Voice of Asia News

پیٹ میں کیڑے پیدا کرنے والے انفیکشن سے بچاؤ

لاہور(وائس آف ایشیا خصوصی رپورٹ میمونہ عزیز)بچوں میں بہت عام پیٹ کی ایک بیماری کا تعلق حفظان صحت سے ہوتا ہے۔ جرمن ماہرین کا کہنا ہے کہ حفظان صحت کے چند بنیادی اصولوں کی پابندی سے بچوں کے پیٹ میں کیڑوں کا سبب بننے والے انفیکشن سے بچا جاسکتا ہے۔طبی ماہرین اور بچوں کے ڈاکٹروں کے اندازوں کے مطابق 5 سے 9 سال تک کی عمر کے قریب 20 تا 40 فیصد بچوں کے پیٹ میں کبھی کبھار کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں۔ ان کی مختلف اقسام ہوتی ہیں۔ سب سے زیادہ یا عام طور پر پائے جانے والے کیڑوں کو ’پِن ورمز، راؤنڈ ورمز اور ٹیپ ورمز‘ کہا جاتا ہے۔ مغربی یورپ اور امریکا میں بچوں میں سب سے زیادہ پائی جانے والی پیٹ کی بیماری کو enterobiasis کہا جاتا ہے۔ یہ بڑی آنت میں پایا جانے والا ایسا انفیکشن ہے جو منطقہ معتدلہ میں بسنے والے انسانوں میں ہوتا ہے۔ اس کا شکار سب سے زیادہ بچے ہی ہوتے ہیں۔ یہ بیماری امریکا میں بہت عام ہے۔ اس کے علاوہ ترقی پذیر ممالک کے بچے اس کا بہت زیادہ شکار ہوتے ہیں کیونکہ سکول جانے والے بچوں میں یہ انفیکشن تیزی سے پھیلتا ہے۔بچوں میں اس عفونت کی علامات پیٹ کا درد اور مقعد سے متعلقہ جائے براز میں خارش ہوتی ہیں۔ اس انفیکشن میں مبتلا بچے کی کیفیت خاص طور پر راتوں کو زیادہ خراب ہوتی ہے۔ ایسے بچے رات میں بہت بے چین رہتے ہیں اور انہیں نیند نہیں آتی اور وہ سکول میں اپنی پڑھائی پر بھی توجہ نہیں دے پاتے۔ اکثر ان بچوں کے فُضلے میں باریک، سفید رنگ کے یہ کیڑے نظر آتے ہیں۔جرمنی میں بچوں اور نوجوانوں کی بیماریوں کے ماہر ڈاکٹروں کی ایسوسی ایشن کے ترجمان اُلرش فیگلر کا کہنا ہے کہ پیٹ میں پائے جانے والے کیڑوں کے خلاف ادویات گرچہ موجود ہیں اور یہ کار آمد بھی ثابت ہوتی ہیں تاہم حفظان صحت کی خرابی اور صفائی کے چند بنیادی اصولوں کی اگر پابندی نہ کی جائے، تو یہ ادویات بھی افاقے کا باعث نہیں بن سکتیں۔اس جرمن ماہر کا کہنا ہے کہ پیٹ میں کیڑوں کا سبب بننے والا انفیکشن ایک متعدی مرض ہوتا ہے۔ اس لیے ایسے بچوں کو دوسرے بچوں سے دور رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ طبی ماہرین کا مشورہ ہے کہ اس عفونت کے شکار بچوں کے لباس کو ہر روز بدلنا، ان کے جسم کو اچھی طرح دھونا، خاص طور پر ان کے ہاتھوں کو منہ میں لگنے سے پہلے دھونا اور ان کے بستر کو صاف ستھرا رکھنا چند بنیادی اصول ہیں جن کی پابندی ضروری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ انفیکشن بچوں سے ماؤں کو بھی لگ سکتا ہے۔ ناخنوں کے ذریعے بھی یہ انفیکشن تیزی سے پھیلتا ہے۔ اس لیے ناخن تراشنا اور انہیں صاف کرتے رہنا بھی نہایت ضروری عمل ہے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے