا ایک ایک عضو کمزور ہو کرموت کی وادی کی طرف کھینچ کرلے جاتا ہے۔ ’’منشیات سے بچاؤ‘‘ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اقوام متحدہ پوری دنیا میں اس کے خلاف مہم چلا رہی ہے، کہیں منشیات کے خلاف ہفتے اورمہینے منائے جاتے ہیں اور کبھی پورے سال کو منشیات کے خاتمے کا سال قرار دیاجاتا ہے۔ کہیں کھڑی فصلوں کو تلف کیا جاتا ہے۔ کہیں ان کی فیکٹریوں پر چھاپے ڈالے جاتے ہیں۔ کہیں ان کے سمگلروں کو سزائے موت دی جاتی ہے۔ کہیں جیلوں میں ڈالا جاتا ہے۔ کہیں جائیداد ضبط کی جاتی ہے اور کہیں ترغیب اور دیگر لالچ دے کر ان کو فصلیں پیدا کرنے سے روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کے استعمال کو روکنے کیلئے بھی تقریباً ہرملک میں ادارے قائم کئے گئے ہیں۔
ایک زمانہ تھا جب صرف شراب کا نشہ ہی نشہ تصور کیا جاتا تھا۔زمانہ بدلتا گیا، نشے بھی کئی ہوگئے ، نشے کی اقسام اور معیار سب بدل گئے۔ہر نشہ پہلے سے مختلف اور زیادہ جاندار بنتا گیا۔ پر حضرت انسان کو لگا نشے کا نشہ جو سب سے زیادہ طاقتور رہا۔دولت کا نشہ۔انسان کے پاس جب بے تحاشہ دولت آجاتی ہے تو وہ اپنے ساتھیوں سے ملناتک گوارا نہیں کرتا۔ دوسروں کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے۔غریبوں کو کیڑے مکوڑے سمجھنے لگتا ہے۔عہدے کا نشہ ، اختیار، اقتدارمل جائے توانسان اپنی اوقات بھول جاتا ہے۔اپنے ما تحت کیلئے فرعون بن جاتا ہے۔ اور سامنے والے کو سراسرنقصان پہنچاتا ہے۔خوبصورتی کا نشہ ، اس کیلئے صنفی تقسیم لازم نہیں۔نسوانی حسن کے نشے میں چور خواتین جنس مخالف کو تو چارہ ڈالتی نہیں ، بلکہ دوسری خواتین کو بھی کمتر سمجھتی ہیں ، بالکل اسی طرح مردانہ وجاہت کے حامل افراد کسی کوخاطر میں نہیں لاتے ، اپنے آپ میں مگن اپنا ہی نقصان کر ڈالتے ہیں۔
انٹرنیٹ کا نشہ۔اس کیلئے باقاعدہ طبی اصطلاح Internet Addiction Disorder وضع کی جا چکی ہے، جس کامطلب ہے’انٹرنیٹ کے استعمال میں خود پر قابو نہ رکھ پانا، جس کی وجہ سے مریض جسمانی، نفسیاتی اور سماجی مسائل کا شکار ہو جاتا ہے۔’
سیلفی کا نشہ۔۔اسے Selfitisکہتے ہیں۔۔ کوئی شخص ایک دن میں چھ سے زیادہ سیلفی لیکراسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ذہنی خلل کاشکار ہے۔لندن کے ایک شہری کے تو کیا کہنے ،، جناب ایک دن میں 200 سیلفیاں لیتے اور انسٹاگرام پر پوسٹ بھی کرتے ہیں۔
کچھ لوگوں کو لکھنے کا نشہ ہوتا ہے۔ کوئی بھی موضو ع ، شے، ترکیب ملے بس لکھنا شروع کردیتے ہیں بھلے اس کا کوئی نتیجہ نکلے نہ نکلے۔۔ لکھنا ہے تو بس لکھنا ہے۔کچھ لوگوں کو کتابیں پڑھنے کا نشہ ہوتا ہے دن بھر میں 10۔12صفحے نہ پڑھ لیں تو سکون نہیں ملتا۔کچھ لوگوں کو بولنے کا نشہ ہوتا ہے ۔ منہ میں جب جہاں جیسے آتا ہے کہہ دیتے ہیں ، نہ سامنے والے کی عزت کا پاس نہ اپنی کا خیال ،نہ اس بات کا پتہ کہ اس کا کیا نتیجہ نکلے گا، اچھا ہوگایا برا ،بس بولنا ہے۔
حکومت کو منشیات کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات کرنا ہوں گے اورافغانستان سے آنے والے سامان پر نظر رکھنا ہوگی جو حقیقی معنوں میں پاکستان میں منشیات پھیلانے کا سبب بن رہا ہے۔اقوام متحدہ کی تیار کردہ رپورٹس کے مطابق افغانستان دنیا بھر میں سب سے زیاد144 ٹن ہیروئن پیدا ہے جو بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستان کے ذریعے جاتی ہے۔ افغانستان صرف ہیروئن کی پیدوار میں ہی سب سے آگے نہیں بلکہ اس کی معیشت کا دارومداربھنگ،چرس اور کوکین کی فروخت پرہے۔ آج پاکستان کو درپیش بڑے چیلنجوں میں دہشت گردی کا تدارک ا ولین حیثیت اختیار کر چکا ہے جبکہ دیگر تمام ایشوز ثانوی حیثیت رکھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ آج دہشت گردی سے نبرد آزما ہونے کیلئے قومی بجٹ کا خطیر حصہ مختص ہے۔ ضروری ہے کہ حکومت منشیات کی فروخت روکنے کیلئے اقدامات کرے۔ تاکہ وطن کے سپوتوں کو غیر صحتمندانہ سر گرمیوں میں ملوث کر کے ان کی زندگیوں کا چراغ گل کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔آج تمام چھوٹے بڑے تعلیمی اداروں کو دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کیلئے صوبائی و قومی حکومتوں نے ہر قسم کے اقدامات کئے ہیں جو وقت کا تقاضا ہے۔ منشیات کا استعمال اور اس کی فروخت بھی دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے مگر افسوس اس بات کا ہے کہ منشیات کی فروخت پر قابو پانے کیلئے سوائے اینٹی نارکوٹکس فورس کے نہ ہی کوئی ادارہ اور نہ ہی کوئی پالیسی۔ موجودہ حالت کے تناظر میںیہ بات تو واضع ہے کہ دونوں قسم کی دہشت گردی کامحور و مرکز افغانستان ہی ہے۔لہٰذا منشیات کی بیخ کنی کیلئے اینٹی نارکو ٹیکس کنٹرول فورس کے علاوہ دو مزید ایسے ادارے قائم کئے جائیں جو تعلیمی اداروں میں اس گھناؤنے کاروبار کو سختی سے روکیں۔ اینٹی نارکوٹیکس کنٹرول فورس کی کارکردگی اتنی موثر دکھائی نہیں دے رہی جتنی ہونی چاہئے جبکہ اکثر و بیشتر پولیس تو خود منشیات فروشوں کی پشت پناہی کرتی ہے۔
کوئی بھی شخص پیدائشی طور پر منشیا ت کا عادی نہیں ہوتا۔ اکثر لوگ برے دوستوں کی صحبت میں اس کی جانب مائل ہوتے ہیں۔ یہ برے دوست اکثر فیشن کے طور پر منشیات کو استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ذہنی پریشانی، دباو191، ڈپریشن وغیرہ بھی بعض اوقات انسان کو نشے کے استعمال کی جانب لے جاتی ہیں۔ وہ لوگ جو فلموں میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں اور نفسیاتی طور پر اس کے اچھے یا برے کرداروں کی پیروی کرتے ہیں ، وہ بھی نشے کی لت میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ بہت سے مما لک میں نشہ آور ادویات ، اور منشیات کا استعمال ناقابلِ معافی جرم ہے جب کہ بہت سے ممالک کے قوانین میں اس میں لچک موجود ہے۔ نشے کی عام دستیابی بھی اس کے پھیلنے کا سبب بن رہی ہے۔
اگر عوام الناس کو منشیات سے بچانا ہے تو ضروری ہے کہ حکومتی قوانین کو مضبوط بنایا جائے۔ اس کی ایک عام مثال سعودی ممالک کی ہے جہاں منشیات کا استعمال نا قابلِ معافی جرم ہے۔ بعض اوقات طبی نقطہ ضروریات کے مطابق بہت سی نشہ آوار ادویات کی ضرورت ہوتی ہے۔ میڈیکل سٹورز پر سختی سے اس بات پر عمل کروانا چاہیے کہ یہ نشہ آور ادویات عوام الناس تک نہ پہنچیں۔ بچوں کی تربیت والدین کی
ذمہ داری ہے۔ بری صحبت انسان کو نشے کی جانب کھینچ سکتی ہے جس سے اس میں غصیلہ پن، امتحانات میں فیل ہونا، غیر حاضر رہنا،جسمانی ساخت میں تبدیلی آجانا،سونے کی عادات میں تبدیلی آجانا،رقم کی طلب وغیرہ اس کی زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں۔والدین کو چاہیے کہ بچے کے معمولات کی سختی سے نگرانی کریں اور بری صحبت سے بچائیں۔ چونکہ ہمارے قانون نافذکرنے والے ادارے اور ایجنسیاں گلیوں اور بازاروں میں عام لوگوں تک نشہ آور ادویات کی سپلائی کو کنٹرول نہیں کرسکے اس لئے ہم اور کمیونٹی کا فرض بنتاہے کہ وہ اپنے علاقہ اور قرب وجوار میں نشہ کی ترسیل اور استعمال کرنے والوں پر نگاہ رکھیں اور اس کی خرید وفروخت کو روکیں۔چونکہ ہمارے مذہب اسلام میں نشہ حرام ہے اس لئے علماء حضرات کی ذمہ
داری بھی کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔(نشہ کی حرمت سے متعلق بہت سی قرآنی آیات واحادیث موجود ہیں)۔ علماء حضرات جمعہ کے خطبوں کے ذریعے اس پیغام کو عوام تک پہنچا کر ہماری نوجوان نسل کو نشہ کے مضر اثرات سے محفوظ بنا سکتے ہیں۔مساجد کے علماء حضرات سے یہ بھی گذارش ہے کہ وہ والدین کو متنبہ فرمائیں کہ وہ اپنے بچوں کی طرف توجہ دیں۔اور کچھ وقت ان کے ساتھ بھی گزایں تاکہ وہ راہِ راست پر رہیں اور اپنی تعلیم پر توجہ مرکوز رکھیں۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے