Voice of Asia News

لائیوسٹاک ملکی سے معیشت میں بہتری لائی جا سکتی ہے:محمد قیصر چوہان

اللہ تعالیٰ نے پاک سر زمین کو بے پناہ خزانوں سے مالامال کررکھاہے ،مگر ہم وہ بدقسمت قوم ہیں کہ جوخالق کائنات کے عطا ء کردہ خزانوں سے استفادہ کر کے آگے بڑھنے کے تمام مواقع ہی ضائع کرتے آرہے ہیں۔ کس کس شعبہ کی بات کی جائے، معدنیات، جنگلات، سیاحت، پن بجلی ، زراعت، پانی، افرادی قوت اورحتیٰ کہ لائیو سٹاک تک ہم نے آج تک کسی میں بھی سنجیدہ انداز میں دلچسپی لے کر اپنے پیروں پرکھڑا ہونے کی کوشش نہیں کی ہے اگرلائیو سٹاک کی بات کی جائے توبلاشبہ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں پرلائیو سٹاک کے ذریعے دودھ، گوشت اور کھالیں بہت بڑی مقدار اور تعداد میں حاصل ہوتی ہیں مگران کی برآمدات سے اس طرح کی آمدن نہیں ہو رہی جو دوسرے ممالک حاصل کر رہے ہیں بصورت دیگر صرف یہی ایک شعبہ ہمارے زرمبادلہ کے ذ خائر میں گرانقدر اضافے کا ذریعہ بن سکتا ہے جبکہ ملکی اورمقامی سطح پراس شعبہ میں جدید انداز اپنا کرہم نہ صرف دودھ اوراس کی مصنوعات میں خود کفیل ہو سکتے ہیں بلکہ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کوبرسر روزگار بھی کر سکتے ہیں۔پاکستان موجودہ حالات میں دنیا کے دودھ پیدا کرنے والے ممالک میں سرفہرست نظرآتا ہے۔ گزشتہ چند سال کے دوران دودھ کی پیداوار کے حوالے سے ہماراملک دنیا کے تیسرے ملک کے طورپرسامنے آتا نظرآرہاہے جبکہ لائیو سٹاک پاپولیشن کے لحاظ سے یہ آج بھی تیسرے نمبرپرہے۔ ملکی جی ڈی پی میں لائیو سٹاک کا حصہ 11.5 فیصد ہے جبکہ شعبہ زراعت میں اس کاحصہ 55.1 فیصد ہے۔دی اینمل فاؤنڈیشن پاکستان کی ریسرچ کے مطابق مطابق گزشتہ چند برس کے دوران ملک میں دودھ کی پیداوار میں 3.8 فیصد جبکہ گوشت کی پیداوار میں 4.9 فیصد اضافہ ہواہے۔پولٹری انڈسٹری 200 ارب روپے پرمحیط ہے جبکہ ملک کی گوشت کی ضروریات کا 28 فیصد اسی سے پوراہوتا ہے۔ پولٹری کی صنعت سالانہ 8 سے10 فیصد اضافے کے ساتھ مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔ ہماراملک چونکہ بنیادی طورپرزرعی ملک ہے اور آبادی کا 70 فیصد تک حصہ آج بھی دیہات میں زندگی بسرکرنے پرمجبور ہے اس لیے ہمارے ہاں لائیو سٹاک کی بہت سی اہمیت ہے۔ دیہات میں چھوٹے کسانوں کی ضروریات مال مویشیوں کی مدد سے ہی پوری ہوتی ہیں۔ہر کسان کے گھر میں ایک دو گائیں یا بھینسیں یا پھرچندبھیڑ، بکریاں ہوتی ہیں جبکہ مرغیاں بھی پالی جاتی ہیںیوں مقامی سطح پردودھ، دہی، مکھن اور انڈوں کی ضروریات پوری ہونے میں کافی مدد ملتی ہے۔ لائیوسٹاک کاشعبہ گائیں، بھینسوں اوربھیڑ بکریوں کے علاوہ پولٹری پرمشتمل ہے۔ اگرگائیوں کی بات کی جائے تو پاکستان ان ٹاپ پانچ ممالک میں دوردور تک بھی نظرنہیں آتا جو گائیوں کی بڑی تعداد کے مالک ہیں۔ ان میں بھارت سرفہرست ہے جہاں ایک اندازے کے مطابق 30 کروڑ سے زائد گائیں ہیں،اس کی ایک بڑی وجہ ہندوؤں کیلئے گائے کا مقدس ہونا بھی ہے چنانچہ وہاں گائیں کا ذبح نہ ہونے کے برابر ہے یوں بھارت آج دنیا بھرکی کل گائیوں میں سے 31 فیصد کا مالک ہے۔برازیل 21 کروڑ 30 لاکھ کے ساتھ دوسری اورچین 10 کروڑ سے زائد کی تعداد کے ساتھ اس فہرست میں تیسرے نمبرپر آتا ہے۔امریکا میں گائیں 90 کروڑ اوریورپی یونین میں 8 کروڑ 80 لاکھ تک کی تعداد میں موجود ہیں تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں بھی 4 کروڑ کے لگ بھگ گائیں بیل موجود ہیں یوں اس کاشمار اس لحاظ سے بڑے ممالک میں ہی کیاجا سکتا ہے مگران سے استفادہ کی صورتحال کچھ زیادہ اچھی نہیں۔دوسری طرف بھینسوں کی تعداد کے لحاظ سے پاکستان دُنیا میں دوسرے نمبر پرہے یہاں بھی پہلے نمبر پربھارت ہی ہے جہاں پربھینسوں کی تعداد اندازاً10 کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ پاکستان 3 کروڑ 46 لاکھ بھینسوں کے ساتھ دوسرے اور چین 2 کروڑ 30 لاکھ کے ساتھ تیسرے نمبرپر ہے۔ اگربکریوں کی تعداد کاجائزہ لیا جائے تو اس لحاظ سے پھرچین سب سے آگے ہے۔چین میں بکریوں کی تعداد 13 کروڑ 76 لاکھ 80 ہزار کے لگ بھگ ہے۔بھارت میں بکریوں کی تعداد 12 کروڑ 54 لاکھ56 ہزار جبکہ پاکستان میںیہی تعداد5 کروڑ 25 لاکھ اورنائیجیریا میں 5 کروڑ 24 لاکھ کے قریب بکریاں موجود ہیں۔ دی اینمل فاؤنڈیشن پاکستان کے مطابق اگرحکومت اورنجی شعبہ توجہ دے تومال مویشیوں کی تعداد میں بآسانی 6 کروڑ تک کااضافہ کیاجا سکتاہے۔
دی اینمل فاؤنڈیشن کے مطابق پاکستان میں پچاس ملین سے زائد بھینسیں بشمول دودھ دینے والے دیگر جانور پائے جاتے ہیں دنیا بھر میں پائی جانے والی 75 فیصد بھینسیں ایشیا میں پائی جاتی ہیں جن میں 14فیصد بھینسیں پاکستان میں پائی جاتی ہیں ۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے FAO اور دی اینمل فاؤنڈیشن پاکستان کی ریسرچ کے مطابق دنیا کی بہترین بھینس پاکستان میں پائی جاتی ہیں جسے Black Gold of Asia کا نام دیا گیا ہے۔ اس کی دودھ دینے کی اوسط مقدار 1800سے 2500لٹر ہے جب کہ بعض میں یہ مقدار 6ہزار لٹر تک بھی جا پہنچتی ہے۔ دنیا بھر میں چار قسم کی بھینسیں پائی جاتی ہیں لیکن پاکستان پر یہ قدرت کا خاص کرم ہے کہ یہاں پر دنیا کی بہترین دودھ دینے والی بھینسوں کی نسل موجود ہے جس میں پنجاب کی نیلی سر فہرست ہے جب کہ پیداوار کے حوالے سے دوسری نسل سندھ بلوچستان میں پائی جاتی ہے ہماری اس سے بڑھ کر بد قسمتی کیا ہوگی کہ دودھ کی پیداوار میں بھی سرفہرست ہونے کے باوجود ہم اس نظام کو باقاعدہ صنعت دینے میں ناکام رہے اس ضمن میں لائیو سٹاک اور اس سے متعلقہ محکمے تو موجود ہیں لیکن ان کی کارکردگی دوردراز دیہات کے ان مویشی پال کسانوں تک صحیح معنوں میں نہیں پہنچ پائی جنہیں ا س شعبے کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا جا سکتا ہے صوبہ پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ کہلایا جاتا ہے اس میں49فیصدگائے، 65فیصدبھینس،24فیصدبھیڑیں اور 37فیصدبکریاں پائی جاتی ہیں یوں پنجاب پورے پاکستان کا 62 فیصددودھ،43فیصدبیف گوشت اور 32 فیصد مٹن گوشت پورا کر رہا ہے ۔
اگردودھ کی پیداوار کے لحاظ سے جائزہ لیاجائے توبھارت سالانہ 137.5 ملین ٹن پیداوارکے ساتھ سرفہرست ہے، امریکا میں یہی پیداوار 84.3 ملین ٹن اورپاکستان میں 41.6 ملین ٹن ہے۔ چین، برازیل، جرمنی، روس،فرانس، نیوزی لینڈ اوربرطانیہ بھی دودھ کے بڑے پیداواری ممالک ہیں۔ فرانس دنیا کے بہترین ڈیری فارمز رکھتا ہے جہاں کے 15 ہزار 600 ڈیری فارموں سے روزانہ 3 لاکھ 30 ہزار لیٹردودھ حاصل ہوتا ہے۔ امریکا میں 51 ہزار ڈیری فارموں سے 23 ارب گیلن دودھ سالانہ حاصل ہوتا ہے۔ روس کی معیشت میں دودھ کا حصہ20 فیصدہے۔ چین میں 14 ملین گائیں ہیں اور اس کی معیشت میں دودھ کا حصہ 10 فیصدہے اگردودھ برآمد کرنے والے ممالک پرنظر ڈالیں تو اچھی پیداوار کے باوجود پاکستان اس فہرست میں کہیں نظرنہیں آتا۔اگر ملکی سطح پرگوشت کی کھپت کا جائزہ لیا جائے توہرسال اس میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔2011-12 کے دوران ملکی سطح پرگوشت کی کھپت 32 لاکھ 32 ہزار ٹن رہی۔ اگلے سال یہی کھپت 33 لاکھ 29 ہزار ٹن،اور2013-14 میں 35 لاکھ 31ہزار ٹن رہی۔ 2017 کے دوران گوشت کی کھپت 41لاکھ ٹن تک پہنچ گئی۔ایک رپورٹ کے مطابق 2017 میں پاکستان نے محض70ہزار ٹن گوشت برآمد کیا حالانکہ اس مد میں برآمدات میں کئی گنااضافے کاامکان موجود تھا۔ زیادہ سے زیادہ دودھ کے حصول کیلئے ملک کے تمام ڈیری فارموں میں مویشیوں کوجومضر صحت انجکشن لگائے جا رہے ہیں ان کی وجہ سے مادہ جانور بانجھ ہوتے جارہے ہیں جس کی وجہ سے بھی ملک بھر میں لائیو سٹاک کا شعبہ متاثر ہو رہاہے۔ اگرحکومت تھوڑی سی توجہ دے تو محکمہ لائیو سٹاک کی مدد سے نہ صرف دودھ کی فاضل پیداوار کو یقینی بنایا جا سکتا ہے بلکہ ملک کے کروڑوں لوگوں کو غربت کی دلدل سے نکالا اور برسرروزگار بھی کیا جا سکتا ہے۔ اگر حکومت لائیو سٹاک کے محکمے کومزید فنڈ فراہم کرے اورڈیری فارمنگ کیلئے مختلف النوع سکیمیں شروع کی جائیں اور چھوٹی سطح کے ڈیری فارموں کے قیام کیلئے مالی اور فنی ادارے رہنمائی اور قرضے مہیاکئے جانے لگیں تو ملک بھر میں لاکھوں ڈیری فارم قائم ہوسکتے ہیں اور ڈیری مصنوعات کی ایکسپورٹ سے اضافی لاکھوں ڈالر کی آمدنی بھی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ دوسری طرف گوشت کی پیداوار میں بھی اضافے کا ہدف بخوبی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ محکمہ لائیوسٹاک نے اس حوالے سے ماضی میں کافی کام بھی کیا ہے۔ ڈیری فارموں کے قیام کیلئے آج بھی اجتماعیت پرمبنی پروگرام تیار کئے جاتے ہیں۔ ملک بھر میں اس وقت بھی کئی ماڈل ڈیری فارم موجود ہیں جہاں پر نہ صرف زیادہ سے زیادہ دودھ کے حصول کوممکن بنا کردکھایا گیا ہے بلکہ مخصوص قسم کی خوراک دے کر گوشت حاصل کرنے کیلئے پائے جانے والے جانوروں کاوزن مختصر عرصہ میں بڑھانے کی کوششیں بھی کامیاب رہی ہیں۔ اس ضمن میں کسانوں اور ڈیری فارموں کو فنی اور مالی امداد بھی دی جارہی ہیں۔
پاکستان آبادی کے لحاظ سے چھٹا بڑا ملک ہے۔پاکستان کی آمدنی کا جی ڈی پی 23.1فیصد زراعت پر مشتمل ہے۔ لائیوسٹاک زراعت کا سب سے اہم جزوہے۔معیشت میں9فیصد برآمدات میں لائیوسٹاک کا حصہ ہے۔ لائیوسٹاک مارکیٹ اور سرمایہ مہیا کرتا ہے، غریب دیہاتیوں کیلئے لائیوسٹاک ایسی نقد جنس ہے جس کو وہ کسی بھی وقت بیچ کر اپنی ضرورت پوری کرسکتے ہیں۔ لائیوسٹاک کسان کا مشکل وقت کا ساتھی ہے جو اس کوفصل کی تباہی(خصوصاً بارانی علاقوں میں) جیسے مشکل حالات میں مدد مہیا کرتا ہے۔لائیو سٹاک سے دیہی علاقوں کے رہنے والے افراد اپنی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ کرسکتے ہیں۔ایک معمولی سی مثال یہ ہے کہ دیہات میں خواتین مرغیاں اوربکریاں پالتی ہیں ،اگر ان خواتین کو معمولی سی تربیت مہیا کردی جائے،جس سے وہ جانوروں کی بروقت ویکسی نیشن اور بیماریوں، علاج اور غذا سے واقف ہو سکیں تو انہیں نہ صرف جانوروں کی پرورش بہتر طور پر کرنے کے قابل بنائے گی، بلکہ اس کے نتیجے میں کام منافع بخش بھی ہو جائے گا،کیونکہ مرغیوں کا گوشت انڈے، بکریوں کا دودھ اور گوشت یہ سب بہت اہمیت کا حامل ہے اور وہی کوشش جو عموماً دیہاتی خواتین بغیر رہنمائی کے کررہی ہیں، اگر رہنمائی حاصل کرکے کریں تو دوگنا فائدہ ہوگا۔اسی طرح دیہاتی علاقوں میں باربرداری ،دودھ اور گوشت کیلئے گھوڑے، گائے اور بھینسوں کی پرورش بھی معمول کی مشق ہے، اگر اس کام کو لائیوسٹاک اور ڈیری ڈیپارٹمنٹ کی رہنمائی اور مشاورت سے کیا جائے تو نتائج ناقابل یقین حد تک بہتر ہو سکتے ہیں۔دودھ کی پیداوار میں پاکستان پانچواں واں بڑا ملک ہے اور آنے والے سالوں میں دودھ اور گوشت کی طلب میں خاطر خواہ اضافہ ہورہا ہے، لہٰذا اس شعبے میں مزید سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے اور یہ سرمایہ کاری منافع بخش ثابت ہوگی۔
محکمہ لائیوسٹاک کوچاہیے کہ جانوروں کی مصنوعی نسل کشی کا سنٹر یونین کونسل کی سطح پرقائم کرے تاکہ گاؤں گاؤں مصنوعی نسل کشی کے ٹیکے پہنچ سکیں جس کے نتیجے میں چند سال کے اندر اندر لائیو سٹاک اور ڈیری سیکٹر میں انقلاب لایا جا سکے۔ محکمہ لائیو سٹاک نہری علاقوں میں فریزین اور پہاڑی علاقوں میں جرسی نسل کی گائیں پالنے کی سفارش کرتاہے اس طرح فریزین اور ساہیوال کے اختلاط سے پیداہونے والی مخلوط نسل نہری اور گرم بارانی علاقوں کیلئے مناسب قراددی ہے۔ سرخ سندھی اور ساہیوال نسل کے مویشی بھی گرم بارانی اور نہری علاقوں کیلئے انتہائی مناسب ہیں۔ بھینسوں میں اضاخیلی نسل پہاڑی اورنہری علاقوں جبکہ نیل راوی نہر اور گرم دریائی علاقوں میں پالنے کیلئے مناسب مویشی ہیں اگرمخصوص خوراک کی تیاری کو بڑے پیمانے پر ممکن بنا کرکسانوں کو مناسب داموں پر فراہمی کو یقینی بنایا جائے تو گوشت اور دودھ کی پیداوار میں اضافے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتاہے۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران دنیا بھر میں گوشت اوردودھ کی طلب میں بے تحاشا اضافہ ہواہے جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ دو دہائیوں کے اندر دودھ اور گوشت کی موجودہ طلب دو گناہوجائے گی کیونکہ امکان ہے کہ اس عرصہ کے دوران دنیا آبادی میں مزیدڈھائی ارب نفوس کا اضافہ ہوجائے گا۔ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ آئندہ چند دہائیوں کے دوران لائیوسٹاک کے شعبے کی اہمیت میں کس قدر اضافہ ہوجائے گا اور یہ کس طرح سے دنیا کی معیشت پراثرانداز ہو گا۔ دنیا کے چھوٹے چھوٹے ممالک بھی اب اس شعبہ کی اہمیت اور مستقبل میں اس کے معاشی کردار کومد نظر رکھتے ہوئے اس کی ترقی کیلئے خصوصی اقدامات کر رہے ہیں۔ لیکن پاکستان میں لائیو سٹاک کا شعبہ تحریک انصاف کی حکومت کی خصوصی توجہ کامنتظرہے۔ لائیو سٹاک کا شعبہ ہمارے ملک کے مضافاتی اور دیہاتی علاقوں میں بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ وہاں تقریباً ہر خاندان نے چند جانور پال رکھے ہیں۔ یہ جانور ان لوگوں کے لیے ایک کیش چیک کی سی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ ضرورت کے وقت انہیں فوری طورپر فروخت کر کے تھوڑی بہت رقم بآسانی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس کے باوجود بیشتر آبادی براہ راست کاشتکاری کے ساتھ منسلک ہے اور باقاعدہ تجارت کی غرض سے مویشی پالنے والے فارمز کی تعداد بہت کم ہے حالانکہ یہ توقع سے بھی زیادہ منافع بخش شعبہ ہے کیونکہ گائے، بھینس، بھیڑ اور بکری کے سینگوں سے لے کر پیروں تک ہر چیز کسی نہ کسی طور قابل استعمال ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ لائیو سٹاک سیکٹر کی نشوونما کیلئے جغرافیائی حوالے سے ایک مثالی مقام پرواقع ہونے ، چاروں موسم اور بے تحاشا ہریالی میسر ہونے کے باوجود اس شعبے سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا جاسکا۔
پاکستان کے شمالی علاقے انتہائی سر سبز و شاداب ہیں جہاں جانوروں کے فارمزقائم کرنے کیلئے انتہائی سازگار ماحول ہے۔ اگرچہ ان علاقوں کے عوام نے جانور پال تو رکھے ہیں لیکن باقاعدہ تجارت کی غرض سے نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ان علاقوں میں کیٹل فارمنگ کو فروغ دے اس غرض سے خاطر خواہ فنڈز مختص کئے جائیں۔ شمالی علاقہ جات کے لوگوں کو انتہائی آسان شرائط پر بلا سود قرضے فراہم کئے جائیں اور کیٹل فارمنگ کیلئے حکومتی سطح پر اُن کی رہنمائی کی جائے۔ ان علاقوں میں کیٹل فارمنگ انتہائی مفید ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ سبزے کی بہتات کی وجہ سے جانور پالنے کے اخراجات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اگرحکومت اس ضمن میں کوئی قدم اٹھائے تو یہ امر خاص طور پرمد نظر رکھے کہ قرضوں کا اجرا میرٹ پر ہو اور یہ واقعی ہی شمالی علاقہ جات میں لائیوسٹاک سیکٹر کے فروغ کیلئے استعمال ہوں۔ چونکہ ان علاقوں میں موسم سرما کا دورانیہ زیادہ ہوتا ہے لہٰذا یہاں بھیڑوں کی وہ نسلیں پالی جا سکتی ہیں جن سے وافرمقدار میں اون حاصل ہوتی ہے۔
لائیو سٹاک اور لیدر کے شعبوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے کیونکہ لائیو سٹاک سیکٹر ملک کے دوسرے بڑے برآمدی شعبے لیدر کو خام مال کی سپلائی کاایک اہم ذریعہ ہے۔مختلف جانوروں کی کھالوں سے ملبوسات، جوتے، گلوز اور دیگربہت سی مصنوعات تیارکی جاتی ہیں۔ پاکستانی لیدر سے بنے ہوئے ملبوسات کی یورپین یونین خاص کر برطانیہ میں بہت ڈیمانڈ ہے کیونکہ پاکستانی جانوروں کا چمڑا بھارت کی نسبت بہترین کوالٹی کا ہے لیکن جانوروں کی کھال اُتارنے کیلئے فرسودہ طریقوں کے استعمال کی وجہ سے بہت خام مال ضائع ہو جاتا ہے۔ چھری سے کھال اُتارتے ہوئے کٹ لگ جاتا ہے جس کی وجہ سے کھال خراب ہو جاتی ہے۔ اس سلسلے میں ترقی یافتہ ممالک کی طرز پر جدید ٹیکنالوجی متعارف کراناضروری ہے تاکہ خام مال کے ضیاع کو کم سے کم کیا جا سکے۔
ہمارے ہاں دودھ کی پیداوار ضروریات یاکھپت سے ہمیشہ زیادہ ہی ہے لیکن یہ اضافی پیداوار معاشی فوائد کامیاب نہیں بن رہی کیونکہ مختلف وجوہات کی بناء پر ہرسال دودھ کی کل پیداوار کا اٹھارہ سے بیس فیصد حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر سال پینتیس سے چالیس ارب روپے کی مالیت کا دودھ استعمال میں آئے بغیر ضائع ہو جاتا ہے۔جدید ممالک کی طرز پرمشینوں کے ذریعے دودھ کو جراثیم سے پاک کرکے زیادہ دیر تک قابل استعمال بنانے اور بیک کر کے فروخت کرنے کا سلسلہ 60 کی دہائی میں شروع ہوا اور 70 کی دہائی تک ملک میں دودھ کو پیسچرائزڈ کرنے والے 23 بڑے پلانٹ لگ چکے تھے جن کی کامیابی نے اس جانب مزید سرمایہ کاروں کو راغب کیااور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان پلانٹس کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ملک میں دودھ پراسیس کرنے والے تقریباً بیس بڑے پلانٹ قائم ہوئے ہیں۔اس کے باوجود ان تمام پلانٹس میں پراسیس ہونے والا دودھ ملک میں پیدا ہونے والے کل دودھ کا تقریباً 1.7 فیصد حصہ ہے۔ تحقیقات کی روشنی میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ عام دودھ کی نسبت پراسیس شدہ دودھ جراثیم سے پاک اور انسانی صحت کیلئے مفید ہوتاہے۔اگر دودھ کا ضیاع روکا اور پراسیس پلانٹ کودودھ کی فراہمی میں اضافہ ہو جائے تونہ صرف عوام کو جراثیم سے پاک پیسچرائزڈ دودھ سستے داموں مل سکتا ہے بلکہ دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات برآمد کرکے بھاری زرمبادلہ بھی کمایاجا سکتاہے۔ یہ مشاہدے میں آیاہے کہ ملک کے بہت سے دوردراز علاقے ایسے ہیں جہاں دودھ تووافر مقدار میں پیدا ہوتاہے لیکن قرب وجوار میں کوئی پراسیسنگ پلانٹ نہیں ہے جس کی وجہ سے دودھ کی کچھ مقدار کسی نہ کسی طرح مقامی طور پر کھپا دی جاتی ہے جبکہ کثیرمقدار ضائع ہو جاتی ہے لہٰذا نہ صرف نجی شعبہ کو اس سلسلے میں قدم بڑھاناچاہیے بلکہ ایسے علاقوں میں حکومت کوبھی پلانٹ قائم کرنے چاہئیں۔ اس سے دہرے فوائد اچھی قیمت مل جایا کرے گی دوسرا دودھ کے ضیاع کو روکا جا سکے گا کیونکہ اسے بروقت پراسیس کر کے پورے ملک میں مہیاکرناممکن ہو گا جس سے لوگوں کو سستا اورجراثیم سے پاک دودھ سستے داموں مل سکے گا۔
مرغی اور مچھلی کے گوشت کی پیداوار مقامی طلب سے تقریباً ہم آہنگ ہی ہے لیکن لائیو سٹاک سیکٹر بڑے اور چھوٹے گوشت کی مقامی طلب پوری نہیں کر پارہا۔ یہ امرقابل ذکر ہے کہ کئی عرب ممالک پاکستان سے حلال گوشت فراہم کرنے کی درخواست کر چکے ہیں یہاں تک کہ انہوں نے پاکستان کو دس فیصد اضافی قیمت کی پیشکش بھی کررکھی ہے لیکن ہم اس پیشکش سے فائدہ اٹھانے کے قابل نہیں ہیں کیونکہ گوشت کی عرب ممالک کو برآمدات تو دور کی بات مقامی طلب ہی پوری نہیں ہو رہی۔ سمگلنگ ایک ایسا ناسور ہے جو ہماری معیشت کو گھن کی طرح چاٹ رہاہے۔ دیگر شعبوں کی طرح لائیو سٹاک کا شعبہ بھی سمگلنگ کی لعنت سے محفوظ نہیں ہے۔ ملک میں اس وقت جانوروں کی سمگلنگ بھی عروج پرہے۔ سمگلر ملکی ضروریات کو نظراندازکرکے بڑی تعداد میں جانور افغانستان اور مشرق وسطیٰ کو سمگل کر رہے ہیں کیونکہ وہاں بیل، گائے اور بھینس جیسے بڑے جانوروں کی بہت مانگ ہے۔جیساکہ پہلے بھی بیان کیا جا چکاہے کہ حلال جانوروں کے سینگوں سے لے کر پیروں تک ہر چیز کسی نہ کسی صورت میں استعمال ہوتی ہے۔ جانوروں کی سمگلنگ صرف گوشت کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا باعث ہی نہیں بن رہی بلکہ لیدر جیسے بڑے شعبے کوبھی بری طرح نقصان پہنچارہی ہے۔ ملک کے معاشی مفادات کچھ افراد کے انفرادی مفادات سے بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں لہٰذا جانوروں کی سمگلنگ جیسے ناسور سے آہنی ہاتھوں کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔جانوروں کی بیماریاں بھی ایک انتہائی اہم مسئلہ ہے لیکن اس جانب انتہائی کم توجہ دی جارہی ہے اور وٹرنری ڈیپارٹمنٹ اس سلسلے میں کوئی اقدامات نہیں کررہاہے جس کی وجہ سے ہر سال لا تعداد ایسے جانور ہلاک ہو جاتے ہیں جنہیں بچانا ممکن ہوتاہے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ وٹرنری ڈیپارٹمنٹ کو بھرپور طریقے سے فعال کیا جائے جو جانوروں کی بیماریوں کی روک تھام کیلئے فوری طورپر اقدامات کرے۔ مہنگائی، پٹرول اور آٹے کی قیمتوں کادیگر ممالک سے موازنہ کرنے کی بجائے اگر اس سلسلے میں دیگرممالک سے رہنمائی لے لی جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
پولٹری لائیو سٹاک سیکٹر کاایک انتہائی اہم حصہ ہے۔ پولٹری انڈسٹری کا شمارملک کی بڑی صنعتوں میں ہوتا ہے۔ اس صنعت میں سرمایہ کاری کاحجم ایک کھرب روپے سے بھی زائد ہے جبکہ دس لاکھ سے زائد لوگوں کو براہِ راست روزگار بھی مہیا کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ ملک کی بہت سی صنعتیں ایسی ہیں جن کے مفادات پولٹری کی صنعت سے وابستہ ہیں۔ مضافاتی اور دیہاتی علاقوں میں تقریباً ہرخاندان جبکہ شہری علاقوں میں ہرپانچواں خاندان کسی نہ کسی طرح پولٹری انڈسٹری سے منسلک ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک میں سالانہ 1.3 ملین ٹن مرغی کا گوشت اور تیرہ ارب انڈے پیدا ہوتے ہیں جبکہ 1.2 ملین افراد کا روزگار اس صنعت سے وابستہ ہے۔
مچھلی پروٹین کے حصول کا ایک انتہائی اہم ذریعہ ہے۔ دیگر بہت سی نعمتوں کی طرح ملک کو وسیع و عریض سمندر کی نعمت بھی حاصل ہے جو معدنیات کے علاوہ مختلف اقسام کی مچھلیوں سے بھرا پڑا ہے لیکن سمندری مچھلی کا میٹھے پانی کی مچھلی سے کوئی مقابلہ نہیں۔ پاکستانی دریاؤں کی مچھلی اپنے ذائقے کی وجہ سے دنیا بھرمیں مشہورتھی لیکن گزشتہ چند سالوں کے دوران مختلف وجوہات کی بناء پر دریائی مچھلی کی پیداوار میں شدید کمی واقع ہوئی ہے۔ ہمارے ہاں میٹھے پانی کی مچھلی کی پیداوار اتنی نہیں ہے کہ اسے برآمد کر کے کثیر زرمبادلہ کمایا جا سکے لہٰذا حکومت کو میٹھے پانی کی مچھلی کی پیداوار بڑھانے کیلئے خصوصی اقدامات کرنے چاہئیں۔ یہ امرقابل ذکر ہے کہ فش فارمنگ اُس زمین پربھی کی جا سکتی ہے جس پرکوئی زرعی پیداوار ممکن نہیں۔ مزید برآں یہاں فش فارمنگ متمول طبقے تک محدود ہے اگرحکومت فش فارمنگ کے ذریعے مچھلی کی پیداوار کو فروغ دینے کی خواہش مند ہے تو متوسط طبقے کو نہ صرف فش فارمنگ کی جانب راغب کرے بلکہ اس سلسلے میں ہر ممکن مدد بھی فراہم کرے۔
اگر حکومت ذراسی توجہ دے تولائیو سٹاک سیکٹرکا شعبہ ملک کی معاشی نشوونما میں انتہائی اہم کرداراداکرسکتا ہے کیونکہ دنیا بھر میں دودھ اور گوشت کی طلب بے تحاشا بڑھتی چلی جارہی ہے۔ پاکستانی جانور بہترین نسل اور زیادہ دودھ دینے کے حوالے سے دنیا بھرمیں مشہور ہیں۔اس وقت پاکستان لائیوسٹاک کی برآمدات سے 35 ارب روپے کے قریب زرمبادلہ کمارہا ہے یہ امرقابل ذکرہے کہ لائیو سٹاک سیکٹرکی تمام مصنوعات توایک طرف اگر پاکستان جانوروں کی افزائش نسل کی غرض سے پاکستانی جانوروں کے سیمن کی تجارتی بنیادوں پربرآمد شروع کردے تواندازے سے بھی زیادہ زرمبادلہ کما سکتا ہے لیکن آج تک اس جانب کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی۔ حکومت توجہ دے توآئندہ پانچ سالوں میں لائیوسٹاک سیکٹر نہ صرف تمام مقامی ضروریات بآسانی پوری کر سکتا ہے بلکہ لائیوسٹاک مصنوعات کی برآمدات آسانی کے ساتھ 150 ارب روپے تک پہنچ سکتی ہیں۔ ہمارا سب سے بڑا برآمدی شعبہ ٹیکسٹائل ہے لیکن اگر لائیو سٹاک کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تو بلاشبہ یہ ملک کا سب سے بڑابرآمدی شعبہ بن سکتاہے۔ حکومت کو چاہیے کہ لوگوں کو لائیوسٹاک کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے اور زیادہ سے زیادہ فارمز بنانے کی ترغیب دے۔ یہ امربھی قابل ذکرہے کہ سعودی عرب جیسا ملک جہاں سبزہ بالکل موجود نہیں ہے وہاں دنیا کا سب سے بڑا کاؤ فارم قائم کیا گیا ہے جونہ صرف عام دنوں میں بلکہ حج کے ایام میں بھی لاکھوں حاجیوں کی ضروریات پوری کرتا ہے جبکہ ہمارے ہاں جہاں قدرتی سبزہ وافر مقدار میں موجودہے اس قسم کے فارم کی تشکیل کی جانب غور نہیں کیا گیا۔لہٰذاپاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو ضلع کی سطح پرماڈل فارمز بنانے کا سلسلہ شروع کرناچاہیے۔
ماضی کی حکومتوں نے فصلوں کی بیماریوں، ان سے بچاؤ کے طریقوں اور ادویات کی تشہیر پربے تحاشا پیسہ خرچ کیامگر جانوروں کی بیماریاں ختم کرنے کی جانب کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی۔ رقبے کے لحاظ سے ہالینڈ چھوٹے ممالک میں شمار ہوتاہے مگراس کے باوجود وہ دنیا میں سب سے زیادہ دودھ پیدا کرتا ہے اور سب سے زیادہ جانور وہاں ہیں۔ انہوں نے کیٹل فارمنگ اور کیٹل فیڈ کوڈویلپ کر کے یہ مقام حاصل کیا ہے مگرہمارے ہاں اس شعبے کونظرانداز کیا جا رہاہے۔ دودھ اور گوشت کی پیداوار میں خود کفیل ہونے کیلئے لائیو سٹاک کے شعبہ کی بہتری کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں اور کیٹل فارمز کی خصوصی تربیت کی جائے تاکہ یہ شعبہ بھی ترقی کر سکے۔ اس ضمن میں ٹیلی ویژن پر پروگرام شروع کئے جائیں تاکہ لوگوں کو آگاہی ہو سکے۔لائیو سٹاک نہ صرف برآمدات کوفروغ دینے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے بلکہ یہ دیہاتی علاقوں کے عوام کی آمدن بڑھانے میں بھی اہم کرداراداکر سکتا ہے۔ اگرتحریک انصاف کی حکومت اس شعبے کو ترقی دینے کیلئے سنجیدہ اقدامات کرے تواس شعبے کی مدد سے جی ڈی پی کی شرح نشوونما کو فروغ دینے کے علاوہ درآمدات اور برآمدات کے درمیان عدم توازن ختم کر کے تجارتی خسارے جیسے بڑے مسئلے پربھی قابو پایا جا سکتاہے۔
لوگوں کو تربیت مہیا کرکے حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق مذبحہ پولٹری سے منسلک لوگوں کی آمدنی میں اضافہ کیا جائے۔موجودہ زمانے میں ریفریجریشن کی آؤٹ لٹ پر سہولتیں مرغی کے گوشت کی فروزن اور چلڈ دستیابی آسان ہوتی جارہی ہے۔پولٹری کے دو پروسیسنگ یونٹ پہلے ہی کام کررہے ہیں۔آج کل صارف فروزن/چلڈپولٹری کے ساتھ ساتھ گوشت کے مختلف حصہ جات کی علیحدہ علیحدہ طلب بھی ہے۔موجودہ تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے اگر کوئی تربیت حاصل کرکے سوجھ بوجھ کے ساتھ پولٹری کے کاروبار میں پیسہ لگائے تو یہ ایک طرح سے منافع بخش سرمایہ کاری ہے۔جب کوئی انڈسٹری بھی بہتری کی طرف گامزن ہوتی ہے اور اس میں نئے رجحانات اور تجربات کو متعارف کروایا جاتا ہے تو جہاں پاکستان میں لائیوسٹاک اور پولٹری انڈسٹری خاصی بڑے سائز کی ہے، لہٰذا اس کے ساتھ ویٹرنری فارماسیوٹیکل کی بھی بہت گنجائش ہے، اس کے علاوہ اس صنعت کی بھی کافی کھپت نکلی ہے۔ ماہرین لائیوسٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ اور دی اینمل فاؤنڈیشن کے مطابق پاکستان میں 9کروڑ لوگوں کا روزگار لائیوسٹاک سے وابستہ ہے اس لیے لائیو سٹاک سیکٹر کو فروغ دے کر غربت کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکتاہے۔ ڈیری مصنوعات کے فروغ اور ان کی زیادہ سے زیادہ برآمد کیلئے قومی ڈیری پالیسی کی اشد ضرورت ہے۔ اگر پاکستان ڈیری ڈویلپمنٹ کمپنی اور حکومت کے دیگر اداروں کے اشتراک سے غریب کسانوں کو بھینسوں کی خرید کیلئے بلاسود قرضے ادا کئے جائیں تو ڈیری ڈویلپمنٹ کو زبر دست فروغ حاصل ہو سکتا ہے۔ ان کے بطابق ماڈل ڈیری فارمز کے قیام ، کولنگ ٹینکس کی فراہمی، کمیونٹی فارمنگ کے فروغ ، بائیو گیس پلانٹس کی تنصیب ، رورل سروسز پرووائیڈر پروگرام کی افادیت کے ذریعے دودھ کی پیداوار کوبڑھانے کے ساتھ ساتھ اسے زیادہ دیر تک محفوظ رکھا جا سکتاہے۔
پاکستان جیسے کثیر آبادی کے ملک میں یہ سوچ بہت اہمیت کی حامل ہے کہ غذائی فصلوں ڈیری فارم اور پولٹری جیسے شعبوں کو مزید توجہ اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے، اس طرح عوام اگر نہ صرف حکومتی اقدامات پر نظر رکھیں، بلکہ کوشش کریں کہ خود بھی اپنے طور پر رضاکارانہ طور پر اس میں حصہ لیں اور جیسا کہ دنیا بھر میں کچن گارڈننگ کا رجحان ہے۔کچن گارڈننگ اور زمین کے ٹکڑوں میں سبزیاں اگا کر خود کفیل ہو سکتے ہیں۔مہنگی سبزیوں کے عذاب سے بھی رہائی مل سکتی ہے۔سبزیوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر پیمکو نے گھریلو سطح پر سبزیوں کی کاشت کو فروغ دینے کیلئے کچن گارڈننگ کا جامع منصوبہ بنایا ہے۔اس کا بنیادی مقصد گھریلو سطح پر سبزیوں کی کاشت کی فروغ دینا کہ مندرجہ ذیل فائدے حاصل کئے جا سکیں، مثلاً حفظان صحت کے اصولوں کے عین مطابق کیمیائی کھادوں اور ادویات کے مضر اثرات سے پاک غذائیت سے بھرپور تازہ سبزیاں،خواتین و حضرات کے لئے مفید مشغلہ اور وقت کا درست استعمال، خوراک کے بحران پر قابو پانے کا بہترین ذریعہ۔اس میں تقریباً پانچ گنا معاشی فائدہ ہے، لیکن اس میں زیادہ اچھی بات یہ ہے کہ دلچسپی رکھنے والے خواتین و حضرات کی مفت ٹریننگ کے ساتھ ساتھ پانچ مرلہ تک سبزیوں کے بیج کی مفت فراہمی بھی حکومت نے ممکن بنائی ہے، اسی طرح اگر گھریلو پیمانے پر 6×8کی پلاسٹک ٹنل بنائی جائے تو کل لاگت کا پچاس فیصد حصہ پیمکو ادا کرتا ہے، اگر عوام جانفشانی اور خلوص سے پاکستان کی غذائی ضروریات کو ملکی وسائل سے چاہیں تو پاکستان کو کم از کم پیاز،آلو اور ٹماٹر تو ہمسایہ ممالک سے منگوانے نہیں پڑیں گے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم پنجاب گورنمنٹ کے منصوبے کے مطابق عوام الناس میں ان رجحانات کو فروغ دیں، تاکہ ہمارا ملک زرعی اور غذائی خودکفالت حاصل کر سکے۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے