Voice of Asia News

لنکن خواتین قرض چکانے کے لیے گردے بیچ رہی ہیں،اقوام متحدہ ماہرین

کولمبو(وائس آف ایشیا)سری لنکا کے خانہ جنگی سے متاثرہ علاقوں میں جنگ میں ہلاک ہونے والے مردوں کی بیوائیں اور دوسری خواتین قرض چکانے کے لیے اپنے گردے فروخت کر رہی ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق قرضوں کے انسانی حقوق پر اثرات سے متعلق اقوام متحدہ کے ایک آزاد ماہر جون پابلو بوہوسلاوسکی نے بتایا کہ قرض وصول کرنے والے خواتین سے جنسی تعلق قائم کرنے کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔سری لنکا سے واپسی پر انہوں نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ بعض اوقات خواتین کو قرضہ وصول کرنے والوں کی جانب سے نفسیاتی اور جسمانی تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ بعض واقعات میں اپنے قرضے کی واپسی کے لیے اپنے گردے بیچنے کی کوشش کی۔سری لنکا میں 37 سال تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کے نتیجے میں لاکھوں عورتیں بیوہ ہوئیں۔ خانہ جنگی کا تو 7 سال پہلے خاتمہ ہو گیا تھا لیکن بہت سی خواتین کو زندہ رہنے کے لیے چھوٹے قرضوں کا سہارا لینا پڑا۔مقامی میڈیا ذرائع کے مطابق قرض نہ چکانے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی پریشانیوں سے تنگ آکر درجنوں عورتیں خودکشی کر چکی ہیں۔بوہوسلاوسکی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ یہ خواتین کو دیا جانے والا قرض سود در سود ہوتا ہے اور اس پر سود کی سالانہ شرح 220 فی صد تک جا پہنچتی ہے۔دو مہینے پہلے سری لنکا کی حکومت نے دو لاکھ خواتین کے قرضے معاف کر دیے تھے جو ادھار لی گئی رقم واپس کرنے کے قابل نہیں تھیں اور قرض پر سالانہ سود کی انتہائی حد 30 فی صد مقرر کر دی تھی۔رپورٹ میں حکومت کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ مزید عورتوں اور مردوں کے قرضے معاف کرے اور قرض کے سلسلے میں سخت تر قوانین نافذ کرے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سری لنکا میں چھوٹی سطح کے قرضوں کی کل مالیت تقریباً 9 ارب روپے ہے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے