Voice of Asia News

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد: محمد قیصر چوہان

سانحہ کربلا 10 محرم الحرام 61 ھ کو موجودہ عراق میں کربلا کے مقام پر پیش آیا، یزید کی بھیجی گئی افواج نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے اہل خانہ کو شہید کیا۔حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ 72 ساتھی تھے، جن میں سے 18 اہل بیت کے اراکین تھے۔ اس کے علاوہ خاندانَ نبوت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ واقعہ کربلا صرف تاریخ اسلام ہی نہیں بلکہ تاریخ عالم افسوسناک واقعہ ہے ، دنیا میں یہ ایک واقعہ ایسا ہے جس سے کائنات کی تمام چیزیں متاثر ہوئیں۔ آسمان متاثر ہوا ، زمین متاثر ہوئی ،شمس و قمر متاثر ہوئے ،اس کا تاثر شفق کی سرخی ہے، جو واقعہ کربلا کے بعد سے افق آسمانی پر ظاہر ہوئی۔یہ وہ غم انگیز اور الم آفرین واقعہ ہے جس نے جاندار اور بے جان کو خون کے آنسو رلایا ہے۔جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو وجود بخشا ہے اس وقت سے لے کر آج تک اور شاید قیامت تک کوئی ایسا واقعہ رونما نہ ہوکہ جس پر خود تاریخ کو بھی رونا آگیا ہو ، لیکن امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کا واقعہ ایسا درد ناک اور اندوہ ناک واقعہ ہے کہ جس پر انسانوں کی سنگ دل تاریخ بھی ہچکیاں مار کر روتی رہی ہے۔ اس میں ایک طرف ظلم و ستم ، بے وفائی و بے حیائی اور محسن کشی و نسل کشی کے ایسے دردناک والم ناک واقعات ہیں کہ جن کا تصور کرنا بھی آج ہم جیسے لوگوں کیلئے ناممکن ہے۔ اور دوسری طرف اہل بیت اطہار ، رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے چشم و چراغ اور ان کے متعلقین کی ایک چھوٹی سی جماعت کا باطل کے مقابلہ کیلئے ثابت قدمی اور جان نثاری جیسے ایسے محیر العقول واقعات ہیں کہ جن کی نظیر تمام عالم انسانیت کی تاریخ میں ملنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔
کربلا،حق و باطل میں امتیاز کا نام ہے ۔کربلا،سچائی اورکذب میں تفریق کانام ہے۔کربلا،انسانیت کی پناہ کا نام ہے ۔کربلا،آمریت کے خلاف جمہور کی آواز ہے۔کربلا،غاصبوں اور حقوق انسانی کے نغمہ خوانوں کے درمیان حد فاصل ہے ۔کربلا،حق وباطل کی ازلی کشمکش کانام ہے ۔کردار حسینؓ ہی دراصل بقائے انسانیت ہے ۔ حسینؓ مظلوموں کی سرپرستی کا نا م ہے ۔ حسینؓ اسلام کی حقانیت اور سر بلندی کا نام ہے۔ حسینؓ قافلہ عشاق کا امام ہے۔ حسینؓ بقائے دوام ہے۔ حسینؓ حقوق انسانی کے جری،علمبردار کا نام ہے ۔حسینؓ،آمریت کے مقابل جمہور کا ترجمان ہے اوراس معرکے میں مظلوم انسانیت کاسپاہ سلار ہے۔حسینؓنے اپنے اور اپنے پیاروں کے خون سے اسلام کے شجر کی آبیاری کی اور ثابت کردیا کہ نظریہ اور دین اہم ہوتا ہے۔
امن، اعتدال، رواداری اور اخلاق دین اسلام کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہے۔ یہ آفاقی دین آزادی رائے، اختلاف رائے، جمہوریت اور مشاورت کا درس دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نہ صرف دہشت گردی کی سختی سے مذمت کرتا ہے بلکہ کسی بھی دوسرے مذہب کے افراد کو جبروا کرہ کی بنیاد پر قبول اسلام پر مجبور نہیں کرتا۔ دین اسلام سے بڑھ کر دنیا کا کوئی مذہب اور قانون انسانی اقدار کے تحفظ عملی مساوات، انسانی حقوق کے احترام اور امن و آشتی کا تصور پیش نہیں کر سکتا جس میں دوران جنگ غیر مسلموں سے حسن سلوک کی تعلیم دی گئی ہے۔ دین اسلام کے ان سنہری جنگی اصولوں کا جائزہ لیا جائے تو آج کل ہونے والے غیر مسلموں کی طرف سے مسلم ممالک پر حملوں، اذیت ناک، ظالمانہ اور سفا کانہ دہشت گردی پر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ اس کھلے عام ظالمانہ اور سفاکانہ دہشت گردی کا آغاز یزیدی دور میں ہوا تھا۔ بلکہ یزید کی تخت نشینی اور حکومت کا آغاز ہی ظلم و ستم اور سیاسی جبرو تشدد کے ذریعے ہوا۔ اس نے اپنی غیر قانونی اور بے اصولی حکومت کو دوام بخشنے اور اپنی مستقل بادشاہت قائم کرنے کیلئے ملوکیت و آمریت سے کام لیتے ہوئے خلفائے راشدینؓ کے قائم کئے ہوئے نہ صرف تمام ریاستی ادارے تباہ و برباد کئے بلکہ مشورت و جمہوریت کی دھجیاں بکھیر دیں، اس نے قومی خزانے میں لوٹ مار اور اسے ذاتی استعمال میں لانے کو رواج دیا۔ فحاشی، شراب نوشی، بدکاری اور قمابازی کو عام کیا۔
یزید کے دور حکومت میں صرف کربلا میں ظلم و ستم کا بازار گرم نہیں ہوا بلکہ جب مدینہ والوں نے اس کی بیعت کو توڑنے کا اعلان کیا تو اس نے گورنر دمشق اورگورنر شام کے ذریعے بڑے بڑے لشکر تیار کرکے انہیں مدینہ پرچڑھائی کا اذن دیا اور تین دن کیلئے ان پراہل مدینہ کاخون حلال کردیا۔ اسی وجہ سے مشہور واقعہ حرہ پیش آیا جو شہرمدینہ کے ساتھ ہی ایک مقام کا نام ہے جہاں سے یزید کی فوجیں مدینہ میں داخل ہوئیں اور ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لوگوں کو قتل عام کیا۔ اس ہولناک، کربناک اور اذیت ناک واقعہ میں انصار مہاجرین پر مشتمل 306 صحابہ کرام کو بڑی بے دردی سے شہید کر دیا گیا جو لوگ بچ گئے ان کے بچوں کو یتیم کرنے کاڈرسنا کر ان سے جبراً بیعت لی گئی۔
یزیدی فوج کے ظلم و ستم کاسلسلہ مدینہ میں ختم نہیں ہوابلکہ یزید کے حکم پر پھریہ خونی لشکر مکہ کی طرف روانہ ہوا۔ ظالم وجابر یزیدی لشکر نے مکہ میں بھی ریاستی دہشت گردی کی انتہا کر دی۔
یہی وجہ ہے کہ نواسہ رسولؐ جگر گوشہ بتولؓ خون علیؓ شہید کربلا امام حسینؓ کی نگاہ بصیرت دیکھ رہی تھی کہ یزید کی بیعت کرنے سے مراد ایک جابر، ظالم اور آمرحکمران کو ریاستی دہشت گردی کی اجازت دینا ہے امام حسینؓ کاخون اور غیرت و حمیت اس بات کی اجازت کیسے دے سکتی تھی جس دین کے تحفظ کیلئے ان کے نانا، آپؐ نے سمجھوتہ نہیں کیا تھا اور کفارقریش پر واضح کردیا تھا کہ اگر وہ میرے دائیں ہاتھ پرسورج اوربائیں ہاتھ پرچاند بھی لا کر رکھ دیں پھر بھی وہ دعوت حق کوترک نہیں کر سکتے۔اس دین کی خاطر انہوں نے دندان مبارک شہید کروائے قید و ہند کی صعوبتیں برداشت کیں اور ہجرت فرمائی۔ شریعت اسلامیہ نے عام مسلمانوں کو رخصت کی اجازت دی تھی مگر امام حسینؓ نے ظالم یزیدی حکومت کے خلاف نعرہ حق بلند کیا اور مسلمانوں کو اس ریاستی دہشت گردی سے محفوظ کرنے، اسے حرمین شریفین کی پامالی سے روکنے اور اس کے شر سے خواتین کو بچانے کیلئے کربلا کا سفراختیارکیا، اپنے جگر کے ٹکڑوں حضرت علی اصغرؓ اور حضرت علی اکبرؓ کو قربان کیا اور بال آخر اپنی جان بھی جان آفریں کے سپرد کر دی مگر سر نہیں جھکایا کیااور سجدے کی حالت میں اللہ رب العزت کے حضور اپنا سر پیش کرکے ہمیشہ کیلئے پیغام دے گئے۔ شہیداعظم حضر ت امام حسینؓ نے یہ عظیم قربانی اس لیے دی تاکہ احرام انسانیت کو بقاء نصیب ہو، دین مصطفی کی اصل روح کاتحفظ ہو، اسلام کے نظام مشاورت و جمہوریت کودوام ملے، مظلوموں کو قیامت تک ظالموں کے خلاف آواز حق بلند کرنے کیلئے حوصلہ ملے، محکوموں کو اپنے حقوق کی جنگ لڑنے کادرس ملے، ظلم و جبر پر مبنی نظام کے خلاف آزادی کے متوالوں کو اٹھ کھڑے ہونے کا جذبہ ملے۔ دین اسلام کی امن پسندیؒ ، اعتدال پسندی، رواداری اور اخلاقی قدروں کوقیامت تک زندہ کر دیا۔ حضرت امام حسینؓ نے کربلا میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے قیامت تک دین اسلام کو زندگی عطا کردی اوردشمنان اسلام کو سزائے موت سے ہمکنار کردیا۔ اس لیے کہا گیا۔
قتل حسینؓاصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتاہے ہر کربلاکے بعد
حضرت امام حسینؓ نہ صرف دین اسلام کے علمبردار تھے بلکہ عدل و انصاف، مساوات انسانی، حریت و آزادی اور انسانی جمہوریت کے علمبردار تھے۔ انہوں نے ریاستی جبرو تشدد اور آمرانہ ذہنیت کے خلاف جہاد کیا یہی وجہ ہے کہ حضرت امام حسینؓ اب صرف ایک ذات یا شخصیت کانام نہیں رہا بلکہ حسین حق کا نمائندہ، سچائی کا نشان، روشنی کا مینا، علم و حکمت کا نیر تاباں، عدل و انصاف کاپیکر، عظمت وبلندی کی علامت، احترام انسانیت کی مثال، اخلاق و اوصاف حمیدہ کاامین، رواداری، حسن سلوک اور برداشت کانام ہے۔ اسی طرح یزید بھی ایک ذات کا نام نہیں رہا بلکہ قیامت تک ہونے والے ظلم و بربریت اور دہشت گردی کانام یزید ہے۔ آئیے آج ان دو کرداروں کو پہچان کر فیصلہ کریں کہ ہمیں کس لشکر اور گروہ میں شامل ہونا ہے۔ حضرت امام حسینؓ انسانیت کی امن پسندی کے نمائندہ تھے اوریزید انسانیت کش، دہشت گردی کا نمائندہ تھا۔ آج ہمیں امن و سلامتی، برداشت، رواداری اخوت و بھائی چارے اور علم و عمل کی راہ پر چلنا ہے تو حضرت امام حسینؓ کی راہ پر چلنا ہو گا۔
آج اگر پوری کائنات میں صدائے توحید گونج رہی ہے اور مسلمان کے قلب پر نقش ہے تو یہ قربانی حسینؓ کا صدقہ ہے ۔حسینؓ نے اپنی اور اپنے پیاروں کی لازوال قربانی دیکر نہ صرف کلمہ توحید اور مشن رسالت کی لاج رکھی ،وہاں تا ابد ہر مظلوم وناکس کو ظالمو ں سے ٹکرانے کا حوصلہ عطاء کیاہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہر حریت پسند ہی نہیں بلکہ بلا تفریق مذہب ،ہر قوم حسینؓ کو سلام پیش کرتی ہے۔شہادت حسینؓ مسلمانوں کیلئے سرمایہ افتخار اور اس کے ثمرات اُمت مسلمہ کیلئے بیش بہا انمول خزانہ ہیں ۔ہر عہد میں صدائے حسینؓکی گونج مسلمانوں میں دین اسلام سے وابستگی اور خدا کی راہ میں قربانی کا جذبہ بیدار رکھے ہوئے ہیں ۔یزید اپنے ظلم ،جبر اور ناپاک ارادوں کے ساتھ زلت کی عمیق گہرائیوں میں غرق ہوگیا ہے۔لیکن حضرت امام حسینؓ آج بھی عظیم ترین مقصد کیلئے دی گئی لازوال قربانی کی بدولت ہر عہداور ہر زمانے پر راج کر رہا ہے۔غم حسین علیہ السلام امت مسلمہ کے ایمان کا حصہ ہے۔ حضرت امام حسین امن، سلامتی اور محبت کے عظیم پیکر ہیں جبکہ یزید بدی، دہشت گردی، ظلم اور استحصال کا نمائندہ تھا۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے ظلم سے سمجھوتہ نہ کرنے کا عظیم درس دیا، کربلا کے میدان سے حسینیت اور یزیدیت کے مثبت اور منفی دو نظریات کا اجرا ہوا اور قیامت تک یزیدی فکر کے نمائندے شکست سے دو چار ہوتے رہیں گے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے یزید کی بیعت سے انکار کر کے قیامت تک کی انسانیت کو پیغام دیا کہ اصولوں پر قربان ہو جانے والا ابد تک زندہ رہتا ہے اور وقت کا آمر بظاہر جیت کر بھی ہار جاتا ہے اور قیامت تک لعنت اسکا مقدر بنا دی جاتی ہے۔ یزیدنے اسلام کی تعلیمات کو مسخ کرنے کی کوشش کی جوحضرت امام حسین علیہ السلام کو گوارہ نہ ہوا اور انہوں نے اپنے خاندان کی قربانی دے کر اسلام کو ہمیشہ کیلئے زندہ کر دیا۔ حضرت امام حسین علیہ السلام کے عمل سے صبر و رضا، استقامت اور قربانی کے عظیم رویوں نے جنم لیا اور آج ساری انسانیت ان مثبت رویوں سے فیض یاب ہو رہی ہے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام آج غیر مسلموں کیلئے بھی اتنے ہی معزز ہیں جتنے مسلمانوں کیلئے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے عمل سے انسانیت کا سر ہمیشہ کیلئے فخر سے بلند کر دیا۔
سانحہ کربلا تاریخ اسلام کا ایک شاندار اور زریں باب ہے، یزید کی نامزدگی اسلام کی نظام شورائیت کی نفی تھی، لٰہذا امام حسین نے جس پامردی اور صبر سے کربلا کے میدان میں مصائب و مشکلات کو برداشت کیا وہ حریت، جرات اور صبر و استقلال کی لازوال داستان ہے۔ باطل کی قوتوں کے سامنے سرنگوں نہ ہو کر آپ نے حق و انصاف کے اصولوں کی بالادستی ، حریت فکر اور خداکی حاکمیت کا پرچم بلند کرکے اسلامی روایات کی لاج رکھ لی۔حضرت امام حسین کا یہ ایثار اور قربانی تاریخ اسلام کا ایک ایسا درخشندہ باب ہے جو رہروان منزل شوق و محبت اور حریت پسندوں کیلئے ایک اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔ سانحہ کربلا آزادی کی اس جدوجہد کا نقطہ آغاز ہے۔ جو اسلامی اصولوں کی بقا اور احیاء کیلئے تاریخ اسلام میں پہلی بار شروع کی گئی۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے