Voice of Asia News

مقبوضہ کشمیر میں فورسز کی گھر گھر تلاشیاں،جھڑپوں میں کئی زخمی

سرینگر(وائس آف ایشیا ) مقبوضہ کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں مبینہ مجاہدین نے سرچ آپریشن کے دوران بھارتی فوج پر دھاوا بول کر چار اہلکاروں کو زخمی کر دیا جبکہ بھارتی فوج نے کئی علاقوں میں گھر گھر تلاشی کے دوران اہل خانہ کو تشدد کا نشانہ بنایا،اس دوران فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں ،ادھربھارتی انفورسمنٹ ڈائریکٹریٹ نے 16سال پرانے کیس میں سید علی گیلانی کو نوٹس جاری کر دیا،تہاڑ جیل میں قید معراج الدین کلوال کے اہل خانہ کی تنگ طلبی،مزاحمتی خیمہ برہم ،بھارتی مظالم کیخلاف وادی کے مختلف علاقوں میں احتجاج کا سلسلہ جاری،ہڑتال کے باعث نظام زندگی مفلوج،انٹر نیٹ اور موبائل سروس معطل ۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مطابق گزشتہ روز // سرحدی ضلع کپوارہ کے نوگام سیکٹر میں فوج اور جنگجوؤں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 4 فوجی اہلکار زخمی ہوئے۔ فوج کا کہنا ہے کہ نوگام سیکٹر کے سنگم علاقہ میں توت مار گلی کے نزدیک حد متارکہ پر فوج کے 8 بہار یونٹ نے 5 مشتبہ جنگجووں کی نقل و حمل دیکھی جس کے بعد فوج نے فوری طور علاقہ کو گھیرے میں لیا۔فوج کے مطابق جونہی جنگجووں نے اس پار آنے کی کوشش کی تو فوج نے انہیں للکارا جس کے بعد جنگجووں نے فائرنگ کی جس کے دوران 4 فوجی اہلکار زخمی ہوئے۔جوابی کارروائی کے بعد جنگجووں کو سر حد پار واپس دھکیل دیا۔ کئی گھنٹوں تک جاری جھڑپ میں زخمی اہلکاروں کو فوری طور اسپتال منتقل کیا جہاں ان کا علاج و معالجہ جاری ہے۔بتایا جاتا ہے کہ علاقہ میں مزید فوج طلب کی گئی اور بڑے پیمانے پر تلاشی کارروائی شروع کی گئی ہے۔دریں اثناء جنوبی اورشمالی کشمیرمیں جنگجومخالف کارروائیوں کے دوران دربگام پلوامہ ،کھڈونی کولگام اورتجرشریف سوپور میں تلاشیاں لی گئیں تاہم تینوں مقامات پر پر تشدد جھڑپیں ہوئیں جن میں کئی افراد مضروب ہوئے۔جمعرات کو فوج اور پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ نے دربگام پلوامہ گاؤں کا محاصرہ کرکے تلاشی کارروائی عمل میں لائی ۔ پولیس نے بتایاکہ جنگجوؤں کے موجود ہونے کی اطلاع ملتے ہی سیکورٹی اہلکاروں نے دربگام پلوامہ کو محاصرے میں لیکر گھر گھر تلاشی کارروائی شروع کی ۔تاہم لوگ گھروں سے باہر آئے اورانہوں نے احتجاجی مظاہرے شروع کئے۔ مظاہرین نے سیکورٹی فورسزپر سنگباری شروع کردی اورانہیں منتشرکرنے کے لئے پولیس وفورسز نے آنسو گیس کے گولے داغے ۔ اِدھرجنوبی ضلع کولگام کے وانی محلہ کھڈونی میں فورسز نے جنگجومخالف آپریشن جب شروع کیا۔ تو نوجوان گھروں سے باہر آئے اورانہوں نے احتجاجی مظاہرے شروع کئے۔ مقامی لوگوں نے الزام لگایا کہ فورسز اہلکاروں نے انہیں بندوق کے بٹوں سے پیٹنے کے علاوہ آنسو گیس کے گولے بھی داغے جس کے نتیجے میں کئی افراد مضروب ہوئے۔ تاہم پولیس نے بتایاکہ جنگجو مخالف آپریشن میں خلل ڈالنے کے لئے کچھ شرپسند عناصر نے ہنگامہ آرائی کی اورانہیں منتشر کیاگیا۔شمالی کشمیر تجر شریف سوپور کو محاصرے میں لیکر جونہی گھر گھر تلاشی کاروائی شروع کی گئی تو یہاں بھی لوگ گھروں سے باہر آئے اور انہوں نے کریک ڈاؤن کیخلاف احتجاجی مظاہرے شروع کئے۔ مظاہرین کو منتشرکرنے کے لئے پولیس وفورسز نے آنسو گیس کے گولے داغے جس پر نوجوان مشتعل ہوئے اورانہوں نے سنگباری شروع کی ۔ تجرشریف سوپورمیں مظاہرین اورپولیس وفورسز کے درمیان بعد دوپہر تک سنگباری اور آنسو گیس کے گولوں کا تبادلہ وقفہ وقفہ سے جاری رہا۔ادھرسانبورہ پانپور میں اس وقت تشدد بھڑک اٹھا اور لوگوں نے نعرہ بازی شروع کردی جب فورسز نے کئی افراد کی مارپیٹ کی۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ علاقے میں حالات معمول کے مطابق تھے تاہم اس دوران 50راشٹریہ رائفلز کے اہلکار گاؤں میں نمودار ہوئے جامع مسجد امام معراج الدین ڈار سمیت متعدد نوجوانوں کو پکڑ کر انہیں مقامی مزار شہدا سے بورڈ اتارنے کو کہا گیا۔اس معاملے پر مظاہرے ہوئے اور لوگوں نے پلوامہ سڑک بند کر کے دھرنا دیا۔فورسز اہلکاروں نے کئی افراد کی مارپیٹ کی جن میں امام مسجد بھی شامل ہے۔دریں اثناء کل جماعتی حریت کانفرنس (گ) نے اینفور سمنٹ ڈائیرکٹریٹ (ED)کی طرف سے سید علی گیلانی کو 16سال پرانے کیس میں نوٹس بھیجنے اور تہاڑ جیل میں بند تحریک حریت راہنما راجہ معراج الدین کلوال کے گھر والوں کو EDاہلکاروں کی جانب سے خوف زدہ کرنے کو بلاجواز اور متعصبانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے گیلانی اور ان کے نزدیکی ساتھیوں کو ہراساں اور تنگ طلب کرنے کی ایک منصوبہ بند مہم شروع کر رکھی ہے، تاکہ انہیں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنے مبنی برحق موقف سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا جاسکے۔ حریت کے مطابق 2002کے چھاپے میں گیلانی کے گھر سے کوئی فارن کرنسی برآمد نہیں ہوئی تھی اور اس حقیقت سے مذکورہ ادارہ کو تحریرا آگاہ کیا ہے اور ان کے وکیل اس سلسلے میں وہاں بنفسِ نفیس پیش بھی ہوئے ہیں۔جمعرات کو جاری بیان میں حریت (گ) نے کہا کہ سیدعلی گیلانی ، ان کے ساتھیوں اور ان کی تنظیم کا تنازعہ کشمیر کے حوالے سے ایک واضح موقف ہے اور وہ اس مسئلے کو عوامی امنگوں اور خواہشات کے مطابق پرامن طریقے سے حل کرانے کے خواہشمند اور متمنی ہیں۔ بھارت نے گیلانی اور ان کے دیگر ساتھیوں پر ہر طرح کا عتاب اور عذاب آزما کر انہیں اپنے موقف سے دستبردار کرانے کی کوشش کی ہے، البتہ انہیں اس سلسلے میں آج تک کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے اور نہ ایسا آئندہ ممکن ہے۔ حریت کانفرنس نے کہا کہ 2002میں گیلانی اور ان کے رشتہ داروں پر انکم ٹیکس کے چھاپوں کا مقصد بھی یہی تھا کہ جعلی اور من گھڑت کہانیاں گڑھ کر اپنے منہ زور میڈیا کے ذریعے تشہیر دے کر کردار کشی کی ایک منظم کارروائی انجام دی جائے۔ آج 16سال کے طویل عرصے کے بعد پھر ایک بار ایجنسیوں کے ذریعے عتاب کے ایک نئے سلسلے کی شروعات ہورہی ہیں۔ حریت نے واضح کیا کہ ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے گیلانی جیسے قائد کے پائے استقلال کو ڈگمگانے کی کوئی بھی سازش کامیاب نہیں ہوسکتی۔ گیلانی نہ ایسی گیڈر بھبھکیوں سے ڈرنے والے ہیں اور نہ ہی جیل اور عقوبت خانوں کا خوف ان کو اپنے موقف سے پیچھے ہٹا سکتا ہے۔ انہوں نے بھارتی سامراج کے بدترین انٹروگیشن سیلوں میں اپنی ہمت، اپنے عزم اور حوصلہ کا لوہا منوایا ہے۔ ہمارا مکار اور شاطر غاصب اور اس کے مقامی چیلے چانٹے جان لیں کہ ہم اپنی آخری سانس تک اپنے حقوق کے لیے لڑتے رہیں گے اور دنیا کی کوئی طاقت ہمیں روکنے میں کامیاب نہیں ہوگی۔ حریت نے تہاڑ جیل میں نظربند تحریک حریت راہنما راجہ معراج الدین کلوال کے گھر پر EDسے وابستہ اہلکاروں کی جانب سے ان لواحقین سے غیرضروری سوالات پوچھ کر انہیں ذہنی طور تنگ طلب کرنے کی کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام گیری کی بدترین مثال قرار دیا۔ حریت نے کہا کہ تحریک حریت راہنما پچھلے ایک سال سے تہاڑ جیل میں بلاجواز نظربند ہیں اور اب EDکی جانب سے اس کے لواحقین جس میں اس کی ماں، بیوی اور معصوم بچیاں شامل ہیں کو بلاجواز طور تنگ طلب اور ہراساں کیا جارہا ہے، جس وجہ سے ان میں خوف ودہشت کا ماحول پیداکرکے ان کی زندگیوں کو اجیرن بنادیا جارہا ہے۔ ایک طرف راجہ معراج الدین کو تہاڑ جیل میں فرضی الزامات لگاکرنظربند کیا گیا ہے اور دوسری طرف اس کے گھر میں موجود خواتین کو طرح طرح کے غیر ضروری سوالات پوچھ کر پریشان کیا جارہا ہے۔ دریں اثناء شہری ہلاکتوں اور بھارتی مظالم کیخلاف وادی میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔اس دوران ہڑتال کے باعث کاروباری مراکز اور تجارتی ادارے بند رہے جبکہ انٹر نیٹ اور موبائل سروس معطل رکھی گئی۔بھارتی فورسز نے 15اگست کو بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر حریت قائدین کو حراست میں لیا تھا جن کو رہا نہیں کیا اور نماز جمعہ بھی ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز نے لبریشن فرنٹ کے سربراہ محمد یاسین ملک ،شوکت بخشی ،بشیر احمد کشمیری،بشیر راتھر، مشتاق احمد وانی، فیاض احمد میر، غلام محمد صوفی، رئیس احمد صوفی، محمد یوسف، مشتاق احمد گورسا، قیصر احمد،انجینئر ہلال احمدوار سمیت درجنوں کارکنان کو حراست میں لے لیا تھا اور مختلف تھانوں میں بند کر دیا تھا۔جبکہ حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین سید علی گیلانی بدستور خانہ نظر بند ہیں۔اس کے علاوہ تحریک حریت چیئرمین محمد اشرف صحرائی، حریت(گ) کے جنرل سیکریٹری حاجی غلام نبی سمجھی ،لبریشن فرنٹ(ح) کے چیئرمین جاوید احمد میر،محمد اشرف لایااورتحریک مزاحمت کے بلال صدیقی کو بھی رہا نہیں کیا گیا۔حریت (گ) کے ترجمان غلام احمد گلزار، اسلامک پولیٹکل پارٹی چیئرمین محمد یوسف نقاش ،سید امتیاز حیدر، محمد یاسین عطائی، اشفاق احمد خان، محمد یوسف گنائی گاندربل، محمد مقبول گنائی باترگام، بشیر احمد چھون، حاجی غلام حسن بٹ ناگام ، ماسٹر علی محمد ڈار حاجن، غلام احمد پرے حاجن، صوفی غلام محمد گاندربل، فاروق احمد شاہ کولگام، غلام رسول کار چاڈورہ، شکیل احمد حیات پورہ، فیاض احمد ایتو حیات پورہ، محمد سلطان بنگرو سویہ بگ، غازی بابا اور شکیل احمد بٹ کو 11 اگست کو گرفتار کر کے مہاراج گنج تھانے سے سنٹرل جیل منتقل کیا گیاتھا ان کی حراست میں بھی توسیع کر دی گئی۔ان قائدین کو نماز جمعہ کی ادا کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے