Voice of Asia News

جسم میں فولاد کی کمی، صحت کیلئے نقصان دہ ہے

لاہور(وائس آف ایشیا)جسم میں فولاد کی کمی انسانی جسم کو غیر متوازن کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے کیونکہ فولاد کی کمی کے باعث خون، جسم انسانی کو نقصان پہنچنا وہ اتنا آہستہ اور دھیرے دھیرے ہوتا ہے کہ اسی وقت ہی پتہ چلتا ہے جب بہت زیادہ نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔
فولاد کی کمی سے جسم میں خون کی کمی ہو جاتی ہے اور اس سے ہر عمر کا انسان متاثر ہو سکتا ہے فولاد کی کمی خصوصی طور پر تیزی سے بڑھتے ہوئے بچوں کی دماغی صلاحیتوں کو متاثر کرتی ہے اور دماغ کی بڑھوتری میں کمی واقع ہوتی ہے لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ بڑی آسانی سے کنٹرول کی جا سکنے والی اس پرابلم کے خطرے سے آگاہی حاصل کی جائے جس سے ہر عمر کا انسان متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
جسم میں ہوموگلوبن کی پیدائش و افزائش کیلئے فولاد کی اہمیت بہت زیادہ ہے جسم میں خون کے سرخ ذرات میں جو ہومو گلوبن کا موجود ہوتا ہے بے حد ضروری ہے کیونکہ جسمانی ہافتوں تک کاربن پہنچانا اس کاہی کام ہے نیز ہوموگلوبن ہی انہضام کے دوران پیدا شدہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جسم سے خارج کرنے کا کام کرتی ہے جسم میں خون کی کمی کی صورت میں ہوموگلوبن سے پرخون سرخ ذرات ختم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اور اس کے نتیجے میں خون میں موجود آکسیجن کو آگے لے جانے والی صلاحیت کم ہونا شروع ہو جاتی ہے جس سے جسم کی بافتوں یا ٹشوز کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتاہے۔
مونو ایمائن اوکسائیڈ جن کو ایم اے او کے نام سے جانا جاتا ہے ایک ایسا انزائم ہے جس کا مکمل انحصار اور دارومدار فولاد پر ہی ہے۔ اور یہ نروز سسٹم کی کارکردگی کے لیے بڑی ہی اہمیت کا حامل ہے۔ اسی طرح فولاد انفیکشن سے انسانی جسم کو بچانے کیلئے بھی ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔
جسم کو روزانہ کتنی فولاد کی ضرورت ہوتی ہے اس ضمن میں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ نومود بچے کواپنے جسم میں 0.5 گرام فولاد کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ ایک بالغ انسان کو کم از کم 5 گرام فولاد چاہیے ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کمی کو پورا کرنے کیلئے ایک ٹین ایج لڑکے لڑکی کو دس سے پندرہ ملی گرام فولاد کی روزانہ کھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس طرح نوجوانوں یعنی بالغوں کو روزانہ تیس ملی گرام فولاد بذریعہ خوراک حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے یاد رہے کہ خواتین کو مردوں سے زیادہ فولاد کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ خصوصی حالات کے باعث ان کے جسم میں فولاد کی مسلسل کمی واقع ہوتی رہتی ہے۔
فولاد پر مشتمل خوراک کی دو اقسام بیان کی جاتی ہیں فولاد حاصل کرنے کی ایک صورت تو یہ ہے کہ یہ گائے بھینس کے دودھ یا گوشت سے پوری کی جائے یا درختوں اور پودوں سے اسے حاصل کیا جائے گوشت خصوصی طور پر گائے اور بکرے کا گوشت فولاد کی کمی دور کرنے کیلئے بے حد مفید ثابت ہوتا ہے۔ دوسرے درجے پر مچھلی سبزیاں اور خصوصی طور پر پالک میں بہت زیادہ آئرن ہوتا ہے اسی طرح کھجور اور دالوں میں بھی آئرن پایا جاتا ہے اور یہ چیزیں بطور خوراک حاصل ہو سکتی ہیں۔ جو اور باجرہ ایسے سیریل ہیں جن کے اندر فولاد کی اچھی خاصی مقدار موجود ہوتی ہے اس لیے انہیں استعمال کرنا چاہیے۔
اب رہی بات کہ آخر جسم میں فولاد کی کمی کی کیا وجوہات ہیں؟ صرف ایک قسم کی خوراک کھاتے رہنا دودھ کے علاوہ اور کوئی خوراک استعمال نہ کرنا بازاری ناقص خوراک تواتر سے کھاتے رہنا اور غذا ٹھونس ٹھونس کر کھانا انسانی جسم میں فولاد کی کمی کا موجب ہوتا ہے اسی طرح جنک فوڈز اور غیر معیاری کھانے بھی فولاد کی کمی کا باعث بن سکتے ہیں۔چائے کا بے تحاشا استعمال نیز بلا ضرورت پنیر کا استعمال بھی فولاد کی کمی پیدا کرتا ہے انفیکشن کے باعث خون کے زیادہ اور مسلسل بہتے رہن السر اور خونی بواسیر بھی انسانی جسم میں فولاد کی شدید کمی کا باعث بنتے ہیں۔
چھ ماہ کی عمر تک بچوں میں عمومی طور پر آئرن کی کمی واقع نہیں ہوتی کیونکہ ماں کے پیٹ سے حاصل شدہ آئرن بچے کے اندر سٹور ہو چکا ہوتا ہے اس لیے وہ بچے میں آئرن کی کمی واقع نہیں ہونے دیتا مگر عموماً آٹھ ماہ سے لے کر تین سال کے بچوں کے اندر فولاد کی کمی واقع ہو سکتی ہے اور اس کے امکانات کچھ زیادہ ہی ہوتے ہیں کیونکہ بچے میں آئرن کی کھپت زیادہ ہو جاتی ہے اس لیے آہستہ آہستہ ماں کی طرف سٹور کردہ آئرن خرچ ہو چکا ہوتا ہے بلوغت کی عمر کو پہنچنے والی بچیوں میں آئرن کی کمی واقع ہو جاتی ہے اسی طرح جب بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو ان کو زیادہ آئرن بطور خوراک استعمال کرنا چاہیے کیونکہ ان کے جسم کے اندر موجود آئرن بچے میں منتقل ہو رہا ہوتا ہے اور اس طرح ماں کمی خون کا تیزی سے شکار ہو رہی ہوتی ہے۔
فولاد کی کمی پوری کرنے کیلئے دودھ کا کیا کردار ہے؟
بچے کے لیے ماں کے دود ھ میں اگرچہ بہت زیادہ آئرن تو نہیں ہوتا تاہم بچے کے آئرن کی ضروریات کو وہ کماحقہ پورا کر سکتا ہے ہاں جب بچے کی عمر چھ ماہ ہو جائے تو ماں کا دودھ آئرن کی ضرورت سے کم ہوتا ہے اس لیے بچے کو خوراک کے ذریعہ فولاد استعمال کرانا ضروری ہو جاتا ہے۔ گائے کے دودھ میں اول تو آئرن زیادہ نہیں ہوتا دوسرے بچہ اسے اچھی طرح ہضم بھی نہیں کر پاتا۔ بعض صورتوں میں تو بچوں کو گائے کا دودھ استعمال کرانے سے انہیں پاخانے لگ جاتے ہیں اور وہ اسے بالکل ہضم نہیں کر پاتے چھ ماہ کی عمر سے اگر بچہ ماں کا دودھ اور گائے کا دودھ پیتا رہے تو اسے فائدہ پہنچتا ہے تاہم اگر دودھ کی بجائے بچے کو اس عمر میں ٹھوس غذا بہت کم مقدار میں کھلانی شروع کی جائے تو فولاد کی کمی کو بخوبی پورا کر سکتی ہے۔ بچے کو کسی حد تک صحت مند تو ضرور رکھتی ہے مگر فولاد کی کمی پورا کرنے میں ممد و معاون نہیں ہو سکتیں لہٰذا بچے خون کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں خون میں آکسیجن کم ہو جاتی ہے اور بچہ بیماریوں کا شکار ہونے لگتا ہے گھر میں تیار کردہ ٹھوس غذا سوجی کا حلوہ، دودھ میں جو بنایاگیا ہو بچے کا پیٹ مفید رہتا ہے اور فولاد کی کمی بھی نہیں ہونے دیتا اور یہ سستا بھی رہتا ہے بعض اشیاء پیکنگ کی صورت میں مہنگی بھی ملتی ہیں اور غذائیت کی بھی اس کے اندر کمی ہوتی ہے۔
بچے کا رنگ زرد ہو ناخن بالکل سفید نظر آئیں تو سمجھیں کہ بچہ خون کی کمی میں مبتلا ہو چکا ہے اور اس کے اندر فولاد کی مقدار ضرورت سے بہت کم ہو چکی ہے والدین کا اکثر پتہ نہیں چلتا جب کوئی عزیز کچھ عرصہ بعد گھرمیں آئے تو بچے کی پیلاہٹ او کمزوری کا زیادہ احساس ہوتا ہے بچے کی بھوک میں کمی واقع ہو جائے یا وہ مٹی کھانے کی عادت میں مبتلا ہو جائے اسے سانس کی پرابلم ہونے لگے تھکاوٹ کا اظہار کرے تو سمجھ لیجئے کہ وہ خون کی کمی کا شکار ہو رہا ہے اور اسے آئرن کی ضرورت ہے۔
جسم میں فولاد کی کمی سے ذہن اور دذماغ بھی متاثر ہو سکتے ہیں عام طور پر کمی خون میں مبتلا بچے پیلاہٹ کا شکار ہو سکتے ہیں ان کی ذہنی نشوونما پورے طور پر نہیں ہو پاتی وہ کسی چیز کی طرف دھیان نہیں دیتے بعض اوقات بچے بڑی تاخیر سے کرتے ہیں اس طرح وہ کچھ سیکھنے سکھانے میں بھی کمزور رہتے ہیں لہٰذا ہر وقت اس کا علاج ضروری ہے متذکرہ صورت میں بچوں کا لیبارٹری ٹیسٹ کروانا چاہیے نیز ہومیوگلوبن کی پڑتال کے لیے خون کا ٹیسٹ بھی ضرور کرنا چاہیے ورنہ بچے کا قد چھوٹا رہ جائے گا رنگ زردہ اور مرجھائے ہوئے پھول کی طرح لگے گا ایسی صورت میں بچے کے پاخانے کاٹیسٹ بھی کرانا ضروری ہے بچے کے پیٹ میں کیڑے بھی ہو سکتے ہیں جو اس کو خون کی کمی میں مبتلا کر رہے ہوتے ہیں۔
بعض اوقات خوراک کے ذریعے آئرن کھلانے سے مسئلہ حل ہو جاتا ہے اگر وٹامن سی بھی ساتھ دیا جائے تو آئرن آسانی سے ہضم ہو جاتا ہے۔ تاہم ڈاکٹر کو دکھانا ضروری ہوتا ہے اگر مسئلہ پیچیدہ ہو تو کئی ماہ تک متواتر ڈاکٹر سے علاج کرانا پڑتا ہے اگر بچہ زیادہ کمزور ہو تو ماں کو فولاد کے انجکشن لگوانے چاہئیں تاکہ دودھ کے ذریعے فولاد بچے کے اندر منتقل ہو کر اسے صحت یاب کر سکے۔
 

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے