Voice of Asia News

احسان مانی پاکستان کرکٹ بورڈ کے 29 ویں سربراہ :محمد قیصر چوہان

پاکستان کرکٹ بورڈ،پاکستان میں ہر قسم کی فرسٹ کلاس کرکٹ، ٹیسٹ کرکٹ اور ایک روزہ کرکٹ کا انتظام کرتی ہے۔ یہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے تمام قومی اور بین الاقوامی کرکٹ کے مقابلوں کو ترتیب دیتی ہے۔1947 میں آزادی پاکستان کے وقت پاکستان میں ہر قسم کی کرکٹ بھارت کی کرکٹ کا حصہ تھی۔
پچیس جولائی 2018ء کے عام انتخابات کے نتیجے میں وجود پذیر تبدیلی سیاست اور اقتدار کے ایوانوں سے ہوتی ہوئی کھیل کے میدانوں تک پہنچ گئی ہے۔ یہ تبدیلی اس لیے بھی لازم تھی کہ نومنتخب وزیراعظم عمران خان کی عالم گیر شہرت کا آغاز بھی 1992ء کے عالمی کرکٹ کپ کے فاتح کپتان کی حیثیت سے ہوا، چنانچہ ان کے وزیراعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔
چیئرمین کے انتخاب کے موقع پر احسان مانی کے مقابلے میں کسی بھی امیدوار نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے جس کے بعداحسان مانی پاکستان کرکٹ بورڈ کے بلا مقابلہ چیئرمین 29 ویں سربراہ منتخب ہوگئے اور عہدے کا چارج بھی سنبھال لیا، چیئرمین منتخب ہونے کے بعد احسان مانی کی سربراہی میں پی سی بی گورننگ بورڈ کا اجلاس بھی ہوا۔
ماضی کے اوراق میں دیکھا جائے تو اس پْرکشش عہدے پرہمیشہ سابق صدر مملکت، آرمی آفیسرز ، اعلی عدالتوں کے ججزاوربیوروکریٹس کا راج رہا ہے، یکم مئی 1948 کو پی سی بی کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا اور اس کا نام کرکٹ کنٹرول بورڈ آف پاکستان رکھا گیا تاہم جلد ہی اسے بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان پاکستان ’’بی سی سی پی‘‘ کے نام میں تبدیل کر دیا گیا۔بورڈ کا پہلا اجلاس لاہور جیمخانہ میں ہوا جس میں نواب آف ممدوٹ ، افتخار حسین ممدوٹ کوصدر منتخب کیا گیا۔ وہ مئی 1948سے مارچ 1950 تک بورڈ کے فرائض انجام دیتے رہے۔ چوہدری نذیر احمد خان بحیثیت صدر بی سی سی پی مارچ 1950 سے ستمبر1951 تک اس اہم عہدہ پر فائز رہے۔عبدالستار پیر زادہ بورڈ کے تیسرے صدر تھے جو ستمبر1951 سے مئی 1953 تک اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ انہی کے دور میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل’’ آئی سی سی‘‘ نے باقاعدہ تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کوٹیسٹ کرکٹ کا درجہ دیا، میاں امین الدین مارچ 1953 سے جولائی 1954تک بورڈ کے صدر رہے۔محمد علی بوگرہ بورڈ کے پانچویں صدر بنے، وہ جولائی 1954 سے ستمبر1955 تک اس عہدے پر فائز رہے،گورنر جنرل میجر جنرل اسکندر مرزا جنھیں بعد ازاں پاکستان کا پہلا صدر بننے کا اعزاز بھی حاصل ہوا وہ ستمبر 1955 سے دسمبر 1958 تک بورڈ کے صدر رہے۔ بورڈ کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والے ایک اور فوجی آفیسر جنرل محمد ایوب خان بھی تھے جو دسمبر 1958 سے اکتوبر 1959 تک بی سی سی پی کے سربراہ رہے۔
کرکٹ بورڈ میں پہلی ایڈہاک ستمبر 1960 میں لگی جو مئی 1963 تک جاری رہی۔ نئے آئین کے نفاذ کے بعد صدر پاکستان کو بورڈ کا چیئرمین بنانے کا اختیار مل گیا۔ جسٹس اے آر کار نیلیئس ایڈہاک کمیٹی کے پہلے چیئرمین منتخب ہوئے۔وہ ستمبر 1960سے مئی 1963 تک یہ خدمات انجام دیتے رہے، سید فدا حسین 7ستمبر 1963 سے مئی 1969 تک صدر رہے۔ آئی اے خان مئی 1969 سے اپریل 1972 تک صدر رہے۔ عبدالحفیظ کاردار مئی1972سے اپریل 1977 تک اورچوہدری محمد حسین اپریل 1977 سے جولائی 1978تک بورڈ کے صدور رہے۔بورڈ میں دوسری ایڈہاک جولائی1978 میں لگی جوفروری 1980 تک جاری رہی۔ جنرل (ر)کے ایم اظہراگست 1978 سے فروری 1980 تک ایڈہاک کمیٹی کے چیئرمین رہے۔ ایئرمارشل (ر) محمد نورخان فروری 1980 سے فروری 1984تک بطور صدر فرائض انجام دیتے رہے۔جنرل(ر) غلام صفدر بٹ مارچ 1984 سے فروری 1988 تک بورڈ کی پرکشش سیٹ پرفائز رہے۔ جنرل (ر) زاہد علی اکبر خان مارچ 1988سے اگست 1992 تک چیئرمین رہے، انھی کے دورمیں قومی ٹیم نے پہلا ورلڈ کپ جیتا۔جسٹس ڈاکٹر نسیم حسن شاہ اکتوبر 1992 سے دسمبر 1993 تک اس اہم عہدہ پر فائز رہے۔تیسری ایڈہاک کمیٹی کا دورانیہ دسمبر 1993 سے اپریل 1994 تک رہا۔ جاوید برکی ایڈہاک کمیٹی کے چیئرمین بنے، وہ 13 جنوری 1994 سے 20 مارچ 1994 تک چیئرمین کے اہم عہدہ پر فائز رہے۔سید ذوالفقار علی شاہ بخاری اپریل 1994 سے جنوری 1998 تک بورڈ چیئرمین رہے۔ خالد محمود جنوری 1998 سے جولائی 1999 تک بورڈ کے صدر رہے۔ایڈہاک کمیٹی کا چوتھا دور 16جولائی 1999 سے شروع ہوا۔ ڈاکٹر ظفر الطاف اکتوبر1999 سے دسمبر 1999 تک چیئرمین ایڈہاک کمیٹی رہے۔ لیفٹیننٹ جنرل(ر) توقیرضیا دسمبر 1999 سے 2003 تک بورڈ چیئرمین رہے۔شہر یار ایم خان دسمبر 2003 سے اکتوبر 2006 تک اس اہم عہدے پر فائز رہے۔ اکتوبر 2006میں ڈاکٹر نسیم اشرف نے چیئرمین کا منصب سنبھالا،ان کے دور میں نیا آئین نافذ ہونے کے بعد 1999 سے لگی ایڈہاک ازم کا خاتمہ ہوا۔صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے مستعفی ہونے کے صرف ایک گھنٹے بعد ہی ڈاکٹر نسیم اشرف نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔اعجاز بٹ اکتوبر 2008سے اکتوبر2011 تک، ذکاء اشرف اکتوبر 2011 سے مئی 2013 اور دوسری بار فروری2014 میں دوبارہ چیئرمین پی سی بی منتخب ہوئے، نجم سیٹھی پہلی بار جون 2013 سے جنوری 2014 جبکہ دوسری بار فروری سے 16مئی 2014 تک چیئرمین بورڈ بننے میں کامیاب رہے،مئی 2014 سے اگست 2017 تک پھر شہریار خان چیئرمین بنے،اگست 2017 سے اگست 2018تک نجم سیٹھی نے ایک بار پھر عہدہ سنبھالا۔احسان مانی چار ستمبر کوگورننگ بورڈ سے منتخب ہونے کے ساتھ29ویں چیئرمین پی سی بی بن گئے ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بننے کیلیے ملکی شہریت کا حامل ہونا ضروری ہے جب کہ کسی بھی جرم میں ملوث شخص کو عہدہ نہیں مل سکتا۔پی سی بی کے موجودہ آئین کے مطابق کسی بھی وجہ سے اگر چیئرمین کا عہدہ خالی ہو تو نئے انتخابات تک الیکشن کمشنر بورڈ کی باگ ڈور سنبھالتے ہیں،البتہ انھیں محدود اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ ان میں روزانہ کی بنیاد پر معاملات چلانا شامل ہیں، ان کو بڑے اور طویل المدتی فیصلے کرنے کا کوئی اختیار نہیں،ان کی بنیادی ذمہ داری نئے چیئرمین کیلیے صاف شفاف انتخاب کا انعقاد ہے۔آئین کے مطابق بطور چیئرمین امیدوار کیلیے کسی بھی تسلیم شدہ یونیورسٹی یا کالج سے گریجویٹ یا اس کے مساوی تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے۔ انھیں متعلقہ انتظامی تجربہ بھی حاصل ہونا چاہیے، کوئی بھی ایسا شخص چیئرمین نہیں بن سکتا جو پاکستانی شہری نہ ہو یا پھر وہ اپنی شہریت ترک کرچکا ہو، کسی بھی جرم میں ملوث یا بدانتظامی کی وجہ سے اپنے عہدے سے برطرف ہونے والا شحص بھی یہ ذمہ داری حاصل نہیں کرسکتا۔اسی طرح اگر کوئی شخص ذہنی یا جسمانی وجوہات کی بنا پر بورڈ کے معاملات چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو وہ بھی یہ ذمہ داری حاصل نہیں کرسکتا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کی سربراہی پانے کیلئے ملک میں بڑے بڑے لوگ کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں، ایک بار عہدہ چھوڑنے والا زندگی بھر اسے دوبارہ پانے کی تمنا رکھتا ہے، چیئرمین ہر وقت میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا رہتا جبکہ اربوں روپے کا بجٹ بھی اس کے پاس ہوتا ہے، مفت کے غیرملکی دورے اور دیگر سہولتیں بھی اسے حاصل ہوتی ہیں۔ذرائع کے مطابق چیئرمین پی سی بی کو کوئی تنخواہ نہیں ملتی مگر اس کے بغیر ہی لاکھوں روپے ہر ماہ اس پر خرچ ہو سکتے ہیں،اسے مکمل سہولتوں سے آراستہ رہائش یا اس مد میں ایک لاکھ روپے ماہانہ دیے جاتے ہیں، ایک 3500 سی سی کار بمعہ ڈرائیور بھی استعمال کیلیے ملتی ہے، شہر سے باہر جانے پر بھی یہی سہولت حاصل ہوتی ہے۔ وہ بجلی، پانی اور گیس کے گھریلو بلوں کی ادائیگی یا اس مد میں 40 ہزار روپے ماہانہ لے سکتا ہے۔چیئرمین پی سی بی کو سیکیورٹی گارڈز سمیت چار گھریلو ملازمین فراہم کیے جاتے ہیں، گھر پر ایک لینڈ لائن اور ایک موبائل فون بھی بورڈ کے سربراہ کو ملتا ہے،اپنے اور اہلیہ کیلیے وہ تمام میڈیکل سہولتیں بھی پانے کا اہل ہوتا ہے۔چیئرمین پی سی بی کو آفیشل دوروں پر اہلیہ کے ساتھ فرسٹ کلاس میں فضائی سفر کی سہولت حاصل ہوتی ہے،وہ فائیو اسٹار ہوٹلز میں قیام کرتا ہے۔ اس دوران ڈومیسٹک دورے پر یومیہ 10 ہزار اور غیر ملکی ٹور پر رہائش کے ساتھ 300 (پاکستانی تقریباً37ہزار روپے) جبکہ بغیر رہائش650 ڈالر یومیہ (تقریباً پاکستانی 80 ہزار روپے)الاؤنس دیا جاتا ہے، بزنس انٹرٹینمنٹ کی مد میں چیئرمین بغیر کسی حد کے رقم خرچ کر سکتا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے چیئرمین احسان مانی کی صلاحیتوں کے بارے میں دو آراء ہیں اور نہ کسی کو کوئی شبہ ہے، کہ وہ اپنی ان خداداد صلاحیتوں کا لوہا بطور چیئرمین آئی سی سی عالمی سطح پر منوا چکے ہیں۔ وہ بیک وقت انتظامی اور مالیاتی امور کے ماہر سمجھے جاتے ہیں، ان کی کرکٹ کے لیے خدمات اور دیانت داری بھی مسلمہ ہیں۔ ان کی انہی صلاحیتوں کے سبب پاکستانی قوم ان سے بہت بلند توقعات وابستہ کیے ہوئے ہے کہ وہ بطور چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ نہ صرف پاکستانی کرکٹ کو اس کا کھویا ہوا مقام واپس دلائیں گے بلکہ اسے عالمی سطح پر عروج کی بلندیوں سے روشناس کرائیں گے تاکہ پاکستانی قوم اپنا سر فخر سے اونچا کرکے چل سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان سے یہ توقع بھی بے جا نہیں ہوگی کہ وہ کرکٹ بورڈ کے اندرونی معاملات کی اصلاح کے لیے بھی ٹھوس، جان دار اور نتیجہ خیز اقدامات کریں گے اور ماضی میں روا رکھی گئی وسائل کی بندر بانٹ اور بدعنوانی کے معاملات کی تحقیقات کرواکر مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔
احسان مانی کو ذاکر خان سے بہت زیادہ محتاط رہنا ہوگا، ہمارے ملک میں یہ المیہ ہے کہ جب کوئی انسان بڑی پوزیشن پر پہنچ جائے تو اس کے قریبی لوگ کالر کھڑے کرکے ایسے پوز کرتے ہیں جیسے وہ بھی کوئی اہم شخصیت بن گئے ہیں، بیچارے اس شخص کو علم ہی نہیں ہوتا کہ اس کے نام پر کیا کچھ کیا جا رہا ہے، ذاکر خان عمران خان کے بہت قریبی دوست ہیں، اب جب سے سابق کپتان وزیراعظم بنے ذاکر ایسا پوز کر رہے ہیں جیسے انھوں نے کوئی کارنامہ انجام دے دیا ہے، حلف اٹھانے سے پہلے سے لوگوں کو بنی گالا بلوا کر عمران خان سے ملوایا، پھر بورڈ ملازمین سے ایسے ملاقاتیں کیں جیسے وہی چیئرمین ہوں، خلاف ضابطہ اپنی بطور ڈائریکٹر بحالی کا قائم مقام چیئرمین سے نوٹیفکیشن جاری کرایا، اب بھی وہ قذافی اسٹیڈیم میں ایسے سینہ تان کر چل رہے ہوتے ہیں کہ وہی بورڈ کے اصل سربراہ ہیں، امید ہے کہ احسان مانی وہ غلطی نہیں کریں گے جو شہریارخان نے کی تھی، ان کے دور میں نجم سیٹھی نے ایگزیکٹیو کمیٹی بنا لی اور خود بورڈ کو چلاتے رہے، کوئی ایسی فائل نہیں تھی جو ان کے کمرے سے گذر کر چیئرمین تک نہ پہنچتی ہو، اسی لیے شہریارخان اپنی آخری اننگز میں ڈمی چیئرمین ثابت ہوئے، البتہ احسان مانی کی ایسی شخصیت نہیں لگتی کہ وہ کسی سے دب کر رہیں، وہ یقیناً ذاکر کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیں گے، اسی میں ان کی بھلائی بھی ہے۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے