Voice of Asia News

اداسی اور مایوسی کا تعلق موروثی ہوتا ہے

لاہور(وائس آف ایشیا ) طبی ماہرین کے مطابق اداسی اور مایوسی کا تعلق موروثی ہو سکتا ہے یعنی اس کی وجہ ہمارے ڈی این اے میں لکھی ہو سکتی ہے۔ جدید تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جن افراد کے جسم مخصوص جین میں قدرے طویل ہوتے ہیں وہ خوشی فراہم کرنے والے ہارمون ’سیروٹونن‘ کو کنٹرول کر کے ان کی پیداوار کم یا زیادہ کرتے ہیں اور ایسے لوگ تصویر کا مثبت رخ دیکھتے ہیں جب کہ جن لوگوں کے جین کے ابھار چھوٹے ہوتے ہیں وہ چیزوں کے منفی پہلوو¿ں پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ زیادہ خطرناک امر یہ ہے کہ اس کا اثر زندگی کے معمولات اور خود آپ کی عمر پر بھی ہوتا ہے اور یہ کم عمری کی وجہ بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔
کینیڈا میں سائنس کے ایک یوٹیوب چینل کی ویڈیو نے ایک چھوٹے سروے میں انکشاف کیا کہ جن افراد میں لمبوترے جین ہوتے ہیں وہ خوشی والی چیزوں کو دیکھ کر بھی خوش ہوتے ہیں مثلاً آئس کریم کھاتے ہوئے کسی کی تصویر دیکھ کر اپنی مسرت کا اظہار کرتے ہیں لیکن اسی جین میں چھوٹے ابھار رکھنے والے افراد آئسکریم دیکھ کر بھی ناخوشی یا منفی خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ ویڈیو کے مطابق ایک اور جین آکسی ٹوکسن ریسیپٹر جین کی تبدیلی سے بھی انسان کا مزاج بدلتا ہے اور آکسی ٹاکسن کو ’محبت کا ہارمون‘ بھی کہا جاتا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ایسے جین رکھنے والے افراد نہ صرف زندگی کے روشن پہلو دیکھتے ہیں بلکہ تعلیم میں بہتر کارکردگی دکھاتے ہوئے بیمار بھی کم ہوتے ہیں۔ ان افراد میں امراضِ قلب اور دیگر بیماریوں کا رحجان بھی کم نوٹ کیا گیا ہے۔
ایسے لوگ دنیا کو حقیقی انداز میں دیکھتے ہیں اور منصوبہ بندی کرتے ہوئے محتاط رہتے ہیں۔ اونٹاریو میں گیلف یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے سائنسدان مچل موفٹ اور گریگری براو¿ن نے 20 سال کے عرصے پر محیط اس مطالعے کے بعد کہا ہے کہ پرامید افراد ذیادہ ذہین اور ایماندار بھی ہوتے ہیں

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے