Voice of Asia News

انسانی آبادی میں غیر معمولی اضافہ گھریلو چڑیاکا وجود خطرے میں : جاوید اقبال ہاشمی

گھریلو چڑیا، ایشیا، یورپ اور افریقہ میں پایا جانے والا پرندہ ہے جس کا تعلق پاسر ڈومیسٹیکس  خاندان اور جماعت Aves سے ہے۔۔ چڑیا، دنیا کے سارے براعظموں میں پائے جاتے ہیں۔ ہاں ان کے اقسام مخطلف ہیں۔ برصغیر میں چڑیا ایک عام پرندہ ہے، جسے گھریلو چڑیا بھی کہتے ہیں، جس سے ہرکس و ناکس واقف ہے۔عام طور پر یہ چڑیا، چھوٹے جسامت کے ہوتے ہیں۔ ان کا رنگ گندمی۔بھورا ہوتاہے۔ اس کی دم چھوٹی اور چوڑی ہوتی ہے۔ اس کی چونچ کافی مضبوط ہوتی ہے۔ بنیادی طور پر یہ دانے چگنے والے ہیں۔ ساتھ ساتھ یہ چھوٹے چھوٹے کیڑوں کو تغذیہ کے طور پر کھاتے ہیں۔ ان کو گھریلو چڑیا اس لیے کہتے ہیں کہ، گھروں میں اپنا بسیرا کرتے ہیں۔ ان میں پاسر ایمینی بے کا طور 11۔4 سنٹی میٹر اور وزن 13.4 گرام ہوتاہے۔ اور پاسر گونگونینسس کا طول 18 سنٹی میٹر اور وزن 42 گرام رہتاہے۔یہ انیسویں صدی سے امریکا میں بھی پھیل گیا ہے جہاں اسے قدیم امریکی چڑیا کی اقسام سے متفرق کرنے کے لیے انگریزی چڑیا کہا جاتا ہے۔ امریکا کی انگریزی چڑیائیں 1850 سے 1875 کے درمیان برطانیہ سے حشرات کی تعداد کو قابو میں رکھنے کے لیے درامد کیے گئے تھے۔ اس کا ناپ بارہ سے سترہ سنٹی میٹر تک ہوتا ہے۔ نر چڑیا یا چڑے کی گردن پر کالے پروں کا نشان ہوتا ہے۔چڑیا اتنا عام پرندہ ہے کہ اس پر بچوں کی دلچسپ کہانیاں، نظم گیت وغیرہ بھی موجود ہیں۔ اور کئی فلموں میں بھی اس پر گیت سننے کو ملتے ہیں۔ اور تحتانوی جماعتوں کی درسی کتب میں، ‘‘ننھی منی چڑیا‘‘ نام سے اسباق بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔گھریلو چڑیاں عام طور پر ہجرت نہیں کیا کرتیں بلکہ یہ انسانی آبادیوں کے قریب خود کو محدو رکھتی ہیں، بعض اوقات یہ آوارہ گردی یا خانہ بدوشی (nomadic) حالت میں دور تک نکل سکتی ہیں لیکن یہ مقامی نقل مکانی ہوتی ہے جس کا سبب خوراک کی تلاش ہوتا ہے اور اسے پرندوں کی دور دراز ہجرت میں شمار نہیں کیا جاتا۔
انسانی زندگی کو محفوظ اورراحت بخشنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں نباتات اور حیوانات کی بے شمار قسمیں تخلیق کی ہیں ان کو دیکھ کر نہ صرف انسان خوشی اور مسرت محسوس کرتا ہے بلکہ قدرتی ماحول میں خدا کی پیدا کردہ مختلف اقسام کی مخلوق بارے سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالی کی شان کتنی نرالی ہے جس نے دنیا میں تازہ آکسیجن لینے کیلئے درختوں کی ان گنت قسمیں پیدا کرنے کے ساتھ پرندوں، درندوں اور دیگر جانوروں کو انسانوں کے لئے تخلیق کیا تاکہ کرہ ارض کا ماحول اور نظام احسن طریقے سے چلتا رہے ،لیکن انسانوں کی جانب سے اس نظام میں اپنی زندگی کو مزید آسان بنانے کیلئے بے شمار ترقی کی منازل طے کی ہیں لیکن دنیا میں انسانوں کو اس کی قیمت ماحولیاتی آلودگی اور بے شمار پرندوں اور جانوروں کے وجود کو خطرات میں ڈالنے کی صورت میں ادا کرنے پڑ رہی ہے۔ماہرین نے خبرادار کیا ہے کہ انسانوں کی آبادی میں غیر معمولی اضافہ سے جنگلی حیات ، درخت اورپرندوں کی بہت سی اقسام کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے اگر ہم چاہتے ہیں نئی نسل کی بقاء اور ان کے دیکھنے کیلئے ورثے میں کیا چھوڑ کر جائیں گے تو اس کیلئے دنیا بھر کے افراد کو ان کی بقاء کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے پڑیں گے یہ نہ ہو کہ ماضی کی طرح بے شمار درخت اور جانور دنیا سے غائب ہو گئے اسی طرح موجودہ نایاب جانوروں اور پرندوں کی نسلوں سے ہاتھ دھو بٹھیں۔دی اینمل فاؤنڈیشن کے تازہ ترین سروے کے مطابق بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث جانوروں کے قدرتی ماحول میں کمی ہو تی جارہی ہے۔ صورت حال اس قدر پریشان کن ہو گئی ہے کہ گھروں میں انسانی آبادی کے ساتھ رہنے والی چڑیا (HOUSE SPARROW)کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے۔انسانی معاشرے نے تیزی کے ساتھ ترقی کی منازل طے کی ہیں لیکن اسکے ساتھ ہی اس کو احساس ہو گیا ہے کہ جانے انجانے میں اپنے ارد گرد کے ماحول کو خود ہی خراب کر دیا ہے لہٰذاصبح کے اوقات کانوں میں اپنی میٹھی آواز سے رس گھولنے والی چڑیا کے تحفظ کیلئے دنیا بھر میں 20مارچ کو ورلڈ ہاوس سپیرو ڈے منایا جاتا ہے جس طرح اس دن کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے اس طرح پاکستان میں اس دن کو نہیں منایا جاتا، جدید ریسرچ کے مطابق چڑیا کے وجود کیلئے موبائل ٹاورز شدید خطرہ ہیں۔ برطانیہ میںcats,leads, free fuelجیسی بڑی این جی اورز کی جانب سے کی گئی ریسرچ کے بعد اس بات کاا نکشاف ہوا ہے موبائل ٹاورز سے نکلنے والی الیکٹرو میگنیٹک شعاعوں سے سپیرو کی آبادی میں کمی ہو نا شروع ہو گئی ہے اور اعداو شمار کے مطابق 1994سے اب تک برطانیہ میں اسکی آبادی کا گراف75فیصد کم ہو اہے ، بررڈ واچر سوسائٹی انگلینڈ کی تحقیق کے مطابق 30سالوں میں چڑیا کی تعداد24ملین سے کم ہو کر14ملین رہ گئی ہے۔الیکٹرومیگنیٹک کے باعث چھوٹے پرندوں جن میں چڑیا شامل ہے کی انڈے دینے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے جس سے انکی آبادی بتدریج کم ہو رہی ہے ، فصلوں پر پیسٹی سائیڈ کے بے تحاشا استعمال سے زہریلے کیٹرے کھانے سے بھی پرندوں کی اموات میں اضافہ کا سبب بن رہا ہے۔شہری علاقوں میں زندگی کے لائف سٹائل میں تبدیلی سے گھروں میں اس کے گھونسلے کی کوئی گنجائش نہیں رہی جبکہ اربن علاقوں میں جو نئے پودے لگائے جارہے ہیں وہecoسسٹم میں اضافہ کی بجائے کمی کا سبب بن رہے ہیں ۔مثال کے طور پر پہلے شہروں اور دیہاتوں میں جامن، آم، امروود، انار اور دیگر اقسام کے علاقائی پودے ماحول کے مطابق لگائے جاتے تھے ان پھل دار درختوں پر کیڑے مکوڑے پائے جاتے تھے جو دیگر پرندوں کے علاوہ ہاوس سپئیرو کی خوراک کا حصہ بنتے تھے لیکن آجکل ان درختوں کی بجائے ایسی اقسام کے آرائشی درخت اور پودے لگائے جاتے ہیں جہاں کوئی بھی کیٹرا نہیں آتا جس کی وجہ سے یہ ہمارے ماحول میں کوئی بھی اہم کردار ادا نہیں کرتے جس سے ہمارے علاقے گرین ڈیزرٹ green Desertمیں تبدیل ہو رہے ہیں لہٰذا چڑیا کی آبادی کو دوبارہ بڑھانے کے لئے گھروں میں ہاوس سپئیرو باکس نصب کرنے کیلئے عوامی سطح پر باقاعدہ آرگنائز مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے جس میں عوام کو اپنے ارد گرد کے قدرتی ماحول کی بحالی کیلئے سکول اور کالج کی سطح پر سیمینار اور ورکشاپس منعقد کرنے کی اشد ضرورت ہے ، موبائل ٹاورز، پیسٹی سائیڈ کے بے تحاشا استعمال، لائف سٹائل میں تبدیلی اور غیر روایتی درختوں اور پودوں کے باعث برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں ہاوس سپئیر کی تعداد میں غیر معمولی حد تک کمی ہو گئی ہے لیکن یہاں اس معصوم پرندے کی بقاء کیلئے عوامی سطح پر باقاعدہ مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ اسی صورت حال کاسامنابھارت کو بھی ہے جہاں چڑیا کی کنزرویشن کیلئے حکومتی اور عوامی سطح پر باقاعدہ کام شروع کر دیا گیا ہےَ انڈیا کے شہر کیرالہ میںKerala Envirment Research Association کی جانب سے چڑیا اور دیگر پرندوں کے تحفظ بارے تحقیق کی گئی ہے ۔جس میں انکشاف ہو ا کہ اس اسٹیٹ میں موبائل فو ن ٹاور ز سے نکلنے والی الیکٹررو میگنیٹک ریڈیشن سے جہاں60فیصد شہد کی مکھیوں کی تعداد میں کمی ہو ئی ہے وہاں اتنی تعداد میں ہاوس سپئیرو بھی غائب ہو گئی ہیں۔ ریسرچ میں بتا یا گیا کہ موبائل ٹاورز سے نکلنے والی ریڈیشن سے چڑیا کے انڈوں سے ایک ماہ گزرنے کے باوجود بھی بچہ پیدا نہیں ہو سکا جبکہ چڑیا کے انڈے سے قدرتی ماحول میں 10دن کے بعد انڈوں سے بچے پیدا ہو جاتے ہیں ، ایسو سی ایشن کے صدرDR.sainudeen Pattazhyکے مطابق موبائل ٹاور سے 900سے لیکر1800ایم ایج زیڈ الیکٹرو میگنیٹک شعاعیں نکلتی ہیں جن کی شدت اگرچہ کم ہو تی ہے لیکن انڈے سے پیدا ہونے والے بچے کی نازک کھو پڑی اور انڈے کے شیل کو نقصان پہنچانے کے لئے کافی ہیں،بھارت میں چڑیا کی تعداد میں70سے80فیصد کمی ہو گئی ہے لیکن وہاں اس کم ہوتی ہو ئی تعداد کو دوبارہ بحال کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کر دیا گیا ہے ۔پاکستان چونکہ بھارت کا ہمسائیہ ملک ہے جس کیو جہ سے دونوں ملکوں کی روایات، رہن سہن ،موسم اور ماحول میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ چڑیا کی تعداد میں کمی کے حوالے پاکستان کی صورت حال بھارت جیسی ہے لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں اس بارے کوئی بھی پیش رفت نہیں ہو ئی اور نہ ہی اس قدرتی ماحول میں تبدیلی بارے عوام کو آگاہ کیا گیا ہے جبکہ اس حوالے سے قائم متعلقہ سرکاری ادارے اور ریسرچ سینٹرز میں کوئی بھی خاطر خواہ کوئی بھی کام نہیں کیا گیا ، چڑیا کے تحفظ کے لئے بھارت سمیت دنیا بھر میں20مارچ کو ورلڈ ہاوس سپئیرو ڈےWorld house sparrow dayمنایا جاتا ہے۔پاکستان کے حالات کے مطابق بے شمار ایشوز پر لکھا جاتا ہے لیکن میں نے محسوس کیا کہ اس معصوم پرندے کی بقاء کیلئے اگر میں کچھ نہیں کر سکتا تو اسکے بارے میں آرٹیکل لکھ کر عوام میں اس کی کنزرویشن بارے آگاہی مہم تو چلا سکتا ہوں۔آخر میں حکومت اور عوام سے اپیل کرتا ہو ں کہ پاکستان جس کو اللہ تعالی نے ہر قسم کی نعمتوں سے نوازا ہے اس میں کئی سوسالوں سے بسنے والی چڑیا کے وجود کو برقرار رکھنے کیلئے اپنی اپنی بساط کے مطابق حصہ ڈالیں۔

javidjinnah@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے