Voice of Asia News

حضرت امام حسین ؑ کی عظیم شہادت: محمد جمیل بھٹی

شہادت!اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک بہت عظیم الشان اورگراں قدرنعمت ہے۔جن خوش نصیبوں کویہ لازوال اوراَن مول نعمت نصیب ہوتی ہے، ان کو شہید کہتے ہیں۔ اورقرآن کے الفاظ میں ان کو’’قتل فی سبیل اللہ‘‘کے نام سے تعبیرکیاجاتا ہے۔ان انعام یافتہ اورمنعم علیہ بندوں کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجیدمیں بڑے دل نشین اور دل آوَیزالفاظ میں کیاہے۔ارشادِباری تعالیٰ ہے:ترجمہ: ’’اورجولوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل کئے جاتے ہیں،ان کومردہ مت کہو (وہ مردہ نہیں) بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم کو(ان کی زندگی کا)شعورنہیں ہے‘‘۔(سورۃ البقرہ:آیت 154)۔اسی طرح ایک اورمقام پرارشادفرمایاکہ:ترجمہ: ’’اورجولوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے ہیں،تم ان کومردہ بھی مت خیال کرو،بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اورانہیں رزق بھی دیاجاتاہے‘‘۔(سورۂ آل عمران:آیت نمبر169)۔اسی طرح سورۃ النساء میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے شہداءِ کرام کوان لوگوں کے ساتھ بیان کیاہے، جن پراللہ تعالیٰ نے اپناخاص فضل وکرم اورانعام واکرام فرمایااور انھیں صراطِ مستقیم اورسیدھے راستہ کامعیار و کسوٹی قراردیاہے۔چنانچہ ارشادِباری تعالیٰ ہے:ترجمہ: ’’اورجوکوئی اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول ﷺ کی(ایمان اورصدقِ دل کے ساتھ) اطاعت کرتاہے،پس وہ(روزِقیامت)ان لوگوں کے ساتھ ہوگاجن پراللہ تعالیٰ نے (اپناخاص )انعام فرمایاہے،جوکہ انبیاء اورصدیقین اورشہدائاورصالحین ہیں اوریہ کتنے بہترین ساتھی ہیں‘‘۔(سورۃ النساء:آیت نمبر69)
مذکورہ بالاآیت مبارک میں اللہ تعالیٰ نے شہداءِ کرام کواپنے انعام یافتہ بندوں میں شمار کیا ہے، اور شہد اء کاذکرمقدم کرکے صالحین پرعظمت وفضیلت عطاء کی گئی ہے۔
شہادت!ایک ایسی جلیل القدراورعظیم الشان نعمت ہے،جس کی امام الانبیاء حضورسیّدعالم ؐنے بھی شہادت کی تمنااورآرزوکی ہے۔چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺنے فرمایاکہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے!میری یہ آرزواورتمناہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل (شہید)کیاجاؤں پھرزندہ کیاجاؤں،پھرشہیدکیا جاؤں۔پھر زندہ کیا جاؤں، پھر شہید کیا جاؤں ،پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر شہید کیا جاؤں‘‘۔ (صحیح بخاری،مشکوٰۃ المصابیح)۔
سانحہ کربلا 10 محرم 61ھ کو موجودہ عراق میں کربلا کے مقام پر پیش آیا، یزید کی بھیجی گئی افواج نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے اہل خانہ کو شہید کیا۔حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ 72 ساتھی تھے، جن میں سے 18 اہل بیت کے اراکین تھے۔ اس کے علاوہ خاندانَ نبوت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ واقعہ کربلا صرف تاریخ اسلام ہی نہیں بلکہ تاریخ عالم افسوسناک واقعہ ہے ، دنیا میں یہ ایک واقعہ ایسا ہے جس سے کائنات کی تمام چیزیں متاثر ہوئیں۔ آسمان متاثر ہوا ، زمین متاثر ہوئی ،شمس و قمر متاثر ہوئے ،اس کا تاثر شفق کی سرخی ہے، جو واقعہ کربلا کے بعد سے افق آسمانی پر ظاہر ہوئی۔یہ وہ غم انگیز اور الم آفرین واقعہ ہے جس نے جاندار اور بے جان کو خون کے آنسو رلایا ہے۔
حضرت محمدؐ اور خلفائے راشدین نے جو اسلامی حکومت قائم کی، اس کی بنیاد انسانی حاکمیت کی بجائے اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کے اصول پر رکھی گئی۔ اس نظام کی روح شورائیت میں پنہاں تھی۔اسلامی تعلیمات کا بنیادی مقصد بنی نوع انسان کو شخصی غلامی سے نکال کر خداپرستی ، حریت فکر، انسان دوستی ، مساوات اور اخوت و محبت کا درس دینا تھا۔ خلفائے راشدین کے دور تک اسلامی حکومت کی یہ حیثیت برقرار رہی۔ یزید کی حکومت چونکہ ان اصولوں سے ہٹ کر شخصی بادشاہت کے تصور پر قائم کی گئی تھی۔ لٰہذا جمہور مسلمان اس تبدیلی کواسلامی نظام شریعت پر ایک کاری ضرب سمجھتے تھے اس لیے امام حسین محض ان اسلامی اصولوں اور قدروں کی بقا و بحالی کیلئے میدان عمل میں اترے ، راہ حق پر چلنے والوں پر جو کچھ میدان کربلا میں گزری وہ جور جفا ، بے رحمی اور استبداد کی بدترین مثال ہے۔نواسہ رسول کو میدان کربلا میں بھوکا پیاسا رکھ کر جس بے دردی سے قتل کرکے ان کے جسم اورسر کی بے حرمتی کی گئی اخلاقی لحاظ سے بھی تاریخ اسلام میں اولین اور بدترین مثال ہے۔
کربلا کا یہ واقعہ تاریخ اسلام کا بڑا افسوسناک تھا، اس واقعہ کی خبر اللہ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کر دی تھی۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی زوجہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو ایک شیشی میں کچھ مٹی دے کر فرمایا تھا کہ یہ اس جگہ کی مٹی ہے، جہاں میرے نواسے کو شہید کیا جائے گا۔ جب وہ شہید ہوگا تو یہ مٹی خون کی طرح سرخ ہو جائے گی۔کربلا کے واقعے کے وقت حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا زندہ تھیں اور جس وقت امام حسین علیہ السلام شہید ہوئے یہ مٹی خون کی طرح سرخ اور مائع ہو گئی تھی۔
قمری سال کاآغازماہِ محرم الحرام سے اوراختتام ماہِ ذوالحجہ پرہوتاہے۔ 10محرم الحرام کوحضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت وقربانی اور10ذوالحجہ کوحضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی ہے۔معلوم ہواکہ اسلام ابتداء سے لے کرانتہاء تک قربانیوں کانام ہے،گویاکہ ایک مسلمان کی تمام زندگی ایثارو قربانی سے عبارت ہے۔ذوالحج کامہینہ ہمارے سامنے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے عشقِ الٰہی کا بے پناہ جذبہ اورحضرت اسماعیل علیہ السلام کی آرزوئے شہادت کانقشہ پیش کرتا ہے اورمحرم الحرام کامہینہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے عملی واقعہ کی جانب دعوت دیتاہے۔ذوالحجہ کی دسویں تاریخ کوحضرت اسماعیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی خوش نودی اورضاکی خاطراپناسراقدس چھری کے نیچے رکھ دیتے ہیں مگر یہ سرتن سے جداہونے سے پہلے ہی بارگاہِ خداوندی میں درجہ قبولیت پالیتاہے۔اورمحرم الحرام کی دسویں تاریخ کونواسہ رسولﷺ نہ صرف اپنی جان بلکہ اپنے جگرگوشوں،بھائیوں، عزیزوں،رشتہ داروں اوراپنے اصحاب کی گردنیں دین حق کی سربلندی،اعلاءِ کلمتہ الحق،ظلم وستم کے مٹانے کیلئے اورناموسِ اسلام اور حق وصداقت کی خاطراپنے مالک ومولاکی بارگاہ میں پذیرائی کیلئے کٹا دیتے ہیں۔ یہ تاریخ انسانیت کی بہت بڑی قربانی ہے،جوماہِ محرم الحرام میں دشتِ کربلا میں پیش آئی اوراللہ تعالیٰ نے اسے امت مسلمہ کیلئے تاقیام قیامت اسلام کے شعائر میں داخل فرما دیاہے۔ الغرض حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت ایک فطری عطیہ تھاجو ازل سے ہی آپ کی ذات کیلئے لکھاجاچکاتھا۔اورمیرے خیال میں تویہ خونی اور انقلابی معرکہ واقع ہوناضروری تھا،کیونکہ ابتدائے افرینش سے لے کراسلام کے سنہری دورتک اللہ تعالیٰ کی راہ میں جتنے بھی جہادہوئے اورجتنی بھی قربانیاں دی گئیں،ان کی حیثیت ایک شخصی اورانفرادی ہواکرتی تھی،اجتماعی طورپرکسی نبی یا پیغمبرکے پورے خاندان نے کسی جہادیاکسی قربانی میں حصہ نہیں لیاتھا۔ غرض یہ کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کاواقعہ کوئی شخصی یا انفرادی واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ چمنستانِ نبویﷺکے پورے گلشن(خاندان)کی شہادت کاواقعہ ہے۔اوراس کاتعلق اسلام کی اصل حقیقت سے ہے،دین وملت کی اصل روح اوربنیاد سے ہے یعنی اس حقیقت اوراس روح سے ہے،جس کی ابتداء حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ذات سے ہوئی اورنواسہ رسولﷺحضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے میدانِ کربلامیں اپنی قربانی سے اس کی تکمیل کردی۔اس لئے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کاواقعہ کئی اعتبارسے دیگرتمام شہادتوں سے ممتازاورمنفرد ہے۔اس کی انفرادیت کی ایک وجہ یہ ہے کہ آپ خانوادۂ رسولﷺکے چشم وچراغ ہیں یعنی آپ سے پہلے کسی رسول کے خاندان نے شہادت کارتبہ حاصل نہیں کیا۔اس میں شہیدہونے والوں کی حضورسیّدعالمﷺکے ساتھ خاص نسبتیں اور رشتہ داریاں ہیں۔یہ داستانِ شہادت گلشن نبوت ﷺکے کسی ایک پھول پرمشتمل نہیں بلکہ یہ سارے کے سارے گلشن کی قربانی ہے۔
قتل حسین اصل میں مرگِ یزیدہے
اسلام زندہ ہوتاہے ہرکربلاکے بعد
اسلام کی نشرواشاعت اوردین حق کی سربلندی کیلئے لاتعدادمسلمان مرتبہ شہادت پرفائزہوچکے ہیں مگران تمام شہداءِ کرام میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت بے مثل وبے مثال ہے کیونکہ آپ جیسی مصیبتیں کسی دوسرے شہیدنے نہیں اٹھائیں،مثلاًآپ تین دن کے بھوکے پیاسے شہیدکئے گئے اوراس حال میں کہ آپ کے تمام اصحاب ، عزیزواقارب اوراہل وعیال بھی بھوکے پیاسے تھے اورخاص کرچھوٹے چھوٹے معصوم بچے پانی کے لیے تڑپ رہے تھے یہ آپ کے لیے اور زیادہ تکلیف کی بات تھی،کیونکہ انسان اپنی بھوک وپیاس توکسی طرح برداشت کر ہی لیتا ہے،لیکن اپنے اہل وعیال اور خصوصاًمعصوم اور شیر خوار بچوں کی بھوک وپیاس برداشت سے باہر ہوتی ہے۔پھرپانی کاوجودنہ ہوتوپیاس کی تکلیف کم محسوس ہوتی ہے ،لیکن جبکہ پانی کی کثرت اور فروانی ہو اورجسے عام لوگ ہرطرح سے استعمال کررہے ہوں حتیٰ کہ جانوربھی سیراب ہورہے ہوں،مگر کوئی شخص اپنے اہل وعیال اوراپنے اصحاب سمیت تین دن سے بھوکا پیاساہواوراسے وہ پانی نہ پینے دیاجائے تویہ اس کیلئے زیادہ تکلیف وآزمائش کی بات ہے۔دشت کرب وبلامیں بالکل یہی نقشہ تھاکہ عام آدمی اورجانورتوسبھی دریائے فرات سے سیراب ہورہے تھے ،مگرنواسہ رسولﷺ سیّدالشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اورآپ کے تمام اصحاب ورفقاء رضی اللہ عنہ پرپانی بندکردیاگیاتھا۔ یہاں تک کہ آپ اپنے بیماروں اور معصوم بچوں کوبھی پانی کاایک قطرہ نہیں پلاسکتے تھے۔سیّدالشہداء امام عالی مقام حضرت سیّدناامام حسین رضی اللہ عنہ کربلاکے تپتے ہوئے صحراء میں قیامت خیزگرمی اورچلچلاتی دھوپ میں بھوکے پیاسے مگراللہ تعالیٰ اوراس کے پیارے رسولﷺ کی محبت واطاعت میں سرشارہوکراپنے عزیز واقارب اوراپنے اصحاب سمیت شہادت کے عظیم منصب سے شرف یاب ہوئے اورتوحیدورسالتؐاوردین حق کی سربلندی اوربقاء کیلئے اوراعلاءِ کلمتہ الحق اورحق گوئی وسچائی کی خاطراللہ تعالیٰ کی راہ میں اپناسب کچھ قربان کردیا۔
سانحہ کربلا تاریخ اسلام کا ایک شاندار اور زریں باب ہے، یزید کی نامزدگی اسلام کی نظام شورائیت کی نفی تھی، لہٰذا حضرت امام حسین ؑ نے جس پامردی اور صبر سے کربلا کے میدان میں مصائب و مشکلات کو برداشت کیا وہ حریت، جرات اور صبر و استقلال کی لازوال داستان ہے۔ باطل کی قوتوں کے سامنے سرنگوں نہ ہو کر آپ نے حق و انصاف کے اصولوں کی بالادستی ، حریت فکر اور خداکی حاکمیت کا پرچم بلند کرکے اسلامی روایات کی لاج رکھ لی۔حسین اور حسینیت ‘ محض ایک تاریخ کا نہیں بلکہ ایک سیرت اور طرزِ عمل کا نام ہے، ایک مشعل راہ کا نام بھی ہے کہ جس دین کے دامن میں ایک جانب ذبیح اللہ حضرت اسماعیل علیہ اسلام کی قربانی ہو اور دوسری جانب ذبح عظیم حضرت امام حسین عالی مقام کی ان گنت قربانیاں ہوں تو یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اس دین کی بقا کا ذمہ تو خود اللہ تعالی نے لے رکھا ہے اور یہ کسی انسان کا نہیں بلکہ خدائے بزرگ و برتر کا ہی معجزہ ہے۔دوسری طرف معرکہ کربلا محض ایک واقعہ نہیں بلکہ شعور ، حریت ، خودداری ، جرات ، شجاعت ، ایثار وقربانی اور صبر و انقلاب کا مکمل فلسفہ ہے۔کربلا کا مقصد آفاقیت پر مبنی تھا ، کربلا کا درس یہ تھا کہ اپنے مذہب کے تحفظ کے ساتھ ساتھ محکوم لوگوں کو بھی زبان دی جائے ، کربلا کا پیغام یہ تھا کہ انسانوں میں دوسرے انسانوں سے متعلق برداشت کا جذبہ پیدا کیا جائے ، دوسرے افراد کے عقائد کا احترام بھی لازم قرار دیا جائے۔آج دنیا میں جتنی بھی افراتفری ہے وہ سب حسینیت اور کربلا کی تعلیمات سے دوری کے باعث ہے۔

editorno1@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے