Voice of Asia News

چھلکوں سے ڈھکے جسم والا نایاب اوردلچسپ جانور پینگولن:جاوید اقبال ہاشمی

قدرت کا انمول عطیہ یہ چرند،پرند اور خزندجہاں کرہ ارض کی دلکشی اورزیبائی کا باعث ہیں وہیں دیگر جانداروں کیلئے غذائی زنجیرکا تسلسل بھی ہیں۔ انسانی زندگی کابڑی حدتک اِنحصارفطرت پر ہے اور انسان جنگلی جانوروں،پیڑ،پودوں اوردرختوں کے ساتھ بقائے باہمی کے اصول کے تحت زندہ رہتا ہے۔کرارض کے ماحول کو صاف کرنے اور فصلوں سے زہریلے حشرات الارض کے خاتمے میں بھی جنگلی حیات کا بڑا اہم کردار ہے۔ جنگلی جانور اور پرندے نہ صرف زمین کی زرخیزی بڑھاتے ہیں بلکہ جنگلات کے پھیلاؤ میں بھی انتہائی معاون ومددگارہیں۔تیتر، بٹیر،ِتلیِر،ہدہد،فاختا ئیں،کبوتر،بگلے ودیگر کئی خوش رنگ وخوش نما پرندے گندم،چاول،کپاس،پھلوں اور سبزیوں کی فصلوں سے ضرر رساں کیڑے مکوڑوں کو چٹ کرکے کسان دوست پرندوں میں شمار ہوتے ہیں۔اِسی طرح فطرت کے خاکروب گِدھ،چیلیں اورکوّے مردار خوری اور آلائشیں کھا کر ماحول کوگندگی اورتعفن سے محفوظ رکھتے ہیں۔چمگادڑ،چھپکلیاں،مچھراورمکھیاں کھاکر،پینگولن کِرم خوری کے ذریعے جانداروں کو زہریلی مخلوق کے مضر اثرات سے محفوظ رکھتے ہیں جبکہ کچھوے،مینڈک اور دیگر آبی حیات پانیوں کی کثافتیں چاٹ کر اسے صاف وشفاف بنانے میں اپنا ماحولیاتی کردار ادا کرتے ہیں۔جنگلی جانوروپرندے سرمایہ فطرت ہیں۔ زمین پر آبادعزوجل کی عطا کردہ اِن نعمتوں سے ہمیں ان گنت فوائد حاصل ہورہے ہیں۔ جنگلی جانور وپرندے ہمیں تفریح مہیا کرتے ہیں، پرْلحم خوراک مہیا کرتے ہیں، علم وتحقیق میں معاو ن ہیں ،قدرتی ماحول کو دلنشیں اورخوشگواربناتے ہیں،ادویہ سازی،صنعتی وزیبائشی مصنوعات کی تیاری میں کام آتے ہیں،سیاحت وتجارت کی بدولت زرمبادلہ بڑھاتے ہیں اورہماری ثقافت کے امین ہیں۔غرضیکہ انسان روزاوّل ہی سے جنگلی حیات کی اِس قدرتی دولت سے استفادہ کرتا چلا آرہاہے۔عقل اِنسانی جب مختلف زاویوں سے جنگلی جانوروں کی صناعی پرغور وفکرکرتی ہے تو اْسکے سامنے اِن کی تخلیق میں پوشیدہ حکمتوں کے نئے نئے در آشکار ہوتے چلے جاتے ہیں اور جب انسان کوایک ہی جانور میں دو متضاد خوبیوں کا حامل ہونے کا انکشاف ہوتاہے تو وہ ربّ کائنات کی اس حیرت انگیزتخلیق پرعش عش کراْٹھتاہے۔
پینگولن ایک ایسانایاب اوردلچسپ جانور ہے جس کا پورا جسم مختلف سائز کے چھلکوں سے ڈھکا رہتا ہے یہ ممالیہ(دودھ دینے والا) جانور ہے جو افریقہ اور ایشیاء کے خطہ استوا کے علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ اپنی ساخت اور عادات کے اعتبار سے یہ جانور قدرت کی تخلیق کا شاندار اور دلچسپ شاہکار ہے جس کو ان جانوروں کی فہرست میں شامل کیا جاتا ہے جن کی نسل خطرے میں ہے۔پینگولن کو ’’چیونٹی خورا‘‘ اور ٹرینگیلنگ بھی کہا جاتا ہے فولی ڈوٹا سلسلے کا ایک ممالیہ جانور ہے۔اس کا تعلق جانوروں کے خاندان ’’مانی ڈائی‘‘ سے ہے ۔دی اینمل فاؤنڈیشن پاکستان کی ریسرچ کے مطابق پینگولن کی آٹھ قسم کی نسلیں پائی جاتی ہیں۔اس کی کئی قسمیں ایسی بھی ہیں جو کرۂ ارض سے مکمل طورپر ختم ہوچکی ہیں۔ اب زمین پر جو کچھ پینگولن بچے ہیں ان کی تعدادمیں تشویشناک حدتک کمی آرہی ہے۔پینگولن کا قد12تا39انچ ہوتا ہے۔ پینگولن کا لفظ مالے زبان سے ماخوذ ہے اس زبان میں ’’ پین گو لینگ ‘‘کے معنی جسم کے اطراف کوئی لپیٹ لینے کے آتے ہیں۔ یہ ایک عجیب و غریب جانور ہے اس کا پورا جسم چھلکوں (Scale) سے ڈھکا رہتا ہے یہ چھلکے کیراٹین نامی مادے سے تیار ہوتے ہیں۔ممالیہ خاندان میں پینگولن واحد جانور ہے جسکا جسم چھلکوں سے ڈھکا رہتا ہے۔ یہ کھوکھلے تنوں یا زمین میں گڑھے کھود کر رہتے ہیں۔ یہ رات میں ہی نکلنے والا جانور ہے۔ چیونٹیاں‘دیمک، کیڑے مکوڑے اور جڑی بوٹیاں اس کی غذا ہے اس کی ایک مخصوص اور لمبی زبان ہوتی ہے۔ اس زبان سے کیڑوں، مکوڑوں، حشرات کو پکڑ کر کھا جاتا ہے۔ یہ تنہائی پسند جانور ہے۔ پیدائش کے وقت پینگولن کے چھلکے نرم ہوتے ہیں مگر بڑھتی عمر کے ساتھ یہ سخت ہونے لگتے ہیں۔بالغ پینگولن کے چھلکے بہت ہی سخت ہوجاتے ہیں۔ یہ چار پیر والا جانور ہے اس کے چھلکوں کے اوپری حصے نوکدار ہوتے ہیں۔جسمانی طور پر پینگولن کی شکل ایسی ہوتی ہے جیسے کسی بہت بڑے نیولے کے جسم پر بڑے بڑے سخت چھلکے نکل آئے ہوں۔خطرہ محسوس ہونے پر یہ جانور اپنے جسم کو لپیٹ کر ایک گولا سا بن جاتا ہے جس کے اوپر اس کے پتھریلے چھلکوں کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔یہ چھلکے ایک دوسرے سے اس طرح منسلک ہوجاتے ہیں کہ یوں لگتا ہے کہ اس کا جسم زرہ بکتر میں چھپ گیا ہو۔یہ چھلکے تیز دھار بھی ہوتے ہیں اور یوں اضافی دفاع کا کام کرتے ہیں۔اگر پینگولن کا سامنا کسی گوشت خور شکاری جانور سے ہو اوروہ فرارکی پوزیشن میں نہ ہو تو وہ فوری طور پر خود کو ’’پتھر کے گولے‘‘ میں تبدیل کرلیتا ہے اور یوں اپنی جان بچانے کی کوشش کرتا ہے۔پینگولن کے اگلے پاؤں خاصے لمبے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے چلنے کے لیے یہ زیادہ استعمال نہیں ہوتے۔چلنے کے لیے یہ زیادہ تر پچھلے پاؤں استعمال کرتا ہے۔مجموعی طورپر اس کے پیر چھوٹے ہوتے ہیں جن کے پنجوں میں تیزدھار ناخن ہوتے ہیں۔ ان ناخنوں کے ذریعے یہ زمین کو کھودتے ہیں اور ان میں سے کیڑے مکوڑے اور چیونٹیاں نکالتے ہیں۔اس کی زبان خاصی لمبی اور پتلی ہوتی ہے جو اس کے پیٹ میں معدے تک جاتی ہے۔ بڑے پینگولن تو سولہ انچ تک اپنی زبان کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ اس طریقے سے یہ دور سے ہی کیڑے مکوڑوں کو پکڑ لیتے ہیں۔پینگولن کے پیر چھوٹے اور اس کے پنجے تیز ہوتے ہیں جو چیونٹیوں اور دیمک کے بلوں کو کھودنے کے علاوہ درختوں پر چڑھنے کا کام آتے ہیں۔ ان میں حسی اعضا نمو یافتہ ہوتے ہیں ان کی مدد سے حشرات کا پتہ لگاتے ہیں اس کی دم لمبی‘دن میں حرکت میں رہتی ہے۔ بیشتر پینگولن‘دن میں آرام کرتے ہیں۔ اس کی لمبی دم کاونٹر بیالینس میں مدد کرتی ہے جبکہ اس کے پیچھے چلنے میں کام آتے ہیں۔ کئی ملکوں میں پینگولن کے گوشت کو شوق سے کھایا جاتا ہے جبکہ اس کے چھلکوں سے دوائیں بنائی جاتی ہیں اسلئے اس عجیب و غریب جانور کا شکار کیا جارہا ہے جس سے یہ نسل معدوم ہوتی جارہی ہے۔
پینگولن کی انوکھی خصوصیات،پینگولن ایک nocturnal جانور ہے۔ بائیولوجی کی اصطلاح میں یہ ایسے جانوروں کو کہا جاتا ہے جو عام طور پر رات کو ہی باہر نکلتے ہیں اور اپنی خوراک تلاش کرتے ہیں۔چمگادڑ بھی اس کی ایک مثال ہے۔ان کی سونگھنے کی حس بہت تیز ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ رات کے وقت بھی پتہ چلالیتے ہیں کہ کیڑے مکوڑے کہاں پر ہیں۔بعض پینگولن، جیسے لمبی دم والے پینگولن ہیں ، یہ دن کو بھی متحرک ہوسکتے ہیں تاہم ان کی زیادہ تر اقسام دن کو اپنے بلوں میں گولا بن کر آرام کرتی ہے اور رات کو ہی باہر نکلنا پسند کرتی ہے۔اس انوکھے جانور کی کچھ اقسام کھوکھلے درختوں میں بھی رہتی ہیں جبکہ زمین پر رہنے والی اقسام خرگوشوں کی طرح زمین میں سرنگیں کھود کر رہنا پسند کرتی ہے جن کی گہرائی ساڑھے تین میٹر تک ہوسکتی ہے۔پینگولن اچھے تیراک بھی ہوتے ہیں اور پانی سے کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتے۔ ان کے بارے میں ایک اور دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ ان کے منہ میں دانت نہیں ہوتے اور نہ ہی یہ چبانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے بجائے یہ زمین کو کھود کر یا حشرات کے بلوں میں اپنی لمبی زبان ڈال کر ان کیڑوں مکوڑوں کو وہیں سے اچک لیتے ہیں اور سیدھے اپنے پیٹ میں لے جاتے ہیں۔پینگولن کے سینے پر مخصوص غدود ہوتے ہیں جن سے ایک لیس دار مادہ نکلتا ہے۔ یہ اس لیس دار مادے کو وقفے وقفے سے اپنی زبان پر لگاتے ہیں جس سے کیڑ ے اور چیونٹیاں وغیرہ ان کی زبان سے چپک جاتے ہیں۔پینگولن کی کچھ اقسام ، جیسے درختوں پررہنے والے پینگولن ، کی دم بہت مضبوط اور لچک دار ہوتی ہے اور ان کے ذریعے یہ درختوں کی شاخوں سے لٹک جاتے ہیں اور ایک شاخ سے دوسری شاخ پر جانے کے لیے اپنے ہاتھ پیروں کے ساتھ ساتھ دم کو بھی برابر استعمال کرتے ہیں۔ یہاں پر یہ درختوں کے سوراخوں میں موجود کیڑے مکوڑوں کو اپنی خوراک بناتے ہیں۔ان جانوروں میں حمل چار سے پانچ ماہ تک چلتا ہے۔ افریقی مادہ پینگولن عام طور پر ایک ہی بچے کو جنم دیتی ہے جبکہ ان کی ایشیائی نسل ایک وقت میں ایک سے لیکر تین تک بچے دے سکتی ہے۔ پیدائش کے وقت بچے کا وزن اسی گرام سے لیکر چار سو پچاس گرام تک ہوسکتا ہے جبکہ ان کے چھلکے ابتدا میں بہت نرم ہوتے ہیں۔چھوٹے بچے اپنی ماں کی دم کے ساتھ لٹک جاتے ہیں جبکہ ان کی بلوں میں رہنے والی اقسام میں بچے ایک سے چار ہفتے تک بل میں ہی رہتے ہیں۔لگ بھگ دوسال تک بچے جنسی لحاظ سے بالغ ہوجاتے ہیں۔
پینگولن کی نسل شدید خطرات سے دوچار ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔افریقہ کے مختلف حصوں میں پینگولن کو شکار کیا جاتا اور کھایا جاتا ہے اور ان کاگوشت بہت سے لوگوں کے لیے مرغوب ہوتا ہے۔ چین کے بہت سے علاقوں میں اس کی بہت مانگ ہے کیونکہ وہاں پر اس کا گوشت بہت لذیذ اور مقوی سمجھا جاتا ہے جبکہ بہت سے چینی پینگولن کے چھلکوں کو دوا کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں۔اس کے علاوہ جنگلات کے ختم ہونے کی وجہ سے بھی ان کی نسل ختم ہورہی ہے بالخصوص بڑے پینگولن تو تیزی سے ناپید ہورہے ہیں۔نومبر 2010 میں پینگولن کو زولوجیکل سوسائٹی آف لندن کی اس فہرست میں شامل کیا گیا جو ان جانوروں پر مشتمل ہے جن کی نسل جینیاتی طورپر بہت انوکھی ہے اور وہ خطرے سے دوچار ممالیہ جانوروں میں سے ایک ہیں۔
اگرچہ پینگولن کی نسل کو بچانے کے لیے اس کی بین الاقوامی تجارت پر پابندی ہے لیکن اس کے باوجود ان کی غیرقانونی تجارت جاری ہے کیونکہ ایشیاء کے کئی ملکوں میں اس کے گوشت اور چھلکوں کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ یہ اعصابی قوت بڑھاتے ہیں اور کینسر یا دمہ کے علاج میں موثر ہیں۔ماضی میں کئی واقعات میں غیرقانونی سمگلنگ کی زد میں آنے والے پینگولن اور ان کے گوشت کو قبضے میں لیا جاجکا ہے۔2013 میں ایک واقعے میں پینگولن کے دس ہزار کلوگرام گوشت سے لدی ایک چینی کشتی کو قبضے میں لیا گیا تھا جو کہ فلپائن سے آرہی تھی۔برطانوی اخبار گارڈین نے ایک چینی سائنسی رسالے کی وساطت سے ایک چینی شیف کا انٹرویو شائع کیا جس نے بتایا کہ پینگولن کو کس طرح ہلاک کرکے پکایا اور کھایا جاتا ہے۔گوانگ ڈونگ سے تعلق رکھنے والے اس شیف نے بتایا کہ جانور کو زندہ حالت میں پنجروں میں رکھا جاتا ہے یہاں تک کہ گاہک کی جانب سے آرڈر موصول ہوتا ہے۔آرڈر موصول ہونے کے بعد ہتھوڑے سے پینگولن کو بے ہوش کیا جاتا ہے اور اس کے بعد گلا کاٹ کر خون نکالا جاتا ہے۔ جانور کو آہستہ آہستہ مرنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اسے ابالا جاتا ہے اور اس کے چھلکے اتارے جاتے ہیں۔پھر اس کے گوشت کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے مختلف ڈشیں تیار کی جاتی ہیں۔اس کے بچوں کو تو سالم پکایا جاتا ہے۔عام طور گاہک اس کا خون تک ساتھ لے جاتے ہیں۔
رشجا کوٹا لارسن کہتے ہیں کہ بہت سے لوگ پینگولن کے بارے میں نہیں جانتے۔ وہ ایک تنظیم پراجیکٹ پینگولن کے بانی اور ڈائریکٹر ہیں جو اس انوکھے جانور کی نسل کو بچانے کے لیے کوشاں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ بہت شرمیلا اور صرف رات کو نکلنے والا جانور ہے۔یہ بہت کم دکھائی دیتے ہیں۔سائنس دان اعتراف کرتے ہیں کہ وہ لوگوں کو اس جانور سے متعارف کرانے میں ناکام رہے ہیں۔اس کی زمہ دار حکومتیں اور این جی اوز بھی ہیں۔نیپال میں چینی پینگولن پر سٹڈی کرنے والی امبیکا کھاٹی واڑا کا کہنا تھا کہ جانوروں کو بچانے کے لیے زیادہ توجہ بڑے ممالیہ جانوروں جیسے ہاتھیوں اور گینڈوں پر دی جاتی ہے اور چھوٹے ممالیہ جانوروں اور مشکل سے دکھائی دینے والے پینگولن جیسے جانوروں کو نظرانداز کردیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس جانور کی نسل تیزی سے ناپید ہورہی ہے۔
مشرقی چین کے صوبہ زی جیانگ میں 2016 میں ایک پراسیکیوٹر نے معدوم النسل جانوروں جس میں پینگولین بھی شامل ہے کی فروخت اور سمگلنگ پر 32افراد پر فرد جرم عائد کی تھی۔ فرد جرم عائد کئے جانیوالوں میں سے 17چین کے امیر ترین شہروں میں شمار ہونے والے وین ڑو کے ریستورانوں اور بڑے بڑے کلبوں کے مالکان تھے۔وہ مبینہ طورپر جانوروں کے اعضاء خریدتے اور خوراک کے طورپر تیار کرتے۔ 23صفحات پر مشتمل فرد جرم کی دستاویز میں بتایا گیا تھاکہ ان جانوروں کے زیادہ تر اعضاء چین اور ویتنام کی سرحد کے راستے سمگل کئے گئے۔پینگولین جو کہ چین میں دوسرے درجے کے تحفظ یافتہ جانور ہیں اکثر سمگل کئے جاتے ہیں کیونکہ ان کا گوشت ذائقہ دار خیال کیا جاتا ہے اور ان کی کھالیں جلد او ر دیگر امراض کے علاج میں موثر خیال کی جاتی ہے ۔ آئی یو سی این (IUCN) کمیشن کے سربراہ جوناتھن بیلی کا کہنا ہے کہ پینگولن کی آٹھ کی آٹھ اقسام معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں کیونکہ ان جانوروں کو جنگلوں سے پکڑ کر چین، ویت نام اور دوسرے ایشیائی ممالک میں بیچا جارہا ہے جہاں ان کا گوشت بڑے بڑے اور مہنگے ہوٹلوں میں فروخت کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پچھلے دس سال میں دس لاکھ سے زائد پینگولن کھائے جاچکے ہیں۔ مہنگے ریستورانوں اور ہوٹلوں میں اس جانور کا گوشت بہت مقبول ہے کیونکہ اسے بہر مزیدار سمجھا جاتا ہے۔
حکمتوں سے مالامال یہ جنگلی جانور ہماری قدرتی دولت ہیں جن کا تحفظ ہماری قومی ذمہ داری ہے گو کہ حکومتیں،سرکاری وغیرسرکاری ادارے جنگلی حیات کے فروغ کیلئے کوشاں ہیں تاہم یہ کاوشیں اْس وقت تک بارآور ثابت نہیں ہو سکتیں جب تک کہ عوام بھی حکومت کے شانہ بشانہ اِس کارِ عظیم میں اپنا بھر پور تعاون فراہم نہ کریں۔
javidjinnah@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے