Voice of Asia News

عمران خان نے وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا، صدر ممنون حسین نے حلف لیا

اسلام آباد(وائس آف ایشیا)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ملک کے 22 ویں وزیراعظم کی حیثیت سے اپنے عہدے کا حلف اٹھالیا ہے،صدر پاکستان ممنون حسین نے ان سے حلف لیا،ایوان صدر میں ہونے والی تقریب حلف برداری سے پہلے قومی ترانہ بجایا گیا،ترانے کے بعد کابینہ سکریٹری نے صدر مملکت سے تقریب شروع کرنیکی اجازت طلب کی ،تقریب حلف برداری کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا،حلف برداری کے بعد وزیراعظم عمران خان نے حلف کی دستاویز پر دستخط کیا،تقریب کے بعد نو منتخب وزیراعظم عمران خان کو وزیراعظم ہاؤس میں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا،تینوں مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے وزیراعظم عمران خان کو گارڈ آف آنر پیش کیا ۔وزیراعظم عمران خان اپنی روایتی انداز میں ہی نظر آئے انہوں نے اپنے چہرے پر مسکراہٹ برقرار رکھی،گارڈ آف آنر کے بعد عمران خان نے وزیر اعظم ہاؤس کے اسٹاف اور دیگر ارکان سے ملاقات کی اور مصافحہ بھی کیا۔ تقریب حلف برداری میں تینوں افواج کے سربراہان اورسیاسی قیادت ، اول بشری مانیکا،1992 کا ورلڈ کپ جیتنے والی قومی ٹیم ،بھارت کے سابق کرکٹرنوجوت سنگھ سدھوسمیت معروف اداکاروں نے بھی خصو صی شرکت کی۔تقریب حلف برداری میں بڑی تعداد میں مہمان شریک ہوئے، سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے ، ایوان صدر کی فضائی نگرانی بھی کی گئی تھی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کے 22ویں منتخب وزیراعظم عمران خان نے وزارتِ عظمی کا حلف اٹھالیا۔ صدرِ مملکت ممنون حسین نے عمران خان سے ان کے عہدے کا حلف لیا۔عمران خان نے تقریبِ حلف برداری کے لیے خصوصی طور پر شیروانی زیب تن کی ہوئی تھی۔عمران خان تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے 10 بجکر 5 منٹ پر بنی گالہ سے ایوان صدر پہنچے، جس کے بعد 9.30 بجے شروع ہونے والی حلف برداری کی تقریب کا آغاز 45 منٹ کی تاخیر سے ہوا۔تقریب کے آغاز میں قومی ترانے کی دھن بجائی گئی اور تمام شرکا بصد احترام کھڑے ہوئے، جس کے بعد تلاوتِ کلام پاک سے تقریب کا باقاعدہ آغاز ہوا۔تلاوتِ کلام پاک کے بعد صدرِ مملکت ممنون حسین نے وزیر اعظم عمران خان سے ان کے عہدے کا حلف لیا۔حلف برداری کے بعد ایوان تالیوں سے گونج اٹھا اور مہمانوں سے عمران خان کو وزیراعظم بننے پر مبارک باد پیش کی۔حلف برداری کے بعد عمران خان وزیر اعظم ہاؤس پہنچے، جہاں قومی ترانے کی دھن بجائی گئی اور انہیں مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔اس موقع پر عمران خان اپنی روایتی انداز میں ہی نظر آئے اور انہوں نے اپنے چہرے پر مسکراہٹ برقرار رکھی۔گارڈ آف آنر کے بعد عمران خان نے وزیر اعظم ہاؤس کے اسٹاف اور دیگر ارکان سے ملاقات کی اور مصافحہ بھی کیا۔تقریب حلف برداری میں بڑی تعداد میں مہمان شریک ہوئے، اس سلسلے میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے جبکہ ایوان صدر کی فضائی نگرانی بھی کی گئی تھی۔عمران خان کی اہلیہ بشری مانیکا بنی گالہ سے 4 گاڑیوں کے قافلے میں ایوان صدر پہنچی، اس دوران بنی گالہ سے ایوان صدر تک راستے میں سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے۔تقریب حلف برداری میں سابق نگراں وزیر اعظم جسٹس(ر) ناصرالملک، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت تینوں مسلح افواج کے سربراہان، غیر ملکی سفیر، 1992 میں عمران خان کے ساتھ کرکٹ کھیلنے والے سابق کھلاڑی، فلمی ستاری اور بھارت سے آئے مہمان سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو بھی شریک ہوئے۔خیال رہے کہ عمران خان کی جانب سے وزیر اعظم کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے سابق بھارتی کرکٹر کپل دیو، سنیل گواسکر اور نوجوت سنگھ سندھو کو پاکستان آنے کی دعوت دی تھی، تاہم دو کرکٹر نے آنے سے معذرت کرلی تھی لیکن نوجوت سنگھ سدھو واہگہ بارڈر کے ذریعے 17اگست کو پاکستان آئے تھے۔ایوان صدر میں شرکت کے لیے آنے مہمانوں اور اراکین اسمبلی نے سرکاری میڈیا سے گفتگو بھی کی۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف میں شامل ہونے کے بعد میرا مطمع نظر تبدیلی تھا، میں نے طویل سیاست کی اور اس نتیجے پر پہنچا کہ پاکستان مسلم لیگ(ن)اور پاکستان پیپلز پارٹی(پی پی پی)لوگوں کی توقعات پر پورا نہیں اتری اور لوگوں کو تحریک انصاف میں ایک امید نظر آئی۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو عمران خان کی نظر میں ایک امید نظر آئی اور تحریک اں صاف جو ایک نئی جماعت تھی اور میرا خیال تھا کہ ان کے ساتھ کھڑا ہوکر تبدیلی کے قافلے میں ایک ادنی رکن بن جاؤں۔پی ٹی آئی رہنما اسد عمر کا کہنا تھا کہ عمران خان مشکل فیصلے کرنے والے دلیر آدمی ہیں، وہ اپنی ذات کے لیے نہیں قوم کے لیے سوچتے ہیں اور کمزور طبقے کا خیال رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جو فیصلے ہوں گے اور جس طرح کی پالیساں بنائی جائیں گی اس میں عمران خان کی دل کی آواز نظر آئے گی۔سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو نے پارلیمنٹ ہاس میں سرکاری میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو لوگوں سے امیدیں ہیں۔انہوں نے اپنے شاعرانہ انداز میں کہا کہ عمران خان وہ شخصیت ہیں جو ہمیشہ تاریخ رقم کرتے ہیں۔وزیرِاعظم کی حلف برداری کی تقریب میں مدعو کرنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس تقریب میں شریک ہونا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔سابق بھارتی کرکٹر نے کہا کہ عمران خان کی جو حکومت آئی ہے وہ پاکستان کی تقدیر بدل دے گی۔سابق پاکستانی کرکٹر وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ انتخابات کے بعد سب کے چہروں پر خوشی اور سکون ہے اور وہ دیکھ رہے ہیں کہ مستقبل میں ہمارا ملک ایک صحیح سمت میں ہو گا اور آج ہم ایک تاریخ ساز دن کا حصہ بن رہے ہیں۔خیال رہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں عمران خان واضح اکثریت سے پاکستان کے 22ویں وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے۔17 اگست کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے قائد ایوان کے لیے ہونے والی رائے دہی کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ عمران خان نے 176 اراکین کی حمایت حاصل کی۔انہوں نے بتایا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کے امیدوار اور مسلم لیگ (ن)کے صدر شہباز شریف کو رائے دہی میں 96 ووٹ ملے۔عمران خان کو پی ٹی آئی اراکین کے 151، ایم کیو ایم کے 7، مسلم لیگ(ق)کے 3، جی ڈی اے کے 3، بی این پی کے 4، بی اے پی کے 5، جمہوری وطن پارٹی اور عوامی مسلم لیگ کا ایک، ایک جبکہ 2 آزاد اراکین کے ووٹ ملے تھے جبکہ قانون کے تحت اسپیکر نے رائے دہی کے عمل میں حصہ نہیں لیا۔قومی اسمبلی کے قائد ایوان کے نتائج کے اعلان کے بعد مسلم لیگ(ن)کے ارکان نے عمران خان کی نشست کے سامنے احتجاج کیا اور ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگائے تھے جبکہ تحریک انصاف کے ارکان نے بھی جوابی نعرے بازی کی تھی۔یاد رہے کہ عمران خان کی تقریبِ حلف برداری کے باعث صدر ممنون حسین نے 3 روزہ غیر ملکی دورہ پہلے ہی منسوخ کردیا تھا۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے