Voice of Asia News

ایف بی آر کے 9 ماتحت ادارے ٹیکس اہداف کے حصول میں ناکام

اسلام آباد(وائس آف ایشیا ) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے 9 ماتحت اداروں(فیلڈ فارمشنز) کی جانب سے رواں مالی سال 2018-19 کے پہلے دو ماہ کے ٹیکس اہداف کے حصول میں ناکامی کا انکشاف ہوا ہے۔ دستیاب دستاویز کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے تمام لارج ٹیکس پیئر یونٹس (ایل ٹی یوز)، ریجنل ٹیکس آفسز (آر ٹی اوز)اور کارپوریٹ ریجنل ٹیکس آفسز(سی آر ٹی اوز)کو بھجوائے جانے والے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال 2018-19 کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) کے لیے مقرر کردہ ٹیکس وصولیوں انتہائی اہمیت کا حامل ہے لہذا فیلڈ فارمشنز کو ہدایت کی جاتی ہے کہ 30 ستمبر کو ختم ہونے والی رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے لیے مقرر کردہ ٹیکس وصولیوں کے اہداف کے حصول کو ہر صورت یقینی بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔دستاویز کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے کہا گیا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ جولائی اور اگست کے دوران حاصل ہونے والی ٹیکس وصولیوں میں اضافے (گروتھ)کی شرح معقول ہے لیکن ابھی بھی یہ بات تشویش کے ساتھ نوٹ کی گئی ہے کہ کچھ ماتحت ادارے و فیلڈ فارمشنز تفویض کردہ ماہانہ ٹیکس وصولیوں کے اہداف حاصل کرنے کے لیے مطلوبہ ریونیو گروتھ حاصل نہیں کرسکے ہیں جبکہ ایف بی آر کے 9 فیلڈ فارمشنز ایسے ہیں جو ریونیو گروتھ تو دور کی بات ہے رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ کے دوران گزشتہ مالی سال 2017-18 کے پہلے دو ماہ کے برابر بھی ریونیو اکٹھا نہیں کر سکے ہیں۔فیلڈ فارمشنز کی جانب سے رواں مالی سال کے پہلے دوماہ کے دوران حاصل کردہ ریونیو کے اینالسز پرمبنی الگ الگ رپورٹس پچھلے سال کے دوماہ کے برابر بھی ریونیو حاصل نہ کرسکنے والے متعلقہ 9 فیلڈ فارمشنز کو بھجوائی جارہی ہیں جن میں فیلڈ فارمشنز کی دوماہ کی ریونیو میں کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور ان شعبوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ جہاں جہاں ان فیلڈ فارمشنز کا ریونیو پچھلے سال کے مقابلے میں کم ہے لہذا ان شعبوں میں ریونیو گروتھ بڑھائی جائے کیونکہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے لیے مقرر کردہ ٹیکس وصولیوں کے اہداف کا حصول انتہائی اہم ہے لہذا 30 ستمبر کو ختم ہونے والی رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے لیے مقرر کردہ ٹیکس وصولیوں کے اہداف کے حصول کو ہر صورت یقینی بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے