Voice of Asia News

برتھ ڈیفیکٹس فاؤنڈیشن خدمت خلق کے مشن پر گامزن:محمد قیصر چوہان

دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس نے زندگی کے ہر شعبہ میں ہماری رہنمائی فرمائی ہے۔ اسلام ہمیں اخوت اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے چونکہ انسان فطری طور پر معاشرتی زندگی گزارتا ہے معاشرے کے ایک اہم رکن ہونے کی حیثیت سے بہت سی ذمہ داریاں قبول کرتا ہے، دین اسلام نے ان ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے انجام دینے کیلئے بہت سے اصول و ضوابط مقرر کئے ہیں تاکہ ایک ایسا پر امن فلاحی اسلامی معاشرہ وجود میں آئے جس میں ہر کسی کے حقوق کی ضمانت مہیا کی گئی ہے۔ خلق خدا کو فائدہ پہنچانا، ان کے کام آنا انسان کی حقیقی عظمت ہے۔ درحقیقت وہی انسان عظمت پاتا ہے جو دوسروں کے کام آتا ہے۔ کیونکہ ہم ہر روز یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ دنیا میں جو شخص بھی آیا وہ اپنی عمر پوری کر کے دنیا سے چلا گیا۔ لیکن وہ لوگ جو انسانوں کی خدمت کر گئے ،خلق خدا کو فائدہ پہنچا گئے، ان لوگوں کا ذکر باقی رہتا ہے اور لوگ ہمیشہ ان کو اچھے نام سے یاد رکھتے ہیں، انسانوں میں سب سے بہترین شخص بھی وہی ہے جو دوسروں کے لیے اچھا ہو۔ اس دنیا میں عزت اور کامیابی انہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو خلق خدا کی خدمت اور اس کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔ آقاؐ نے ارشاد فرمایا: ’’خیرالناس من ینفع الناس‘‘لوگوں میں اچھا وہ ہے جو لوگوں کو نفع دیتا ہے۔ لوگوں میں اچھا بننے کا بہترین طریقہ بھی یہی ہے کہ ہم مخلوق خدا کی خدمت کریں اور اس کو فائدہ پہنچائیں کیونکہ اسی میں ہماری دنیا وی کامیابی اور آخرت کی کامیابی کا راز پوشیدہ ہے۔ آقاؐ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے ایک مومن کی دنیاوی تکلیفوں میں سے ایک تکلیف کو دور کیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی تکلیفوں میں سے ایک تکلیف کو دور کرے گا‘‘۔
ماں کے رحم میں بچے کی پیدائش کے تکمیلی مراحل میں بعض اوقات بچے کے چہرے کے حصوں میں موجود خلا آپس میں مل نہیں پاتے۔ جس کی وجہ سے بچے کٹے ہوئے تالوں اور ہونٹ کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ یہ ایک قابل علاج نقص ہے اور اس کا واحد علاج سرجری ہے۔ جو بچہ کٹے ہوئے ہونٹ اور تالو کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ اس کو کھانے پینے اور بولنے میں بے حد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے بچوں کا آپریشن اگر 3 ماہ سے 2 سال کے اندر اندر کروا لیاجائے تو اس سے بہت بہتر نتائج نکلتے ہیں، اس سے چہرے میں خوبصورتی پیدا ہوتی ہے۔ بچہ بولنے کی عمر تک پہنچنے تک بہتر طور پر بول سکتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ نفسیاتی طور پر پرُ اعتماد ہوتا ہے۔ ایک سروے کے مطابق ملک میں ہونٹ و تالو کٹے بچے کثیر تعداد میں موجود ہیں حالانکہ اس شعبہ میں کافی کام کیا جا چکا ہے لیکن ابھی بھی بہت سا کام کرنا باقی ہے۔ چونکہ ہونٹ و تالو کٹے نوازئیدہ بچے پیدا ہوتے ہی ماں کا دودھ پینے کے قابل نہیں ہوتے۔ غربت اور لا علمی کی وجہ سے یہ بچے ہر وقت بھوک سے بلکتے رہتے ہیں۔ عموماً ہونٹ و تالو کٹے بچے زیادہ تر آزاد کشمیر، کے پی کے، بلتستان، اندرون پنجاب اور اندرون سندھ میں پائے جاتے ہیں۔
فطرت نے انسان کو خوبصورت پیدا کیا ہے مگر چند بچے کچھ وجوہات کی بناء پر کٹے ہوئے ہونٹ اور تالو لیے پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی بچوں میں پیدائشی نقص ہوتے ہیں جن میں جنس کا واضح نہ ہونا، دل میں سوراخ، ہونٹ و تالو کا کٹا ہونا، ریڑھ کی ہڈی پر پھوڑا، پاؤں کا ٹیڑھا پن، پاخانے کا راستہ نہ ہونا، مرگی، پیدائشی یا بعد کا سر کا بڑھنا، پاخانے کے راستے خون آنا، خصیوں کا نہ ہونا، انتڑیوں کا بند ہونا، بھینگا پن، اور تھیلیسیمیا کا مرض شامل ہے۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی غربت کی وجہ سے والدین کیلئے اپنے بچوں کا علاج کرانا ممکن نہیں ہے۔ ان حالات میں والدین کو ہر طرف اندھیرا ہی نظر آتا تھا تو ایسے حالات میں برتھ ڈیفیکٹس فاؤنڈیشن اندھیرے میں روشنی کی کرن ثابت ہو کر سامنے آیا ہے جس نے اپنی مدد آپ کے تحت 18 سے زائد پیدائشی نقص کے مفت علاج کو ممکن بنانا ہے۔ اگر پیدائشی نقائص میں سے کسی بھی ایک شخص کا علاج و آپریشن پرائیویٹ کیا جائے تو 100,000 روپے تک خرچ آتا ہے۔ جبکہ برتھ ڈیفیکٹس فاؤنڈیشن ان تمام نقائص کا علاج و آپریشن 100 فیصد مفت کر رہی ہے۔ برتھ ڈیفیکٹس فاؤنڈیشن کے چیف سرجن ڈاکٹر افضل شیخ اور ان کی ٹیم اب تک 12 ہزار سے زائد ہونٹ و تالو کٹے بچوں اور 100 سے زائد جنس واضح ہونے والے بچوں کا کامیاب آپریشن بالکل مفت کر چکے ہیں۔
برتھ ڈیفیکٹس فاؤنڈیشن اس سلسلہ میں پہلا اور منفرد ادارہ ہے جس نے ان پیدائشی نقائص کے علاج کا بیڑا اٹھایا تاکہ ایسے بچے جو کسی نہ کسی پیدائشی نقص کا شکار ہوں علاج و آپریشن کے بعد پر سکون اور کامیاب زندگی گزار سکیں۔ برتھ ڈیفیکٹس فاؤنڈیشن جنس واضح نہ ہونا اور ہونٹ و تالو کٹے ہونے کے علاج و آپریشن پر خصوصی توجہ دے رہی ہے کیونکہ یہ نقائص برتھ ڈیفیکٹس میں سر فہرست ہیں اور ان کا علاج و آپریشن نا صرف مہنگا اور مشکل ہے بلکہ جنس واضح نہ ہونے کی صورت میں آپریشن کے بعد چند غیر ملکی مہنگی ادویات جو پاکستان میں دستیاب نہیں تمام عمر کھانی پڑتی ہیں جو برتھ ڈیفیکٹس فاؤنڈیشن آپریشن کے بعد ان لڑکیوں کو تمام عمرمفت مہیا کرتی ہے۔
پورے ملک میں لا تعداد ہسپتال اور میڈیکل سنٹرز ہونے کے باوجود اب تک ایک بھی ہسپتال یا ادارہ ایسا نہیں جہاں ان تمام نقائص کا علاج و آپریشن ایک چھت تلے ممکن ہو جبکہ برتھ ڈیفیکٹس فاؤنڈیشن نے لاہور اور کراچی میں ایسے ہسپتال کی تعمیر کا مشن لے کر اپنے سفر کا آغاز کیاہے۔ جہاں 18 سے زائد پیدائشی نقائص کا علاج و آپریشن بالکل مفت ایک ہی جگہ ممکن ہو سکے گا جس کیلئے تمام ابتدائی عملی اقدام کئے گئے ہیں۔ فی الوقت برتھ ڈیفیکٹس فاؤنڈیشن کے پاس اپنا ہسپتال نہ ہونے کی وجہ سے 2 نجی ہسپتالوں میں عارضی طور پر آپریشن و علاج کا اہتمام کرتی ہے۔ جہاں ہر بدھ اور جمعرات کو آپریشن کئے جا تے ہیں۔پورے ملک میں پیدائشی نقائص کے علاج و آپریشن کیلئے آنے والے بچوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے اور اب اس تعداد میں اب بچوں کا علاج و آپریشن برتھ ڈیفیکٹس فاؤنڈیشن کیلئے مشکل ہو رہا ہے اسی وجہ سے مشن کو جاری رکھنے کیلئے مخیر حضرات کے بھرپور تعاون کی اشد ضرورت ہے تاکہ پورے پاکستان سے آنے والے پیدائشی نقائص والے بچوں کا علاج و آپریشن مفت کر سکیں۔
برتھ ڈیفیکٹس فاؤنڈیشن ایک ایسے مشن پر کام کر رہی ہے جس کی نظیر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں نہیں ملتی اور نہ ہی اس پر ابھی تک کوئی قابل ذکر کام سر انجام دیا جا سکا ہے۔ صرف ترقی یافتہ ممالک میں جنس واضح کرنے کے انتظامات مختلف ہسپتالوں میں کئے گئے ہیں جبکہ برتھ ڈیفیکٹس فاؤنڈیشن ملک کے دو بڑے شہروں میں مکمل ہسپتال تعمیر کرنے جا رہی ہے جہاں نہ صرف ملک بھر سے بلکہ پورے ساؤتھ ایشیا سے جنس واضح کرنے کے ساتھ ساتھ 18 سے زائد پیدائشی نقائص کے علاج و آپریشن کئے جا سکیں گے۔ یہ ایک مہنگا اور پیچیدہ علاج ہے۔ ہونٹ و تالو کٹے اور جنس واضح نہ ہونے والے بچے اور بچیوں کا اگر پرائیویٹ آپریشن کیا جائے تو 100,000 خرچہ آتا ہے اور اس کے علاوہ فی میل ڈومیننٹ، جینز والی بچیوں کو دس ہزارتک کی غیر ملکی ادویات لائف ٹائم کھانا پڑتی ہیں جو برتھ ڈیفیکٹس فاؤنڈیشن مفت فراہم کرتی ہے۔ میری مخیر حضرات سے اپیل ہے کہ اپنی زکوۃ و عطیات برتھ ڈیفیکٹس فاؤنڈیشن کو دیں تاکہ ملک میں کوئی بھی بچہ پیدائشی نقص کے ساتھ سسک سسک کر زندگی نہ گزارہے۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے