Voice of Asia News

بلوچستان کی قیمتی معدنیات پر امریکی نظریں:محمد قیصر چوہان

بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ اس کا کل رقبہ 347190 مربع کلو میٹر ہے، جو پاکستان کے کل رقبے کا43.6 فیصد حصہ بنتا ہے۔ قدرتی وسائل سے مالامال بلوچستان محل وقوع میں اہم ترین صوبہ ہے۔بلوچستان جنوبی ایشیاء کے اس خطے میں واقع ہے کہ جس کے ایک جانب ایران اور دوسری جانب افغانستان ہے اور تیسری جانب800 کلومیٹر طویل بحیرہ عرب کی ساحلی پٹی موجود ہیں۔ بلوچستان کی ڈیپ پورٹ گوادر سے صرف 45ناٹیکل میل کی دوری پر عمان کی ریاست واقع ہے جبکہ 150 ناٹیکل میل کی دوری پر آبنائے ہرمز ہے کہ جو دنیا کی مصروف ترین بحری تجارتی گزر گاہ ہے کہ جہاں سے صرف تیل کی دنیا کو سپلائی ایک تہائی سے زیادہ ہوتی ہے۔بلوچستان کی ڈیپ بندرگاہ گوادر جلد ہی ایک بین الاقوامی شہر کی حیثیت اختیار کرنے والا ہے۔ یہاں سے چین، افغانستان اور سنٹرل ایشیاء کے ممالک تاجکستان، قازقستان، آذربائیجان، ازبکستان ،ترکمانستان اور دیگر روسی ریاستوں تک جانے کے لیے سڑکیں تعمیر کی جا رہی ہیں۔گوادر کی بندر گاہ خلیج فارس ،بحیرہ عرب ،بحر ہند ،خلیج بنگال اور اسی سمندری بیلٹ میں واقع تمام بندرگاہوں سے زیادہ گہری بندر گاہ ہے کہ جس میں 50ہزار ٹن سے لیکر ڈھائی لاکھ ٹن وزنی جہاز لنگر انداز ہو سکیں گے۔بلوچستان پاکستان کا وہ واحد صوبہ ہے کہ جہاں پر معدنیات بھی دیگر صوبوں سے زیادہ پائی جاتی ہیں۔
ویسے تو بلوچستان صرف دو لفظوں پر مشتمل ہے؛ یعنی’’بلوچ’’ اور "ستان’’، جس کے لفظی معنی بلوچوں کے رہنے کی جگہ ہے۔ بلوچ، بلوچستان کے دھرتی کے قدیم ترین باسی ہیں۔ تاریخ دان ہمیشہ بلوچ لفظ کے الگ الگ معنی لکھتے تھے۔ کچھ نے تو بلوچوں کو ترکمانی کہا۔ کچھ نے عربی کہا اور کچھ نے ترکی کا مجموعہ کہا۔ حتیٰ کہ سکندر اعظم کے کئی فوجیوں کے بلوچ اقوام سے تعلق کا ذکر بھی بیشتر کتابوں میں درج ہے۔ بلوچستان ریگستان اور پہاڑوں میں بٹا ہوا ہے۔ بلوچستان کی سرزمین کب آباد ہوئی تھی اور کب بلوچ لوگ یہاں آباد ہوئے، یہ کوئی نہیں جانتا ہے اور نہ ہی کتابیں یہ بتا سکتی ہیں کہ بلوچ کون ہیں اور کہاں سے آئیں ہیں؟۔بلوچوں کی آپس کی لڑائی بھی سیکڑوں سالوں تک چلتی رہی۔ اسی وجہ سے بلوچوں کی نقل مکانی بھی عام سی بات ہے۔ بلوچوں نے پاکستان کے مختلف کونوں میں اپنے اپنے گھر بسائے ہیں۔ بلوچستان کی سرزمین جس طرح دنیا بھر میں سی پیک کی وجہ سے مشہور ہے، اسی طرح بلوچستان کی سر زمین خزانوں سے بھری پڑی ہے جسے نکال کر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔ بلوچستان قدرتی معدنیات سے مالا مال ہے مگر ان پر آج بھی کچھ استحصالی گروہ قابض ہیں۔ تاریخی طور پر بلوچستان ہمیشہ کبھی روشنی اور کبھی اندھیرے میں رہا ہے۔ بلوچستان سے نکلنے والی معدنیات کی رقم بلوچستان میں خرچ کی جائے تو آج بلوچستان جنت نظیر سے کم نہ ہو۔
سی پیک کی وجہ سے بلوچستان کو سونے کی چڑیا سمجھا جاتا ہے مگر اصل سونا تو بلوچستان کی معدنیات ہیں۔ ان معدنیات میں سونا، چاندی، لوہا، کرومائیٹ، تانبا، گیس، چونا، عمارتی پتھر، ایگرو کرومائیٹ، جپسم، سنگ مرمر اور کئی قسم کی دھاتیں موجود ہیں۔ جو ہر سال سرکاری خزانے میں اربوں روپے کا اضافہ کرتی ہیں۔ بلوچستان کو اللہ نے بے شمار دولت سے مالا مال کیا ہے۔ بلوچستان میں معدنیات کے بے شمار ذخائر موجود ہیں۔
خاران میں راسکوہ کے مقام سے کرومائیٹ، تانبا، گندھک، گرینائٹ اور جپسم کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔ اسی طرح خاران میں کانڑی کے مقام پہ تیل کے بھی آثار دیکھے گئے ہیں۔ جب کہ سیندک کے مقام پہ بڑے پیمانے پر تانبا، لوہا، چاندی دریافت ہوئے ہیں۔ یہ معدنیات چند گھنٹوں میں بلوچستان کی قسمت بدل سکتے ہیں۔ بلوچستان کے مغرب میں واقع مکران خاران اور چاغی کے پہاڑی سلسلے شامل ہیں جب کہ مشرق میں کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلے واقع ہیں۔ یہ پہاڑ تمام قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں۔ مگر ماضی کی حکومتوں کی عدم توجہی کی وجہ سے یہاں پر پائی جانے والی معدنیات نے صوبے کی قسمت نہیں بدلی۔
بلوچستان میں پائی جانے والی معدنیات دو قسم کی ہیں۔ ایک دھاتی اور دوسری غیر دھاتی۔ ملک بھرمیں نو زون میں معدنیات کی پیداوار موجود ہیں جن میں پانچ زون بلوچستان میں پائے جاتے ہیں۔ بلوچستان کی معدنیات دنیا کی قیمتی معدنیات میں شمار کی جاتی ہے۔ ان معدنیات سے آج بھی لاکھوں بلین ڈالرز زرمبادلہ کمایا جا رہا ہے۔ اب تک بلوچستان میں پچاس مختلف اقسام کی معدنیات دریافت ہو چکی ہیں۔ یہ معدنیات تمام دنیا کی 26 فیصد بنیادی توانائی اور چالیس فیصد بجلی کی ضرورت پوری کرتی ہیں۔ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک کی نظریں سی پیک کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کی معدنیات کی وجہ سے یہاں لگی ہوئی ہیں۔
برصیغر کی تقسیم کے بعد1948 میں ہی جیولوجیکل سروے آف پاکستان کا دفتر کوئٹہ میں قائم کردیا گیا تھا۔ اور اس محکمے کو سارے پاکستان کے ارضیاتی سروے اور معدنی وسائل کو ڈھونڈنے کا کام سونپا گیا تھا۔ اس کے پہلے سربراہ جیولوجیکل سروے آف انڈیا کے ایک ا نتہائی قابل ماہر ارضیات ڈاکٹر ہنری کروک شینک تھے، جنہوں نے تقسیم کے بعد پاکستان آکرجیولوجیکل سروے آف پاکستان کی بنیاد رکھنے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ڈاکٹر کروک شینک کی تجربہ کار آنکھوں نے پاکستان میں جی ایس پی کے قیام کیلئے کوئٹہ کا انتخاب اسی بنا پر کیا تھا کہ بلوچستان میں معدنی دولت ملنے کے آثار نمایاں تھے اور کچھ دھاتوں کے بارے میں معلوم بھی تھا۔ جیسے مسلم باغ کا کرومائٹ (Chromite)۔مسلم باغ کو اس زمانے میں ہندوباغ کہا جاتا تھا۔ جی ایس پی نے چاغی کا سروے شروع کیا اور سیندک کے مقام پر تانبے کے ذخائر کا پتہ چلا یا۔ اس طرح ڈاکٹر کروک شینک نے مسلم باغ کے کرومائٹ سے لے کر چاغی کے سیندک والے تانبے اور لس بیلہ کے مینگنیز (Manganese) کے آثار پر خود کام کیا اور اپنے ماتحت جیولوجسٹوں سے بھی کروایا۔ مگر وہ اب بوڑھے ہوچکے تھے اور1955 میں واقعی ریٹائرمنٹ لے کر آئر لینڈ واپس چلے گئے تھے۔یہ پاکستان کی خوش قسمتی تھی کہ ڈاکٹر کروک شینک کی سربراہی میں جی ایس پی اپنے پاؤں پر کھڑا ہوچکا تھا اورتب سے اب تک یہ بہت سے کام کرچکا ہے۔یہ اور بات ہے کہ ملکی حالات خراب ہوجانے کی وجہ سے اس ادارے کی کارکردگی پربھی منفی اثرات پڑے۔
اب ہم بلوچستان کے معدنی وسائل کا ایک مختصر جائزہ لیتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی کچھ مسائل اور ان کے حل کی بات بھی کریں گے۔ یہ بات یاد رکھی جائے کہ جی ایس پی نے بلوچستان اور سارے پاکستان کے معدنی وسائل کی تلاش میں ایک بہت اہم کردار ادا کیا ہے اور بلوچستان کے تقریباً تمام دھاتی اور غیر دھاتی منرلز (Minerals) کی تلاش، نقشہ بندی اور تحقیقات کا کریڈٹ جی ایس پی کو جاتا ہے۔ کم سے کم ابتدائی طور پر۔ صوبائی محکموں ، جیسے بلوچستان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (بی ڈی اے) کا بھی کردار ہے مگر ثانوی طور پر۔بلوچستان کے منرلز (Minerals) اور سجاوٹی پتھر (Decorative Stones) : ان کی تعداد کہنے کو تو بہت ہے مگر مقدار اور تجارتی اہمیت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو صرف مندرجہ منرلز ہی قابل ذکر ہیں جو کان کنی کے لائق ہیں۔
دھاتی منرلز :ایلومینیم (Aluminum) :
اس کے بڑے ذخائر ہیں زیارت اور قلات کے علاقوں میں۔ قسم کے لحاظ سے یہ باکسائٹ (Bauxite) اور لیٹرائٹ (Laterite) کہلاتے ہیں۔
کرومائٹ (Chromite) :
مسلم باغ اور خضدار ، لس بیلہ کے علاقے میں ملتا ہے مگر ذخائر محدود ہیں۔ مسلم باغ میں اس کی چھوٹے پیمانے پر کام کنی بھی ہوتی رہی ہے۔ وقتاً فوقتاً۔
تانبا (Copper) : چاغی میں سیندک اور ریکوڈک جیسے مقامات پر اس کے بڑے ذخائر ہیں جن کے تخمینے پانچ بلین ٹن سے بڑھ کر یا کہیں بڑھ کر بتائے جاتے ہیں۔ یہ غیر ملکی کمپنیوں کے بڑے پراجیکٹ ہیں جن پر ہم آگے چل کر مزید باتیں کریں گے۔
سیسہ اور جست (Lead and Zinc) :خضدار اور لسبیلہ کے علاقوں میں ان کے کم وبیش 60 ملین ٹن سے زیادہ ذخائر موجود ہیں۔ جنوبی کیرتھر بیلٹ کے علاقے دودّر میں بھی کوئی دس ملین ٹن کا ذخیرہ ملا ہے۔
لوہا (Iron) : چاغی میں آتش فشانی چٹانوں میں ملا جلا لوہا بھی کوئی ا یک سو ملین ٹن کے لگ بھگ ہے اور زیادہ بھی ہوسکتاہے۔
سونا : چاغی میں سیندک اور ریکوڈک کے مقام پر مناسب مقدار میں ہے۔ چاغی میں چاندی ، مولی بڈنم (Molybdenum) ، یورینیم اور ٹنگسٹن (Tungsten) بھی کچھ مقدار میں ہے۔
پلاٹینم (Platinum) : مسلم باغ ،ژ وب ، خضدار اور لسبیلہ کے علاقوں میں موجود ہے۔
ٹائی ٹینیم اور ذِرکن (Titanium & Zircon): یہ مکران کی ریت میں پائے گئے ہیں۔ مکران اور سیاہان کے علاقے میں اینٹی منی (Antimony) اور سونا چاندی بھی کچھ ملا تھا۔
غیر دھاتی منرلز :ایلم (Alum) : یہ مغربی چاغی میں کو ہ سلطان آتشِ فشاں پہاڑ سے نکلتا ہے اور رنگسازی اور چمڑے کی صنعت میں کام آتا ہے۔
ایس بسٹاس (Asbistos): ژوب سے نکلتا ہے۔
بیرائٹ (Barite) : کو ہ سلطان ، چاغی ، لس بیلہ اور خضدار کے علاقوں سے نکلتا ہے۔ رنگوں اور ڈرلنگ کمپاؤنڈز بنانے میں کام آتا ہے۔
فلورائیٹ (Fluorite) : قلات میں دِلبند(دال بندین) اور آس پاس کے علاقوں میں اچھے ذخائر ہیں۔
جپسم (Gypsum) : یہ اسپن تنگی، ہرنائی اور چم لانگ کی طرف ملتا ہے۔
چونے کا پتھر (Limestone) : بلوچستان میں بھرا پڑا ہے۔ ذخائر پانچ بلین ٹن کے اندازوں سے کہیں زیادہ بھی ہوسکتے ہیں۔ یہ سیمنٹ بنانے میں کام آتا ہے۔ دکی ، بارکھان ،کوئٹہ ، ہرنائی ، شاہرگ ، خضدار ، قلات اور لس بیلہ کے علاقوں میں بھرپور ملتا ہے۔
ڈولومائٹ (Dolomite) : قلات اور خضدار میں لائم سٹون کے ساتھ ملتا ہے۔
سجاوٹی پتھر: جیسے ماربل (Marble) ،آنکس (Onyx) ، سرپینٹین (Serpentine) ، گرینائٹ (Granite) ، ڈائیورائٹ (Diorite) گیبرو (Gabbro) ، بسالٹ (Basalt), رائیو لائٹ (Rhyolite) اور کوارٹزائٹ (Quartzite) بلوچستان میں چاغی، خضدار ، لس بیلہ کی طرف بڑی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ لس بیلہ کے سجاوٹی پتھروں میں سربینٹین ، پکچر مارل سٹون، ریفل (Reefal) ، لائم اسٹون ، ماربل اور کئی قسموں کا فریکچرڈ لائم اسٹون مقبول ہیں اور کراچی کی کاٹج انڈسٹری کو سپلائی ہوتے ہیں جہاں ان سے فرش کے اور دیواروں کے لیے ٹائلز اور آرائشی برتن وغیرہ بنا کر ایکسپورٹ کیا جاتا ہے۔
ابریسوِز (Abrasives) :یہ وہ سخت قسم کے منرلز ہوتے ہیں جن کی مدد سے دوسرے منرلز کو، جو نسبتاً نرم ہوتے ہیں ، کاٹا جاتا ہے اور پالش کیا جاتا ہے۔ مثلا گارنٹ (Garnet) ، پامس (Pumice) ،پارلائٹ (Parlite) اور بسالٹ (Basalt) وغیرہ۔ یہ سب چاغی کے علاقے میں دستیاب ہیں اور کچھ ژوب کی طرف۔نمکیات (Salts) :اس مد میں ہم بوریکس (Borax) ، بوریٹس (Borates) اور سلفائڈ اور کاربونیٹس (Carbonates) کا نام لے سکتے ہیں، جو چاغی، لس بیلہ ، پنجگور اور مکران کی طرف ملتے ہیں جہاں نمک بھی ہوتا ہے۔
گندھک : چاغی میں اور کچھی ڈسٹرکٹ میں ملتی ہے۔
فرٹیلائزر ( Fertilizers): پوٹا شیم چاغی اور کچھی ڈسٹرکٹ میں، نائٹریٹ چاغی میں اور فاسفیٹ بولان پاس کے علاقے میں ملتا ہے۔ میگنیشیم خضدار ، قلات ، مسلم باغ اورژوب کے علاقوں میں ہوتا ہے۔رنگ سازی کی مد میں ۔ ذرد آکر (Ochre) زیارت، ڈسٹرکٹ میں ملتا ہے اور ٹالک (Talc) زیارت مسلم باغ کی طرف۔
میگنی سائٹ (Magnesite) :ژوب ، مسلم باغ اورلسبیلہ کے علاقوں کی آتشی چٹانوں کے ساتھ ملتا ہے ، جن کے لاولے کے ساتھ مینگنیز (Manganese) بھی ملتا ہے۔
سیلسٹایٹ (Celestite) : یہ کوہلو ، ڈیرہ بگٹی ، بارکھان اور لورالائی کی طرف پایا جاتا ہے۔
جم سٹونز (Gemstones) : بلوچستان میں اتنے اچھے جم اسٹونز نہیں جیسے شمالی پاکستان میں ہیں۔ قابل ذکر پتھر یہ ہیں : گارنٹ (Garnet) وغیرہ ، سفید اور ہراکوارٹز (Quartz) جسے بلّور یا سنگ مردار بھی کہا گیا ہے۔ اقسام کے عقیق (Agates) ، فیروزہ (Turquoise) ،کری سوکولا (Chrysocolla) ، مالاکائٹ (Malachite) ، ذِرکن (Zircon) ، جیڈ (Jade) ،جاسپر (Jasper) ، لاپس لزولی (Lapis Lazuli) یعنی لاجورد وغیرہ۔سٹ رین (Citrine) ، آئیڈوکریز (Idocrase) ،کرسوپریز (Chrysoprase) اور ایمی تھسٹ (Amethyst) وغیرہ بھی ملتے ہیں مگر کوالٹی اور مقدار کا انداز کم ہے۔
بلوچستان میں سلی کا سینڈ (Silica Sand) بھی ملتی ہے اور سرمہ (Stibnite236 Antimony Sulphide) بھی چمن فالٹ کے ساتھ موجود ہے۔ مندرجہ بالا تمام منرلز پر کم وبیش ابھی مزید کام کی ضرورت ہے۔یہاں ہم بلوچستان کے کوئلے ، تیل اور گیس کے ذخائر کا ذکر کرتے چلیں ۔بلوچستان میں تیل کم اور روایتی (Conventional) گیس کے ذخائر زیادہ ہیں مگر ایسے آثار ہیں کہ غیر روایتی گیس (Unconventional Gas) کے ذخائر بھی بڑی مقدار میں مل سکتے ہیں۔ جیسے غازج شیل (Ghazij Shale) قدرتی گیس سے بھرا ہوسکتا ہے اور بہت سی شیل فارمیشنز ہیں ، بلوچستان میں اور بقیہ پاکستان میں۔ کوئی وجہ نہیں کہ ہم ان سے گیس نکال کر ملکی توانائی کا مسئلہ حل نہ کرسکیں۔ بشرطیکہ ہم پوری تندہی اور ایمانداری سے اپنا فرض ادا کریں۔ تیل اور گیس کے سلسلے میں اگر کسی کو دلچسپی ہو تو ان باتوں کو اور آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ توانائی کے سلسلے میں بلوچستان میں کوئلہ بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے۔ جی ایس پی کے مطابق ، کوئٹہ ، مچھ ، شاہرگ اور اسپن کاریز کے اطراف میں کوئی712 ملین ٹن کوئلہ موجود ہے اور پاکستان کا60 فی صد کوئلہ بلوچستان پیدا کرتا ہے۔یہ کوئلہ زیادہ تر صوبے سے باہر اینٹوں کے بھٹوں میں جلایا جاتا ہے۔
بلوچستان میں طرح طرح کے منرلز پائے توجاتے ہیں مگر سوائے چند ایک کے جیسے تانبا اور لوہا، بڑی مقدار کے ذخائر کے ثبوت کے لیے ابھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جیسے بیرائٹ ، فلورائٹ ، سیسہ اور جست (Lead & Zinc) کے بڑے ممکنہ ذخائر موجود ہوسکتے ہیں۔ قلات سے لسبیلہ تک کی کیرتھر بلٹ میں جیوراسک (Jurassic) زمانے کی( کوئی 20کروڑ برس پرانی)کاربونیٹ چٹانوں میں جو فلورائٹ ، بیرائٹ ، لیڈ اور زنک کے ذخائر ملے ہیں وہ از قسم مسی سیپی وادی یعنی (Mississippi valley type) کہلاتے ہیں۔ ان کی جغرافیائی زوننگ (Zoning) کچھ یوں لگتی ہے کہ قلات کی طرف فلورائٹ ملتا ہے اور لس بیلہ کی طرف بیرائٹ ، لیڈ اور زنک۔ سوال یہ ہے کہ قلات سے شمال کی طرف کوئٹہ ، مسلم باغ اور ڑوب کی اسی عمر اور قسم کی چٹانوں میں کیا ہے اور کتنی مقدار میں ہے اور اگر نہیں ہے تو کیا وجوہات ہیں۔
بلوچستان میں معدنی وسائل کی تحقیقات اور تلاش میں ہمیشہ سے بہت سی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ ایک تو علاقہ ہی بنجر ، بیابان ، پہاڑی ، صحرائی اور وسیع وعریض ہے جہاں سڑکوں کا کال تھا اور قبائلی سرداروں کی رضا مندی ودوستی کہیں حاصل تھی اور کہیں نہیں۔ پاکستان میں جی ایس پی کے قیام سے لے کر آج تک قبائلی مسائل اور قبائلی جھگڑوں نے ملک وقوم کا بہت نقصان کیا ہے، معصوم جانوں کا زیاں ہوا ہے اور جیولوجسٹ بھی اس کا شکار ہوئے ہیں۔
اس خطے کے لوگ وسائل کی اس سردجنگ کا شکار بھی ہورہے ہیں جو آج کل دنیا بھر میں قدرتی وسائل کے حصول اور بھرپور کنٹرول کے لیے لڑی جارہی ہے۔ اس کے فریقین مشرق ومغرب کی بڑی طاقتیں ہیں۔ ہر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملک کو تیل ، گیس اور کوئلے کے علاوہ صنعتی دھاتوں اور غیر دھاتوں کی ضرورت ہے۔ روس اور برازیل قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں مگر چین اور بھارت اپنی بڑی آبادیوں کی وجہ سے وسائل رکھنے کے باوجود ضرورت مند ہیں اور ایشیاء کے دوسرے ممالک میں ، افریقہ اور جنوبی امریکہ میں وسائل ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ دوسری طرف مغربی طاقتیں اپنے روایتی ہتھکنڈوں سے اپنا اثرورسوخ اور سیاسی ومعاشی کنٹرول بڑھانے کی تگ ودو میں لگی رہتی ہیں۔ اس سرد جنگ میں پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک دونوں طرف کی کھینچا تانی کا شکار ہوتے ہیں۔ افریقہ ، افغانستان اور دنیائے عرب پر مغرب کی یلغار عرصے سے جاری ہے اور ہماری گوادر کی بندر گاہ کی تعمیر اور اندرون ایشیاء کو جاتی ، پھلتی پھولتی تجارتی سڑکوں کے خواب ، سبھی اس جیوپالی ٹکس کا شکار نظر آتے ہیں۔ اور اس طرح سے افغانی خزانوں اور بلوچستان کے وسائل کو سمندری راستے سے نکالا جاسکتا ہے۔ مرکزی ایشیاء اور اردگرد کے سارے ممالک کو ہر طرح سے حسب ضرورت الجھایا جاسکتاہے۔ ترکی کی سلطنت عثمانیہ کے زوال کے بعد اہل مغرب نے عرب دنیا میں جو بندر بانٹ مچائی تھی اور نئی ریاستیں تشکیل دی تھیں، ان کا خمیازہ اس علاقے کے مسلمان ایک صدی سے بھگت رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ مسلمان اور دوسری ایشیائی طاقتیں کیا بلوچستان میں ہونے والے کھیل کو روک سکتی ہیں، یا نہیں۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ پاکستان کے لیے یہ زندگی اور موت کا سوال ہے اور صرف ہم ہی اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں ، کوئی دوسر ا نہیں۔ یہ مسئلہ سارے ایشیاء کا ہے مگر پہلے ہمارا ہے۔
پاکستان میں ارضیاتی اور ماحولیاتی تعلیم (Earth Sciences and Environmental Science) پرائمری درجہ سے شروع کی جائے اور مڈل سے ہائی سکول پہنچتے ہوئے بچوں کو اپنے وسائل اور ماحولیات کا خوب اندازہ ہوجانا چاہیے۔آج کی دنیا میں، جب دنیا کی آبادی سات بلین سے زائد ہوگئی ہے، یہ علم اور احساس پیدا ہونا بے حد ضروری ہے۔اس کے علاوہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ارضیاتی مائیننگ اور ماحولیاتی نصاب کا سٹینڈرڈ اور بلند کیا جائے۔ پاکستانی اور غیر ملکی تعلیمی اداروں کے باہم روابط اور تبادلوں سے ہم اپنا معیار بلند کرسکتے ہیں۔ اسی طرح تعلیم کے دوران ہمیں اپنے طلبا کی ٹریننگ کا بندوبست متعلقہ انڈسٹری کے تعاون سے کروانا چاہیے۔ اپرنٹس شپ اور’کام پر ٹریننگ‘ کا کوئی بدل نہیں۔ امریکہ میں طلبا تعلیم کے دوران ٹریننگ کے لیے اپنی مرضی کی کمپنیوں میں (Internship)کے لیے جاتے ہیں اور چند ماہ زندگی کے حقیقی مسائل پر کام کرتے ہیں۔ اس طرح بہت سی کمپنیاں بعد میں تعلیم پوری ہونے پر انھیں جاب آفر دے دیتی ہیں اور اس طرح روزگار کا مسئلہ حل ہوجاتا ہے۔
بلوچستان میں سیندک اور ریکوڈک جیسے پراجیکٹس سے قطع نظر پاکستانی مائننگ انڈسٹری چھوٹے پیمانے پر گڑھے ، سرنگیں، نالیاں اور کواریاں کھودنے پر مشتمل ہے (یہاں کوئلے کی کانوں کی بات ہم نہیں کر رہے ہیں)۔ایسے کاموں میں ماہر فن افراد کا کال ہے اور مالی فنڈنگ اور ٹیکنالوجی کمیاب یا نایاب ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ سیندک اور ریکوڈک جیسے پراجیکٹس کے ذریعے ہم لوگوں کو روزگار اور سرکار کو آمدنی فراہم کریں اور ساتھ ساتھ تکنیکی مہارت اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر بھی کروائیں، تاکہ آگے چل کر خود کفیل ہواجاسکے۔اس مد میں وہ تمام باتیں آتی ہیں جن کی وجہ سے رقص وموسیقی ، گائیکی ، ڈرامہ، آرٹ،پینٹنگ ، تھیٹر، فلم اور بت تراشی میں مسلمانوں نے عموماً اور جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں نے خصوصاً اپنے آپ کو بالکل مفلوج کر رکھا ہے۔ انہی چیزوں سے انسان کی زندگی میں رنگ ہے اور خوبصورتی اور خوشگواری آتی ہے۔ روایتی تنگ نظری اور مذہبی تعصبات کی وجہ سے ہم نے سنگتراشی کو گل کاری اورجالی کے کام تک ہی محدود رکھا جیسا کہ مغلیہ دور کی عظیم الشان عمارتوں کے کام سے ظاہر ہے۔ اس کے برعکس ہند، چین ، روس اور مغربی دنیا میں آرٹ اور سنگتراشی کے فنون کو عروج پر پہنچایا گیا۔ اٹلی میں مائیکل انجیلو جیسے اساتذہ نے سنگتراشی میں انسانی جسم کو سنگ مر مر میں ڈھالنے میں حرف آخر کہا۔ کہتے ہیں کہ جب اس نے حضرت داؤد کا سنگ مر مر کا مجسمہ مکمل کیا تھا تو وہ اپنے فن پر اس قدر نازاں تھا کہ اپنے تخلیق شدہ مجسمے کے گھٹنے پر ہولے سے ہتھوڑا رکھ کر اس نے کہا تھا کہ ’’ اب بول ‘‘۔یہ شاہکار اٹلی میں آج بھی دیکھا جاسکتا ہے اور اس کا حسن لازوال معلوم ہوتا ہے۔
بلوچستان کے خوبصورت پتھر جیسے چاغی کا آنکس (Onyx) ماربل اور لسبیلہ کی سبز اور لال سرپنٹین (Serpentine) جیسے شاندار پتھروں کو تراشنا پاکستان میں کسی کو نہیں آتا۔ کراچی میں جولوگ اس سے برتن ، ظروف اور اینڈے بینڈے جانور تراشتے ہیں وہ فن کاری نہیں جانتے۔ یہی پتھر جب چین اور اٹلی جا کر تراشے جاتے ہیں تو انسان سبحان اللہ کہہ اٹھتا ہے۔ کاش اگر ہم خام پتھر باہر بھیجنے کے بجائے اسے دیدہ زیب برتنوں، مجسموں او رسجاوٹی اشیا میں تراش کر باہر کے ملکوں کو بھیجنے کے قابل ہوجائیں تو کس قدر منافع ہو۔اسی طرح اگر ہم اپنے جم اسٹونز (Gemstones) کو بھی تراش کر باہر بھیجیں تو خوب زرمبادلہ کماسکتے ہیں۔ یہ صنعت بھی پاکستان میں ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ پشاور اور کوئٹہ میں کچھ ٹریننگ کے ادارے پیدا تو ہوئے ہیں مگر ایک عمر چاہیے اس دشت کی سیاحی کے لیے۔ پتھر کاٹنے ، تراشنے اور پالش کرنے کا فن سکھانے کے لیے ابھی تو ڈھنگ کے اساتذہ بھی ایک اچھی تعداد میں پیدا کرنے کا کام وقت طلب ہے۔ کوئٹہ میں اس صنعت کو ترقی دے کر ہم اپنے جم اسٹونز سے جیولری، مینوفیکچرنگ سنٹر اور ڈیزائنگ سنٹر بنا کر تجارت کو فروغ دے سکتے ہیں۔ظاہر ہے کہ ان کاموں سے پہلے تو ہمیں امن وامان کا مسئلہ حل کر کے مائننگ کو بھی جدید طرز پر لانا ہوگا۔ ایسے ضوابط کو لاگو کروانا چاہیے جن کی روسے کسی غیر کوالیفائڈ فرد کو ایکسپلوریشن اور مائننگ کی ٹریننگ لیے بغیر لائسنس نہ دئیے جائیں کیونکہ ایسے لوگ صحیح کام نہیں کرپائیں گے اور وسائل کا نقصان ہوگا۔ یہ سیفٹی کے لیے بھی اچھی بات نہیں۔ ایسے لوگ ہی مزدوروں سے کچے گڑھے کھدواتے ہیں جن کی دیواریں گر جاتی ہیں اور ایسی سرنگیں لگواتے ہیں جو بیٹھ جاتی ہیں اور جانی نقصان ہوتا ہے۔ ایکسپلوریشن اور مائننگ کے لائسنس اور پرمٹ کے حصول میں کرپشن اور رشوت بھی ایک لعنت ہے جو غلط کام کرواتی ہے۔
ہمیں ارضیاتی اور مائننگ انجینئرنگ کی تعلیم کو سنوارنا ہوگا۔ارضیاتی سروے ، تفصیلی نقشہ بندی (Detailed Mapping) ،جیوفزیکل اور جیو کیمیکل سروے (Geophysical & Geochemical Survey) جہاں جہاں بھی ضروری ہوں، کرنے ہوں گے اور اس قسم کا سارا مواد خواہشمند اور کوالیفائیڈ لوگوں کو فراہم کروانا ہوگا۔ اسی طرح بہتر مالی فنڈنگ اور بینکنگ کی سہولیات بھی پیدا کرنی ہوں گی۔ ان کاموں کے لیے سالہا سال تک سنجیدہ کوششوں اور بے لوث محنت کی ضرورت ہے۔
بلوچستان کی اس خطے میں اہمیت اس وجہ سے بھی ہے کہ بلوچستان سنٹرل ایشین معدنی ذخائر کی ترسیل کا واحد پوائنٹ ہے جس کی وجہ سے غیر ملکی طاقتیں اس علاقے پر اپنا تسلط قائم کرنا چاہتی ہیں۔امریکہ کی اس علاقے میں دلچسپی کی ایک اور اہم وجہ یہ ہے کہ مستقبل میں اس کا حریف ملک چین گوادر کی تعمیر میں عملی حصہ لے رہا ہے۔ جو چین ، روس کے علاوہ بین الاقوامی بحری راستے کی ایک اہم بندرگاہ ہے۔ اس پورٹ کے ذریعے یورپ ، مشرق وسطیٰ، چین اور روسی ریاستوں کی باہم تجارت آسان ہو گئی ہے۔ امریکہ اس پورٹ پر قبضہ کرنا چاہتا ہے لیکن اس کا انتظام و انصرام پاکستان نے چین کو دے دیا۔ یہی بات امریکہ کیلئے سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ گوادر ڈیپ سی پورٹ کی تعمیر اور پاکستان کی معیشت پر اس کے گہرے مثبت اثرات کے ساتھ وسط ایشیاء سے اقتصادی تعلقات شاندار مستقبل اور ایشیائی خطے کی سیاست میں پاکستان کو جس مقام پر لے جائیں گے وہ امریکہ کے ساتھ ساتھ بھارت کو بھی قبول نہیں۔ بھارت کی پریشانی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں بلکہ بھارت کی بحری فوج کے سربراہ کابیان ریکارڈ پر ہے کہ بھارت کو گوادر میں چین کی موجودگی پر سخت تشویش لاحق ہے۔ انہی تمام منصوبہ جات کی تکمیل کیلئے امریکہ نے کوئٹہ میں قونصل خانہ کھولنے کی اجازت طلب کی تھی جس کو وزرات دفاع اور خارجہ نے مستر د کر دیا تھا۔
مریکہ گوادر میں چین کی موجودگی کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے جبکہ ہمسائے میں ایران بھی ہے۔ بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں سی آئی اے اور بھارت کی خفیہ ایجنسی را کا ہاتھ ہے۔ امریکہ محسوس کر رہا ہے کہ بلوچستان میں ترقیاتی کام چینی انجینئروں کی نگرانی میں ہو رہے ہیں اور مستقبل میں گوادر کی بندر گاہ اور بلوچستان چین کیلئے گرم پانیوں تک رسائی کا باعث بن سکتے ہیں۔ دوسری طرف امریکہ کو بلوچستان میں معدنیات گیس، تیل اور قیمتی ہیرے جواہرات کے خزانے نظر آرہے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ پاکستان مستقبل میں ان خزانوں سے استفادہ کرسکے۔ یہود و نصاریٰ اور ہنود ایک ایسا اتحاد ثلاثہ ہے جو بلوچستان کو پاکستان سے علیحدہ کر کے افغانستان اور ایران کے بعض علاقے اس کے ساتھ ملا کر گرم پانیوں کے ساحل کو گریٹر بلوچستان کے نام پر اپنی زیر تسلط ریاست بنانا چاہتا ہے۔لیکن ملک دشمن قوتوں کا یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔
اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو قیمتی معدنی وسائل سے نوازا ہے جنہیں استعمال کرکے ہم ملک کی قسمت بدل سکتے ہیں مگر افسوس کہ ہم 71 سالوں میں بھی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ اس زیر زمین دولت کو زمین سے نکال کر ملک کی خوشحالی کیلئے استعمال نہیں کرسکے لیکن اب وقت آگیا ہے کہ ملکی مفاد کے ان اہم منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ میں چنیوٹ میں لوہے، تانبے اور سونے کے ذخائر دریافت ہونے پر حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ حکومت ان ذخائر سے صحیح معنوں میں استفادہ کرکے عوام کو خوشحال اور ملک کو ترقی کی سمت گامزن کرے گی ۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے